Skip to main content

Full text of "Kulliyat E Baqiyat E Shair Iqbal"

See other formats


کلیات 
پا خیاتت شش حراخال 


(متروک‌اردولام) 


2۵ے 


ڈاکرصا برکووی 


اچال اکادئی پاکتان 


ا والد 
اہم رغان 
(متوفی ےب بر۹۹۰ء) 
کےام 
جن ہیں ا سکا مکی می لکی بی صرتتاھی 


انماہ 


زم نظ رجھو سے میں شائل اشعا رکا تق رآ۹۰ فص رحصاییاے ے_ےاتّال 
نے شمعودی طور پر تر کفکردیا تھا۔ ابرا ا ہلا مکودر یکا بوں می شائل 
کنا بای یواورٹی دک پرگانامناس بی ہوگا۔ الب تہ اقبال سےلکری وف 
ارت کو بے کے لیے ا سیکا مطالعہناگمز سے سے ۔ من حوالہ د نے وت 
”نا قیات کا ذک کنا ضرودری ہے ۔ت کہ اسے اتقبال کے مداو یکلام 
سےمن کیا جا گے۔ 


زا گرترقٰ) 


۰ 


ہ رت 


دماچہ ازڈاکٹرصابرکوروی ۱ 
شعھربی با قیا تکی تر ومن نو (جواز سال اورطر یت کار:) ۳ 


دورا و ل کا کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸۲۴ء) ك۔۳۲۱ 
نات ددا کے متروکیات 
7 مل مت رنشٹھیں. ۲ 
طز نظکموں کے ہجزوی متروکات ٭+ےا 
مل مرو زی ۲٣‏ 
جال فرزکویں کے جز وی متروکات ۵ 
عمل قطعا ت۸ر باعیات ۳۰۳٣‏ 
دورِرو مکا کلام (۰۹ ۱۹ء ۱۹۲۳ء) سم ۴سام 
انت ددا “کی اشاعت کک 
کھل می رنٹیں ۳۲۰ 
بل تموں کے ہز وی متروکات ۳٦‏ 
٭ گل می فرزیں ۳۹ 
جال فرزکویں کے جز وی متروکات 2 
پ٭ ظمریناہقطعات ۴۲۳۴ 


بل ظریفاضہقطحعات کے جز وی متردکات ۲م 


با فطعات/ر باعیات 


دو سو مکا کلام (۱۹۲۵ءن۱۹۳۸ء) 
٦‏ ا 
ارمفان جا رز کےمتروکات 

اہ عمل متروکننییس رقطوات 

لہ نظھموں کے جزوی متروکیات 

بل نزللوں کے ہز وی متروکات 

بل مرو قطحات/ر باعیات 
مضفرغات 

(۱) ریس اورماددہاے تار 

(٢)‏ بر یہیگوگی مفردیات 
۰ت 

(الف) ووریافت کاخ اتّال 

(ب) تقق طاب :کا اتال 

(ج) اتب لکاا فان کلام 


۴۲۸ 


۵۰۲۴۵ 


۴۳ 


۷۰م 


اعد 


082 


۵۳۹ ۳ 


۵ھ 


۵٦ 


م۵۵۳۳ 


۹9۹ھ 


۵۲ 


۰ھ 


رام 
تد 
دت) 
75 
23 
ہی 
۲ 
کک 


دماچہ 
کریات با قیات شع راقبال (اردد) یی خدمت سے ۔ بیکیات میرے پیا ان ڈیی کے 
0 0/0 
نے اقبال کے شعری باقیات پرشف شرو ںکی ف میرے لے سب سے با لہ باقیا تک 
لا اورفراجھی کا تھا۔ باقیات کے موضوع پر چن رکب موجودنگی ںلان ان میں نت کلام 
مشترک تورم نکی بے شاراغلا سا مو جو یں ا نشین کے دوران ٹیس ء میں کان ا 
کی تلاشی جاری رنھی اور بڑگی درک ان کی فلا کو درس تکیا۔ میس نے صرف دصتیا بکلام پہ 
روس انی سکیا لہ خی رون اورخی مو لا مچھی حاصس لکر نے می کامیاب ہوا۔ ائمددڈمیرے 
ا تفگ یکا مکی بدوات ساڑ ح سمات سو کے تر یب اششحا رکا باقیات میس اضف ہواجن مل دو 
تا یکلام خی رمطبوعہ ہے جواقا لکی بیاضضوں سے ما ے- 
اقبال کے مودوں اور بیاضو کا یں نے وت نظ ر ے مطال گیا ۔ان بیاضوںکی 
رولت اختلا ف طن کے بببت سے مسا لکھ یئل ہہو ہے دورال تق اس ام رکا بھی اککشاف 
ہوا کیاقبال (ایس شاعر) کے شی نام ےبھی اخبر می کھت جے ۔ اس طر کی بارچشییں 
ذاش ہونشیں جو با قیات ین شال لک لیگگیں۔ 
رائم الھرو فکواس ام کا اصاس ےکا سکلیات می نمو ں کا یں منظراور اختلاف 
من شا لنڑیں ہے اور نہ متردکا تکی وجہ متا گنی ہے ۔ برسب بج میرے پی اس ڈکی کے 
مقالے بیس ششائل ہے۔ جوا سکیا کی اشاعت کے بحدجلد ہی منظرعام پر1 جا ےگا فی 
مھا ل ےکی اشاعت سے پبیلہ میس ا سکلمیا تکی اشاعت بوجو ضرور یپچھتا تھا انس لیے اصسل 
ما ل ےکی اشاععت محر ال امیس پڑکی دبی ۔میرے ما لن ےکوا سکیا تکا تمہ یا جتزد لا ینتک 


ز مرن رکلیات با بات 9۶0+ - 20ھ -_ادوار 


-7 


کلیات با قاتشعراقبال ا اچ 
بنانے کے سا تحوساتحھکلا کو اصناف وارمرت بک رن بھی ضروری تھا برک نکوشش شک یکئی ہ ےکا سے 
زما نی ترتجیپ نوز کیا جانے:. یریپ وی کیا نکیا جا سالک اقبالل نے انت ےی تتتیب 
سےکھھابھی ہو 

ال کےالاتی لا مکواس مو ے میں میں دی کی ہم ا کی نان دجی شی ے میں 
کرد یگئی ہے تفیقی مقا بک یکل کے بحد جلام ساٹ ےآ یا أ سے میں نے تی ے میں شا لکر 
دیاہبے۔زمالی اخقبار سے اسے اپنے مظام پر ون چا ہے نھالیان یور یاں حا ر ہیں نل وین 
کے خربی ھرائل میس یک اورشھم کے پارے میس معلوم ہوا اتال سے خللدطور رمنسوب سے 
چنائی را ےلیات ے ٹکال دبا گیا ۔ دیما کت وشنت وواور اشعا رکا اضادہ ہوا جن ےجیک کان 
2۶ ے -آ زی روف 27 بعد ال رنظیرصونی کی تاب اقال دورن 
ما “(حیات اقبا لکا خالگی پہلو) منظر عام بآ گی جن سکی بدولت دں تۓ اشعا رکا اضافہ ہوا 
سے واقتی” غی مہو کہاجا سک ہے ۔ا ری ےکلا مکی نشان ددیپچھ کرد یگئی ہے جس سکا بای سے 
انماب اھ خی طلب ے۔ 

کلیات با قیات شع راتا لکی تر وی نکا بل مقصداقچال کے ین ارتقاکی ا فکڑوں 
کوم ربوطکرنا ہے اور اتال کے تصورا تن کا پودیی رح احاطکرنا ہے ۔ چنا نچ ان ںکلامکواسی 
تقاظ رس دیکھا جانا جا بے ۔کیا تک نل وی نکا جواز میس نے مقدمہ می فراب مک دیا ہے۔ ا 
طر ال لکلام سے جوضنار رآ مد ہد ئے ہیں ءا نکی نشان دد بھی میں نے مقر ے می سکر یی 
ے۔ 

دورا تن شع لوک نک اون بے عاصل در ہاے ا سک ایک لو بل فہرست ہے نے 
دبیاچے میس شام لی لکیا جار ہا۔ بیقر اصصل مقا ل ےکی اشااعت کے وفت ادا ہوگا۔ ٹ الال 
اقبال اکا دی کے موجودہ اش مم سیل عمرصاح ب کا شی اداکرنا ضروری تا ہوں جنہوں نے 
بج سے یکا مم لکرانے کے لے منعددامتظائ یگ آ زماۓ اوردداس می لکامیاب رے۔اللد 
ان کے درجات بلن کے 


ڈاکر صا برنگوروی 


4 1 سط 
صررش بے اررو بثاور لو ورک 


شعری با قیا تکی تم وین و: 
زویتک ا زط رت ن 


سوالی رہ پیدا ہوا ےکیجم کا مکوعلامہنے اپئی زندگی یس پیندزن سکیا ا سے ؟ مکیوں 
تق اورتقی رکا موضوغ بنانمیں ۔ ا لک جواب مہ ےک تقیدکی رحقانات ا ب۱۹۲۴ کی ہت 
بہت عدتک بدل گے ہیں ف نکر کمن میں کیا کی ابعیت کے سات کیو کی ای ت بھی 
لی مکی جا ہچگی سے ۔نغیات نےتحلبق کے تیچ نی ق بر کے چچن یم لکی اتھامگبرائیوں مج 
اکنا سیکہلیا سے ۔شع اورشور کے ر شت وا ہو گے ہیں ۔امی شا عرکی کے بی سے ا قبال 
برک یکا جزوقراردینے ہیں ایک ز بر دس تتخصی تک قوت تک ات ہونا ہے شا عر کے ڈینی 
ارنقاءکی سرگزش تک با ن تھی اکا منص بنُہرا سے۔ خود علام کی اپے رل 20 
سرگذشت سے نی دی ری ہے ۔کیا با ات شع راقبالی کے ا لیم الشان ذخھرے سے 
صر فہک کر کےا نکش وکڑیو ںکوجلا شک نان ے؟ 

اقای کے زی بت باقیات اقال کے نظریاقی اورگکری رڈ وقبو لک ایک خوبصورت 
توم یی ںکمرتے ہیں ان سے میں بھی معلوم ہوتا ےک علام ہکا ا ات ین کن 
من واقات اورشریکوں سے متاث ر ہا اور اس نے اقپا لکی شا عری کی جھوٹی فض اک وکہا تک 
متا کیا ۔کگری اہرو ںکی صداے ہازگشت اتال کے تنداو لکلام می بھی سنائی دب سےمین 
اس می دوکھ نکر ج نی جوا ںکلام یل موجود ہے جے علامہ نے تر کک دیاتھا۔ 

نقادوں نے اس اع پہبہت (یادڑدددیا ےک کی ڈیکار ےش نکا جا جائحزەاسی وفت 
لا جا سکنا سے جب چم اس ذدکار کے ذاٰی عالات اورحخصبیت سے گاہ ہوں۔شن پارےکوذنکار 
سے نید اکر کے وب ہک یکوشش خالط رانتوں پر ڈا لحتی ہے کی اود فنکار کے پارے ٹیل ہے 


- 


کلمیات با قات شعراقال 1 دماچہ 


بات درست ہوتہہواقال کےحلسلے میں پالٹل ورست ہے۔ اتا لکی ینس دٹچپدیاں مشاعروں 
کےساسلے بیس سفراورا نکی سوا حیات کےکئی بپہلواورزاو لے تو ککلام یس موجود ہیں ۔ اپ 
محاصرین سے علامہ کےیپعکتی پر ال کلام سے بہت رشن اتی ہے۔ ملا اس سے عانی می اور 
ڈیٹی ان راج سے انقپال کے رواب بای عیت ای اس سے یں اناز و ہوتا ےک ڈ بین مرا ھ 
عا مزال یھ مس نکر بیو ں تص ہکرت ہیں : 

”نمی نے دہ راودا کی بہٹتظمیس کی ہیں رای ول شگا ناش بھی سی“ 

اقبای کے قطعات تا ریت اورمعض دیگرنظموں کے واسلے سےپسیں انال کےینض ا سے 
اعاب کے پارے می ل_لم ہوتا ہے مج نکا ذکرا نکی سوا یکنا وں می۲ کم بی دن می ںآ تا ہے۔ 
مض توب خان عامر ‏ سلطان اتیل ان٠‏ تن عبداشن ؛سید ناو ری ن قعییلداربیرہ. لیڑی 
شہاب الد ین ءنقبراخان چدون اور نادرکاکورویی دخیرہ_ 

باقیا تک مطالعد درب ذ یل والوں ےبھی مفیرغابت ہو سنا ے۔ 


ابا لیسوار 
اتال کے پا قیات شع سےا نکی سوا کات خی ت معلوم ہوی ہیں شا 
( دح نے اق لوا وع )ان ےکی با اہ وت تی گی ان ا اا2 
اقبای کے ای کشم می سے 
بی سے جو شوقی ملاقات حفضرت 
اقبال ہن مسل نا نکفیری کے جلسوں میں مرکری سےش یک ہوکڑنمیں بڑ ھت ہیں 
اور لو رر یٹرکی / نی انا ئی صلاعمتو ںکاعدومظاہرءکرتے ہیں۔ وزمرنظام رشن پر شاداقبال 
کی شا ع رب یکو پیندکر تے ہیں ۔ ال سک اظہارھی ان با قیات سے ہوا ے ضا ریشعر 
دثررہوم ٥‏ وسیٰ۳۷(ھ0 
پند ا نکو وزیر نظا مکرتے ہیں٣‏ 
ایال نے ای ار من غز لکوئ نر کک دی مان کا شدت کن ان .کے با اٹ 
سےل جا تاپ بے 


لات پا قیات مر اتال : اچ 
تر کر دب تھی خرزل خوان ی گر اتال نے 
خزللکھی بنا نکو منائے کے لیے 

اقب لکی ہی شاد یگحثرات مس ہوٹ یھی ۔اقبا لک یشعمرا نکی ناکام ازدوای زندگی پہ 


عحدورڈشنی ڈاتماےے 
ہوگیا اتال یی شف گثرات کا 
کا مکیا خلا قکرتے ہی گر صتا دک ” 
اقبا لی کا حصب ذیل بشعراس اھ رک تر دی دکرتا ےکہ ارش دگورکاکی اقالی کے استاد 
تۓے 71 8" ائم سے اوروہ می ابی ارش روا 
کلام سناکمرداد اص لکرتے تھے 7 
ارٹر وراشت سے بہوں اقپال خواپان داد 
آ داری میں ہیں یہ اشعا رگوپ رکا جواب 


تنداو لکل مکی مت رنیم 
ا ات شع راتا لک مطالۃہا تال کے ناو لکلا مکی می می بھی خماصا مددگارخابت ہو 
سکتا ہے۔ خلا اقبال کے حداو لکلیات کےم ے۹۰ برای عم چہاد موجود ہے ۔ ا س کا ابتدائی 
حنوان'نبہاالل یر“ تھا ۔آ خ ری شحرییس اقبال نبال کے جو انے بھی اسیک شع ام لکیا 
ماج یتھا: 
ٹس و بہا ک یکنہ ری کا ہوں مترف 
نس ن کہا فرنک سے ترک چہادکر 
سی ےت 
بہ تآ 1 ساپ رئقی ے ۔اقبال کےشارین نے اس لی منظرکی خی رموجودی می نم چا کی 
تج .جس ےت کت 
علامہ کے متروکا کا مطالنموں کے عنوان کے تناظر می ںکیا جا نے بھ یمتح 
دلپ نا سان ےآ تے ہیں ۔ خلا عنوانات می تبد بی ےبھی شا عرکامافی ای رین میں 
ص۶ ۹ ۹ سے 
2 ۰" یندا نان سے زیاد می لکھاتے ہیں۔ 


کلیات باقاتشعراقبال : اچ 
اقبال کے راو لکلام می سکئی وہ سےلصض اغلاط د رآ کی ہیں کلام اقبا لکواس 
رح کی اغلاط سے پا ککرنے کے لیے متردکا تکا مطاالعہ ایک حدکک ہمارکی معاوخ فکرے 
کا 9 ۶  ٰ 9  -‏ ئ0 
ری ادوارک ب تی نکیا چا گا ۔اقپا لک تنداو ل کلام ا نکی ابتائی خز لگوئی کمن می سکم 
معلومات راب مکرتا ہے ۔ چیہ با قیات ام لک یکو بہت حدرکک پیر یکر تے ہیں۔ 
تندراو للا مکی ابتدائی شکل می نع و بر ید سے اقبال نے اپ نےکلاممکوخوب سے خوب 
تر ہنا ےک یکپیشت کی یکن بندوں میں مصرتو ںکی تداد می جماخبیت پرقراد نہر +کگی ایک بیاشم 
کےایک بند یش سسات اشعار ہیں اور دوسرے میں خن ۔شا برای بنا کیم ال بن ات کوعلامہ پہ 
را اٹ کا جوا زی ا مگیااوراٹمہون نے عاا کی عق کون بی کک ری ززیااوراز نگ یلا 
خاصس طور پر اتی تقیدکا نشانہ بنیا۔علامہ کے شع ریی مار ان الھنو ںکودورکر تے ہیں اورگییں 
اقال کےاصل خیالات اورافکارکو کے کے لیے و ننا خرف ران مکمرتے ہیں۔ 
دشرا کے ارات 
اقبال کے مت رو ککلام سے اقبال پر دم رشعرا کے اشرا ت کا ھی پیج ا میں جائتزولیا 
جاسکنا ہے۔ لا علا مکی ابقدائی غزلوں میس دا ء ام راور ویر ہم عص رشعرا کے اشرات موچود 
ہیں الب اورداغٔ کے اشرا تکاانداز ان اشعار ے لگایا جا کت ے_ 
ال کااڑ 
کھت ہوں شعر وید)َ خوں پار ےۓ گر 
کاغذ کو رب اب گلتاں ہہوے 
بوتے میں شل ہگ بایغ ججان مں 
ون آب دید؟ نا کے ہوۓے 
(ائُکون) 
دا کااڑ 
:2 جوا ی ہے ولولے اے دل 
و و جک ال تے ین 


کلیاتت باقیات شع اتال َ ٠‏ 
7-2 شس جو سوال ہو میں 
اہی رنک کے متحددقطعات" با ئن درا“ بیس ششا ئل یں ہو گے اک رکے اشرا تکا 
کی انداز ولا نے کے کے باقیا تکا مطالعہ گر ے۔ 


٢‏ فیاز 
حفر تک نے فا کن ے پناہعظیر تکا اظہار جقتا مرو ک کلام سرت سے انتا 
دو نکلام ےیل پوت شابدای بنا ایک زمانے میں علا کش سے ملسو بکیامیا کن سے 

کی پہلدان اشعا رکور کک ن کا سب بنا ہو ۔ کت ہیں :- 

لیشہ ورر زہاںل سے لن کا نام اتال 

تاب زو نکچ تا نکر 

پچ ا ٭ نب ال 

.- گن گار اونرال ی ے 
قب لی فضی :ام ےگ یں 

ا قیات شع را تال بی شامل یت نظموں سے بر اکشا ف بھی ہوتا ےک علامہ نے فرتی 

ام (اییس شاعر) سےبھ یہک وی ںککھ یٹتھیں_ نیس ج نکاعموئی انداز تی او دماح ے 
ابا لکی ا سح لکو ظا ہرک ری ہیں ایک طط رف و دہاشم سےعم سے بینیننٹف پا رٹ یو سلم 
لیک یش مکرن ےکیکیششوں میں مصروف ہیںء دوسرکی طرف اس پارٹی کےجض لیڈرو ںکا 
منا فققتکاپردوجھی چا ککرنا جا تی ہیں ۔ اقبا لکی ان بارہ خی ور نپظموں میس اتاد یوں اور 
قادیانوں بر جو چٹ سکیاگئی ہیں تنداو کلام میس ا نکاکوگی نمو نمو جو یں - 

اتا لی جار گی 
علامہ کے راو لکلام می علا مکی مار گوکی کاو کی خوتہ شا لک سکیا گیا۔ علامہ 
کے ہاں بین داغ اور محا ص شع را کے مطا لے ےآ ڑاے-۔وہآ خر وق کک جا رں مگوکی ہج لے 
میں مصرو فنظ رآ تے ہیں ۔اقای نے دوسرے شع راک یفحایقات کے ۓ اورخواصورت ایم 
بھی سیے ہیں جن سےکتض انگربیز می شھرا سے اقبا لکی اش پمیک یکا اندازہ ہوتا ے۔ 7 جمہ 


رن 
ت 


یا سیپ 


ےشن می ا نکی ہار تکاشموت ا نکی بیس ہیں ۔ علا ھی اصمل خیال پ اضاقکرتے 
ہیں اور یں ان کے ہا تر جتخلی کا درجراخقیا کرت نظ رآ جڑے۔ 
0 

احہا بک ف انی بھی لت اوقات اتا لکوشع رکوئی جو رکرد ہیں ۔اس طر ‏ کا 
کلام اقا لکی تار گوئی بی بھی موجود ہے۔ با قیات شعراقبا لکیپچحض د نمی ں بھی اس یٹیل 
کی یں شزاظنھر ین کے حیدرآ باد کے روا کی مظہرے ہے برانکتزربی شی سراح 
الد بین سےعلامہ کےخاصا نہ تلقا کی مظہرے ۵ ۔ائن مت روکات سے یی بگھی معلوم ہوا سے 
کراقا لک اض اوقات احا بک فر انی ںک ایل بھ کرک بد ی تی خلا رز فا فان 
ہوا ذس ذوالفتقاریلی ا نکی فر مان پر ود اشک خون “کے پرجبور ہو جاتے ہیں ۔ پا بکا 
ایا کی ات کو کی نت تا کپ ا کن ور 
قد بھی اس شی کیاشم ہے انف امو میں وی بھی شائل ہیں جوان ایت 
اسلام کےیغ سے سنا گنیس _ ان نمو ںکا متصد امن کے لیے چندوخرا ہ مک رن تھا۔علام ہک 
رج گوگی ”ای 3ز ے۴۹ اشمت ا کی وت میں جلو مک وو سے اورمولوگی عم ہداب لکی 
فر انت کو پذ رِائی حاصل ہول ے١۔‏ 
اولیاء اد ےکقہیرت 

اقبال کے مکاحمی بک رع ان کےشعری با قیات مم بھی اولیاء اون ےعقیرت کے 
کئی ضھونے ہیں مل جاتے ہیں۔ اولیاء الد سے محب تکا اظہار یوں ہوتا ےکہ انی ایک ذالی 
پیل یکور کر نے کے لے وا ظظام الد بین اولیاء کے نام ای نظ مککعت ہیں اور اے مزار پہ 
رآ واز سے پڑ ھ کیلقانکرتے ہیں۔ا غم کا نام نیک ہے۔ 


کلمیات با قیات شع راقال ۸ دماچہ 


راک اور میتی 7 

اقبا لکی میٹر کک یکتابوں میس م ہنی ک ےج شمروں کے پارے میں جوانے لت 
ہیں۔ اس سےمعلوم ہوتا ےک ابا کو راگ و تا و 
اظھار با قیات کے اس شع رےکھی ہوا ات 


کلمیات با قاتشم اتال ۹ 5 


لیک کتے ہیں بے راگ کو پھوڑو اتال 
راک سے دین عراء راگ سے ایمان مرا 

گاری ارب کینھونے 

ری اط سے اقبال ن ےگن خیالا تکوت رک کک دیا؟ ا کا مش من اظہار اتال کے 
ا قیات شع کی ے ہوتا ہے ۔ وطنیت قومیت نی توف ء وحرت الوجود نقاد باٴبیت اور دوٹو ٹی 
نظریے کے ہوانے سے اقبال کے ان اشعار بی ایم موادموجود سے جس سے خی کے سے 
گوئے وا ہوتے ہیں۔ خلا ان وجوبا تکاصم ہوا ہے جو ایک زمانے می اتال او رما ئن ربنم 
میں اشنا ف کا مو جب تے- 
اتا ل کا ارتا 

ان اشعار سے تصرف اقپال کے چینی ارتا ک یککڑ یاں مرجب ہلت ہیں بل نی ارتقا کی 
پر یکیفیتکھی ہمارےسامت ےآ تی ہے۔ خلا ہیں ریمعلوم ہونا ےک اقبا لکش نیکی بلند ییں یہ 
پچیانے والی اصل چیا نکی دو مت ہے جووہ اپ ےکلام ب رسس لکرتے رجے تھے ۔ اقب لکی 
آ فاقیتکا راز اس امرمیس شید ہہ ےک دہ ان کلام سے ایس انشمعارہکال د نے ہیں جن میں 
تی اور متام ین زیادہتھا۔ کسی وج ےک علامہ نے بیشتزفرمایئی اششھار ا ےکلام یں شال 
نیس کے اششحارکی تر اش خراش اور پچھراس کے انتاب میں تک رکا وگی کے ناج میس اتا لکا جھ 
کلام ہمارے ساس ےآ ا سے أس نے جخرافیائی سرعدو ںکو پاما لک دی اود پورگ دنیا کے دو لی 
کن بی نگیا۔ 

اتی شع انال تصرف علامہ کےنظ ریا تکا بیس منفظرف راپ کرت ہیں بل عحوام کے 
ریزفن بب یکماحقہرڈشنی ڈاے ہیں ۔شاعراپ ےکا مک پبتربن نان ہبی کن اپ کلام 
کیأن اورگری پھوئؤں پا سکی ائھی اص نظ رہوکی سے ۔کس شع رکوتر کک رنے اس میں 
مم" "ور جچیے شا ع رکا ز بر دس تتتقیری جو رارف رما ہوتا ہے دہ اہی کلام 
کولظریائی اورتی دونوں پپلووں سے دبکتا ےه پہکھتا ہے۔ شا عرکا شع ری ذوقی اس مرملے پہ 
ا سی رتضا یت ہے۔ چنا مج رد وقیو لک یبھٹی سے اپ ےکلا مک ارک دہ جمارے ساتئے ا 7 
تحلیق بی کر ہے۔ جتنا بڑا شا عرہوگااتنا بی اس می ستتقیری شعورجھی زیادہ ہوگا تر مم وش 


رن 
ت 


- 


کلمیات باقات شعراقال ٠‏ دماچہ 


کم ل کا از عامطور پراسی وقت سے رو ہو جانا سے ج بکوگی خیال ء جذ ہہ یاداتشا ‏ 
کے ذہن میں ارتعاش پیراکرد ینا ہے۔ چناخچہ ہوقلیق اس ارتواشل کے نٹ یس عالمم وجود یس 
آ کی ےوہ ذمن کے پراسرا رگوشوں س ےگ رکرصفنقر طاس نل ہوئی ہے۔ اس مرلے پرقام 
تمیق یگ لک پودی حر بج لونا ہار ا سکی با یں ۔ لا اس پرکو یں لگا سکت لان 
جبکوئ ینحلیق زیدت قرطاس ٹڈ ہے اود پچ را کی نوک پلک درس تک انی ہن بیتبدییاں 
اس مے میں شا ع کی تما فیا یکیغیتو ںکا مطبرہولی ہیں ۔ چنا جہن اصطلا حات اورتپرییوں 
کیا شاعر کے عبو اور ماحول کے یں منظرمی ںتز کیا جا تے لت اوقات اس ذیکار کے تلق 
تر تنیز اکشافات ہو تے ہیں ۔اقبال کےشعھرییآ خا رن ط رع کے ہیں:۔ 

(الف) و میں م خلا مر قطحعات ور باعیا تچ نہیں علامہ نے لف وجوہکی اپ 
ترککردیاتھا۔ 

(ب) شی علامہرن کلام میس اشاعت کے لمت بکیہیں ان کےپیصض اشعار 
تل کرزۓ 7ئ 

(رج) لپ اشعا رٹ علا مر نے اصلاحا تٹگ گ٠‏ ۔ا نک یاضو ںکا مال کچ 
معلوم ہوتا ےک دہ اک مصرےکودوء دواورہنش اوقات تن ا ار دفع تی لردتے آانات 
اس ےبھی زیادہ دیپ امریہ ےک ینف مصوتوں می لک جانے والی تام اصلاحات علام کو 
پن ریس آ یں اور وہ ابنترائی مر کو بحا لک دتنے ہہیں۔ اس طرح کے متعرہ اشعار اور 
مصرسے اب علامہ کے مداو لکلام میس موجود ہیں ۔کلاح اقال کے اس جح کی نشانددی ہوٹی 
چا ہے اک ایی اشعا رک ینیم ور میں اس پا وکوسا نے دکھا چا س ےک اتبال فی اگ ری بیاظا 
سے ان اشعار سےمملمت ن نہیں تھے عدم اھدنا نکا ہیی ما نفسائی تجزراقبای کے بارے میں 
ہما رکی مو مات مل ضرور اضا کر ےگا- 

ابا لکی اپ کلام پر اصلاح عام ور پراان کےشعرکومعیاری :ناد یق سے >۔ اس سے 
علامہ کےتتقیری شمتورک وی میس مدردلقی ہے ۔اصلاںکا بل باتک درا سے ارمفان جا زکک ای 
شدو ید کےساتھ چاری رہتا ہے۔ ا'علا مہ کے متروکات واصلا حات ےیل معلوم ہہوتا ےک 
اتا لکوشع ر ےی پہلوؤں کر ری ۔وہاچۓ پا موزیادہ سے زیاد مث بنانے 
کے لے پک نع ربق اخیارکرتے ہیں نخان شا ع ری ے نا داقن تکا انار ٘ سکاذکران کےکئی 


- 


کرات باقیات شع اتال ۷ دماچ 


خطوں میں ہوا سے بن اکسار ہے۔علامہ کے متروکات او راصلاعا تکا مطالعان کے تراول 
لا موی میں ہکا ری ہت معاوضتک رتا ے۔_ 


عامےلٗ اصلاحاتٹ 
اقبال کے ہا ںکلا مکوخوب سے خوب تر بنان ےئل لح یتخلیقی سے مو ےکی اش حعت 
تک جار ر چا تھا مولانامسودعالم ندوئی کے نام خط یں اکر چعلامہاپ ےآ پ کن اصلا 
سے نابلدقرار دی ہیں۔ من بیج ا نکا اکسار ہے ۔ ام رواقعہ یی ےک دہ اشن کے تام 
نز وت وق رک تھے ناشن علتہ نے اورک کین مالک یف کی زیارنٹ 
ادا یھی ریما ایی مع راہ قاے 
ان ان 
علامہنے ابع مصرسے کے پارے می د من مھ رحوم (ساب قکورزسندج سے 
کہاککہانہوں نے اس مصرمے پر چالیس بارنظرمانی نی مب موجوددصورت یس یمحر 
سا1 با علام ہک بیاضحیں اورمسودات اس اھر کےگواہ ہی سکہ ایک ایک مص رس ھک وحن خین اور 
ض اوقات تار چار دف تم لکیا۔ اصلاحا تکا یل اس وق تج جاری بت تاج بآپ 
مود ہکاجب کے جوا نےکر دی تھے ۔آ رج جواشعارز ان ز دخاصص وعام ہیںء انس پگ رکا وئی کے 
نیج ہی میں انہوں نے موجودوصورت اخقیارکی سے چندمنا لیس ے 
علطالی جبور کا ٢٢‏ سے زانہ 
جو شضلکبن تم کو نظ رہ ۓ ما دو 
کادوسرامصررغ ناش لو ھاے 
اٹ ہیں پیج آخار موی کے ھا دو 
2220 
محبت ے ان جواوں سے ے 
عتاروں پہ جھ ڈا گے ہیں گنر 
ایرکز افو لوزن زع ت تو ےل رےزےپز للویاے 
عبت گے آفرربیں سے سے 


کہ سے آسان گر ان کی گنر 


-7 


کلمیات باقیات شعراقال ۳ دماچہ 


کل ازدا رلعلا بک اضلا حا ٹک معیارنق مب یسا د ہا ۔خوب سے خوب مز 
کی سج ال ےآ خ رک جلکسماں ور پر چاری ری سے ۔ ام ابقدائی اصلاحات می نی زاکنؤں 
ایی رای ش کا خیال پچھوزیادو ہی دا ہے ۔الفاظط کے اتاب اوریلم بیان کے وٹ تزع مکی 
بروات اشعار ٹیل تثا ل1 فرٹ یک یکیقیت پیر اکمرنے ےکاشعوری رجخھائن نہمایاں دہاے ۔ ججلہ 
آ رک دورکی اصلاحات می ںسکذا یت ٹفش سےکام لیے اور رم بیت وریہ اطافت پا ےکا 
اندازانکہار کے دوسرے ول پرھاویی ہو جاتا ہے ۔ الوب بیا نکی بتھام تز خزاکقی فی کے 
معلق اتال کے اس اکسا رکو ظا ہرکر تی ہی ںک ایی شا عرکی ےکوکی دب یایں اود کان کے 
ایی متقاصدڈن شاعرکی پر غا اب ر تج ہیں ۔ائن اصلاحات سے تراغ کیا جا لکنا ےک علامہ 
کوأن شا عریی پہگل دسس حاصم نشی اوروہفصاحت و بلاشت کےقمام رموز ےآ شنا تھے اور 
یں بر کا سلیقربھی جات تھے عرید بآ ں ہیں لفط تی کے رشن کا بھ یمم خھااورتاشر 
شع ری بی ہدک ت کیب امتنزا یکا بھی واف رو رتھا۔ اصلاحات کمن یل علا مہکی یگ رکادگی 
ہی نے ایں متازشعرا مکی صف میں شام لکیا اور ىہ بات لقن ]|۷۲ 
اصلا شر پر اتی عحفت نکرتے فو ا نکی مقصمدی شا عربی تا خی ر کے اس وصف ےمحروم رہتی جھ 
آ ىا کا ظر٤اتھازے۔‏ 

علام کی تا خی شرب یکا راز جا نے کے لے با قیات شع راتا لا مطالعہ گے ہو چاتا 
ہے۔ اس امھ کی ضمردر تگھی اب مز ت تس و لک جاری ےک اتا لکی اصلاحات ہش کر 
0 
ا فیا ت شی یکا ناب 

پا ات شع اقال (ارد کی طوراقبالی کےکلام کے صنداول جھو تھے کلیات اتال“ 
زاررا فو ل سن ہے۔ بچوللہ اس مجھو ےکا یش کلام اتا لکی شور یکوششل کے ےشن 
تر کک یاگیا۔ اذا ا سکلاممکوہم اقبال ےکک دن کے شال کےطور پر یی کی سکر کت ۔ ا کلام 
کونصاب می بھی اس لیے شا لکرنا مناس بی سک اقالی نے اسے در کر دیا تھا .تا ہم اقال 
ےکی وق ارتقا کی نل فکڑ یو ںکو ملانے کے لیے ا کلام سے استتفادہ ناگز بے ہے۔ ال 
کے باوجوددائم الھرو فکا خیاللی ےک اکم ماہ رین افھالیا تکا ایک بورڈ اس مقصر کے کیل 
دیا جاۓ نز جاقیات کے اس ذخیرے سے ایب الا مخت بکیا جا کنا سے جوگکری اورفنی دونوں 


-7 


لات پا قیات شع راقبال ۴ اچ 


پہلوؤں سے اقال کے منداو لکلام کے چم پلہ ہو ذیل میں یمک لنمونے کے طور پر ای 
اشعارکا تاب میٹ لکردرسے ہیں جی لھاظ ےا قبال کےمحرو فک لام ےک ہیں ہے۔ 


ہرگنڑیی اے ول نہ یوں انشکو ں کا دریا جا بے 
داستاں مجھی ہو وبا سنے والا چابے 
371 


آ مم عال ول ورو ]شیا کن کو ہیں 
اس ری تفل میں انا اجرا کن کو ہیں 
1 


ورٹر آ) تھا ںی 7ف خ٠‏ کہنا 
01 


ہوںںبھی اس شا ہبیش اورعگی اس شاغ پہ 

اع ا مآ مرے صیّاد کا 
01 

مولی بجھ کے شان کربی نے ہن لیے 

فطدرے جھ تے مرے محر اثمال 2 
071 


ینغ یق گی کی نین نآ یں 

پک لی ما کن نان کے 
.8 

اع جات ان تال بیان 

جن مل میں مرے باو بھاری آلٔ 
7 


۳ 


زکر یھ آپ کا بھی سے ان میں 
7-7 یں سج سال ہوۓے میں 
7 


کت کے ان کر بن ارس 
کیا جو سرکو کا کر گناہ گار ہیں میں 
جیا 


شہارت گہہ الفت میں قم دنا سے 
آسان سجن میں “لاں ہو 
71 


ین تح ون ا کا نت کے ین خر 
اس ول پ سے شار ال کا یس 
7 


سے خر اروں میں لگن مد خوشید کی 


ادن شب میں نظ ر آئی رن امیر کی 
0011 


:1 


5 


فضا اک اور ہی عا مکی ہوگی سام میرے 

گر ڈر سےکہ بھی پرد ہل نہ من جائے 
71 

نظ ر کی نہ ھی کو بوعلی ہین کے جن 

وو حمت ج کبو کوک رے شائیں سے بے پروا 
71 

لم کے رم خوردہ کو کم سے لے ا نکر 

ع کو یی ۓ زا رک رعش کو نے وا فکر 


رن 
ت 


رن 
ت 


کلیات باقیاتشمراال ۵ : 


صورے رک بادی مر ےٹول کا گیا حصاب 
وروی داستان نہ وھ وس گرم ورا کر 
71 


چو سے کر انیاں ینم ئی میں 
رب تت۳ 


2. 


سے سو منزل رواں ہو ےکو اپتا کاروالں 
یم ری“ شا کو ایآ بوزا سک ے کین 
اقب لکی مکی خرزل تق ۱۸۹۳ء کےشارہ میس شاک ہوکی ۔ یلہا نا لکی شا ع ری یکی صل 
شرت کا آ نا این مات اسلام کے جلسوں سے جوا۔ .نال ٹیم امن کے جے میں ۱۹۰۰ء میں 
سنائ گی بچھراب یلا 8۰ء می ا ظ۲ ھا ”ککھ یگئی ج خرن کے پیل شمارے ایل ۱۹۰۱ء یٹس 
۹۹0یییٰ۷۶۹۳۹۷۷ ۰ٰ0 
پیر اخبار خرن ہز مانہ ویبرہ یس شال ہوتا رپالیکن بت سا کلام اقبا لحفوط نکر کے بر 
ےء کے بععداقبال نے اہ ےکا مکو بیاضوں می ںتفو اکر نا جرد کیا یرپ سے والچی کے 
بعر انال اسرارخودی اور پچ ررموز ہے خودی یک یتصفیف میں مصروف ہو گے اور این ارد وجھو ےر 
کلا مکی اشاعح تکا خیال نآ یا۔ ۱۹۱۹ء کے بحعران کے اباب ن بھی اقب لکی نوج ارد وجموہ 
گلا مکی انب مب و للکرانا ش رو عکردگی۔ ۱۹۱۹ء یں سی رسلیمان ندوئی نے جھوھ کی اشاعت 
کے پارے ٹی اقا لکو خاکھا _ ۱۹۲۱ء ٹیس علامہ کے بے جن اجاز نے اپنے دوست عضتاتی 
صاح بک سفار لکرتے ہوے اقبالی کےکظا مکی اشاع کی اجازت ماگی نان علامہ نے 
یں اب ار نے سے حکردیا اود ری عز دن نکیا کید دہ خودایک جورع رج بک رن ےکا ارادہ رھت 
ون ر٭ا 
۳ء می اقبال نے ارددلا مکی موی نکا آ پا زگ دیا۔ ای دوران میس اقچال کے 


- 


کلیات با ات شعراقبال : اچ 
دوست ام دن ے اقّال سے مورہ سیے خی راورانیں حیرت میں ڈال ےکی خوش سے کاب 
”اتال“ شائ یکر دی جس میں اقبا لکی غوزلیس او نیس شائ جک دمیں۔ اقبال اس پہ نارائش 
ہو اورائ کی وج مہ بتائ کہا نکی شاعی تاب اوراصلاح ٹیزنظخالی کے اغیردوبار شال 
ٹنیس ہولی چا بے چنانجراحددبین نے بجوم نز رآ تن یکردیا۔ تام اس کے ایک دو ش ےکی 
ط رح محفوط رہ گۓ ۱۹۳۳ء یس بی حید رآ باد (وکان ) سے مولوکی عبدال رزاقی نے اخبارات و 
رسائل سےکلاام حاصس لک کےکلیات اقال چچھاپ دیا:۔ بیراھ یھی اقب لکو موا رکف راچنا یراس 
مجھوع کی فروض تکوحید رآ بادکی راس ت کک محدددکر دیاگیا۔ چود ہر مم نکی ڈائری(۱١)‏ 
سےمعلوم ہوتا ےک کلام ابا لکا اشاب اور اصلاں کاشمل عبدادد چقنا کی اور چو دھریی مین 
021 سے پار نے کن لکو پیا اور ہیں انگ ددا منظرعام پآ کی لا مکی فرابی کے سے 
بت صا بکی بیاضھوں سے بددل یگئی ۔ یق شال شد لمکا حص اقا لکی دزں ے 
اہر ہا ہوگا۔ انا تاب کےکل سے شہگفذدہکا- 

انگ درا جب شا ہوگی تو اس دو رکا ۵ھ فص کلام تیوک قرار دے دیامگیا۔ ال 
مرو ککلام مل ۵ سے افیص کلام ایا بھی شائل ہوکا جواقبال کےسامنے مو جودو تہ تھا۔اگمر بے 
تا مکمام شال ہو جانا نذ باتک ورا کی ضفامت ۷۰٦‏ صفا تی کک یھی از کڑے انتقاب 
کے بحدہ اس مو کو او نے تین سوص فیا ت کک محدودکردیاگیا۔ جوکلام گیا ا لکی یاد پرکئی 
جھو سے شا لح ہوے ۔ ابا لکا جہ خی رمطبو لام اعجاز ام کی بیاش میس شاعل تھا تے' روزگار 
فقر“جلردوم میں شا لکیاگیا۔ یوں باقیات کے نصف در نمو سے سا ےآ ئے۔ 

رام الھروف نے ان تما مچھوخوں کے علاوداقبا لکی بیاضوں ےکبھی استفادہکیا ے۔ 
اخبارات ورسائ لکی مز ید در قگرداٹی ہ یز مکا تیب اخبال کے ذ خر ےک ھکھگا لے کے بعد بیج 
خی مرو نکلام اور خی رمطبو یلام دستیاب ہوا۔یجنت احباب نے میطور نما باقیا تکلام اق لک 
در پافزں کا سلسلہ چارگی رکھا اور ون اتال کے شع ری باقیات شا حکراۓ : 
کلیات با قیات شع راقبال“ کاماغذ بج یکلام ہے جن سکیا ضصمبل دررچ ذل ہے۔ 
نعل ھورے 
اد رختسخفرم تالورعارث یح ازؤل۱۹۵۲ء 
٢۔‏ رختح رم تب اورحارث شی روم ےے۱۹ء 


ا قیات ااقبال مرج یع بدالواع دجن 

پا قیات اتال مرح رعبدالواحد نی عپدائڈ شر 
سرودرفتۃ ؛لام رسول ہم 

ترکات اقبال مھرنراشی دنو یظی م1 بادی 
وا راچا لعرالفنارگیل 

رو زا رفقی را زفقبروحیرالد بی 

ادا یکلام اقال اززگیان چنر 


اردوگیمئ ی تاب 

اردوکی پا نچ ی تاب 

1 ط1 50 ۸۷۱۰۰ 
نواب سرذوالفقارکی خان 

اتال ازامردن 


کلیات انال (حید رآ باد )مت یم ولدک یعبدالرزای 
ساس جناب امیراور وم نیس مرج تد قی مین تا 


چان اتال مر بدالرشن طاری 
اصلاحا تہ اتال مرجیشیرفی سنوی 
مت تج 

کر اتال مر یعبدا لیر سالک 

اوراق یگ مکشیدم جب ڈاکٹ ری ہجنش شابین 
علاش وتاشر برای سنوی 

اال ‌اورا جن ایت اسلام ۔علیفشاہر 
روایاتتیاقبال عبراللہ چتال 

اقبا لک محبت مس عبرالدچتالی 

انال انیسو یں صدیمش 


اچ 


ٹُخ ازل۱۹۵۳ء 
شع سم ےے۹اء 
۹ء 
۹ء 
۲۳ء 
۰ء 


(۱۸[ء 


۳ءء 
۵ء 


۲ء 
پہلا ا ۱۹۲۳ء 
۳ء 
۶۸ء 
۳ء 
۰ء 
۲ء 
۵ء 
۵ء 
۹ء 
۹ء 
ےے۱۹ء 
ےے۱۹ء 


ےے۱۹ء 


- 


کلیات با ات شعراقبال ۸ 


ا۔ کلام ا قہال(ناددونایاب رسائل کے؟ مین میس )اکب رحیدری ۰۱ء 
انز کےعلادہرائم اروف نے درخ ذیل اذ ےکھی گھرپوراستفادہکیا۔ 

علا کی بیاضیں 

ا۔ بیاشسٍ باتک درا( جلداولء دوم مسوم چچارم) 

اف ال تلام) 

۳۔ بیضیبال جرل(شخغ) 

۰ 2ئ 

۵- اض ارمغان از (حم) 

علا مہ ےم ورے 

اد مسودہبال ججریل 

ج6 مسودوضربیگیم 

نی نے 

الہ ماغثاجازاب 

٢۔‏ با صادق من لاہور 

۔ میا حا تیم اگ ہرخان مان رہ 

۔ میا تمادا ملک دش انورخان موالہگیان چتر 


راہ 
ک٭ 
ت 


کے ج 


ا 


ڈاہ7ہاں 

١ا‏ گراش اتخلص ابر وفضل: تر وامک 

٢‏ مخ عرںفق مور مپدالئدق بی 

میں عبدالشجدر سم نآباد لاہور 

کریم لی . پیٹ 

022 

ا۔ چوجھ ری شینیین اورعلا مہ اتال (روابط )ازٹا یف اور ل مارح ء لا ہور 
رودادی 


٦‏ دح 


ات پا تیشعر تل ۹ دی 


سا 


رن 


آت ان ایت اسلام لا ہورکی متعروروداد ہی 

رسال واخپارات 
مخزن مصوئی ء پھیہ اضبارء اخبارتفیکی ءانقلاب ء زمیندارء یرف لاد ون اخبار ہ“تفمیرکی 
گکزٹ ‏ تن * جامعہءمایت اسلام ؛شاہکارء زبان دی ءصباحی رآباد(ون )- 
عالسی رب یکڑ رومی زی وفردوں (لا ہوں ضشچج الیک عمادلف معارف :مہ رشح روزءلظام 
الا ء مار( لکعتق)ء نی نک خیال ء جوایوں ء برظلم مطلوع اسلام رشکوفہحید رآ یادء 
ال ر یوید اقال ءاتبالیات محیفہ دفیرہ 

مضاشین 
اس کےعلاددددرجع ذیل مضمامین سےبھی استتفاد ہی میا تن می ننلموں اورغزلوں کے 


کئی اشعارشائح ہو ۓ: 


ھلا۔ اتال کا خی مو کلام نظیرلدعیاوی ا شاہکار لاہور ارچ۱۹۳۷۲ء 
٢‏ ھلا۔ ابا ل کا خرعلو کلام تظیرلدھیانویں حائیںءلاہور ابریل۹۵۰ء 
۳۔ اصلاعات‌اپّال ٹن متظورنین ‏ امروز اپریل۱۹۵۸ء 
×٣‏ اق لی ہیں عبرالقوی وی مر روز ون ۔اکست ۱۹۵۸ء 
۵- وواورات اقّال اکنل خان گنار:۹ ون ۔اکست ۱۹۵۸ء 
٦۔‏ کان اکبرلی خان حفخار١۱ا‏ دب ر_جچوری ۱۹۵۸ء 
ے۔ انال کے چندوادر ایی خان ماوفدءاقال مہرےے بر ل۹۵۹ء 
۸۔ واریاچال اکنل خان ذخا ر۱۳ ۰۶ء 
۹۔ ایک جن ےگ تا نکی سک وبنّرہاں عابدرضاءیرار 
صباحیدرآبادرن مار۱۹۲۱اء 

ا ایگ جو ےگ تا نکی 

“وب روال عاہدرضابیدار ‏ اتال نرےے بب ۹۹۷۳ء 
اا۔ چندنوادریسلسل اقالیات ‏ اکبکلخان اخال روہ جوا گی ۱۹۷۲ء 
۳ا ایک جوت ےک ستا نکی 

موچ روال عاہدرضابیدار مکرا تی ۱۹۰۲ء 


۲۳-۔ 


س2 


ک0 (ابالیات ے 
. 
چنرنواو ری سلمسل اتال بات 


۔ دنک شش 


اقب لی ایک فر مل 
شدنظمرش مق 

انا یات 

اقب کی ایک ناد رہ 


اتال پر یامواد 


- نادرات‌اپّال 


واررانّال 


۴۔ باقاتاقّال 
ت خی دو نکلام 


۔-٦‎ 


۸۔ پال جج ری یکامت روک کلام 


ایک تطعتارن 
اقیات‌ اتال 


َ علام راتا لکا نیم 


۶ے 


ت٣۷‎ 


کر او ا علامہاقبال سے خر مور 


مو ےکلام 

علام راتا لکاظیم 
مطبو کلام 
علام۔اال اوردری 
کتائیں 


٢۲ 


لی تر وائی 
ایی خان 
ریس نائی 


لطیف الله بروی 
عبرالقو بی دسنوی 
کال القادری 
بی راصرڈار 
7 
ادارہ 

رای 

امن بن ظر 
نی فضل تن ری 
ادارہ 

ڈ اک راف 


یف اہر 


برا 


اقال رو 
ماونو اتال ٰرےے 


اقال رو 
چامعہ 


افکار نام 


اتال 

کل اتال نر 
رسالہاردو ر7 
می کگوزنمن ٹکا موب رانوالہ 
یز 

نہ 


٭ 


ج یر 


ڈاکٹ رح الد ین اتی بزتْتّن‌ غرم 


ڈارف الین نی اوریف ل کا میکن 


سید ذرازاھ 


ڈاکسن اخ 


شراب ل بر 


باواو 


راہ 
ک8 
ت 


جوری۱۹۰۲ء 
جرل گی۱۹۷۲ء 


ابر ل٦٦‏ 


ت ۱۹۹۵ء 
جوزاکی و ۱۹۹۷ء 
ابر لی۱۹۹۹ء 
چوری۰ے۱۹ء 
۳ےء 
۵ے۴ے۱۹ء 
ال تژر۷ے۱۹ء 
ےے۱۹ء 
ےے۱۹ء 
ےے۱۹ء 

ال ےے۱۹ء 
جرلائی۸ے۱۹ء 


۷۲۲۳ء 
مار۱۹۸۲ء 
ا ےل۱۹۸۳ء 


اہےل۱۹۸۳ء 


کلمیات باقات شعراقال ۲ داچہ 


قطحات رادرم افوی ام روزاقالیڈنش زبر۸۳ء 


٣۔‏ اق لکااکیک خی موب 


مر 


پروفیسرر ہاش جن اتال یات جواائی ۱۹۹۲ء 


کو ا انل می مہایات جرل ئی۱۹۹۷ء 
۵۔ علا ما فا کا ایک ناباب 


7-٦ 


-- ڈاکڑجمودااہی ماونواقال نر وبر۳۰۲ء 


باقیا تک نم وین نو کے مسائل 


ا قات مر اتا لکی نون فو ےکن میس پ۴ییں جوم رائل درییی ر سے ا نکیانخحیل 


درب ذیلٰے: 


1 


2 


اتا لکا کلام ان انگ یں :جن رسائل اوراخبارات میں شال ہوتار باء ان یل سے 
سيںسپبون۔د 

ا ات شمترا تال کے جوجھو سے وقا ف تما شاك ہوتے ر ہے ہیں ء ان میس اپنے بآ کا 
اخترا فی ںکیا لیا چنا رلتض اوقات ریمعلو مکرنا مکل ہو جانا ےکرکس نے 
کہاں سے پکلام ان ذگیا؟ 

فیا یت ا کن کی از نت کن ان من کے 
جذیادکی مخ سیا بکجییںء ان کے پارے میں اتی فص لکنا مض اووات مکل ہو جاما 


سے 
اقبا ل یھی بیاضیں ا سن میس ہماری بہتی الھنو ںکور خکرسحتق ہی ٹین نشنل 
بی ےکہا نکی بیاضوں بی ے۱۹۰ء سے بس ےکا کلام موجودکیں ہی ںککیں اقپا یکا 
سواوخیائھی ایی ن کا سبب بنا ے_ 

اقبال نے جن احا بک بیاضو لک بفیاد پہ بانتِ درا کا کلام متخ کیا تھا وہ اب 
دستقیا بکہیں_ 

ابی کے پا قیاتشعرییکاز ماب نصزیف معلو مکنا م زی مشلا تکا سب بن ے- 
بایات کے ذخرے میس پلنھالھاٹی ظا مچبھی شال وکیا سے >ے بوجو غااطر پاتّال 
ےم فو بکردیاگیاے۔ 


کلمیات باقات شع راقال ۲۳ داچہ 


1 


1 


باقیات شع راقبال کے نصف دجن کےقری بجھوگوں میں مضت رک کلا بھی پایا جا نا سے 
ورای اکوئی جھوع مو جو وی ہے جوا عیب سے پاک ہواور جا بھی ہو 

یل مچھہتوں شا :”با قیات اتال “'اورننرو زا رضق “یس الییے اننحارجھی شائ لکر لے 
گے ہیں ج با قیا تکی ذیل می میں1 تے بللہ قنداو لکلام یل مو جود ہیں- 

مکانیب انال نیز سوا اتا لکی لن ضلکمب میں انا کا اشعارموجود ہیں نہیں 
ا ات کے جن ول کن کان 

ان مہات لکودررج ذلطرلقوں 0ں 0 

اقبال کے قداول اور شی رتداو لکلام کے تمام مغ ذکا ایک اشار یمج بکیاگیا اوران 
تام مغ کا برقت نظ رمطالعہاورمواز ہکا گیا۔ ان متو نکوا با لکی بیاضوں بھی ملا 
0071 

ا ا ا ا و ا ا ا 
اییےاختا فا تکودرخوراطننافڑیں جانا گیا ۔ حرف انی اختطا فا تکا ذک رکیائگیا جس کی 
کوئی اور او مک نی ںتی_ 

کلام اقپا لی مل ہالین اشاعتو ںکوحاص٥‏ لکیلمگیااورپینگمی بیاضوں گی مدد لی 
تل ان تافو کے کنل انال قوذ دانع کے ضرا کی 
اداشتوں ےبھی استفادہکیلگیا- 

سی سے اتقپا لکی بیاضأوں بن ظموں کم زمانۃف ددم ے چال درست 
تار ا ہنیس مل سکاء وا ںنض مکی اشن اشاع تکی تار با می کو ز مان رتمنیف 
ور ا ا یں نی و رق ان ات 2 نان 
رن ےک یکوشت شک یکئی ہے اور یوں بیکلیات مڑئ عدکک زمالی ترجبیب کے مطا بی 
مت کیایاے۔ 

اقبال کےالھاقی کا مکا س راغ لگااگیا سے اوران اشعا راویات سے نار نک دیاگیا- 
نم سکلا مکی سح تکاپودالیقین درتھ سے ممکو ک کت ہو ےن طل ب کلام کےعنوان 
کےجشت شا لکیامگیا. :کہ دی شفقین اس کے بارے میں مخت نکر سے کے فیصلہ 


لیت باقیاتشماتال 7 : 


رن 
ت 


بد زی نظ رچھو سے میں قام مشت کا کو ال کر دیامگیا ہے۔ اود اس ام رکی دی پورگ 
کوشن لک یکئی ےک افبال کے منداو لکلا مککوئی شر باقیات کے اس مج]ھو سے میں 
شال ےہو- 
٢ل‏ ابا لک سوا عمریوں اور محاص ری نکی یاداشتو ںکو پور ی طر ح تگال لیمیا ے اور 
ہرس شعرکو اس جو سے میں شا لکرل مایا ہے جو باقیا تک ذیی می لآ تا ہے۔ 
ک7 اقبال کے الین خ زکو بذیادی ایت دب یگکئی سے ۔ اگ رکسی غرزل پانظ ما الین متن 
یا بجی ہو کا تو ال من نکوتر یی د یگئی ہے جو دوسر ےب خ کی نبدت زیادومقدرم 
ہو۔ 
21 اقب لکی میاضو ںکومطبوع مواد بر ت نع دی یگئی ہے۔ ش اعجاز اح دکی مرج بکردہ بیاض 
سےا مخ کی حقیت ےگ رپوراستفاد ہک یاگیا ے۔ 
ال کے بتملہ با قیات شع رکوز مان ریب سے مد نکردیاگیا ہے اس سے اق ای کے 
ذینی ارتا کی پر یکیفیت ہمارےسا ۓآ جائی ہے ا ںحن می ں جن ادوار بناۓ گئ ہیں 
باتک درا کے متروکات : 
ووراؤل اترا۱۹۰۸۲ء 
دورویم ۱۹۰۹ءا ۱۹۲۴ء( انگ درائکی اشاع تکک ) 
ای ج یل کے مترذات ۔ضربگیم+ ارمفان تماز 
دو روم : ۵ء سے ۹۳۸اءکیک 
ردوری لا مکی ترحیب ا طط رح رگ یکئی ہے۔ 
اہشسمہ وہ 
سکُل رمر) 
چ‌ تنعداو للا مکینمموں کے جنزوی متروکات 


کلمیات باقات شعراقال ۳ 


راہ 
ک٭ 
ت 


ً9 مل 7م مل 
ت غزلوں کے جزوی متر کات ( راو للام) 


)0 تار یں اورمادہہاۓ تار 
)۲( بد بی یگوئی رفردیات 
تفرقا تکی ترحی ب بھی بی عدکک زمای ہے۔ ہرضے می امو ںکی تی بکو یکن 

عدتک زمائی رکھاگیا ے۔ 
تشقیقی متا نے میں شال ہیں لا نمی ںکلیات میس شام لنمی کیا یا۔ وی ےبھی عام 
فا رن نک تی کن ول چناچ ا نین یں میرے ما ل ےکی اشاءح تکا 
اننظارکرنا چا ہے جوامیر ہے جلد منص تتجود پآ جا ۓگا- 

7 اس ظلیات میس ہنم کے مخ کی سندیھی فراب مک یکئی ے۔ 

کے جشن ا کات یس ششائ لکیا گیا جومکن تک ال کے مطابفن سے ۔ دویا دو 
پل ٹول و و ںا 
کے اصولو کا ودا ور لھاظ رکھا گیا ہے ۔ اس ام کی وضاحت اور مت نکی اسنا فی 
متانے میں فرا پ مکردیکئی ہیں۔ شےکلیا ت کا تہب یمچھا جا سنا ے۔ 

و2 زرنظ رچھو سے میں شائل اشعا رکاء تندراو لکلام سے مقا لہ ومواز ت .کر نے ے ورن 
زی لکییفیت سان ےآ بی ے۔ 

تنداو لکلام بش اشعار یکل تحراد: ے۹( مشمولہ :کلیات اتال اروو) 


7. 


دزن مت یکلام اشعا رکیل تعراد: ے۲( باقیات کےمچھڑتوں میں شا ل کلام ) 


لمات باقات شعراقال 6 دماچہ 


یرون ری مو کلام ۰ھ 
اتال کےگل اردواشعار ۸۲۲۳ 


اس سے بی بات غابت ہولی ےک اتال نے اپنا ۳ فیص کلام متر وک تر اردے دہاتھا 
بیہاں اس امرکی ودضاحت ضروریی ہےکہ باقیات میں خی مرن اور رمطبو ہا مکی ذیل بش 
۰ اشعارکا اضافہ رائم اھھرو فک یکوششو ں کا حاصمل سے اورا من ٹیس رائم اھ رو فکا سب 
سے اہم غذ اق لک وی یں ہیں ج نک فقول اب میرے ذ خر ہکتب ٹل شائل ہیں۔ 
رید باقیا تک دستیال یکا امکان اب ہ تم رہگیاے اور :اتال فان نز کا ےکی 
شاف نیش من ہے ۔ ا جن می حال ہی یس منفظرعام پر نے وای جاویدا قب لک خود 
نوہشت ا ہناگر ییاں جاک کا ایک افقتیا سکاٹی ہوگا: 

نا نین 0 >ع- ص “0 ظاہر 

الد بن کے ساٹ کا غخغروں س ےگل را ایک ٹرتک رھوایا اوراس یل سے خود جچھاشف 

و ا ا لات ا 

وہ لصاو او رکا غزات الن کے ساس چلا دے گے ۔ جوکاغخرات با مسودات ہے 

گئے اوراب انال میو زی مکی ز بیفت ہیں میرے والد کے اپ ی کانحزات میں سے 

دی میں جواننہوں نے بر ات خو دفو ظا رکنے کے فا بل تھے _٣ا‏ 

7:7 روف نے اناشفقی مقالہ ۱۹۸۸ء می عم لک ریا تھا نس بر۱۹۹۰ءش ڈگکری دی 
گئی۔اس کے بعداتپال کے جو با تا تیشعرمنظرعام پآ ےی بھی ا کات مس شائ نکیا 
کیا کن بین زار اروف فی خر خی ارز تی ری ارت کی ضا یلا 
می نکیفطرسے وکنا سے اس کے باودجود ہی لو کر نا مکل ےکر. ایا شع کے زرنظر 
- ذیرے میں عید اضا ینمی ن نہیں 7 سے ججھ تۓے غفہ ہمارے 
ساتے؟ تے جا میں اورااس ط رع با قیات شع راتا لکا رذ تر ءمرید باثردوت ہہوت چلا جائے _ے 
7 2- ي طورء ھی برق لی 
0 مرعل شوقی یہ ہو ہے 
۳ ہل 


کلمیات باقات شعراقال 2 دی 


رن 


عای 
روداد امن ایت اسلام ++1۹ء ری ۳۹ 
باقیات اقبال ص۸ ۵2ش سم ۱۹۸ء) 
ایضا ۲۵۱ 
اف باتک درا مخ ردق اتال میو زگ لاہور 
اقبال نامہ جلداو ل٦‏ 
ربقا قحلا تسرود رف مت لام رسول مہرسے اخ ذکیگئی ہیں - 
وکھیے اصالاحات اقبال از نشی ران سنوی 
با ارمفان جماز ہھخزروترا تال میو زگ لا ہور 
اقبال نام ال ش۲۳٣۳‏ 
مظلوم اقبال از ائازار ض٠٣‏ 
مشممول:ونزا لام انے ار دوہ اتنس جنشیاب پو زی اوکاٹ لاخ ااہور- 
اپنا کریبان چاگ از جاویداقال :شا جکردو سکیل بیشن ا ہوں٦٠۲۰ء‏ 


ضط 


رن 


کلیات با یا شعراقال 2 وور اڑل کا کلام ( ۱۸۹۳ء٣‏ ۱۹۰۸ء) 


دور اڑل کا کلام 


( ۱۸۹۳ء۰ ۱۹۰۸ء) 


ایوہ قحوت 


لے مل مت رنتٹیں 
میں ہے جزوی مترویات 
عمل منریی غرزفیں 
غزلوں کے بجزوی متروکات 
عمل قطعات رر باعیات 


۲ 


دور اڑل کا کلام ( ۱۸۹۳ء" ۱۹۰۸ء) 


کلیات با یا شعراقال ۲۹ رو ر اڑل کا کلام (۱۸۹۳ء۲ ۱۹۰۸ء) 


عھمل منریرنشمیں 


مشبور ناب یئل ہے 
ہا مندی چچڑ 
وا ہعری 7 وہ دای و 
کی تن یں ال کی 
یت ساری آپ کی بیت الا سے کم نیں 
کے رت اکروہاں شع خالی آپ یی 
یں الب گی 2 وہ اے کے معن 
یت تضور گر راد و ال آپ 
راہ انی بھوڑ کر گے رین کی راہ سے 
ے گر پاو الف نفہ خالی ای 
ان یں کو فصل گل کی وا ون پھول' کے 
ہر طرف جوئی سے سعدی گل فا ی آپ کی 


کہ 


کلیات با قیات شعراتال دور اڑل کا کلام (۱۸۹۳ءتا ۱۹۰۸ء) 

آپ کے اشعار عوئی ہیں گمر پا کے اق 

موی ا کے ا ا ا کی 
وت ا کک ون ات کے منہ ےکی 

جان سے ٹک 1 می سے مبزانی آپ کا 
ہ رطف سے آ رتی سے ہیں جھ ڈر ڈرگی صرا 

پا گی بل می کو مرفثالل آپ کی 
آپ سے بڑ ھکر عروۓ؟ ول دا بن نین 

واۃ صاحب شر ا ی بشعدا یل آپ کی 
نا کک بم جا ٹک یہ جات کہد نے ہیں آن 

تن کی یگ سی 9ر 
جب اھر سے می پڑیں ےآ پکو ساجن کے مُول 

اف کین ال ای کی 
ا ا ای مان اکٹ اک 

پھر نل جاۓ گی سر سے شر انی آپ کی 
دن اور ایماں کیا م میں واہ نمرہ دے دا 

9ئ 9 و 

حضرت شیطاں کر فت سائھا لی آپ کا 


لات پاقات شعرا تال دوراؤ لک کلام (۳۰۱۸۹۳ ۱۹۰۸ء) 
شجار آنری اک آت ے شیطان کی 
رض نے تیآ کے کیاکی کیپ کی 
ال تن و انا ید کر 
ہو گیا یم کو یقیں غامت سے آ ی آپ 


5ت 


کھھواروں کا وی ون تی ںی سے مفت 
ران کے ھن ےکی صور تکیوں مہ جاتے ہیں آپ 
لی عالم نے تھی ہج وس چا ی آپ کی 
لے پل ہیں نہ ہو پل رکیا کرو گے اس گھڑی 
جب خر لوے گم تر سمل آپ کی 
بات رہ عانیٰ سے دنا ش ء کی رہتا وت 
آپ کو نام کرے گی بے زا یل آپ گا 
قوم عیعائی کے بھائی من سے گڑی برل 
راو یا امج ہی 
اہ ڈامخئش 
بے مرادے موت 
20 عراد ےگوہ 
۴س مت ہے توف 
اغ۔ آ تنبقن نما - مولوکی تراب کی (۱۹۱۳ء) 
لوٹ :- مندرجہ پالا جواش ظم میں موجود ہیں ۔قرحن ان سےکہ بی جواشی علامہ اقال نے خو وکیے- 
ت 


کلیات با یا ےشعراقال ۳٣‏ رور اڑل کا کلام (۱۸۹۳ء۲ ۱۹۰۸ء) 


فلاب وم 


اقبال نے رینظم فروری ۱۸۹۷ء میں ا نمشمیکی مسلمانان لاہور کے 
ایک اجلاس میں بننع کی - 

کیا تھا گرش لام نے گے مزیں 

بن میں جان شی جیے شس میں صر زوں 
بڑھائی فوجچ ؛لم کی بوئی تھی بھ لی 

لم خوتقی کا مرے ول می ہو گیا تھا گگوں 
یا اق دی یت تی کی فو بن نے 

ا یں نے ا ا ون 
رک ما کن 

بنا ہوا تھا ما ہب رخ صر کاوں 
زبکہ حم نے ہیں کیا ہوا تھا سے 

کی یکیو طض ار ےون 
جو ساس شی مرے قو مکی ری حالت 

نع می کون یت نون ا نین 
یر نین تی یی کو اض کی 

کہ میت قوم گا اصلاع کے ہوۓ موڑوں 


ایا ۓعراتال ۳٣‏ وور ا ل کا کلام (۱۸۹۳ءتا ۱۹۰۸ء) 


0 کو و کت 

سن کا یک تی رت ای مین 
غیار ول میس ج تھا یھ فلک کی جاب سے 

و مر ویر 6 رفرت ناوت 
شر تی اکن ان وق جم 

و کی اہ جآ کا ا واژوں 

مر ور 
ہلال زا کی و کا ا این ہروں 

اوا جہ پھر بھی ہو شر خداۓ ‏ "کن فیوں 
شال خات کر ری سو زائن وین 

پر غۓ ہو زین رو اشن اور ے ون 
وج 

292 ا وہ ما موا کی دروںل 
ب کیا خوقی سے کہ دل خد ود سے کتا سے 

جا مس او وی رع مرن ئن 
و ہے کےا ا ان نے 
ال را ے ال وع یں 


ٴ 


کلیات با یا شعراقال "۳ رور اڑل کا کلام (۱۸۹۳ء۲ ۱۹۰۸ء) 

گرم سے اس ہے وہ صورت غلاب کی لی 

کہ معن فقوم ہر اک شر سے ہو گیا معتوں 
اک ات ہن کت 0ے ار 

مج کے ہیں تی پال گید گرروں! 
برغ خقل کو رش گیا ے فلت میں 

مارے اتھ میں آ جاے گا ون 
عزا 3 جب ےکہ ہم خود دکھائمیں جج کر کے 

ج رد سے ہہ میں ہوتا سے غیر کا مموں 
وک کی یق جا رت 

بھی نب ہو ز رم جز آڑھیاۓ میں 
اق نار ان کی نآ یکن کے 

وجود اس کا ہے قصر قوم. مل ستوں 
رما ہے گھ سے سے یا رب کہ تاقامت ہو 

ہاری وم کا ہر فردر وم .۔ 
روڑ کے لے مدان مم میں چائیں 

سوں سے بڑھ کے رے ان کے شہم کا گلگوں 
چپ ان تا توق ے تر تا سے من جا 

ہماری ای وم پ ھک دے یں 


کلیات پا یا ےغعراقال ۳۵ رو ر اڑل کا کلام (۱۸۹۳ء۲ ۱۹۰۸ء) 
وکھامیں شم و کا و جٹر ہے اوروں کو 
زمانے بجھر کے ہہ عاصل کریں علیم وفوں 
جو جری قوم کا بشن ہو اس زانے میں 
اسے گی پان نے اخال! صورت مم موں٠‏ 
ّ شی مگک زین مارج ۱۹۰۹ء 
ت 


20م 
آہ ! کیا جیے کہ اب پھلو میس اپنا ول نی 
سو و۴ 
دے ماف حم تی میں رے بل یں 
اتی ہی کو ےکر لے نعل کین 
ائے مس مہ سے ریب مزم سے غانہ ہوں میں 
گکڑز ےگمڑے جس کے ہو جامیں وہ پیانہ ہوں میں 
ار صرت غیرت ا وں ہاں 7 
پٹ ٹم نیبج زار ہاں ہوے ٤ا‏ 
رل ما ش مر ضا ففاں ہے ؛ٗ 
ال بل شا آہاں ہوے ٤‏ 


کلیات باقیات شع اقال ۳ دور اڑل کا کلام (۱۸۹۳ءتا ۱۹۰۸ء) 
کبیوں نہ وہ لہ سراۓے رک صد فریاد ہو 
چو ہرود عئرلیپ پ<- ہبادر ہو 
بی بنثت بڑھا چا گریاں کے لے 
اب حم ڑضلہ گے پابوس راں ہے سے 
رت ےن ای ال نان کے سے 
شن تح یی تو سے انان تھے لے 
وت 
قابل حشرت دل شی .رہ یت ان 
ور غورد بزم طرب جج حر بت نہیں 
زہ کت شابر آرام 1 صحورت| کی 
صرت ھازہٗ رشارہٗ راحت وی 
ات عحثرت بھی ہعاری یرت صر غام سے 
یی اتال غمبار خاطر آرام نے 
ے 5و 2 یی ژر ووے ایر کم 
00" 
زلدگی کو فور الفت سے می جج بن نا 
نے ہے طوان ا سحخم بر خ٢‏ گ٠‏ 


٭+ 


- 


کلیات پا یا ےغعراقال 2 رو ر اڑل کا کلام (۱۸۹۳ء۲ ۱۹۰۸ء) 


سے کی مو کم ول عصٴل گی ناکام سے 
اں نمارے کا مگمر اک یر انام ے 
اع فان جو نت نان سعادت پورگ 
تک وٹ دا دلِ 0 
و نے رکھا سے سے مماں بی سے بری 
ناے صسڈاہاں فیاں از وور بر ری“ 
وی تی رآ اع ا سی نز 


٤ه‎ 


دوقی کو آ آر ریتراراں راچ ٔد 
ای ےہ 
یں 0 
1ون شقن نآ ںاج کی ردان 


خرم تی سے لے انی ےوزز طان 


2 مل ہے وا سے “تا میں عرمم مج 
انی قمت کم ے رو صورتں آیم گے 


٦ 
لی دای پر ۴ سے ز بس تم ے‎ 
اں ڈو دے اے طط دیہ مم ھے‎ 


کلیات پا یا ےغعراقال ۳۸ رو ر اڑل کا کلام (۱۸۹۳ء۲ ۱۹۰۸ء) 


فن ا ران رتا وق تن کے کن 
ؤ٤‏ با ےت اع شی کے جن 


سا رمعت ے ڑْوٴ یا نع دامای پا 


0 6ے 
را سے وایی ام میں تو مل خر 
کت رت 


ار پا و و و 


فع سوز الم و اور بھی ببڑکا گی 
م کے بے میرے خی میں وم شمخیر ے 
مق ا ہکات موی یں ہے 
شش صرصر سے سے اے بر جوا ی زی 
اور تر کے بن سے سے ساری ہہ طفالی زی 
کوم و درا سے سے تائم ان سلطا ی ری 
اور شعاغ پر سے سے خندہ بغالل زی 


کلیات پا قاےشعراقچال ۳۹ رو ر اڑل کا کلام (۱۸۹۳ء۲ ۱۹۰۸ء) 
2 عالم میں میں موجود ساز ےئ 
ہو گی پھر کییں شی صید باز بے می 
2 سکم ے مصؤر خُر 1 کا ماں 
اور نیہ مکل خھیں اے بث بی ٹخاں 
بج کم خر میں بک تیر پر گراں 
0 وی سرت 
7 اع صرت کا تک بپولدہ ے 
دو ہاں کو چھپانے کے سے اک دہ ے 


٠ 


اے فرانی رفتاں نے بے گیا با دا 
درو بیاں کی غلش مو اور بھی یکا دا 
زی ون ور پاگوں کے یا ا کر 
7 ۱ ا سام 
+۳٣٠٠۷١۶۶۷6‏ 6 + 09 
مر ٤‏ 8 
آمد لے 3 لنشین رب ارم 
ہو نہ موی '"‌"ءھ2]) آواز ٹم 
اک اہ تج ےرود رجہ 


- 


کلیات با یا غعراقال ۴ رو ر اڑل کا کلام (۱۸۹۳ء۲ ۱۹۰۸ء) 
کا و و ین یی ا وی ین 
نان کک مق مو چجا حق ہیں 
ہ رکھڑی اے ول نہ ہیں اٹگوں کا ما چا ہے 
داستال بی ہو وا سلۓ وا جا ہے 
ہک کی اق ات ا ا 
ہیں س کوکح| ,ئ٠ ٤‏ پے 


لے ددگار تیانع اے پاہ کر سان 
ا ا ان ا کے ات نے کا کت 
کاروالں طبر گل کا ہو مل ے ہیاںل 
کے آیا ہیں میں اپے درو وئم کی دا ال 
سے تری ات مارک علی ضکل سے لے 
ام سے ما خا ؟ئکنے ہوۓ رل سے لیے 
تییوں یح تاب ور ان وی خسن 
ان ولوں جس طاقت ضا ففاں ہولی ت٠یں‏ 
کون وہ آفت سے ج رین بیاں ہولی ت٠یں‏ 
لک شی سے کہ موی زہاں ٣ھ‏ 


- 


کلیات پا ات شعراتّال 2 رو اڑل کا کلام ( ۱۸۹۳ء٣‏ ۱۹۰۸ء) 
میری صورت ہی کا ی سے ول ن شا کی 
سے وق بھی مری سانل تی اعاد کی 
2ے 7 میس طراز مر کتڑے کت لٍ 
تر و 
اے ور عم و مت قل امت سے لو 
اے ضیاۓ مم امال ڑمپ ہر محت جن ا 


1 
- 


درد جج انماں کا تھا وہ ترے پپہلو سے اٹھا 
قلرم جثل مت ترے ٢نو‏ سے ٹا 
آپ کی فھ نہ مجاان مت کا ے ڑ 
جس کے ہرقطرے میں سوموٹی ہوں وہ دریا سے تو 
طور بر خئم کیم ال مک کا رت و 

و وی ات سو دا شی 
اس نے پپچانا نہ تی ذات پر اوار کو 
وت فا مت 

۰٣‏ و۹ و 
نان از در شیریں 2 از یڑ ے لو 


وےہ 

ہہ 

0 

٦. 

: 
ہج 

ت 

ے۶ 

ه: 
ت 


- 


کلیات با یا ےشعراقال . رو اڑل کا کلام (۱۸۹۳ء۲ ۱۹۰۸ء) 
زیب صن مفل بشریف علم تق ہا 
جی مور گرچ آھ پر سم ق ہا 
٠‏ اب کی 0 
5+ سر ٭٭٭ 5 
و 0 و رک 
ٹرے ساۓ سے سور ۔ویدة الاک سے 
کیا کت مین جن کو تجھرنے و رکی' غاآ جے 
نینج نظارے کم می اق مقرور ے 
و ظمبور معلن تا ی“ گموۓ اوج طور سے 
وو گی جک میں وقت درە دبقان ہ 
نے ۔ ای کے مماناآن ون ماان کا ا 


وه پتاو می شی وہ دای مار ۱7ا 


وو حصار عافت وم سللہ فاران کا 
و ا ا ا کا 


کلیات با یا شعراقال سی رو اڑل کا کلام (۱۸۹۳ء۲ ۱۹۰۸ء) 


ٹر ای سے جی آماں سا ہو گی 
س9 ںيم باب عم ول بے گنی 
خ٠‏ قرت میں ہاں ان بیراد کا 
لوم کرت کام بوتا ے ول نشاد کا 
آ گرا ہوں ترے ور >ٍ ء وشت ے اراد کا 
انی چابے بلہ مق أفاد کا 
]نہ مکنا تھا زاں بک سے می کا اتا 
جعد مجن بے می شی نے ىا 
حم ذرا بے جلج دل کیا صدا آ لی سے ےی 
لب آب پش میں ٴ شرالیل ے 


ول کو سوز مشق کی نشی ےگرالی سے سے 
رو مگ ید لی یع بای سے ےی 


اں ادوپ اے ول ! بڑھا اعزاز مشت ناک کا 
شش خاطب ہیں جناب سر ولاک کا 
اے مرقار خی اے ہر پر ئ؛ 


اس 


تھے سے سے آرام پان سم خر للا 


ا کی نے یی یں تھے پچ ای تم 
ےج سے ول گ٠‏ جا ٹلا درو و الم 


کلیات پا یا ےقعراقال ۴" رو اڑل کا کلام (۱۸۹۳ء۲ ۱۹۰۸ء) 
تی بے ساائیوں سے کیوں نہ مرا ول مہ 
شی ا لی سے تح کو بے نوا سے ہوے 

و ا و 
ول نھیں پپہلو مس ء تیر ےم کا عحثرت خانہ سے 
نع یا ا ضر 0 7ے 
تیم جاۓ جس سے ٹفرحت وہ نا کاشانہ سے 
تام یھ انت ظارے و ‏ اقات کے 
کی اک نے 
خونں زواجۓ سے تما دید؟ گریاں مے 
کیوں نظر ۶ سے و رین شم پاں جے 
کیوں نظر ٣٢‏ سے ترا عال بے ساماں جے 
ون نظ مات وش ین نے ان سے 
راک 6 
کیا جہاں مس ناشتای نا محثر میں 
شس طرب جھ سے نبوت مم ں کوئی بی ھک رنتیں 
کی یت :نے حفینت جنژ نول پان ھک رین 
ماق :و بن ین وی نک رین 
بم ملمانوں سے غیرت مم ںکوئی بد کر ننئیں 


کلیات با یا ےغعراقال ۵" رور اڑل کا کلام (۱۸۹۳ء۲ ۱۹۰۸ء) 
بیودل و جاں سے غداکے نام پرفربان ڈیں 
ہوں فرش بھی فدا جن پہ ہیدہ انسان میں 
ائن اہر میں اک اہ ابام ہے 
ماع ون ا ان کے ام رن 
یق یک میق جو ا سے 
بس کا ارہ عراد حم خاحٴش و عام ہے 
مم ہیں عاشی مرے سب ہند اور یناب کے 
وہاں جا کر مر اث ت کہ نے پام دے 
جا کے میں کہنا کہ ء گن اے گاہانۓے با غ مصطفی" 


٭+ھ 


حم سے بگخد نہ ہو جا زانے کی ہوا 
و690 مو رت 
رق صد ایر ہوی سے تیھوں کی دما 
بے وہ چادو ےن جن سے دب مہا ں دور و 
7 سے من سے در و مصیاںل دور ہو 
یہ دعا میدان ٹر میں بڑی کام آے گی 
خر خان کری سے گے بلواۓ گی 
ینعی ا کے ںا کی 
جو نہ موی نے تھی ویکھا تھا ءتکہھیں دکھاا ئۓ گی 


کلیات با قات شعر اتال ٦م‏ دور از لک کلام (۱۸۹۳ءتا ۱۹۰۸ء) 
نس طرح ہج کو شمی رکر بلا سے 
جن تا یکو رت ہے ہالے 


جن میں انی سرک بے کو ا جاپے 


"٭٭ 


افقد خر ا کڑ دکھانا جاپے 


بش حم سے تھوں کم بچڑان جاہے 
و و 


پاپ وت جرئخ سن چنا 
ےک 
صیر شای شی کا پھڑکتا ایر ے 
فیک ج س کی ول میں چچجتی ہو وہ کاٹا اور ے 


عّے ت٠اں‏ ین ک ماوا ایر سے 
برو آزار مصضصیبت کا “سيا ایر سے 


پل می سے یں نے ن اسلام کی 
کہ ری سے ال دل سے ابا اسعلام گی 
ے خُھوں پر حخابیت انا اسلام کی 


ٴ 


کلیات با قیات شع اتال 


دور ال کا کلام (۱۸۹۳ء :ا ۱۹۰۸ء) 


تم اگ ر بجھو تو يہ سو بات کا اک بات سے 
آیرو ری یی :گی فا کے ات سےا 


- رودادانن پاہت ۱۹۰۰ءگل ٣۰‏ 


غراحافظ 
می وب عم کت ورپ روانہ ہہونے پہ 


لج عاضر سے 


۶ 
یآ 
ٴ تم 7 


سے پورپ ہے ہہ راہ پر 
آکھ اٹی سے اکب خوئیں سے 
ان اتک کن 
۳ اتے ظں جات کے 
ٹر اناں کا سے ماش کمال 
رر وت موقحع 
بر ددیا می ہیں بزار مزے 
و,ۃ سر ام ھر کی موس 
وو نر باط کی صورت 
اور وہ چاندل کہ تر تے 
دی تر آپ نے ىا کیا ناگاہ 


ویتوں کا فراقی اتل سے 
آکھ یس ہیں ہیں رواں لن 
جاے اور پھر کے آ سے گم 
اس رح راہ آکھھ دی گی 
بذم اراں رہ ے گی میں ناسل 
سک ور 
دی اجاب فی اناں ے 
اں وی گناو سے ابی 


دور اڑل کا کلام (۱۸۹۳ء٣‏ ۱۹۰۸ء) 
درد انا صحورت رر 


ہیں موژن کو انظار حر 
تی چپ جاپ شا مکو ہوں تر 
ئل یا جھ رل میں تا طمر 
اون کے ا اور 
یز و و 


نت کو ان و 
بی نف رآ پکو مبارک ہو 


آ1 و ےت درہالی 
گناو کیا کے ین جو 
لیف اخبار کا ا رت ہے 
ع رضت وو گرم ہی 
یت ین ا نے ان 
اپ سے الا کہ لی امان اللہ 
دیق ھا یا 
۲ ات 
عم ة اب ہو گر 
ہو نہ موب ے جدا لی 


چم اجاب ٹم سے مب رآکی 
کیج دی جے چاز کو ت7 
۳ چیپ سے ھو فا نکی 
لن عق جن ہے ال 
رق انی لال 
خر ری ے اب گوباٹی 
شر میں بھی 930 - صببائی 
”بسلامت روی و پاز 77 
کہ یں حطاقتب “یئ ی 
اے رک چان عالم ہَرالٗ' 


ابی ٹا کی عایت ہو 
ا کر پت فا 
قب کر کی سے شع رگوئی سے 
شعر سے پھاگتا ہوں می ںکوسوں 
اٴں چے وانا کن ء گند نادال 


وور ال کا کلام (۱۸۹۳ءتا ۱۹۰۸ء) 
درو فرقت سے پان گب رای 
ول سے اٹ کہ وہ خفا پل 
ا 9 
ا نکی مت پڑی نہ اک پل 
ے ں ےپ ور اور میں عیسائی 
یک بعد اڑ زار روا“ 


دنن نکی رے دعا حافظ 


ہو سفر میں را غراحافظ 


مولوی محروب عا لم 
ا مشہورفلنی وورطبیب لی ہین 


۳- ہروورفھ -۶ض۸۳ 


تَّ 
اش خوں 


اے آہ آج بق مس کفسار ہو 


ا حر من ہے مرے ک٘ یج ے پار و 
ا اگ یں کات وی خسن 
اج حر روں ء ‏ پاز اگل کم شیار ہو 


ااے دای 


یھ 
در یر٥‏ 


حات 
۔ھ 


ان آيٗ نمپ بدة ںنغابہ پار ہو 


ایا یشعراچال ۵۰ وور ا ل کا کلام (۱۸۹۳ءتا ۱۹۰۸ء) 
ڈعویڑتے ائلل ناگہاں کو جم 
اں اے حات خفخر ناہوں میں خوار ہو 
اے اضری کے جاح گرییاں کو چاک کر 

اے سریيی حطلاے سی سوار ہو 
لے بل گر طض ٹضش 6 نزاق ے 

مرمو ین 0 4 روزگار و 


:٠٦ 
: 
۰ 


کے تا تر رہ کی لی ای ےج 


ےت 
ال کو ان تن ان ا و 


: 
5 
7 
۱ 

+9۸ 


کلیات پا یا ےغعراقال ۵۱ رو ر اڑل کا کلام (۱۸۹۳ء٣‏ ۱۹۰۸ء) 


کت ظ میں ۳ 7 گے 
وا و ۷ و و رو و 
جحم اپنے لب سے ماگ کے درتتے ہیں مم جے 
بای گر ے ة ئک غ 
کت را سور اٹم م گے 
اں اے شعاغٗ او غپ ال طب 
بل جات سے جر مان حم سے 


دور ال کا کلام (۱۸۹۳ء :ا ۱۹۰۸ء) 


"۳ 


نام میں رکھا ہوا سے کیا 
ون جا تا یم کے 


کت 0 آج عید ہوئی سے ء ہوا کھرے 
اس عید سے و موت می آۓ خداکمرے 


سم 
خربان ترے اے ح روزگار 01 
آگھوں میں ہرگمہ تھی جوئی اتک بادآ 
کی ار تا 
ٹر کی بج ہو نے گی آخار آؾ 
وی کا ت و ر گیا سے کہ ول کا قرار ھی 
س٦‏ "لئے 
سوز الم نے ہاں کو ملایا سے ىس طرع 
کون دل سے اشتے ہیں ٹم سے ار جع 
اکامیوں نے اس و سا دی وہ کیا خر 
انید ہل میں بی ے پان وار آؾ 


کلیات با یا ےغعراقال ۵۳ رور اڑل کا کلام (۱۸۹۳ء۲ ۱۹۰۸ء) 
اںل اے دلٰ یں اللوں کا ور رر 


س٦"‏ "۶" تہ 


نووا مد وی 
پڑھردہ ہو گی 5 بی افی 

خیں رو ری ے بای جہاں مم بہار آن 
٥٥‏ یپ9پی)),+ ۶9999۹9 

ام تن 8ا بین دل دافرار ٣ى‏ 
ا ا کی ا ا ا ا 

رنصت ہوئی بچان ے وہ ماجردار آ 

فراں نہ ہو ولوں پہ تر ان شبی نیں 

نے کم جج کوئی نثان شی میں 


ز۸ پیارم 
7۳٦‏ ای ہت 
ٹاو تانق تا و 


ابی ہے سے کہ آگھ میں آضو ہوں اور کے 
ٰ ء۶ ۰ 


کلیات با یا ےغعراقال ۵۳ رور اڑل کا کلام (۱۸۹۳ء۲ ۱۹۰۸ء) 
0 ۹ نت 
بے تابیاں جھ اور کی ہوں اپنے ول مں ہوں 
جو ورد اور کا ہو وہ اپے گر میں ہو 
مور ہو ات حبت سے پا مل 
جو ول میں ہو نہاں وہ نمایاں نظر میں ہو 
بس بات ہو ء صا ہو پ تل کی 
زی کی عراو ول جار ین 
ہو مم میرلں کے سارے کی 7 
ماگے ہہاں عو و مروت ‏ ظر مں 
شرت کے آسان پہ رشن ہو اس طرئ 
ہو پر میں وو ور نہ وم فو ق٠ر‏ میں ہو 


فان ہوں ولوں کی ولایت میں ا طر 
جس طرب ور رشیے جار نظر میں 
اے ند جی چاجے وا ی گزر گی 
7ر ون وھ ا رای تا تی 


۰ 


کلیات با یا ےشعراقال ۵ھ دو اڑ لکا گلام ( ۱۸۹۳ء٠‏ ۱۹۰۸ء) 

کا کے و 

وی تح جن سے مفونون کی تی گی 
نہیں رواں ہیں خون کی چم جاب سے 

تی تن یی کی 
درو ال کی جاک بھی کی خغضب کی شی 

گخنڑری جو ول کے گییں کی شی .گی 
ات وف تعجریۓ می رکا آاھھا ما ا 

و کی 2 
دے پر ج ضلی نویں کی شی ول 

تیرے گھروں کی بردہ نٹینوں کی شی گی 
ہو نا 01 خواتقین ہر م 

ا یی و 
اب پار آج ہو اے جم سلطنت 

7 9 صْى 2۶۰ 
سے سال خرن ا فو بی سم نے نے کیا کیا 

یر رت ان یی تی ری 


کلیات با یا ےغعراقال ۵٦‏ رور اڑل کا کلام (۱۸۹۳ء۲ ۱۹۰۸ء) 


و -ررق یھ نے سی ماک کان 
7- رین جات دلیکون کی تی گی 
ہف ہا ے ہي سلظن ردزگار 
ٰئی۰ کت 
فقوت ہیا ضا عبات ان کا خام ہے 
صرے ہوٹس پر خرء وفات ال کا نام سے 


صد یکا پہلاعال 


جایںٰ غزار آ کے میں >پ اک گی 
ون 9“ 9 ) 

روز طریت بماں گل نہ 2 ٌ 
لے روزگًار ھ2 ڑی تج 


"0 ٦ 
وز کر رہ گوفوھ ہک‎ 


4 


۹ 


کلیات با یا ےغعراقال ے۵ رو ر اڑل کا کلام (۱۸۹۳ء۲ ۱۹۰۸ء) 
نعد تغ جغ بای کاطا ان 
را تو رت یی تن وت تی 
ائم ھی وو دا کہ برار٥ن:‏ یں اک سے 
و اتا پک تن 
لال اق یت لی یی نا وی 
اك . کر کو کیک گی 
کی کی ان کی ٦‏ و 
او ری نشی سے تھا بھی بک گی 
لے ورو ٢‏ مرےے مرن پان کی گر 
2 یک ہواۓے سس نے یچک گی 
اک وو ان را کے کے نم 
م بھی نھیں سے مامھ جو می کک گی 
ہ رآگھ ء دی پہ رینش طوفاں نھادہ ے 
ات 


کلیات با یا ےشعراقال ۵۸ رور اڑل کا کلام (۱۸۹۳ء۲ ۱۹۰۸ء) 


ا کت ہو گیا ے زار گر تسا 

0 و جن 
تن ا ا کی تن ین 

پیل کو یرت چنتاں سے ہوے 
آلیں ہوں شعر زبد٤خیں‏ پار ےۓ گمر 
لا 0ی 

آوزوہ عان لوت اور کے نے 
ہر زئم مل کم اخ خاقن بج میں 

بے ہیں سب زوقی معملراں بے ہوۓ 
کت حج وھ 

وہر کو راز ,+۶ ۰۳ھ 


کے نے خرن وہ خاق کی 
کون کو ان نت نے از فان سی نز 


- 


ایا شعراتال ۵۹ دور اڑل کا کلام (۱۸۹۳ء٣‏ ۱۹۰۸ء) 
مطاعے لو آي گے مل ہے مم نے رہ 

ساان کر رگ طخ ناں کے ہوۓے 
یں یضاق ا 

ا ا2ک یا کے نے 

آم چو سو ور پإٌنى روزگار بائر 

ایں مصرع بلند ز من یاد گار ماند 


بشیتہ 
نشم 
کیا مزلم کو برا شس گا 
ن٠‏ رت لی وی زان جن تنا 
آج: انج 2 ڑے ران جائوں میں 
اڑا ہوا تھا شر مرے ول ا١ء‏ مس گیا 
ہو ہو کے بزے ار ٹم سی سوز سے 
ایا ا سے مر 0291 مت 
این ے ان نے از نشین سیا 
ات وو ابر گوئر قرب ے شخطہ ری 


ہم 


مضرقی سے بڑھ کے بط سے ۲ گر ہیں گیا 


کلیات با یا ےشعراقال ٦٦‏ رو ر اڑل کا کلام (۱۸۹۳ء۲ ۱۹۰۸ء) 
صدمہ پڑا وہ آ کے کہ ٹوٹا ے بد بد 
یا مر روع۔:۔ لوک آتا اش و 
۰لا وہ ہار و تا ن ٌ سے 
ا 270 


اس 


اے روز تو پھاڑ تھا پا ئحم کا روز تا 
دن من کے و بڑھا تھا یہ ہوککر بیں گیا 
کن سم سے اسے اے موم تم 
یج 
نع کو کان ین نے رن 
یی و کل جک کا نین نی یا 
ش3 وا ان نشین بک گی وفات نا 
ے ہر بںق اہ اش جات کا 


.7 ظم کے باعث دن ء سال کے برا بر ہہوگیا 


1 ہت یں 
ا کو رت 


ت پایاۓغعراچّال ٦‏ وور ا ل کا کلام (۱۸۹۳ءتا ۱۹۰۸ء) 


اگی شی بحم نے بج اعل سے لے وا 

فت ےد تا کا و ان کین 
وا ری 

ان ان کی ےو تین 
وی شی جن کی ان سے بویروں کا آیرہ 

روا ان گوس دانع سے فو فی 
ات رق و و کت و کین از 

دیکھا سے اس فغر کا کل اجور کہیں؟ 
نے میں تھ و وش سار کی لم 

وو کہ و وہ 
زی کو جع خارتے اشن فو تا 

کنا ہیں بھی ؟ نے جھ ایا نظر ہیں 
7 تہ تر مت 

٢ھ"‏ ْ ٭۷ً٭۹ٌََی۷‪ٌ9۹ھ") 
یا سی پر بر ہاں ک فک ار سے 

٣٣٥سبس‏ ؤٴٗٴ 
صورت تری سے ا گر سوز کی طرح 

ناو و ا 2جق نظ کین 


کلیات با یا ےڈعراال ٣ك‏ رو ر اڑل کا کلام (۱۸۹۳ء۲ ۱۹۰۸ء) 


ا کے نع ہن خ نی ہے رونا ای کا ے 
زی گی ج٘س سے تچ کو ء جنازا ای کا سے 


بنا دم 

پغام غاد سطنيا مل پاد پاء بے 

فرصت یر رو گھڑی نف شعل پار دے 
زور جنوں میں جاۓ جو رش عم و دل 

ف1 2 5 جِاممٗ یی اجار ودے 
چھو سے حم کی آگ نے پان نار کو 

م کو تسلیاں دلل آ شف ار دے 
شن اون نا زا ان سی 

صراں زار گر دورال و دے 
از تج ہیں صورریں حرف یں وہ نام 

شہرت _ے مان گی پروردگار دے 
7 تھرر 5 ام کو راغ 

ے زندگی سی جے پروردگار دے 
اق ری .یی مہ 

انز حخاق زاون تع اد تتے 


- 


کلیات با یا ےشعراقال ۳٣‏ رو اڑل کا کلام (۱۸۹۳ء۲ ۱۹۰۸ء) 


بہ نہر اددگا ٦1‏ ہیں بادگار دے 


سر 


"و و رھ وٗڈ 
مل شلي بی وھ پادا بے 
شمردںم کر گھئی سے جم پاو زاں ے 
صر لو بہار از 2 روزگار دے 
رم کے نیب وب مجزل ہو 
پتھوں میں ابے وشن عبر مل ہو 


پنفلٹ شائججکرددشخ مر عامء لا ہور (۱۹۰۱ء) 


اے مب معید بے تاب سے فو کم فشد کا جاب ے ظط 


2 ا سن مو پا ای تا ای اک 


ٴ 


لے ان رو سور لور نی لک ایا گے ۲ 
اے جاب خی خی پاز ‏ نیاعبت صع کا اب ے ٍ 


وچ اسلام کا ہاں ڑ ے 
یم لی نے جن تھے ھا 
لن رن کے 


کت ای کو یک نت 


تو" کسر غزال خاری 
لت اف زاۓ شور لی 


دور ال کا کلام (۱۸۹۳ء :ا ۱۹۰۸ء) 


نا خو ات لاوز وا زنے لو 


پنَار دوم 


کک 


پاز 
مب و تا پام طرب 
سٹو ں کو کیہ دا سے پلال 


شا ناک 


ویر یش کی خی سے کل 
رم عیدر کی کر سے کل 
بن یئ کی امید یض یی 
نت نے نے تل 
سے شنیر نج تعم دی ےکل 
انان ون و ےکن 
ہاتھ لانا اور کہ عید سے کل 


او میاں شب مر عید سے کل 


کلیات با قیات شع اتال 


اک لیے 


دور ال کا کلام (۱۸۹۳ء :ا ۱۹۰۸ء) 


میری عریاں تی کی عید ے کل 


5 و و 


اھ "نے شعاں ور 
ہہ پر پر ظرے تی 
يہ دکھادا سے سب ماش مال 
بڑھ گیا ُ مرے مر کا 


ےگ ر ےہک 


باغر پاده لال سے ظط 
کہ مارا لپ ال ے ڑْٴ 
ان عاش ال ے ڈ 


ہہ شی کے سوال کے می 


کیا تاوں گے کک کیا ہویں میں 
کت نان ان 


جح گی باغیاں ہیں میں 
ژسار اي یق ہیں 
روۓ از تر 
ار میں طاقب رن پ 
1, منزل میں نھیبوں میں 
اپ بے ماگ پ ناڈاں ہیں 
اے ملک خوان نعدگی بہ گر 
مح ندہا سے متا ہیں 
ار اں کو وج 


دور ال کا کلام (۱۸۹۳ء :ا ۱۹۰۸ء) 


شر آہر زاں ہیں میں 
ا ماکح فان ون 
کہ سراپا لپ فقاں ہیں میں 
کس مصییب تکی داستاں ہوں میں 
موچ“ گرو کارواں ہوں من 
مفت جاما ہوں ؛کیاگ٠راں‏ ہوں میں 
کوئی نا خوائدہ میہاں ہوں میں 
آسمال کا مزا داں ہوں میں 


اک مۓ شب رکا نئاں ہوں میں 


ابی قمتکٴی کی ہوئی ے 
آ, ری اث کو رولیٰ ے 


آرزڑو ۔ ہو دل و 
ضشرت سوزن رو دل میں 


وور ال کا کلام (۱۸۹۳ء:ا ۱۹۰۸ء) 
یی پھرکی سے کرزہ دی میں 
کیا ری تی آبرو ول میں 
ہے کوئی پچ نن تھ ول مش 
ہے جھ ہول نو ول تن 
خون اتید کی سے بو ول مں 
ری تر 
ین 


صرصق میں خام انی سے سمٌگ بنا مماے بای 


ے 
اے سیوۓ سے تی اے شام و ڑے ے ری للا ی ے 
وت ا می تر مق میں تو سی ے 
مس وی سے اڑرے ہیں طییر ‏ رو آئاں مھا یل سے 
۶3٣‏ رت تا ے 
٢ج‏ دے ےج ےتػے کہ 


کلیات باقیات شع راقال 
29 در 1 ے ل شاب 
یام 


7 سر 
7ف 


وفات ‏ پیدارٔ 


دور ال کا کلام (۱۸۹۳ء :ا ۱۹۰۸ء) 


1ھ خر کی ملق بای ے 
و 2۲ھ 


ون ےک اع می کی نے 


شی ات و تی 
میری ظز ہو گی اخ 


نشم 


رو ات رت رن کن 
دو زنننل تھے سں 
ہروں وہ خنگش کہ ڈرتا رہتا ہیں 
ٹم مت نی مم سے 
یت دل مں سے پک لی 
زین تن کک جا جو 
ا اک ا ا کے 
ا 


ا ہب حال سے پا 


مو بی جارنے لی :نہیں 
) 
چھوڑ رے ہج ھکو می نہ کہیں 
وت کا ین 
79 
مو٥ت‏ ہو میری زنمدگی نہ کہیں 
×× و 
1 نفد کی می ین 
ہو رک چان لی رن 


کلیات باقیات شعراال ۷۹ وور اڑل کا کلام (۱۸۹۳ء ۱۹۰۸ء) 

اب بر زندگی ہوا 

کھڑے گرے مرا سفیں ہوا 

27 

ا ںان ا ےم کی ات یں کے 
جانا صی کا وہ گحھم سے اود دہ رونا کہ ہم بھی جائمیں کے 
تع ین کی ا کس تی کی ا تا ان س7 
0 نوا ا ای 
ضلنے وائے گزر جھے اے ول )بے گھوے سے سا 
اٹٹھ گے آہ قر ہاں اۓ کو کے تی کے جا جن 
درو ول کی نزہاں فالی سے -ستشچ کو ے نشی سعھعامیں کے 
تن فی کے ا و ار روک ا ےنت ا ین کے 
ےن ان ںا ان اک زان سی 


پر کم چائد آشار ہوا 
جی رم کا شر کے پار ہوا 


آآو کن تو لفن کے 
7- ئٌَٰٔ۳ھ.ھ٭۶ 
ا لن خی و جال خی 
پھول ایا سے اب جم مم 
یں گلنتاں میں آشیان ے مر 
جس سے جار مصییت کو 
خرن امیر سے یہ الک یں 
نا ۳ھ" 
اے ملک کیوں زیںس سے بس رلیں؟ 


دور ال کا کلام (۱۸۹۳ء :ا ۱۹۰۸ء) 


گیا روال ت 
ا ئم رو اکم 
و ا یر 
رو زم 

2 ام 
اہ بام ملک پا ہیں تم 
کس بھلددے میم نم ہے 
ا وت یک 
میری بہادییں کو تر کم ے؟ 


خات 


ہے ج ول یش نہاں >کریں کیو ںکر 
0 بس کو و 


ےا فو وی ا 


٠ 


۰رہ روزی کا سے بھی 2 مدار 


ہد ا 


وت ا کو وج 
شور آواز چاکی بائن 


اے 


دور ال کا کلام (۱۸۹۳ء :ا ۱۹۰۸ء) 


دہر میں ایک سامنا ے 7 


ہیں جہا ںکوخھوں کے نار پپند 
اں چن کو یں بہار پند 


بر از دم 


گی خار غاد سے دنا 
20 
ہے حم جہاں خاں پید 
ڈو میتی سے اک نہ اک پہلو 
90۳0 3 رت ت 


حون روتا کی کے منرل کا 


مہوت کم انظار ے 
2 کو بہار سے 
درد 1 21 گار رے 

قلے مار ے 


7 
را رن وس از ے 


- 


کلیات باقیات شع اتال 
جان ۳ سے جھ اں یی 
إاں و امیر کا ادا ے 


خنرہ زن ے فلک زدوں پہ جہاں 


وور اڑل کا کلام ( ۱۸۹۳ء" ۱۹۰۸ء) 


وولرتے رو٠‏ اھ بھکیا 
کوئی ال ی بہار سے دنا 


2 یی راز وار ے دا 


بل دا و مب ما 
و 


پر وواز 2 


کیا قامت ہیں ٹم کے 7 نمو بھی 
یک مگاں ہے نشز رگ اک 
دی بپھوٹی زہاں میں کہتا سے 


7 


سونٹی اب مم سے برق مہ 


بڑھتا جات سے ور پپہلو تی 
یں فشاں ہو رسے ہیں آ نس وی 
ری اوال ء ور پہلو تھی 
مل گیا سز پ ج کی 
خواب کا اک خیال سے و بھی 
اع ارت اکن 
دی کو کے ہیں درو پلو تھی 
یر کا چاند ہو گیا نو ھی 
میرے صل کی آبرو و بھی 


دو را ل کا کلام ( ۱۸۹۳ء۲ ۱۹۰۸ء) 


عیر کا چاند اتطراب بنا 
طائی ہت 'ئ'ظلہِ عذاب بنا 


بند بی دم 


تع ات نے کی ا کے نے 
پاے ے خود کیا تصور نے 
سے مدق مر شی >پ 
بے اے خال پا اب 
اف رو رت 
لے شی فادگی یں کر 
لپ اظہار وا ہوا و 
دہ ریو لے شلع لی کا 
زدگی کیا بی کو تتے ہیں 


آسماں من گمیا سنا کے بے 
٦‏ 0 ک"ه" وت 
کوئی فقشہ دکھا رکھا کے بے 
و ان سے کیا ا کے نے 
را ک کر دے جلا جلا کے گے 
تھوڑنا خاک میں ملا کے سے 
حر ات ا کے جن 
کارواں نے جے اٹھا کے بے 
کہ عڑے مل سے نا کے جھے 


عو تا ہے جب بہ روتے ہیں 
کیا یں کے اک ہوتے ہیں 


رشن 
ت6" 
ْ 
ٰ0 
تا 
ئ۲" 
ا 


َْ راو نا میں اڑل ے 
وہ بھی ہہوتے ہیں اے خدا کوٹ 
اس رح کی سے واستاں ای 
جم نہ بویش تو خامشی کہ دے 


ہو و وت 


جا بے یا ہق 6 اے رل 


دور ال کا کلام (۱۸۹۳ء: ۱۹۰۸ء) 


.۰ پچھیاتے ٌ 
کی و ا ات 


بات باقیات شع اتال 

انڑ کے 1ت سے رن عاش زرد 
عال مل کا خا دا سادا 
سے اقامت طلب جداد مرا 
اھ اے فھخ ہاں م١‏ 
عال انا اگمر ے نہ یں 
صورتے 1 عائنۂ مفلں 
کر ضط کا نہیں پارا 


(۸ھ 


دو را ل کا کلام ( ۱۸۹۳ء۲ ۱۹۰۸ء) 


کس مصییب تکی داستاں کے لیے 
بج ھھی درکھا نہ رازداں کے لیے 
وم ہو خفر اس مکاں کے لیے 
ا رھ ان 
او یا انت ان نے 
زامشی سے مری زہاں کے لیے 
کت ان کک 


0۷ درد شخواہ 7م 
ےکسو ں کی امی راہ ے توم 


ت : 
بیس اور میرم لوم 


ہو چا اے وم تا آشیاں برباد اب 


سے 
زندگی کا سے زی داان صیاد اب 


اے ری قوم از مس مجرے اٹھا5ں کا 

گل :و زار کھاوّؤں گا اور گل کكھزاؤں گا 
کین نے گی اک مل کے جوا 

نیت“ یی بجع فان جخناآن س؟ ازنائؤن نیا 


کلیات پا یا شعراقال ٦ے‏ روب اڑل کا کلام (۱۸۹۳ء ۱۹۰۸ء) 


0 , و سے 

لے کو یل کھوں گا پہ جوہر دھاؤں کا 
رکع ا کی ا یت کی کین 

وت ا تک پاکوں دپاّں گا 


سس 


 ؛‎ 79٦ 


وت نے کرک تن ےی او تھا 
گی حر مھ نت صور مرافل کی طرئ 
الیں سے ابے ویش محثر پاؤں کا 


ای ا سن نک وت ا نک کا 
چروں گا وہ و شت ٠‏ یہاں ہلاوٗں گا 
مین انال مزپً دا دکھاؤں گا 
ثشق کی زنگی سے 8ط و خال د ینا 
ایں ری بر 7 تال ظا 
لاس دش رص 1م کت بر ۱۹۳۱ء 
0٦‏ 


کلیات باقیات شع اتال 


وور اڑل کا کلام ( ۱۸۹۳ء" ۱۹۰۸ء) 


ے2 ولاو 


(خئی ادن فوقی کے ہنت وار اشہار ک یملق جھ ۱۹۰۱ء میس مجاری ہوا تھا-) 


می وا اک اخار ے 
2 اخار ے لاہور مُں 
سے روش ان ںی پسع اص و عام 
خر ے ارت رپوا لت ا7 
سطرسطر ا کی مغیر لک وقوم 
دید کے فائل نہ ہو کیوں ندم فوق' 
فان تی تا ای ےکن 
سے تمیارتٴ کا بھی کا مکیا مفیر 
دہ ”طاکف“ ہی کہ پڑت می تھیں 
وت 
دمسٹثلمٹ ضس کا بھی سے بنروبست 
سے معلل رائے اس اشپاد کی 
0ل و و 
ہیں ہحصر دگھیں ور سے 


جس سے سارا ہند واقف کار ے 
نی ا کون ل نے ار ے 
واہ وا گیا مل اقان نے 
ان بگانے کا ہر ى بار سے 
کوٹ ی کہم دے پر شر بے کار سے 
شع سفن کی اخار ے 
دہ خاتف کے سے تار سے 
ینب ئ کا سے ہآزار ے 
لا ان ول کور وا" بے 
جب اڑٹر ٹم تا ے 
اہر ان وگووں کا خود اخبار ے 


يہ زیویں تر کفر سے انار ے 


- 


کات باقیات شع اتال 

ین راغ کے قبت سال کی 
اور پھر انعام میں ناول یں مفت 
آٹھو یں دن حاضری نے بے 
کی ما 1 کے ا سگشن کی سیر 
رن آزادی سے ہرممئمون میں 
کون سے اس ہاکے بر پے کا مسر 
یی بجھ سے جب خر 
ہے ائں کا مر رن وق 
شوقی ے معموں نوڑسی کا سے 
گشت کے عالم میس دیکھا تھا سے 


مشیر یکزٹہ جون ۱۹۰۳ء 


۸ے 


تُ 


وور ال کا کلام (۱۸۹۳ء تا ۱۹۰۸ء) 
ایا تا تھی کوئی اخار ے؟ 
واہ گیا سورا ین کیا تدپار 
تاج ران غدمت گار 
شع رک صد گھزار 
سرو کا لوا بھی وہ دار 
بات ىہ تھی قا بی اظہار 
ہہ ما ا چر رشوار 
عر وی سے مر بشیار 
2 ت ا ا گور پار 


آ دی ہار وائف کار ےا 


ت2 ین کچھوڑریں 2ئ 
(رظم انال نے ایک دوس تک فر راگ پر1 ھ وں منٹ می سک ی تی ) 


سرایا ہوا 5 آ خوش درا 
پے دی دکھولیس جبابوں نے 1 ھھیں 


۹۰ و 


ای نار ےکو موجوں يسھ9 


- 


کات باقیات شع راقال 

ابر ء زلف کیگر ٹر ہو خظر 
م زلف موجوں نے کر اڑاے 
ابعرسرحمابیں نے سائل سے نچ 
ہوئی خونفنناں جشم گرداب ای 


چو وس حنائی سے دائن تھڑا 


میں آگ سے بھی نچتا ہے پا 


۹ے 


وور ال کا کلام (۱۸۹۳ء:ا ۱۹۰۸ء) 
بی قاصتء سے عارن یہ سیبن ۷ یہ جومن 
غحضب ہے پڑے ربزنو لک گی رہن 
نپا کر جھ الا وہ درا سے پنی 
کہ ددیا ہوا یرت صن گشن 
کہامٹش نے اے روش شی رشن 
بجا سے جو کی گے سامری شن 


وا تم میں کی تج روم ہے 
صعم چچھوڑ دے کم نہمھوڑیں گے داصن 


متٹھیریگکزٹ متجبر۹۰۰۱اء 


یب 


تمرم 
(لاٹ صاحب اور ڈائرپیٹعلی مکا) 


ربچ ٹا 


ڈراواں کہ 


اضر لے 


۶پ :9ء موہ 
اہر و کک انا ا 
عفت سے جس کی زان ظم میں سے جار 


831 
بات 


- 


ایا شعر اتال ۸۰ دور اڑل کا کلام (۱۸۹۳ء٣‏ ۱۹۰۸ء) 


خغا فحبیب وہ گوہر ے آج ت--.>ے 

کہ ج٘ س کی ان سے سے آ بروۓ ماع و سے 
وہ کوزی زب دو نے کو ناب 
جب عالمہ سے مھ و لات مل کم 
حر زی عفل ہیں از ے جم کو 

جک ری سے میوں مس ہزی سیر 
رے سے سا سے بے خوف دید عام 

کہ مجرے مر کا سے خوب بھی کو تتیر 
بدل کے ئن سے پاعث ے اصطاب زہپاں 

ویو تل نرہ وہ و رر 
کوئی جو نمور سے یھ تو الین کی سے بہار 

س3 لے کون اق کو تر 
۶۳ و 


بر 


او زین لاو رو تنا ہیاک سے 
کی بصول و مم سسجت 
یں سے غر اطاعت جمان مش ایر 


پ 


-7 


٦ 


بک 


مد جمانں میں کرت ہیں آپ مم انی 

ریپ نل ے یں کن عزاق ے بن ار 
گھر حفور نے جم پر کیا سے وہ اصاں 

کین یوق کے تی و ات لف 
وو لیک بم ہیں کہ می کو یاد رن ہیں 

اق ری یت مات جن ان ہے 9ئ 
ین ے مور شار ریں 

رہیں جہان میں عقظحت طراز جات و سے 
جب طرع کا ظارہ سے بی مخل میں 

نے جنپ نالان رے فا رر 
ہوۓ ہیں رق مفخل بناب وم مل 

ضیاۓ ہہ ری صورت سے جن گا ہر تیر 
و تل کی تن سا و ہین وا 

اٹحی کی ذات سے عاصل سے ہ رک تر 
خدا یں تھی زان میں اہ کام رکے 

2 2 ف0 
قر کے گرد حتارے ہیں بم عاں کیا میں 

ےس او ھت 


تی تعراچال ۸ دور اڑل کا کلام (۱۸۹۳ء٣‏ ۱۹۰۸ء) 


- 


کلیات با یا ےشعراقال ۸۲ رو ر اڑل کا کلام (۱۸۹۳ء۲ ۱۹۰۸ء) 
خوشا ‏ یب 27 2 بھمرو حور کے 
ہماری مم 1 01 بڑھ 0 و 
بوےے چان میں اثال بن مئیروں کا 
کہ ان گی ذات عرایا سے عدل کی ضوںا 


َ مرن فروری ۱۹۰۲ء 


دن دا 


دگی 20-۳ جاب ایک دن جانا ھا میں 

ور ےت 
خفرصورت مولوئی صاح بکھڑے تے اک وہاں 

بر صلماوں میں ابی مولویٗت عام سے 
رع کے تے ”کوگی مسلم نہ اگریزی بڑھے 

ا ای ا من ا یت 
ٹس نے بیس گر کیا ا ن کو خاطب اس طرع 


ووم 


آپ کا ون تھی انی گُرش نام ے 


ین ا کی اتی ا لیت کر ےت 
آپ کے ول میں ج ائی کا انام سے 


ایا ۓعراتال ۸۳ وور ا ل کا کلام (۱۸۹۳ءتا ۱۹۰۸ء) 


کف کی تریف میس تتتے ہیں اگریزی سے شرط 


رک وو سی یا 
ای کت تی 0و را ہے 


وا گیا کہنا نے کیا ا کیا بعظ ے 


پ گا ہر بات گویا کٹ کا آم سے 
اما ےی دن آپ کان ظط 
ابی ب و لام کی تقدیر سے کلام سے 
صلموں کو گھر ریں ہو گر ون پگ ئہ ہو 
بندہ پور اب و جم چالویں یں نے کے نی 
آپ کا دی دارییں کا راز طشت ازیام ے 


او 


پا 


0ٰ 


کاما ی کیوں ئہ ہو خر پ عاصا دام ے 
صرتے چاؤں شم پر دنا فیس ریں سے الگ 

بیز 9 اک پالی اکام دی کا نام سے 
بترہە پور ند انی یں سے ہو ول 

تظ اب ایا صداۓ می بے ہام سے 


اق : 7 
4 ت۶ ال 
0 دو راو 1 ) 
۰۹ 
۸ء) 


ا 
اند سے 
نب بتفوں کی : 
پر ّ 
طر سا ۱ 
ھ804 کت 
٠ ۰‏ 2 یر ےا 
ےت ۲ 
0+ جار از ری 7 اور 
ا ین ا]گ جس 
. حا پچ لعل کپ ۲( ے 
- شس ے مد ا گی 
وں ے ٹل آ1 کت 
تک ےن ریا کر ۰ 
آپ کی نریں 7 ۰ 
حا ور 
- ۰ ےک ےن فرع 
واڑے مُں ه: .َ 
: ہس فر اقاے یا ء بادام سے 
٦‏ سی ۳ ہہاں 
کت جن خیل : 
: .0 عام ہے 
ََ دی داروں کا سربے 
نے گان و قاف و لام ہے 


ظ یصو 7 5 
1 ہے 7 صر گی 7 ین 
٦‏ 2:2 ہے 
۔ ہوں 7 تنا 


کلیات با یا شعراال ۸۵ رو اڑل کا کلام (۱۸۹۳ء٣‏ ۱۹۰۸ء) 

یں ۷ ., کے مات سے شد 

آپ کے یم س برک عڑت وا افرتے 
ام گی الدینی ےک رت ہیں وہ اہیائۓے یں 

آپ کا دٹی کتالیں کی اشاعت کام سے 
شس نے یہ مو یچھا کر ضرت آ پکو فرصت و سے 

نم انی سے بح کو اک ذرا سا ام سے 
دکھ نہ جاے د کمن شا حر کم دل انار ے 

بے ۵ہ 32 ے 08 ضس ٠‏ شنام 
آج کل لوگیں کو سے انار کی عادت بہت 

او سس سا تو 7 ہدنام سے 


ٰ 


ٹس کے فررنے گے پہ ان کا عام سے 
ابن کاکام گیا سے غلمت الام سے 
عم کریں اس کام کو سو کام ایۓے تچھوڑ کر 
آپ کیا بے ہیں حفرت بے بھی کوئی کام 
چاپ وین ظم کا جھ پر گراں کوئی میں 
غدمت دیں اپنے دل کو چاںہٴ ا7ام ے 
ہو اگمر فرصت نہ ہج ھکو اور سے ہوا کے ووں 
ہو نہ اتا بھی تبون دتوی اسلام سے 


خ0 


-. 


کلیات با یا ےقعراقال ۸۱ وور اڑل کا کلام ( ۱۸۹۳ء" ۱۹۰۸ء) 
2 سے ا نر کوئی طاون کا ین 
انا چاسے مج کوئی ہیں منٹ کا کام سے 
بات سے ول 0 0 


+٭+ 


تق وی ہے وی نکی ای تا ام ٤ے‏ 
مزوت ہو عزیزوں کی خاہوں میں اگر 

چھر دی بم ہیں وی شوکت وتی اسلام ہے 
ا ںکھانی کے بیاں سے شی غمش اک اور ہی 

بیرے ہر مرع میں جٹی صنحی ایہام 


اں طرع دنا کا بندہ بھی نہ ہنا چاے 
ای دنا ہو ت ورالدین ‏ گگارام سے 


۳ 


ہے ہرکام مس ہو دین گی غدمت کا پائں 
رت من بب کا می پیغام سے 


جا ہے 


روں سے ج ب کک بدن میس عشق جم ججنسوں سے ہو 
کین وٹ اع وی ا جام 
سے داخوں کی لطافت بیئجھ اىی کا سوز و ساز 
تشق. رین ٹا کی انی من عور غام سے 
سر جھکاۓ تک دن جانا تھا کمسماپی کو میں 
داین تن نے کے یک کیا کام ے 


0ٰ 


-7 


کلیات با یا ےغعراقال ے۸ رو اڑل کا کلام (۱۸۹۳ء۲ ۱۹۰۸ء) 
و ہن ا و اہ ات ات ین 

ابو گی وروش ہیں میں ہو تا آنا م۱ 
77 سے فردا کی اور دل نے نے ےم ے 

تلم ریں کا شوقی سے دا سے مطلب یھ گنییں 
دال ول کو اپنے دالِ دنع نے ادقام کت 


-٠ 


گاؤں سے یاں مج لایا سے جے بڑ سے کا شوق 

عم دیں کے ساتھ اپنے ول کو ذببت جام سے 
ب کہا اور چٹ دکھا دگی اک با ی کی تاب 

وی ےھ ای پر ےا انام ہے 
7 0 و 

واہ کیا غیت ے ء کیا اوفاتٹت کی الام ے 
ور سے نز جیے بٹشن پر ہو ٹنی ما مال 

تر ی دی داری کا ہہ ذّت ہی کیا انجام 2 
ری بجھ کو بج کر ہو گے اور آپ 
اش ریس ہو فو اس کے ساتھ یھ دنا بھی ہو 

ورٹہ روز رشن اصلام 01 - ام ے 


ایا شعراقچال ۸۸ دور ال کا کلام (۱۸۹۳ء:ا ۱۹۰۸ء) 
دی ء دنا کا محافط سے اگ ر بے وی 
یہ بج کے کے می می ضرنام ہے 
ان تو ان دضایتے کون نیس شون اع اح نین 
چدە جب لے ےے گلا نا مار یں 
می سے جس م کا پلے سے بچجھ آرام سے 
کر جب اتال کا آا و بول ‏ ٹا لی 
رہتا سے بھا ی بس اک دبا اعتام سے 
یٹ گی ایک پاری ھا ج٠‏ کا خیلا مگھمراس زمانے میں بہت ضشورتھا۔ 
۰0 
ٹر اڈل 
بھم شی ہونے کو سے ممار سے تقر آج 
رتو شاو سی و وت 
5000 ۱ی و 
خوقی شر سے وا ہوئی توب آع 
۰ء ہے 
ب با ہونے کو سے اک می گر آج 


کلیات با یا ےغعراقال ۸۹ رو ر اڑل کا کلام (۱۸۹۳ء۲ ۱۹۰۸ء) 
ژ 
دیس فی مس طرح تا سے احوالیي نخزاں 
406 1ئ 
عشق و کو نی ہے آ اد تی صن 
و ا لا ۷ لق و و 
گری فیدر کی ہن گنی د چنا 
تی ےن ان تن یی وی تو کن 
آ و ئل باب وہ کیا انراز ممشوقانہ ھا 
چم لڑت میں فرا ہو ہو گئی باخر آج 
عتر ےکعحل عاے کے ہس صل دہالی روزہ دار 
ے ہال عید بنا اض مر آت 
کے سح رم ہج سے کس کس پر اڑ 
ن٥‏ و و 
ری مفل "یں فان ری عا 
لعل میں سے رواں ہو ےکو جوۓ شی رآ 
عبر را از مز دل پاہولا لگردہ ام 
کیو ضو رر ٹر پیا ںگردہ ام 


کلیات با قاےشعراقچال ۹۰ رور اڑل کا کلام (۱۸۹۳ء۲ ۱۹۰۸ء) 
پتر روم 

آج جم عالی دی وہ آمھا نے کو یں 

بس بی ممفل میں انا ماجا نے کو ہیں 
اق کے پان وا تن طور 

9-۰۹ 
کیہ محفل میں تڑہاج ےکس کس کو بے شور 

ری ین کش ا ا کو ین 
و تی لس ہوئی ہو فی منثار مین 

27 ا کو کت کن و 
کن تہ ات کن لی و تن 

ای ا جج گار کی ون 
تفل اعت نین کیا جانے من کا ار 

آج ہر آیٹ مو بم آوازر پا کے کو میں 


کے سے ےہ نرل روال ہوے کو اپ کاروالں 
جم صریر غامہ کو پان درا نے کو ہیں 


ایا ۓےعر اتال ۹ دور اڑل کا کلام (۱۸۹۳ء٣‏ ۱۹۰۸ء) 
سے گر بادگ پہ مال جھ اے وت گمم 

6ھ روہ 
جو ےرا جانا تھی ا ے مر 

یم و نے آخ٠‏ گے اسے مڑھا! کین کو ہیں 

از اعاز سا را ہویدا گردہ ام 

رے را بازبان غام ہگویا گردہ ام 


۰ 


بر وم 
ایر بین کر تم جو بس گشن پ گوہر پار ہو 

چس ہرے کم ثل دد؟ بہار ہو 
یس صرف ‏ تم ایر نیساں ء میں گلستاں ٢‏ تم بہار 

رع" وٹزمیںءخم ار درا پار و 
ٹںش تمہ اک عدیٹ ایا یرب کا ہیں 

تم سی بی کی بتے سے ظبردار ہو 
اک مہ نو آسان مم وخمتے پ ہیں میں 

حم بھی اک فو لا ی کے پہ سالار ہو 


نام یڑا اک ویار عم و ححھت کا ہوں میں 
اور م ا زہاوں کے وی الصار ہو 


یاےغراچال ۹۲ دور اڑل کا کلام (۱۸۹۳ء٣‏ ۱۹۰۸ء) 
ان یئ پا نزاں کا ھ2 

میں ملانوں کا گشن , تم مری دار۶ 
٠ ۰‏ کے اے 029 

یی کے ان کی وت وستار ہو 
تر وا لے انتقاب بفت سور 2 ہو تم 

کون جن زان فیشنع لیخت رت انار 
میری دبیاروں کو چو جاۓ ج اسر عطا 
انان بھی ری ال گوہر شھوار ہو 


ےم 


717 اے ذو خ راری! 727 7 
تس بسف سے نٹ خا لی حمر ا پازار ہو 


ببسفملم نتم و نیا بکنعان من است 
از ومیر سی حمت جاک دامالن می است 
ز7 پیارم 
ھ میں وہ چادو سے روز ںکو نما سلتا نہوں میں 
توم یی کر ےکن ون کو کنا سنا ہیں من 


پر ہیں ئىمُںل اے نا شحم عظارہ ری 
اور مقصور کا دہ اٹھا سا ہیں میں 


کلیات با یا ےغعراقال ۹۳ وور ا ل کا کلام (۱۸۹۳ءتا ۱۹۰۸ء) 

طبر ححمت با دا یش ہوں اے صیاد ! میں 

وام تو سونے کا بنوا لے تو ۲ تا ہیں میں 
طریں زی جات دای نے تر 

آء وو ول بش مرح پھر دکھا سلتا ہیں میں 
آئیں اڑ اڑکر ييے مصرو ریم و شام سے 

اک غاب میں اڑی جلا ستا ہیں میں 
آنا ر مغ و کو رت فا و 

ڈھوینی ہیں ج سکو میں وہ وکا سلتا نہوں میں 
ترک ا مرن تی ای یز کے 

گ۶ ۶ "وج 
اشن یں یی قرو روز 

کی تل از وکا سک ون مین 
گ ری کا جن کی ضو سے غرت مطرق بے 

اس انی شان کے موئی نا تا ہیں میں 
ٔ8 9 2 

مرل متصور کم ۷ و 


٦ 


از تم حمت برو ںکردم شراب ناب را 
ا * مبارک سرننٹین نل جخاب را 


کلیات با یا ےشعراقال "۹ وور ا ل کا کلام (۱۸۹۳ءتا ۱۹۰۸ء) 


یا ے وت 7 راگن زار کی 


ٴ 2 ٭ 


ا" پ بھایا ہوا سے اي گر پار کیا 
ےی لی ای نع وو 

غا کیا ء مل کی کی تھا :خی متفار کی 

7 نی کش م انان ہو 

اب شئیں وپ نان ان طالپ دیژار گیا 
اک جہاں آیا سے کل کخت جن سے واسۓ 

اغیاں باہر ند گے گا جن کے خار کیا 
نی انی زانے میں تہارے نم سے ہے 

ہے ا نت یرت نی ا ا کیا 
7 ) 

7 دو اٹول سے ا ھی ے وہ دژار گیا 
نے سے بھی ون بھی تھے اب حم کا وور سے 

وو وت بر کاشھ کی م ١وار‏ کیا 
خوی قمتے سے پیا عم بک لٹ ہیہاں 

ورٹہ گیا ناب اور باب کا 29-2 


ایاۓعر اتال 0۵ دور اڑل کا کلام (۱۸۹۳ء٣‏ ۱۹۰۸ء) 
رت وا ات و 9 

یی صورت ین 1ر طدےً اغیار گیا 
آرزوےۓے کے بھی 1 کی وشُوار ے 

کام زا موی 2-2 اے لپ اظہار گیا 

"اع رھ ا آوز فریان آر 

شانہ را پل بہگیوسوۓے پر بنا ںکرد؟ 


کیوں نہ دوانے ہہوں لب سوز خہاں کے واسے 

ڈہویڑ کر مل بلی واستاں کے واسۓ 
اس ری فل میں اپنا راز ول کہتا ہیں میں 

ا ہی زیا سے یل کی فاں کے واسۓ 
طعد زن سے ضط اور لت بڑکی افشا مس ے 

سے کوئی مل سی مشئل رازواں کے واسٹہ 
جس نے پایا انی مخت سے زائے میں پروںغ 

سے وی ار یی کپلغاں کے و اسے 


اغہاں کا ذر ہیں ء خظطرہ کہیں صیاد کا 
ششگلیں ہوتی ہیں سوہ اک آشیاں سے واسطے 


ایا ۓعر اتال ۹٦‏ دور اڑل کا کلام (۱۸۹۳ء٣‏ ۱۹۰۸ء) 


خر ہت کا لت ٦‏ ئگی۹گی گ70+0۷ 

انان تھے لے تو گان کے ول 
زندگی دہ چا بے دنا کی زیت جس ے ہو 

نع کن ا کر ہہاں کے واہنۓ 
نہ اب کے پاس جانا سے بھی اٹ ھکرگنواں؟ 

رخت کب منزل نے پاندھا کارواں کے واسے 
۴ 
لشن عم میں وہ رام تی نظارہ عون ڑنا 

و ضف نہ ہو خواپ گراں کے واسے 
يہ پشیدہ سے بے آرامي مت مس مجگجھ 

چا ہا ے ئ و کہاں آرام جال کے واسے 

رشن از ورس حکمت شبتا نمی است 

یں رگ مکشیے من براما نیشن است 


ان مک ہمت کو اتی جتل میں لاۓ وی 
صشنی اخواں کا اٹ دنا گو بکھلاۓ کوئی 


جو ہدددی میس پہاں دوات ایماں سے مب 
نی خر التروں ہآگھوں کو تھلاۓ کوئی 


کلیات با یا ےشعراقال ے۹ وور ا ل کا کلام (۱۸۹۳ءتا ۱۹۰۸ء) 


پپٹاں اد ناکائی ,989 عراد 
فاو ا ولا ای ہی ٤ے‏ کی 


بہر استقبال اعتاو, سے ہر گل کی گی 
اں ہن میں صورت پاو عبا آے کول 


ای و وف وپ ار سن 


دنا اے بغیاں ٹہ حہ مرجھاے وی 
مڑھا کو یر ککھاا خوش فریاد نے 

وج پا و ہے کی نے کی 
کہ گئی زوقی رم مو شوٹی صن طلب 

یت ای تا وق ان ‏ فی میا وق 
الک چا درا رواں ہوتے کو سے جنیاب میں 

از کی فحوزت آ رج ناف یکر یی جان ےکوی 
99 و 

بکییے اس ہزم سے بے کر کہاں جاۓ کول 
مر ریں کے ساتھ رکھنا گر ونا بھی ضرور 

کت کن یت وت جاک زی 

خوپیش راصسلم جب یکویند وبا ماکار حیست 


1 + 3 ۰ 1 مّ ۸۷ 
رد جج خاں بج رڈی زثار ہت 


کلیات با یا ےشعراقال ۹۸ وور ا ل کا کلام (۱۸۹۳ءتا ۱۹۰۸ء) 


عم کا موب رتنقی کش پشادہ تق ہو 

اہن ای شال بم چادہ وق ہو 
پھر ساں بندھ جاۓ گا خرناط و بقراد کا 

پچھر زرا ولا ہوا جازم وم افائد ْؤ ہو 
دم میں شوقیق ے ححت جوا پیوا گ٠ر‏ 

ۓ تھی بٹ جاۓ گی پل گر پان نے ہو 


بے اظامّہ علامصت ے ‏ ٹٴ پھر سعدیق بہت 
زرا ویا سر نا کاشادہ و ہو 


9 “َ" ٣ 


پا 


ان شلادہ د ہو ہریء ایراد ْٴْ ہو 
پھالی سے جہاں میں تل مت کا مزا 
اں نی سے مل ہزرہ کول بگانہ ق ہو 


وم نی سے عم کی ووات بھی کرتا سے عطا 
اں گر پےہ تو ری لُرلباد وو ہو 


داڑاگی 


را کم راد لو ہو 


-|[ 1 


- 


کلیات پا تا شعراقال ۹۹ رو اڑل کا کلام (۱۸۹۳ء٣‏ ۱۹۰۸ء) 
رام کر لینا زمائے کا رے پاتھوں میں سے 
نی جی جماں مش راد تق ہو 
گل اکر ییحی کین 
لیے دل پیا ور وا و ہو 
ا ےک 7ف اطلبوا لو کَانَ بالسی نگفتہ ائی 
گوہر حکرت پہ تار چان ات ہف ا 


۷ی را 
جیی ا را از کی یعضتاں گردہ 


ى 
اے کہ صد طور است پدا از نقان پاۓ لٴ 
- ڑب را 2 گا عرناں ری 
اے کہ ذات ٹر نہاں ور بد مین ع رب 
روے ور را ور اپ 2 پہاں 23 


ى 


ى 


اے کہ بعد اڑپ وت شر پہ ہ رٹوم شرک 
2 ر 7 ز‌ جن اہاںلں ا 


ى 


ا یا و 
أُ وگی و عبت را نمایاں 2 ای 


کلیات با یا ےشعراقال ٠‏ رور اڑل کا کلام (۱۸۹۳ء۲ ۱۹۰۸ء) 
٦ٹ‏ القت ہ ان رویت زردی 
عانے را صورے آئّیہ جاں 23 


وٹ ھ7 انظار ساخشت 
ا ا ا ان و 
مل ٹر ال در فرانی ما“سالۓ پور لو 
972 سے ار لی ا 2 
کل فرستاون پر مر بے کراں می زیٹش 
فط بے ہاب را کم بت طوزاں گردہ 
ہے کل و او ایت اہ مر زی 
۶۸۶7 ۶+ ۶ ص2 


فا ما ےا2 فات ا 
پڑ شور از گوہر ححمت سر دامالن ا 


ى 


ى 


ى 


ى 


- کرو رف بی ۲ 


دو را ل کا کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸۲ء) 


6 کہ 
7( مم 
بھ 
چھ 


آپ نے ہجو ج٘ھی ارمفاں اگنٹریی 
زیت وست خا بالید؟ جاناں ول 
سرایا آ تے رس 
میرے ‏ اتھوں سے اسے بین ےاگمر دو ول ریا 
ہونہ برق الک نہیں اے طائر رن جنا 
سار سے میں بڑا مکش سماتقی کاچنکس 


دے ری سے بردالفتکانشاں انکفت ری 
سے مال عاشتقاں ہن بجاں اگنٹری 
وق مطلق اےسراج مہریاں اننتری 
ہو رموز بے دلی کی تجماں اگفتری 
تک رنقیق ہے تیرا آشیاں اگنتری 
بن گئی گردایے آب رواں انشنٹری 


ہوں بتبدیل قوائی فاری میق خواں 
ہنرے عا ی صرح اصنہاں اگننری 


ارم ازشھر فرتاوست ار انی 
ار راگرصد برا رآ ورددام ایک ولمل 
دا دا ازم رج بنا کا رین جو بہار 
در اپاور' مھ وم ماش شر تام 
ا کن اک ئ وت 7 


ار درصورت کممتی صد زار انکفٹری 
شدرقوظ ست ارم جر چہار اگنتری 
رہد چچوں یگل ہوۓ ہار انگشنٹری 
وۃ ور تیر جشم انار اکفنزی 


علقہ اش غیاز؟ دست مار اشنری 


ما ایر علقہائش اوخوداسیر وس ووست 
27 دست سلیماں علق د رگوش دوے است 
وه چ ککشابد رت آل نگا جم تی 
مین دل یگ مگشیۃ خود ایا جویم مرا 
راز داررزوم وزوست ور پاز ارر٠٣ن‏ 
ہردو با ہم ساختتر و مقر داہائی برنر 
فو بہار نفریب اننٹری دروست یار 
وا پویں ز انگشنتری طرز اطاعت بادگر 
اونوقال بک لکردست ازصرت بب 
امام سن کو ہرجاست ىشنی ایی غزل 
گشت اے اتال مقبولی امیر ماک حصسن 


۳ دو را لکا کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸۲ء) 


اللہ الد دم و صیاد و ہار اگشنزی 
اے جب اننٹری را جاں شار نکنٹری 
انمدگر زی پیچتر صریسۃ کار اگفتٹزی 
وُزری 7اظا راظرو ظا ری 
2- وزر خا را راز دار نشی 
مخ رانکشیں جاناں ء پت کا اتی 
و تت0 و نہار اگفتری 
خمد حر بر خیط فرمان یار اگٹنری 
لوہ فر مانشد چو ور اککشت ہار انکنتری 
کر سرايم فور پا آمد چہار اگننری 
۷۲ وت 


سد لا ہورکادوس رانا ش نکوامی ضر تق ران السععد بین یش استعال فرماتے ہیں (ا تال ) 


٠٦گزفردورس‎ 


مائم پھر 


اندعیرا عر کا میاں ہو گیا 


7 3ك سے 
وۃ خورشیر رون نہاں ہو گا 


کلیات باقیا تیشم راقال 

یاہاں جاریق سر مین گی 
گیا اڑ کے وہ عملی خیش وا 
تی ال از 
گیا کارواں ء اور یش راہ یل 
ٍ0 ۶ص" 009 
0 1 989 
تم اس غحضب کا غخزاں نے کیا 
ہوئی شم کی عادت بپگھ ای جے 
می نوجواں کی جدائی میں تد 
۳۷۰۷٣ك‪ء۷ھ4۷۹۵‏ 
وہ مرٹی ہے اقب شف رک میس 
بنایا تھا ڈر ڈر کے مج آخیاں 
کروں ضط اے نیکس طرح 
حضب سے غلام جن کا فراتی 


۳ دو را لکا کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸۲5ء) 


ماف شقن کو روا ہو گیا 


تصاں ۲م کا آساں ہو گیا 
یااں ما بیستاں ہو گیا 
ہم کو ا ان ھا 
ںی ان ہو گیا 
وہ گل زمپ با جناں ہو گیا 


کہ ہر اک طوناں نتاں ہو گیا 
کہ جینا بھی مج ھک وگراں ہو گیا 


دا ھن کے وہ ئم فیک نے سے 
ہو رای فیاں ہو گیا 


بی مخزنء جولا ئی۱۹۰۲۷ء 


-7 


کلیات بایاےشمراقال ۲ دورا لکاکلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸5ء) 


ریاواشت 
دی میس جھ یھ سے ء قدلب پر اسے لائو ل کیو ںکر 
ہ؟ پچھپانے کی نج بات چھپاوں کیوں کر 
قرن تا ہے کے امت نے 


پچھر میں نالوں سے قیامت نہ اٹھائوں کیوں کر 


کی جن اتی وت نان کون کر 


7کک ےن رت تار انت خی 

اکِ عم سے ترے تحعلوں کو بچھاؤں کیوں کر 
ا لے ہیں اق تر را سی 

زی می سے متچج_ کو نہ بھاؤں کیوں کر 
۲))))' 9 و مک 

اۓ اں درو بت کہ چھپا5ں کیوں کر 

بات ےرا زی پر نہ سے ئل جات ۓےگی 


رخ یت اکا ا کی 


-7 


ایا اتال ۵ دو را لکا کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸۲ء) 
آساں مج کو بجھا دے ہج آروزاں ہوں میں 

صیرے بآ مر گور نریاں ہوں میں 
ہیں وہ ار جو ہو گر مراوا جج کو 

درو ت کے بی کہتا کیہ زان ہیں مُںنں 


دنا تر مری صورت پ نہ جانا یل جیں 

ڈیہ کو صشت و ظل خنراں ہوں میں 
مر و و 

ام1 جائۓ جو ا کا گریاں ہوں میں 
دور رہتا 7.7.77 بزم سے اور ما ہیں 

یھ گی جینا ےکوئی جس سے بیاں ہوں میں 
اع ا ےی ےن و 

يہ دبی پنز سے ٌس پچ پا نازاں ہوں یں 
دا مل ہر یی صورتے ه56ھھ 

سے اسے وق ائھی اور نمایاں ہوں میں 
وی و و 

الک بڑھ بڑھ کے ب یکنا س ےک وفاں ہوں میں 
ہروں ےو ت5 سے -سمبھنا مجر 

کوئی مل ہو کے پہ ق آساں ہوں میں 


- 


یبال ۷ دورا ل کا کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸۲ء) 


کڈ 
کید 


رن کپتا سے ول ہی ای گی زا نے 
سن کے ان دوفوں کی تقر کو جراں ہوں میں 
زپر ہف نفظر نے “سپ پر پان 
اور کافر ہے تا ے صلاں ہوں میں 
کوئی کپتا سے فان ے صوی رپ 
کوئی تھا سے کہ شیداۓ صیاں ہوں میں 
و حا یت یت ری ای ای 
کیا غضب آآۓ ںاہوں ے جھ یہاں ہوں بش 
دکہ اے چشم عدو مج کو ظارت سے نہ دکھ 
جس پہ خال قکو بھی ہو ناز وہ انماں ہوں میں 
رع مزح عشقی ے عائ٠ل‏ ھرا 
دردفرہپان ہو دل پ دہ ے دل مرا 
‌ 
یھ اک یکو سے ہرا دہر میں 7 زادگی کا 
بر ہروا یری زنر )نا نات رل 
‌ 
آی سے انی بجھ اعد یہ انل ہو /ر 
تفع ا نے ا کی یز ون و کر 


ۓے" 
5 
3 
ہی 
۲ 


لیک سوا کو سے کتے ہیں "نبرا ہوتا ے“ 

عخل ہل بے ہر سال ہو کر 
آرڑو ک می رونا جع اپ ام 

اس سے پچ ھکوئی کیا دل نے لیا وی ہوکر 
ری تی بی نمی ہری نظر کا پدہ 

ا یا ای ینزو تفل: جن کر 


یی نی ہوا تی کم خا ہو پچ ا 

رر وا ا و 
لق معتول سے , میں سے لق اے ول 

دکھ نادان زرا آپ سے نال ہو کر 
مور کی ات و اک دید سی دیما 

٢ھ‏ 2 و 
کیو ںکیوں بے خودکی شوقی میں لت کیا ے 

ےکنا ینا یی ای و نک 
رو الشت مل رواں ہوں نی اٹادہ ہوں 

ما و ا ا ا 
و و ا رٹ 

یر ہر :نک تل ہو کر 


ےا دو راو لی کا کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸۲ء) 


کلیات پا یاتیشعراقال )۸ دورا لکاکلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸5ء) 
وو سافر ہیں لے جب نے پا مل 
خور بھی مٹ چاؤں نان رو نرل ہو کر 
ے پروں دو جہاں ا کین 
جاند ہہ وہ سے کہ گنا میں کائل ہو کر 
"۷۶ى "و جس 
و و مج ہو کر 


ۓ رفاں سے مرے کاست دل ممھر جاے 
یع یر ا رن نی ین انت تج 
”ال سر بی می ای 
09٦‏ ا 
لاھ سامان سے اک بے سو سااں ہوا 
بجھ کو حضبے نار ے بپہاں ہو 
ری الفت کی اگ ر ہو شہ تارت ول میں 
ری کو بھی حم 1 اتال ہوہا؟“ 
یہ شھادت گی الفت میں ق مم مکنا سے 
لک ہآ سان سبتے ہں میں ہو 


کلیات پا یاتیقعراقال ۹ دو را لکاکلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸5ء) 

رل ھ ہار جثت ہوا ء آباد ہوا 

2 ۰ت 

لیف دے چاتا ے کیا کیا گے ناداں ہونا 
بھی مب می ایس تر سے چنا 

بھی بر 1- سويٴ ‏ گراں ہونا 
انت وین یی وی اتکی و یت کیا 

ھی یکن کو ان حور بھی لان ہوا 
لیف دنا سے کے مٹ کے تری الفت یش 

ىہ تی شی ہواۓ عربتاں ہوا 
بی الم سے مرا بی ہاں مرا 

ترے ار بغار ے تراں ہوا 

ری ا ان وت 

رہ پداز یرت تد 2 ا 


ال َ۲ دو را لکا کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸۲ء) 
عثر میں جس بں تر صلرا یں ال 
7 د ھن 7 کا ر دپرار :.- 


0 0 0000ھ 


07 کے 


ین 


ٹل موداۓ مت میں گریاں اپ 

یں نے دیکھا تو نہ پاتھوں میں کوئی تار آیا 
09ے و 

و کت ای کون و کل ان 


اس شفاعت نے امت مس بلاگیں کیا کیا 
عی شش میں ڈو ج کر 
وہ می م گن اور وه 7 تی 
ات ان اد یی گیا کیا گے جاد آا 
و کر ضا ری نے ات 
بی ہار و اور مُل سرشار 
ماع رمنا “نے پچھپارنھی ےلت تی 
نا بتوسین ےکی ہےمتقیقت تیر 


-٦ 


ہے)؟ہ 


ایا ریشراچال ۷ دو را لکا کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸۲5ء) 


ے جا حر مت کم حظم مھ کو 
نی تی 


صص جا عری آگھوں میں مایا جب سے 

اق و ا و ا و 
رت راع نی کت ضایر ےتکن 

نے اس تام کا نے وی تم ہچ کو 
اک ہو کر پہ لا اوج تڑیی الفت میں 

نے ا و یی بے کو 
ید ا فی جالع نے لگا یجرنا ہروں 

وک کی ا ا و یی تر کو 
کوئی یھ نے ڑے اشن شیرا کم عزاع 

حور سے کا سے پچھیٹرا نہ کرو خم جج کو 
کا و سا و ا 

"وت 
صفت وی مر ار ٹپ فرقت میں 

چھ ری سے گر و یئ ائم مج کەو 


ن0 
7ا تا ا و ا و و لے 
طور کی ست نہ نے جاۓ فوجم مج کو 


-7 


کلیات بایاےشراقال ۳ دورا لکاکلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸5ء) 

نے آگھوں کے اشارے سے چوسکی ںکر دی 
غور حثر ہوا گائمی نم بجھ مو 
7 "ء۶" "رر بے کو 

ے اٌئھی امج مم کا رونا ای 
۳۶ ۶+ 

ےھ رت ہویں سرایا ٹم ہہادی ہیں 

ےہ دہر کا مارا ہوا فریادی ہروں 

اے کہ تھا فٹوں کو طوزاں میں بارا جا 
اور برائیم کو آ میں ببریسا تر 

کی بت ھا زا قارےی عالم میں وجور 
ایر ور گمر عشل ا سا تما 


ٹ0 سے 
انا تھی چا با با غا ت١‏ 


گر چہ ارہ رہ جن 7ر پدوں ین 
نع تی وت یت جوا جا 


0ٰ 


- 


کلیات پا یا یشمراقال سا دو را لکا کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸۲5ء) 
چم یی صفت دہ رت ہوئی 
دیہ و و لور ٹہ ہوتا مر 
72 1 انار 4 آمد رق ے گر 
یر مین سے کوئی شل ہو با ما 
و ائُتی "7 حا ال کیا ے 
کس سے برباد ہوۓ ہم وہ مححییت مصییب تکیاے 
عال امت کا با ہو کہ بھلا کتے یں 


0 و 0 وھ یں 
واعظوں |ہیں بے گر کہ ا لی ق وہ 


ان کے ہر یام میں َ ۰ و 

کر ور کا 
پیر ھی ہو و سے چاہے اپھا کنا 

پر غضب سے کہ یہ اپخوں کو برا کے ہیں 
فرقہ بندی کی ہوا جرے ممتاں مس بی 

0 مھ‎ + ٥ 
شر وم ہوا مر پار یں‎ 

اۓ غفلت سے اسے رن جا ػتے ہیں 


-7 


گیا تبایایقراال ۳ دورا لکاکلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸5ء) 

آہ ػس بات سے ہو ہت 5 پا 
و سو او و کو وو و 

2 دہراری من ے آرزو زر پہاں 
1 کے میس ائھین: را نما کے ان 

لاکھھ اقوام کو دنا میں اچاڑا اس نے 
بس تمحشٴب ا ا ا دہ کت 1ر 

نان "گی کو سے ہیں بناۓ باں 
عرش اوت سے جو اس مو روا کے ہیں 

ص یپ ۳ و سرت 
ات عھن نف سے اچو نک برا کے ین 


-صَْٰٰٰ"0 
ان راو یت یک کی یں کت ین 


ترے پیادوں کا جھ یہ عال ہو اے شائ حر 

مرے جیسوں و نے کیا جاہیے کیا کے ہیں 
خض لہ سے بدے مم عات ذالّ 

7 000 ےو 
شن کا ىہ دیں ہوک ایخوں سےکرمیں تک سلام 

ایے بندوں کو بے بندرے ‏ ص اگ کت ہیں 


0 +٭+ 


-7 


کلیات بایاےش٣راقال‏ ٔ‌' دو را لکاکلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸5ء) 
توم ےت ای ہو گار کن بھی ثر تے 
مو تک رر ہہ 
بے دواء ص فی فی سے ے مٹ چا ہو 
0 "09 0 
پل ہو ایی متصور سے کیو ں کر اپنا 
خر سز ٹس سے ات انا 
و یو تر یی انا کنا 


تھم جھ امش تھے اب کک تو اوب ما تھا 

ورؿر ]مم تھا وف تنا کنا 
۳۷ھو.0 عال چا رتا ے 

نی خام‌وقی مھ ی می ایک طط کم کن 
شود مق ت کی اب ہے بھی مق ت کش لم 

را کنا جھ سے رونا ١‏ سے رونا ء نا 
قوم کو وم بنا سک یں رولت وا لے 

"۰" و 
او گنی من سرت در کرت جن 


٦‏ ٭٭ 


یاد نراں ۓ ا اور نہ خرا کم ہنا 


ایا یشراچّال ۷ دو را لکا کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸۲5ء) 


یم نے سو پا ر کہا ”نوم کی عالت سے بر“ 
جو مرے ول میں سے کہ دوں ت کوٹ کہ در ےگا 
من پر ہوا خ۰یں ان لوگوں کو اپچھا کنا 
یں و ای ا یڑ 
کوئی کہہ دے و اث کرتا سے کیا کیا کہنا 
ان کی مل میں سے بجھ ہار ای لوگوں کو 
جی کو ۲چ ہو سر بنم لیا کنا 
دیکھتے ہیں ىہ خریو ںکو تو یرم ہوکر 
قر تا خر تا شاو رو عالم ہوکٗر 
ان محیبت میں سے اک ىی مہا اپنا 
لف ؟ رر لپ ٹاد :نا ھا انا 


ابی عالت میں می ١‏ 


تر آولا ای 
نام نوا میں 1 


میر 
و و میں وا ا 


رق کی ہے کیا ا ما نے رات 

بت اق ات کے ا سا ان 
عم مد جائیں سے ممور) تی سے گر 

ہر ان راہ نماوں پہ بڑے گا سنا 


-7 


کلیات بایاےشراقال ےا دو را لکاکلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸5ء) 
زی سار میں ایوں کا گلہ کیا سجیچے 
سو تی جانا ے ححبت ں پیا انا 
عم نے سو راو خوت کی کی مین 
نز ةٴ پٹنا ہا پا ےھ پا نا 
7ت ور وا کو 
2 اون عارث یں سفیدہ انا 


و تی تا سک ا کن جن 


اور میس 7 جا یٹنا اپ 
0 ار یم و ہیں سے ائھی 
کہ ے ہوے ہے با ہوا ہوا نا 


لف سے سے کہ پ لے قوم کی ححقی اس سے 
ورنر ہوے کو تق آنضو بھی سے درا انا 
اپ بج ے ار صحیبت کا رظال رعار آیا 
ڈھوڈعا پھر سے تو رل شا انا 
یں پشیدہ نشی تجھ سے جاری حاات 
نی تتھ سے سے اے فر باتہم ای 
ا کی یی ہوا ینا ۱ 


پیٹ 


مک 


کلیات پا قاتیشمراقال ْ۸ دو را لکا کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸۲5ء) 
اع ا کے کے سک ایز پان 
سے ائی لوگوں کی جقت پہ بھرسا اپنا 
داستال دردکی بھی ےء 6 09217 
قوم کو جس سے شفا ہو وہ دوا کون سی سے 
یہ جن جس سے ہبرا ہو وہ صا کون ی سے 
شس کی جاممر ے ہو وت دن و وی 
نے اے شا محثر وہ دعا کون ی 


جج 
2 ۰ئ 
إاں با دے میں وہ طرز وفا کون یىی ے 


شس کے ہر قطرے میں خر ہو کیک رگ کی 

ہاں با دے وہ ۓ بل ربا ین سی سے 
قالہ ػںس ے رواں ہو ہوۓ مرل اتا 

اقہ وہ گیا ے ٭ وہ آواز وا وی سے 
انی غرد مس خر مس سے بل 

جس سے ول قوم کا گے وہ صداکون ی ے 
سب کو دولت کا مججروسا سے زان میں گر 

اتی اید یہاں جرے سوا کون ی سے 


ٴ 


کلیات بایاےشراقال ۹ دو را لکاکلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸5ء) 
انی تی سے اج ڑ جانے و اے پر "مم 
و رک ا ین 
سے نہاں جن کی گدائی میں امیری سب گا 
آج وا میں وم پزم فقرا کون ی سے 
تبرے ترہاں کہ دکھا دی سے ہی مل نے 
جس نے ٹپ ھا جھ اوت کی بنا کون سی سے 
نی می ات 
اور ال یم کا داواٹہ بنا دے س کو 


-- سرودرفت بش۴۲۴ءروداوانین 


وت پغام جات چااددایی ال دلد 
بر ہو کر ہے سے نہابن الل درد 

ہوا ے صٍ ے ہر اخخوان اپ درو 
بی وہ ںی ےک"ہ اس مھتی میں سے رفعت نہاں 

سر ہے مل متا سے گیا زدہان ال ورد 


کلیات بایاےشمراقال ما دو را لکاکلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸5ء) 
سہارق دئا نا ی کے دای اپ درد 


٦ 


انز تھی اور وی نے ضرے: ار 

سد رت 
دس ور 

مین بیداری نے ہو خواپ گران ا٣ل‏ درد 
کیہ ری سے پر گی گزار ابابیم کی 

ا سے ہوتا ے پیہا تا ن اپ درد 
پیا خقٰ نے ار بثة ال کک 

ورو والوں کے ا سے ان اپ درد 
ان کی دنا بھی میے ‏ عش معفی بھی بی 

مل کات اپ درو و اکا اپ درو 
ائے کیوں محشرپہ واعظ نے اٹھا رنگیا سے بات 

ے ای ىؿيا میں ہیتا مان ہل درو 
درد ہی کے یم سے سے ان ول ججلوں کی زندگی 

درد ے پیا ہوئی روں وہ رواليی اپ درو 

: 2 
2 ٹیں دايٴٗ ٹّے نۓ گی شت عراد 

نے کیا موب سے طرز یان ال دہ 


- 


کلیات بایاےشمراقال ۳ دوراڑ لک کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸۲ء) 
یو ا اک یی تا ین :تر 
ڑظویڑتا سے ماڑرن کو کاروای اپ درد 
ایل ہم نے اےاقا لک ڈانے شر 
ھی نوازن ش کو جو کگر امتمان اہ درد 


ت 
ہي 
در 
مر الپیبپ ففا ۶ و جال اپ درو 


گر آم ہشت ‏ درودالی اپ درو 
سے یں بج نا ٹج جان بل ورد 

ہوں تر سار ے ق لپ سان اپ درو 
اون 23 مشتب ار سای اپ درد 

جھر رثعت پا گروان اي اپ درو 

سر 
تر وت 

یہب گل سے شراب اان اي وہ 


قزر نعل ۳۲ پہلا مان ہل درو 


کی ا کا اہ ا کن 

تی بم آبنب نراۓ من“ نعان ال 
خویش محشر جے واعظ نے سے تھا ہو 
ے وہ گل باتک دراےۓ کاروالی ال 


بھدرے کی مت کیوں چاتا سے پا رب بمشن 
کپ ول ىی ق سے بنرستانن ال 

24 جوںل عقیرت سے کیا ری شر کے 

مق ا سے آشان ہل 

زغ ہونا کوچ الفت میں سے ان کی ناز 

ےا تو کی تا اذا ال 


ٴ 


٠ 


وار پر بڑھنا یہ تھا معراج تا منصور کو 


ھی وم سولپی ور خقیقت دبا ین ہل 
موجن تع مہو فی و مصور ے 

و لق ار انان 
ق نے اے انان طائل 1ہ ! بیھھ پوا نہ کی 

ہے زہاں انز ھت تے زان ہل 
دہ سوزن نے گگئی رکھتے ہیں ہہ بناں اے 

کوئی کیا د کے گا زئم ے نان ال 


یاےخقراتال ۳ دو را لکا کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸۲5ء) 


درد( 


درد( 


درد( 


درد( 


۰ 


درد( 


چ5 


درد( 


کلیات بایاےشراقال ست دورا لکاکلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸5ء) 
کے بانے مجن کہ وم تر وت 
2 ۳- مو 3 وتای اپ درو 
پھرتے رت ہیں مان کوچ“ ”نجل اوری"“ٴ 
ے اکا 5 یں عڑو ان اپ درو 
ای نف خر وا نے 2ن 
وہ بہانہ ہو گیا بر مالین اپ ورو' 


- خرن ؛ ۱۹۰۳ء 


کیوں نہ ہوں ارہاں مرے ول میں کیم الد کے 

طور ور 2 ہیں زڑے ‏ ری درگا,ۃ کے 
ین کی ورکاو گی عاب ج کا ا نے اڑا 

آاں تارے با 7 ری ا 2-9۲ 
سے زیارت کی مناے ‏ الدد سے سوز عق 

ول و وے بججہ کو گگزار شیل الد سے 
اي مبوپی موی ے پدہ درار ان عشن 

ا یا ےھ تن اشن تح از ای حا کے 


تبایایتخ اتال ۲۴ دورا ل کا کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸۲ء) 
و و رو ویو ٹا 

الک موی بن سھے جم قاغا خوام سے 
رگ اس درلہ کے ہر ذڑے میں ے ل وحید ک 

طاٌاي ام بھی طا میں سم الد 


/ع 2 جن ران َ ینا ان کے 


++ 


سیب اسود تھا گمر ٹب غان جخعشق 

ٹم مر ےکیا ہیں ء ددواے ہیں بیت اللد کے 
عشق اس کو بھی تری درگا, کی رفعت سے سے 

آء! پر اشھم نہیں ہضو ہیں جمم مار ے 
کس قور سر مر ہے حر مت کا مر 

اح ک کی خرس ہیں اور ساۓ ہیں تل ؟ٴ و کے 
میرے بشن نے جھکھوٹی حم ا حم کی گرہ 

تک اتا رک 2 کے 
میرے کیے ے ‏ واوّں کا بھلا بزکور گیا 

قیصر و فور دہاں ہیں ری درگاہۃ کے 

و اظہار تناۓے دلي نا کام ہیں 

لاج درکھ یناہ یس اقب ل کا م نام ہوں' 


ایا اتال ۵ دو را لکا کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸۲ء) 
تھی پھ ری سے خغفا میرے دل ار سے 

اے ما بی ! بالے مج کو ا آزار سے 
اے غیائۓ حم عرفاں ٠‏ اے با راو صصق 

22 آا ہیں بجناے 2 ا ار سے 
٦٣‏ 0 .۰۹ 

اے شی ذی چاہ ! 8 وائف ے ان اعرار رے 


ہٹر کا داتا سے ٹپ جا ڑا برار ے 
7 ۴ 7 


کی لی بک چھئی: زاشن: ور ا روز زان نے 
انآ میں خرزہ مان تی شر ہو 

شع تی اح ان کی نز نے 
۹۳ي 28 

یر سے پاد 2 
آج کل اصفر جھ تھ ائبر ہیں اور موا غلام 

ہیں بے شُلوے بڑراروں ےت کان نے 
کیا کروں اوروں کا شوہ آبۓے ار ملک نر 

کی میں ہو مے ال ٹن اغیار ے 
کیہ رہے ہیں جج کو بربستۃ خٹس میں دی کر 

ا جاتے سے یں کول کر تار سے 


کلیات بایاےشمراقال 2 دورا لکاکلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸5ء) 

کر مو سک ا 

و رت 
گزات یں صیاد 02 آخہاں سوزی 7 ۰7 

اغ تھی گڑا ہوا ے عدلیپ زار سے 
ک3ا لت 7 کے اتا بھی کہ میں مور تھا 

انی مین نی رون ار نے 
اںظحم دنا ہیں میں ھ ون رب کی ئے 

کر دعا حم ےک میں جچھٹ چاٗل ا زار رے 

ھت سے ممیرىی معلبت ٠‏ گھب رایا ہوں میں 

نک ا اک ون ین 
کیا سے تھی ففڑوں سے تیرکی خاک در جے 

ہال عطا مر وے مرے مفصود کا گوہر بے 
سے موب الی کر دا بر اج 

بىك بت سے ال رم کے بے 
وج رت 

خرق کر ڈانے گی ہآ رو پ شم نر بے 
ہو ار پسف مرا تحت کش چہ ؛م 

جن رۓ مصر آزاوی میں پھر کیگر بے 


-7 


کلیات پا یاتیقعراقال ۳ دورا لکاکلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸5ء) 


آپ بے وق تچنی جم صورت ماب ے 

کیا فی دے بل ہر ول حطر گے 
کیا کہوں میں قصہ جدبەي بل من 

یر لی تا ے اور لی خر بے 
یہ خفی لی مرے تم سے کہ خادی ہرگ ہیں 

نکی ہو گی سے موت سے بت بے 
ا ان کے ان و ا کے 

یہ تضوری میں عہ رب کی ے لےکر بے 
کیا ےا ئن فان ججا تر 

تیرے جیا مل گیا لے سے ربہر مے 
زان جن گان ال ات دلی زہرا“ کا میں 

حم میں کیوں کر بچھوڑ ریں کے شا خر جے 
ہیں عریر انان خی ناک جک 

موچ ددیا آپ نے جا گی ساعل پر مج 
رونے والا ہیں شبیر کربلا کے شم میں میں 

کیا ور محمد نہ یی کے سای ٢ڑ‏ مجے 
دی ببس ہے جھ یئل کے دارغ عمش اىلي ببیت 

وو م7 ہے تا رای پر گے 


کلیات بایاےشمراقال ۸ دو را لکاکلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸5ء) 
جا ہی پنیے گی صدا ناب سے دی ملک 
کر دا سے گُرچہ اسم نے بہت اظر تھے 
آہ ! رے سای ےآ نے کے نافائل ہہوں میں 
منہ چ اکر ماما ۷ 1 - و 


ت 
شیضہ سا یح تکی ریگ 


کو ا 0ں 


صرصر کے دش بر تو اڑپ ی پھری ے صریں 


سے خار زار غخرت مرے لے بے شیشہ 


قصر پاور جس کو مری نظر نے تھا 
تیرے ساوت 7۶ و و8 ال 

عہد کن بھی موی دیما ہوا سے ج١۱‏ 
اس دن کی یاد اب کک بائی سے تیرے ول میں 

کنیاں کا خالظلہ جب ہوۓ هھاز آ 


ےہ 


کلیات بایاےشراقال و دو را لکاکلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸ء) 


دی ہو میں جرے فیون سے بای 
قے ہو ہی سے شا پاال قرم موس 


: 


چوسے تھ و نے اڑک ھی کے پائۓ نازک 
یؿ؛ جو ناصمہ کی شر کا س لا 


شاین گور ہے و ایوہ کے تج 
رب کا چاند شس بن اپنے جن سے گا 
وس رح بھلا تو ہس نقشل پا سے نال 
یہ کے وو و سک پا نا 


ااے رت حر 7 خر تد کب 2ز نے 


ٴ 
شش چاتا ہوں مضہ میدالی کریلا کا 
گر پا سے شاو بصرہ کے زائروں کی 
باتک 00 ھت 6ر رن یک مایا 
جاہیں من گنی ےگ حم زنگ ک' 
خوا یش اتال :حضرت کےایک مر با کا نام تاجن برا نکی بی نظ رعنا یر تاھی- 
سرویرف ع۷٦۸‏ 
تَّ 


کلیات بایاےشمراقال ۴ دورا لکاکلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸5ء) 


لزان ول اون 


ہزم انم میں ےگو موا سا اک انز ء زییں 

آج رفعت میں شی سے بھی سے اوپر زیم 
ادج میں الا فلک سے ء ہر سے توب میں 

کیا اس ری پر خر ا وو را 
انجاۓ ور سے ہر وہ اف یر ے 

ہر و ماہ وش زی مین ہیں اور صرر زم 
لے کے پغام طرب جاپی سے سونے آاں 

اب نہر ےگ یبھی الٹس کے شانوں پر زی 
شحوقی پک جانے کا سے روز گمردوں کو بھی 

ول ای ا نات تھے کے گور ین 
بک گشنی ری سے ہر فظر کر بہار 

ے گقی صورتث طجچ شی حر زیں 
بر گل کی رگ میس ہے نفش رگ جا ںکی طرح 

سے امیں اعماز می کی کہ افسوں گر زییں 
ناک بر میں جھ نہ مرغ مم ال 6 

ثوت ہوا تن یت نر جح تو کر وین 


-7 


کلیات بایاےشغراقال ٢۳‏ دو را لکاکلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸5ء) 

صاف 1ن ہے نظ تن جن ہیں عس گل 

کی ات ای ای کیک کی یس 
آں ثرر ظّارہ پور 8ت ك2 

رک سے کرلی ے پیا تم اسکنرر زی 
اماں ہو ا کی سعت کم جو تصور ہن 

شا اشن نت کن کے ان ا ماع 
جاندی کے بپچولل پ سے او کائل کا ماں 

دن کو سے اوڑھے ہو تاب کا چادر زش 
آسماں تا ے ظلرت نا وو 

( و ۓے پیل ہم شید سے لے گر زییں 
پڑتی سے دیلنا جوش عقیرت کا مال 

پاے - بادگار 4 72 زیں 
زیت مر ہوا عتامیوں کم آذآب 

٦و‏ 4 آزاو اصای شمي خاور زمیںش 
نی نوا بہاەل غاں 07ج پ> ٹا 

بھر موٹی ء 1ساں ام زر و گور زییں 
2 20 پرخواہوں کی شیج آرزو ہے واسے 

بھتی سے آغشل میں صد موبے صرصر زیں 


کلیات بایاےشمراقال ۳ دو را لکاکلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸5ء) 

مل کے رنج سے 7 دبدر ہر ز یش 
قش پا سے جس کے سے وہ جا چٹ ی کا ذو 

ٹج سے مق سے بوانے کی پر زی 
7 را ننتاان یکن ے وہ رھ دبا 

کبخاں اس کو متا سے لک  .‏ ور زی 
آسانہ جس کا سے سس وم کی ارہ 

شی بھی بین وم کے نے میں نز ین 

۰مم اعد میں چا کر خاک کا عفر زیں 
2 سے عالی کو جہ د کے ہڑؤں ڈھویڑزے اگر 

ری ا و و رر سو 

دہ سرایا فور اک مخ لع خطابہ پڑھوں 

جس کے ہرصر غک وجےمطلع خواورز یں 
کو یں کی ا کا سر بمرصرزییں 

لا لے م دم 08۳09 اور زین 
اے کہ ترے آ ساں ے آماں 2 ہہ تیب 

و ت ری سے معدن مگوہر زمیں 


گلیاتبایا یق راال ۳۳ روا لک کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸5ء) 

لے ہے آ لی سے براۓ خی نام سر 

چو کل طور سے ت شا ہوا خبر زیں 
ار ا وی نی وھ رہ ا 

جافیق سے رو اک بجر سششر زیں 
سے سای طور غکس روے 7 سے ت رے 

ورنر تی ہے ور مل دیدإ٤ٴ‏ تبر زی 
ای ناننل سے نو اس خانداں ہے واسے 

اب کک گی سے جس کی داستاں ازبر زں 
ہو زا عر مہارک 2 حتے کی مود 

دہ چک پاۓ کہ ہو مود پر از زش 
۳ک "۷9 ہ 

بند میں پیا ہو پھر عتاسییوں گی سرزش 
کر یت ری سا انان تی ری 

٤۰٥ھ‏ سے رہ 
ہو ابی ء گے مل جاکیں ناقوس و ازاں 

اھ ا کے رک نی بات ین نان 
ام شاہتاو بر نشةٗ جادو سے 

ورنہ واصین میں لے ٹٹھی ے سو یصر زییں 


کلیات پا یاتیقعراقال سس دو را لکاکلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸5ء) 


پادشاہوں 01 قاوق ہے یت سر 

9| 0 تو 
ات وت ین و نین ون 

گر وو ہے کر یپ قرا کور رن 
خمراں مت شراب مجن و ثت ہو نز 

آمیں کی طط ہول سے مم پور زش 
عدل ہو مکی اگ اس کا بھی فردویں ے 

ورنہ سے می کا ڈعیلا ء خاک کا پر زییں 
سے گل و گفزار مت کے حرق سے سلطنت 

ہو نہ ہہ پالئی تو پھر صرمنر ہو کیوں کر زی 
پاہیے با دای عاقت اٹل کا 

900 و ہی تک 
کان کان کو ھت ھا اع کی 

عنش جک تپگی سے جس کے شع رکی ا ڑکر زمیں 


غاداں جا رے نیعة ٣ج‏ ؛ ہر> 


ٴ 


06 ڑا رے پر زی 
کے تہ یں ہو 
اک رت خواب ہو اعدا کا اور بس زی 


کلیات بایاےشراقال ۳۵ دو را لکاکلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸5ء) 


کا ک0 
نک یع رین یا کرت ران 
ہو گر پنباں تری بیت سے ڈرکر زیر اک 
ھ۶ ۶ چ0" بج 
اک ی7 ے آتت اشعار کا 
جو لک رفعت میں ہوء ایا ہوں وہ ٹچ یکر زمیں 
تی نو پھر یمر بدرحت سرا کے واسٹے 
ہوگئی ےگ لکی تی سےبھی نازک تر زمیں 


ت 
مخ زندرکای 
ا زنرگای کیوں 22,/ را ہے 
اید کہ ہار عرصر جھ کو با ری ہے 


إں پں ذرا بر جا بس مزل نا میں 

زم جہاں کی الفت جج کو تا ری سے 
ا کی ان یی تی تر 
کیوں تل ٦رزو‏ بر گھی گر ری ے 


کا( 
؛وعگ 
٤:‏ 


مل کا ا او و یں او کے نے 
تی ہوئی کہا ی نے 6ت 7لا رنی 


گیا نا امیر ہو گر بزم جچاں ے چااّں 
00 و 
رو کو ہی نان نی یں 
ناد ہو ری سے حتف ماد مرک 
صل چتار اس ک6 تن جا ری 
ارمان و رای دی و کو رکنیا 
کیوں میری ضرنوں کو ول سے ما ری 
اے شع کیوں بھی سے آ میں ہیں س بک پرنم 
کیا میک نگمائی تخریف لا ری 
کن ےا کن و سے ےن 


اس دویاؤ لکا لام ( ۱۸۹۳ء۱۹۰۸۲ء) 


سے 


-. 


کیوں تو ای سے رز گر سب کو ڑا بی ہے 


تی اگر خونقی ہہ مرنے پہ مس ہوں رای 


شع حات گل ہو یں ٹھلا ری ے! 


با یا تک ۲۲۸ 


کلیات پا یاتیقعراقال ع۳ دو را لکاکلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸5ء) 


جا نراورشا مر 


کا 
- 2۰ء ,۹۰ ۹ گ۶۷۶گ۶۶ئ۶ئ0۰۴۶ 
یں چدڑیں کے چان سے میں نے گیا سوال 
اے چان تچھ سے رات گا عمزت سے ء 
و ا 
کے تچ ]سن کی مفل سال ۓے 
ہے وو و ور کی چادر ای ے 


اپ 
ارات 


وع ےہ 


وضع تھے رما کین ور سے 


9ت 


گی پڑی ہل سے یں کی رن 
گیا کہ اس ین پہ خزاں کی ہوا ہی 
6 00 6ی اس یج 
تی جوا بنڑی سے نو مرجھا گے یں 


++ 


:1 


:1 


کلیات پا یا یشمراقال ۳۸ دو را لکا کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸۲5ء) 
اس وفت ترے ہساۓ سورن بھی رہہ 
روما سے ١ء‏ یم کی مفخل برات سے 
:جال بے انت تھے 
کو کی نز ے کہ ایا مال و 
جی طرت کال ما سے خل ہھو 
زی و تھے کم سے نائہ لی طر 
قا من ا کا2 :اون خر تر 
عاصل کروں مال ء مخوں چگیٴ کا چا 
سے لک کا چاندء بخوں میں زیں کا چا 
ہر ایک کی نظر میں عاوں بی طط 
شرت کے آسان پر چھوں بی طئ 


چاند 


اع نے کیاز ان بے کن 
لے بد اپنے ور کا کتا ہوں مس سے 


کلیات بایاےشراقال اس دو را لکاکلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸5ء) 


سور کے نم سے ہج کو ہہ عاصصل ممال سے 
کال ای کے ور ے ہھرا ہلال سے 
چنا ہیں رڑنی کی جا میں مات ون 
رتا ہیں میں کمال سے سدا میں رات دن 
جھ کو اڑاۓے پھرٹی سے خواپشش عمای کی 
کر پیل مان مٍ می خل ىی 
ہے فائدہ نہ اآپنے یں کو خرب کر 
یی طرت حش کر آقاب مر 
کے ہیں جس مو عم وہ اک آقاب سے 


9 ٤)" 99 سس“‎ 


ٴ ٴ 


سے حمال کی سے سم گر ئ ے 


ے چا ہے مال کو خطرہ ژوال کا 
بے طز گی لے درک زوال کا 


ٴ 


رت 
. 


فو ہس خظر سے ہر )ا کال سے 
نے کا اس کو ڈر ے نہ خوف زوال ے 
7 ؤ4 “۹ ۶" 
رنتیق سے اس ہن میں پش بہار مہہ 


کلیات باقاتیشمراقال م۳ دو را لکا کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸۲5ء) 
اذیاں کو ٹر چابیے ہر یم کال گا 
کسپ کا لک" نہک ہعزی جہاں ٹوی“ 
ت 


چم نین ےی اک روا 


قا ]سان پر یہ کھیں بر کا یں 

ال ملا نہ جب ہوکیں خنگک جھتاں 
ہے رے ھ طا کو غاد کر 

او تو و کت ات مان کو 
ا و و 

فیدر ستھ وڑ چُیىتمشی مان کا 
77 98 9 9۹۹و" 
نک دن ج اپ گیتت میں ٢ر‏ ڑا ہوا 

لپدوں کا ۳ پھھ0۳'و 


کلیات باقیاتیشعراقال ۳ دو را لکا کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸۲5ء) 
ہر پار آماں طرف 7 تا وہ 
اش کے اتاد می تر ر 
ناگاہ ا ار کا کم ظر پا 


ال می اپۓے ساتھ اڑا کر سے ہوا 


ال کا اک ور نے جم کا ایھر اھر 
۳ 6 ۰ 3 


ویانں ہو گئی سے ج حثق غریب کی 


كت 
ک 

٠ 
7 
ً 
٤ 


مل کن ارت سے کہ اس کا ھا آروں 
و مر و وا کٹ 


بیندویں نے جب سی بے لی کی کفظو 
کت دہ واج از الع رے ہًرزو 


اک زرا سی بوند سے اتا بڑا ہے یت 


ت جو 


تیرے ذرا سے م سے نہ ہو گا ہرا یہ گھیت 
0 و ا کو 

ہو خود جھ بچء کیا وہ کی کا بھلا کرے 
و جک تن تن ان نون 

وی وہ بات جس نے کیا سب کو لاجواب 


کلیات پا یا یشماقال ۳ دو را لکا کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸۲ء) 

انا این کن ان ا اشن نع جج 

تطرہ ذرا سا ہوں ءکوٹی پچیٹٹا نھیں ہوں میں 
اط کہ مر خم کوئی ودیا کا حم میں 
بی کی رہ میں بھی مت نہ پارپے 

مظرور ہو و عر بی ین نے 
قران اتی چان کریں گی کان >> 

کیا یں گی میں بر کے یہاں آسان پہ 

اع کی ا ا و 
و ی7 و کے ات وی نر 

یندوں کی ان میں پان موی وو ند 
بپ دے سے ال گی ناک پہ وہ ہوناگر پڑی 

مپھی ہوئی مان کے ول کی گی کی 
رکا نے و تق تین 

جقت کے اس مال پہ کی سب نے آفریی 
اشن 1٤‏ وت یر لی و پھوڑن 


ایا یں سے مہ کو رفاقت سے ہوڑن 


تبایا یق اتال سی دوراڈ ل کا کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸۲ء) 
می کے ساتھ سب کو برا ضرور سے 

گر بم نہ ساتھ ریں تو مرت سے دور ے 
و ا ا 

907 یں 

7ٛ۶۶ ۷۳۳۶۶۰۰۰۶ 
پھر ساس فظر کے بندعا سس کا ہاں 

تین بای اشن نیا کان کیا مان 
اڑا ہوا جو کے ا ]آ٢ثژر‏ ہا ہوا 

سادا ىہ ایک بن کی جنت کا ام تما 
بھی گی نہ س سے میبت سان کی 

0 یی 2 و 
ساوح کاو جن زی کان 

یہ فیفی ۶ب یکم ء بے مرذت ۰ نما گ غان ١‏ 


بیاض اقا زض۰٣۳‏ 


کلیات بایاےشمراقال ۴۳۴ ووراؤ لک کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸۲ء) 
یں کے لیے چن تی 


7٥۲‏ ۹ء تپ یف 

نک ذرا انان میں جے کی من چاے 
بل نہیں علق گتوں کو زان میں عراہ 

کمما ی کی جھ ہو خوابشل نو حت جابے 
اک نت ہو ےگی جب نہ ہو پاتھوں میں زور 

نمی نے ۰7 "2ئ2 عادت جا ہے 
شی یق ا ین ات ین لی جازد نین 

ہر کوئی میں کے ای طیعت جا ہے 
ٹس ہے نا رام کر لتا سے ہر انان کو 

سب سے مٹھا ہوے کی تم کو عادت جاہے 
ایک ہی اللد کے بندے ہیں سب گچھوئے بڈے 

اپنے بم ججسوں سے دنا مج مت چاہے 
سے ممائی می بائی !ک8 ام کل پر کبوڑن 

آج سب بپھھ کر کے اٹھو گر فراخت چاہے 
نع کان یھ کا ارت کا 

یک ہو نے کے لے ئییوں کی صت جاپے 


کلیات بایاےشمراقال ۵ دو را لکاکلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸5ء) 


دبی خدا نے مج سکو عزت اس کی عزت جاہے 
کن اتی وت گی زا 

ٗی کو ے نہاوں تج نی الفت چا بے 
سے تی میں بد عزت کا اگر بے لی 

چھوئے جوں کو بنرگوں کی اطاعت چاہے 
صلم کے ہیں جے ء سب سے بی دوات سے ہے 

فو و زی کن ا ا ین فوفین جا ہے 
سب با سے ہیں لڑن ‏ کو برک عادت سے بے 

ساتھ کے لڑکے جو ہوں ء ان سے رفافقت چاہے 
ہیں ججاعت میس شرار تکرنے والے بھی اگر 

وور گی ان ے فتظا صاحب سلامت چا بے 
و ٰ ٔ ۶ 

آںنں نر عد سے زیادہ تھی شرعلی جا 


یہ 
اپ داروں 1 بڑالی ت7 ٹہ اڑا کہیں 
سب بڑالی انی مت کی بددات چاہے 


اع دو را لکا کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸۲ء) 


030 
ٴ8 
ا 


ہ وگ رکہ سب مھوئے بڑے عق ت کر یں 
ور رق جا ہے 
بات اوہگی ذات میں بھی کوئی اترانے کی ے؟ 
آری کو اپنے کا میں کی شرافت جاہے 
گ رکناہیں ہوگئیں بھی نذ کیا پڑ نے کا لیف 
کا مکی زی میں جو ء ا نکی حاظت چا ہے 
: بیاض اغازض٣۲٣۳‏ 
چ‌ 


کھوٹڑوںکی چان 


نع رت رت کک ا ان یک 

انان می توم سے کرت ہیں جن 
رکا سے ھرے بجھائیوں کو اس نے جکڑ کر 

شر ہو لی کہ لے بن کو ر ال 
میں قوم کی زیت نہ بھی کہ یں مٴ 

اک اگ کی سے اس نے مرے بی کہ لال 
٠" ٢‏ 

مب آ نے کن ای وا خی عیب کیا بچھلائی 


کلیات پا یا یشماقال ےٗ' دو را لکا کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸۲5ء) 

حاضر ہوۓ بوڑ ھے بھی ء پچھیرے بھی جواں بھی 

بے ہیوۓ انان کی گن کی ہل 
پیلے تق بری گھاسں سے کی ؛ن کی اح 

ہانوں کو پھر بات جو می ول کی تال 
اک گھوڑے کو کری پے صدارت گا بٹھا کر 

رک اس ا رق تک 
ہوۓےۓ ا گھوڑوں کا بڑی 6 ے جلہ 

سن گی س قوم کی اک ان ال 
ا ا ںی رع کی سان 

و اف کا تی اک ا چنا 

اور ائر کے نات سے نہاں 2 لاگ 
نے پر سو چان ۶ >٤‏ ۶ ۶ 0 

بی کھوڑے کی بانں میں قامت کی سنالی 
ولا کہ مر وم میں یرت نی بائی 

کس طرح ہو پھر غیر کے پتھوں سے ر لی 


ایا یش اتال ۸ دو را لکاکلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸5ء) 
جھم گاڑیاں انان کی میں ٢‏ ىہ غضب ہے 


نت کریںی عم اور ہے کھا جاۓ ئا 


سردی سے رہیں جم نے طویلویں میس تھرتے 
ا بن یم رضالی 


کیا سی مت ہیں پٹ جانی سے تھی 
ہو جاۓ ج خ الم کے خیلوں میں لڑائی 
20 سس رہ 

افوں کر رت نہ رگا قوم کر ال 
027" یں قوم کے وکھڑ ےک و کہاں کک 

جھم تھے میں ے وا خلائی میں ٴُاالی 
اے قوم ! بے اپچھا خیں ہر روز کا جا 


زا سے ہیں تقر سے اناں کی ٹلا 


تُ 


اوت بوئی شخخم ت بنا وہ پیر 
ےک نع کن کان نا 


کلیات بایاےشمراقال ۴ دو را لکاکلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸5ء) 
ہر بات گچیرے کی سرتی گی مین 
کچھ نے پہ آمادہ تھا اک اور تھی گوڑا 
اظر تھا بہت گرچہ بدھاپے کے سب سے 
ا کہ سے وم کو تھا راہ پہ لان 
ات نت اتا نون کرت نف 
پبھ جش جا لی نے کا سے اسے ائرما 
انا کہ اسے قوم کی ذلت میں بھالی 
سی س8 ائھی سس نے زانہ نہیں دیگھا 
کا لآ کے انان و 
رہ تہ 
تق یں ول و ا نے 
تی میں جو راحت ہو ت گی سے گوارا 
انان ہے اصان کو ھا میں تم نے 
دا سے طویلوں میں میں بقت پ وا 
ریے مو طویوں میں ھت ہو ما م 
جلل کی ریف میں سے سو طر تا کا 
دن رات دہاں گحات شی رت ہیں ورنردے 


کلیات پا یاتیقعراقال ۵۰ دو را لکاکلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸5ء) 
سے قد میں انان گی راحت ہہ سعرامر 
ہر عالی میں سے اس کی خلا ہیں ڑیا 
7 وھ 
آت پت سے راب ی28 
زررشت کے بچھولوں سے سے تم کو بھی سھایا 
یار جج ہو چا تق کرت سے روا تھی 
گنا سے جارے لیے نقصاں ھی گار 
کر دوڑ کے گھوڑوں کی جھ ہوئی سے تواشع 
آرام وو میں کو مر تھیں ہو 
آرام ہیں لاکھوں ہیں انان کے یم سے 
برا و ایت بی بھی اب نے کط مم 
ال ا کا یت سے نی 
و کی و کت ےت 7 
اق ان نے تن ےآ کو زج 
تقر وہ کی بس نے کہ چادد گا ما 
وی سا و جو ا وی کی 
ھی بڑس کی تقر میں ما شر غضب کیا' 


۰ ار دی پا نچ ینتا ب۹۵ 


کلیات پا یاتیقعراقال ۵ دو را لکاکلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸5ء) 


ا 


س پھول پ ٹٹی بھی س پھول پر ٹٹھی 

تلاۃ تق کیا ڈہوڈل سے شر کی 
کیوں تی سے ء کیا تام ے گگزار میس اس کا 

بر بات جھ ما تو کجھیں ہیں وا 
جکارے پر ہیس جو گھشن میں رندے 


یں 
مہ ٭٭٭ 


کیا ا شارت کے 


7 قری کی کہ بل پر ے شیرا؟ 
ہے رس وک 


ٴ 


دل بائغ کی ظیوں سے نو اتا یں ا کا؟ 
باج سے سے ان کے پچگڑگ ے ‏ تاا؟ 
ا بیار سے گشن ہے پندوں کی عرا ے؟ 
ھا سے سے پھول بی یل کا پچ ا؟ 
قری کم وا سد پر ٹئے ہوے گا؟ 


۳۲ دویاؤ لکا لام ( ۱۸۹۳ء۱۹۰۸۲۳ء) 


یغام کوئی تی سے یل کی نبلٰ؟ 
تق سے وا ول کے تائوں می کبائی؟ 


رکنا سے غدا نے اسے پچھولوں میں چھپا کر 
ھی سے نے جا ی سے نے میں اٹھا کر 


ہر ول سے بے بق پھرنی سے بی کو 
400ص +4" 

یفن سے کوئی نت سے خرا کی 

"ت0 سو او و مر و 


کلیات بایاےشمراقال ۵۳ دورا لکاکلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸5ء) 


انان گی بے نز غذا تھی ے روا تھی 

قذت سے اگر اس میں تے سے اس میں شفا تھی 
رت ان کی کی و وین اٹ تک نے 

قب شر سی معچی سی طرح علم کو ڑعوڈہ 
بر عم بھی اک شمد سے اور شمد بھی ایا 

دی میں میں شمد کوئی اس سے مصئا 
ہرشہر سے جو شر سے ھٹھا ‏ وہ بی سے 

رتا سے جو انیاں کو نان ء وہ بھی سے 
0 وت ا 

0 1 
مو تر انان کی عظمت سے بی سے 

اس اک کے پ ے کو سوارا سے بی نے 
پچھولیں کی حطر نی کتابوں کو مجنا 

چکا ہو اگر تم کو بھی یھ عم سے میں ا 


بیاض اغاز ۳٣۸‏ 


حتع 


دتی لیک پاتے ہیں عڑت زیادہ 
ای می سے عڑت ء ٹردار رہنا 
الى سے سے آہبادگری جہاں کی 
ہڑائی پثر کو ئن نت ٹل ے 
زمانے میں عمزت عععکومت می سے 
یقت جو محت کی بھچان ہیں 
کوئی بھھ کے عحنت سے سونا یں سے 
جہاں میں اگ رکمیا ہے فو بے ہے 
بی یتیاں ج نظ رآ ری ہیں 
میں کرت دنا شس نادان حنت 
7 
کوئی ا کو جے و اکر سے سے 
پگ دہ ہے لے یں سبکام ای ے 


جو نت نہ ہوئی شارت نہ ہوئی 


دو را ل کا کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸۲ء) 


کرت ہیں دبا بین حتف از 
ڑا دکھ سے دنا میں ہے کار رہنا 
بی دنا می بیاد ے ہر ہکاں کی 
یت ا کی جن 
بڑکی سب سے ایس دوات بی ے 
کے ےھ 
کمہاس زرکو چودری کا کھڑکا ہیں سے 
بجی کے دکھکی ددا ہے تر سے ہے 
میں شان مح تکی دکھطا ردی ہیں 
جو ججھھیں نو سون ‏ کی ےکن عحنت 
چووولت بڑ ےکی نوع کر سا 
پڑا بھی کے رہ ےکی تیر ے ے 
تا سے اسان کا نام ای سے 
کسی قو مکی شان رکاری ہل 


کلیات بایاےشگراقال ۵ دو را لکاکلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸۲ء) 
سادا جار تمارا می سے اندھصرےگھریں کا اجالا بجی ہے 
بدے کام کی بیز سے کا م کنا جہاں کو ای ام سے رام کرنا 
گل ن کوشا نشی ا 0یج کی سکو دما نی اس نے دکی سے 
کھڑا ہے سے نار نت کی کل پر میس بکارخانہ ہے ا لکل کے ئل پہ 
نائی سے بے شرگھری ٠‏ موں کو انی سے أجڑی ہوئی بتیوں کو 
جھ پانھویں سے اپنے نایا دہ ایچھاا جھ ہو انی مت کا یسا دہ ابا 
عرکی جان ! خاشل نہ نت سے رہنا 
ار جات ہو ذراغت سے ربنا 
اردوگ پا نچ ںکتابہکگلہ 
‌ 
دو رکا خ اب 
مسافر رات کے ء چاندی کی جیب وآ سجیں والے 
تتارے آساں کے ہج کو کتے ہیں زییں وا لے 
اٹھا کر دوش پر اپنے عرە شب کی عمل کو 
بر کے خوف سے اڑتے جےے جاتے حے منز لکو 
شال کیسوۓ شب ناش بھی بی جاتی تی 
صدا موجوں کی مین ساعلل ورین سے آآلی شی 


- 


کلیاتباواعت۴عراال ۵٦‏ روراؤ لک کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸۲ء) 
اق 7 وت یی یاباں ہ 
این تی نات تین یا رک میرک 
اڑا :این کے تع خ مان یا ان 
زع تین و وا می فا شا 
رٹ 
کال آپ راوئی خواب نے پاچیا دیا اس کو 
زا ا فی تا ان کا ا ان کو 


۳ 9 9 سو 
جہاں محت جم آغش کفایت ہو کے رنقی شی 
قاعت خغانہ پرورو عبت ہو کے رنتی شی 
ہاں بے ئک خواب 1ور صرا برد ھی 1 ہوں کا 
ماش ائچازض۲۸۹ 
ه‌ 


ا 


خ3 ون گی نین رای تن مان تا 
خوشا وہ دن کہ میرے فرق پر تاب زر افغاں تھا 


-7 


کلیات پا یاتیقعراقال ے۵ دو را لکاکلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸5ء) 


خوشا وہ دن کہ شوقی جامہ زی تھا گستاں میں 

تھی جز سے را عطر جب گربیاں تھا 
بپار جو صن ازل تھا بر" گل میں 

وو گٹو تما کہ کاغاتہ فرزز صن بعان ا 

سر 
ص۰ 

بہار ٣ن‏ شی جشل اب فتنر سامان تھا 
صبا گپوارہ جتیاں ء قضہ گو پان عتادل شی 

نا ئن ا ا کی ان ا 
نناۓ لالہ و ریجان وگل پرییں کی عحفل شی 

سم تج کا بھوچ ج تا تخت سلماں تا 
مم رن تھا شاخؤں پہ میرے طار معررہ 

ن کا میرے دس تآموز اک مر نمزل خواں تھا 
جواپ وت کو رن ول کش تھا 

بہار نرہ و گل شی جوم سرد و ریجاں تھا 
اوھ تل کو تھا مز ہے گیسوۓ مل پر 

اھر اس کو گشن میں غرور جشم خاں تر 
11 رویز کن را شی ائ غ میں 

گوزہ جو بن میں تھا عرمں کل بدااں تھا 


کلیات پا یاتیقعراقال ۸ دورا لکاکلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸5ء) 

مواشی جھ سے تھی 1ب و ہوائۓے دہر اے مم 

صا تھی خطر ؟آگیں ۰ ار رحعت گوہر افٹاں تھا 
ےق رن کے رم۔ سے ڑا 

رن بو نہ مجچھوگوں میں ہوا کے ہیں پریناں تھا 
ٍ۰۰ ۰۶ئ7 

زیں ہیں و لی جرد 7 یاباں تھا 
نہ پوں ایے ہوۓ تے نار ححرا میرے دامین سے 

ضز نون دا جوا خوں مین ہر انآ جار ہیاں تھا 
٦ : 7 0898000‏ 
ھی خنداں تھا میں بھی با عالم کے مرش میں 

نہ میں رت کا چا تھا نہ یں اصصوبر ھماں تھا 
نہ ہیں بالہ کش بتلی ول تھا یاہاں ٹش 

نہ ہیں شو, طراز گرش آ شوپ ووراں تھا 
٣۶‏ ۰ تو 

6 ٰ۶ 
یہ سے افسانرکل کا کیا کہوں ا ے میں مھ سے 

٦) 4ٔ4۰۰ٔ ٔ  . ]7 ۰‏ 
ار علم نیک تی ہر تھڑی می 


گلیات پا یا یقراال ۹ دو را لکاکلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸5ء) 
یل کی رز رخ ان 7ج نشی مین 
رت کہ 
مرا ضس تخل مز تم یس شر گویا 
7 - ئ 2 ا 
چون میں میں فل شج سر گور خریاں تھا 
۳۴۰ 
با گوضہ مرقہ عری تی کا مییاں تھا 
را تھا عظر ۱۲ہ اک نک بانغ صقی کا 
و تو 7 امکالں 7 حوابے رپچاں ۳ 


ےط 


۰ ٹوارراا لضش ۲۱۸۸ 
تّ 


ٹس جواپی 
اے غاب رف اے آمام جان بے ترار 
کی ہت ےت کل تاور 
ہاۓ وہ دن مو بزن تے دل ٹیں جب ارمالن مل 
ےا فو تاجن سک گی جت صجیت لیں و نار 


اف وہ بوالی کا عام جب رل آوارہ کو 
یر و نشمز سے تھے بڑھکر پن نان ناگوار 


-7 


کلیات بایاےشمراقال 7 دو را لکاکلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸5ء) 


یو یکین فرا کے اف مں نام قاط 

جیش پر انی جمالی کی می جب فضصل بہار 
بھی بھی بام پر گمری ہوئی وہ پاند 

ڑی یڈ روں افزا وہ یم خوظگوار 
مل میں اربالوں کا وہ شس ہآہے آرزڑو 

ا اتی ار کا و ا 
وم بت کے مرے ء وہ لطفِ شب ہاۓے وصال 

چان رالؤں کا وم منظرء وم پچولوں کی بہار 
ام پر اک اہ ما سے وہ ساالی وصال 

اک پر ػل سے وہ زوٹی لت اں وکزار 
وه ناو از مرسصتی ے ربتان جن 

2 از آگھوں ٰ۶ ا 
ماع ر یی میں پپھولوں کے وہ کجرے خویش نما 

میق می گردن نزک میں ےہ کی بہار 
پا پا نے دوپٹا صنرلی زمپ بن 

27 اع بر فزالت ے وہ یع اگوار 
ںُ پہ مل کھاے ہوۓ وہ اہ ہے دراز 

تھری تگھری مورے مالوں 5 وم زلف ہار 


تبایا یت اتال ا٦‏ دورا ل کا کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸۲ء) 
بی بھی 1ہ وہ مظریسں وہ انار اب 

2.1 سان سو وو سرب پپالہ دار 
بھی گی پن کی مق ب گھلگ پ 

وۃ حنالی ہاتھ ہین ہے و نل سار 
نی جمل ای کی ہہ ماد ائگ 

جس حطر ہو کوئی سے اوا مے نار 
گیل سے مرضماروں پہ نطرے یں پپننے کے عیاں 

جس حطر جقت حر پھولوں یہ نم آخھار 
اے وہ اھمز پے کے ون ء جوائی کا وہ جن 

نون صن پ مم مم وه جیے پر ابھار 
بام پر وہ چاندی مس ش ب کو لوت کے مرے 

لطلف گھاگی کے ساہاں ء لت ہیں و کتار 
می بھی عر میں ڈولی ہجوئی ہاو شھم 

ری مڑی چاند گا وہ 927 خواوار 
میری جاب سے وہ میم عم شرب آرزہ 

داحالی و روراِ دل امپروار 

اور اھر و2 ئل ار سن دہ دار 


کلیات بایاےشمراقال ۰- دو را لکاکلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸5ء) 


یل میں لب پر اوطر عزر نزاکت کا گلہ 

افطراپ رل سے ہاں شوہ زہاں پر پا پار 
٢را‏ کر مہ چا لیا ابع زیر تاب 

اور اوظر ذو 8۳۳ نہیں ۓےے قرار 

ڈال دینا بڑھ کے باہیں وہ مرا نے اخقیار 
وہ دلیں میں 1ہ اک پان الفت کی خلشل 

خی کے انآ کاو ون پر ہے و کن از 
27 : اے پہاں وہ نہ کن 

9۹ ٣ 
نے وہ شب بھر شراب شل کی سرستاں‎ 

تج کو ہگھوں میں کم کم خواب یشیں کا نمار 
پیا پیا لب پر وہ بد نگ لکھا پان کا 

خی خے ر۴غ پہ بیسوں کے نشاں وہ آشار 
ات کے اکن کو کے ان 

ایمرے مین پر وہ دلاۓ ہوۓ پھولوں کے پار 


1.- ہے تا ادا 


-7 


کلیات بایاےشمراقال بس دورا لکاکلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸5ء) 


صرت اے شام جا ی ۰ 1ہ اے شام وصال 

دورابيی یب ۳۲ 1 ثرر نا پایدار 
آو اے دور نشاط 6ات موم ٣ه"‏ 

کے مک رع مین.ز ود تی نے یلاو از 
رق کی نفک می ہم لی کی خود 

4ل کی مس گرماں میں شوفی ٹس و شر 
الف بگھائی کے ساماں چگجھ روں اٹم ری 

اور تن ن 2 چترے صرت ہوؤں و کزار 
خیش نہ آکی جرغ کو بے “می للف و نثاط 

تفگ للا آە ہآ ؟ سی یں شمار 
اقلاب دہ کت 1 ای گ روف اگہاں 

وہ نا رم " پایان کار 
او ا و 7ی کل لاف :وت یڑ 

عبر رخصت ہو گیا جات ربا دلی ے ٹرار 
70 4ھ 

اں کا اب ہونے آکا افسیں رووں میں شار 


و 
کی اتی ہے کر ارت شب پان جاز 


کلیات بایاےشمراقال "٣‏ دو را لکاکلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸5ء) 
کاو ذو م موق سک جو اگ مرے 
ناوا ی نے سے کروٹ کر بھی پرلنا اگوار 
مس پہ غم بھونے ہوۓ ہو آہ یاران نثاط 
ہونے والا ایک دن سے میشل دنا کا فشار 


- ابا یکلام ابا لضش۸۳ 


تحورت 
چاند کی ل ےکر گولاگی ٠‏ ساٹپ کا پچ اور ٹم 
بد مجنوں کی فزالت ء عیلی سے مل کی گی 
"۶ "بر 
پہارے پا تموکح جھانےء ‏ دیدرۃ آ ہوۓ جیں 
اہ ہے یق نے نے الا نے اڑا 
تم خاونل اور پت سے ا مد و چنا 


کلیات پا یاتیقعراقال ۸۵ دورا لکاکلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸5ء) 

سرد عری ج نے دی تن فی الس سے 

جا چان گآ کنیں مل کم زآن: نی نے 
لطليی گزر نے می سپ تر بی 

تی سے زار نے شی مختار دی 
روز اڑل ے وولت ٹور کا جوسن ہوا 

بے یل کا اضافہ اس پ کا پن جوا 
گنر گنرعا کر ےہ مصا یہ جب اکٹھا ہو گیا 

وست رت نے بتاا ایک ڑھانا ور کا 

1 تع راو رک ضیرےئ 

نکی 2 مکی مورت 7 


ا ابتدا یکاماچا ل۹۱٣‏ 
×٢‏ مصا ہت یککھاجا کہ اتال اس افناکواسی طرح کھت تھے جا 2م لٴ“ 


تُ 


فط ٤‏ ائنک 
اٹل ہیں کے بت" سے جب پمٗ زشں 


ٴ 


-7 


کلیات بایاےشمراقال ۷ دو را لکاکلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸5ء) 
ا ا ا تد 
کا یی ضرتی وو ای کیا 
نرے فضا میں چند “علق ہیں آب کے 
ب صی پ ں۷۹9 ھپ 


ٴ 


اوں رح اق و کی اون 


سب مت ہو کےگمرتے ہیں آ خوش خواب میں 
کرت ہیں مپئی دہ خدا کی جناب میں 
ہوا ٰ سے ٌ ٦‏ دافرار کا 


۶ ص2 9 9 0س 


رتا ے :۱ا رن 
0 تج 


سے من قوس فو بن بھی سے 
بنا ے تيب رل پ ساں غلر زار کا 


کلیات بایاےشمراقال ے٦‏ دورا لکاکلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸5ء) 
تر وار سد تا توب اور سن 
جو رات ے تل زرؤر کا 
ری ہیں ول میں رٹ تم کی شوخیاں 
ہوئی یں آشھار مت 1 خویاں 
زے طفل ایک! نے عریی الشت كیا آبزو 
ات وو نع ےر ما یی و تھا کا 


وم ول کہ جس میں جلوے تو نے تے رات ون 
ات ا ےا سپ مل سے ساز کا 
عو یک وق ین ار لوجاک کا 
آباد ] کے کر مری جم خال ہو 
نی ےکن یکا لپن 


باقن انور ہجوالگیان چند اقبالیات جو لاکی سخرے ۱۹۸ء 
ات 


-7 


کلیات بایاےشمراقال ۸۸ دورا لک کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸5ء) 
عم نان 


۴ 
سز سے اپے ضس آپ طا جانا سے 

یھ نات کی جوئی می رش می پیا 
7 ا ا کر وک 

اق ج0 تین جم گی امن نشین 
اپ كوئی اور جوں رل کو ہوا چا ے 

جس طرح نی کی وزت میں کون رگن 
طفلکِک خفنہ کے پاتتھوں سے گرا جاتا سے 

,گیا خوابپ عح٣ت‏ میں بیئی مق نکمے 
ہو مم حھیل ل یں سے فرامش گے 


ہد پش اتل ض۱۹ 


دوراڑ لک کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸5ء) 


مر ظا 
تار 


پیا ال ض۷٣‏ 


کلیات پا یاتیقعراقال ےا دورالکا کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸5ء) 


مالہ 


دہ اسچھالی من ثررت ,“70 
۶-7 ہے وہ درخؤں ے بے خورشیدیھی 
لگ کرک ہے ہر پچے سے جح سک ری 
میرےکانوں میں صا آکی گر ٹہ اور ہی 
و لکی تار بی جس ود خورشیر چال اٹروز ے 
ہستی ج سک یکرنوں سے ضیا اندوز ہے 


وہ اصول جن نراۓ ھی ہستی کی صرا 
راو نی سے نز ھت یتآ لا 
2 ے پہٛدہ روے وی بت کا اٹ 
جشس نے انا ںکو دا راز یقت کا پا 


پر _٭ا 


ایا تق اتال اےا دو راڈ لکا کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸5ء) 


ترے دا نکی ہوائوں سے أگا تھا بجر 
ین سک ہندیس سے ین دجاپاں مںٹەم 


و و سے مت سے انی سرزمی کا آشا 
یھ بنا ان راز دانای یقت کا پا 
تی بی اموقی میں سے عد لف کا ماترا 
شرت نع نز ا نا 
وی ےر ا سے 


پ۶۸ةھ قدر کو دکھ 
ان گنن گی مزا کی رکا کوک 


اپٹی بجی دکچھ اور ا کو ہ کی رفع تکو دکیھ 
اں موی میں سرو رگوش عزات کو دکھ 


شاہر مطلب نے مس سے وہ سامالں سے می 
درورل چاتا ےئ ے ءوہ در‌مال سے می" 


خرن اپ یل۱۹۰۱ء 


شعراقال ٢ےا‏ دوراؤ لک کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸۲ء) 


صٴ لے 
کل یں 


یر ے ض نکیشن را پر کا جانا ۓ ول 
لأتِ نظارہ سے بے خود ہوا جاتا سے ول 
بر لا کر صورت بل اڑا جاتا سے ول 
علقہ جاۓ مو جککہت میں بپچنسا جانا سے ول 


1آ ا ےکل ! تھ می بھی جوہروبی مستورے 
جو و ازاں میں مض رص موج ور ے 
ہا پھریھ سے جدال یکیوں گے منظور سے 
دل میس ہلھھآ تا ےمان منہ س ےکپ سنا یں 
اور آکلینں خھوڑٹی کو بھی سبہ سنا نہیں 


با گے انداز تیرے نے کن رعنا جے 
مار ڈالے گا خی سے مھومنا جیما مج 
کیوں یں تی .تسین قرار افزا جے 
ہاں سھا دے جح سیق انی نموڑٹی کا جھے 


کلیات بایاےشمراقال ےا دورال کا کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸۲ء) 
پاپ تی میس پ بنا ں صل بورہتا ہوں ش 
ھی مشیر زوقی جو ربتا ہوں مں' 
بنرے۳:آخ ریش ر 
آشھاۓ سوز 7 دل ور ہوں 
ول ہوں می ںچھ یمر این جن سے دورہوں 


سمخرن :۱۹۰۱ء 


پإِں اٹھا اے ساز ایام ! ے چادہ را 
انی گرووں کر ہو و رم ]ہو زرا 
نے نا یی مر 2 7 ڑا 
لا وہ نار ےَ 1 اشا جو زرا 


خون رلواتے ہیں ایام جوا ی کے مزے 
ہیں سے پھر ودی ایام فی کے مرے 


پاے وو عالم کہ عالم می شی ای ادا 
غیت صدفصل کل بھی ہے کش نکی ہوا 


کلیات پا یا تی ضعراقبال "ےا دوراؤ لکاکلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸۲ء) 


تب فی میں غیر از درس آزادی نہ تھا 
زنِ افاد جہاں سے خیش دل تھا صنا 


اب دار صر زّت )یئ تھا مر 
تی کی ان ین کک ا 


7ات ڑا جن ای خاش رل سے لو 
شس کے پردانے یں سی ےء ود حاصل ےت 


چو مار ے بے را ےء وو نرل ےو 

ت سکی می مای دحقت ہوء ووگلی سے تو 

عیرے پاتھو ںکوئی جوا ۓےلیں نہ ہو 

ان از مار زین گلنتاں کل گل ہوا 
مخزن:جولا گی۱۹۰۱ء 


ت 


مرزاغااب 


مجر میلک تصضور ے وا دلیاں ے ہے 
ا کوئی تفسیر رعز فطرت انماں سے سے 


کلیات بایاےشمراقال ۵ ےا دوراؤ لک کلام ( ۱۸۹۳ء۱۹۰۸۲ء) 
نا زی موی کلائی ہائے ہندوستاں سے ہے 
یر ”ہے + از زطر ان معن 
ای ےکی ضیح تا 
انی سے بپیرئن ہر پیر توب پچ“ 
مخز ن تقبرا٭۹اء پا نچ یں مصر میس اتال نے ادلی سا تر فکیا ہے 
چ‌ 


ا رکوہسا ر 


و لگ یکوہ کے چچشموں سے چجھے بھائی سے 
زی انی بی طر گزر ال ے 


کل مرے سائے سے نک جانا سے 
خر قب گزار چک با ے 
مرا ہر قتطرہ لمتاں پہ پی؛رک جانا ے 
ول ٹطی لکی طر گل سے اکک جاتا سے 


سے جے واشن کہسار میں سے کا مزا 
پ2 2 دوخی دہتاں 1 صرا 


کلیات با وا مت۴عراتّال ٦ےا‏ ووراؤ لگا کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸۲ء) 
وو رکو, ے حم عم کے اترنا اس کا 
حثر ڑعالی سے ہہ آہنتہ خرائی گا اوا 
مم پ وہ دووجھ کی گھلیا کو اڑ بھاے ۲ن 
اور نف رم 0 یر 


دم اپ ہھ سوۓ شر و دبار اٹتا ے 
ہے نار ھزوں سے غبار اتا ے 
کوئی کپتا ےھ وہ ار بہار انا ے 
او رکوکی جش طرب میں پہ پکار اٹتا سے 
مرو رر شور وے مست ز سار آھ 


ے نقاں مژدہ کہ ار آھ و با وھ 


می عادت شی سے اک شور میاتے آ نا 
مر سار سے ض ور ہھجاۓے 31 
چپیٹر سے باغ کی کیو ں کو نساتے آ نا 
وم ماۓ تح ہر ماتے آ: 
وی پاد پ اڑتا ہوا آ۲ ہوں میں 
گریی مر کےکشتوں کا ما ہوں میں 


کلیات بایاےشماقال ےےا دورا لگا کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸۲ء) 


وۃ ضا محر عالے وہ عرں زیا 
نام افمان گی بوٹی میں تر سے جس کا 
اھ گیا موج کے یئ دای جھ مرا 
ہو گیا وا مان لک کر ہت 
رو ابا ںکی ملک دے کے مس یت ہیں 
ہر _٭ا 
گی ذرا دست درازی جھ ہوا نے ہجھ پر 
چا دای سے دک مظ رآ ے - 
جھ سے جلے میں نہ ہوا کوئی ئل پڑ کر 
ٍ۶ ا 
متصدر ہر صرف قلزم زار ہوں میں 
ا رمت ہوں “گپردار ُ٦ر‏ پار ہوں ںا 


ہف -سمحخرن ۱۹۰۱ء 


کلیات بایاےشمراقال ۸ےا دورا لگا کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸۲ء) 


ای ککڑااورشی 


بڑ ھک رکوئی ے سے ملانے سےکیں سے 
ہو بھی نہ دنا میں نمس کام کا جینا 


پرطرںپ ے پار ہوں یزن تل از 
انت ٢‏ طح و دکھاوا خیں ۰1 


کی نہیں 1را م کہ یہ آپ کا گحھم سے 
اب وفت ےکھا نے کا ء نی ںکھا یےکھانا 


ڈرنا ہو ں کہ وش نکیں نار نہ ہو جانمیں 

رہ جانمیں نہ ب رھک کے ء یجھے سے می یکھڑکا 
شم_م 

ان باقوں سے ابو میں نآ ۓگ َ 

اب اور کوئی جا بے دینا اسے پلھا 
شم_۵ 


کلیات بایاےشمراقال ۹ا دورا لگا کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸۲ء) 


لوا مرے قتے کو جو وانا ہو و جھو! 
وت 


چس جات ہیں ء جو سلتے ہی ںتھ رای کی باج 
وگوں کی خوشامد پہ لبھی کان نہ دھرن' 
5 اددوگی پا نچ ی تاب ۳ھ۱۹۰۵(:۵ء) 


تُ 


۷ر 
ایک پہاڑادرگبری 
پہاز 
درا سے اق یی تھے بای نے اتآ 
0 0ت 
مری ٹیل سے پان لا سے ددیا کو 
دہاۓ جیٹھا نہوں دالن میں دشت وصح راکو 
ا ککی ان ےآ مصلھیں ملاۓ جیا ہیں 
و ں کو بییچھ پہ انی اٹھاۓ بنا ہیں 


و ا0ے اور 
بائیں لیا ہے ججیک جچیک کےآ ماں میری 


۸۰ دوراؤ لک کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸۲ء) 


فی ہے را کی تی 


ہری فیس پہ گیا سفید گجڑی سے 


پا پان وو :می :ماع نے کی تی ری 
تی سے ہو نہیں تی برامری ری 


سر 

گبری 
ذدرا سی بات سے ء انصاف سے مگ رکہنا 
یہ زندگی ج ےکوٹی اس رح پڑے رہنا 
قرم نہ اٹھے و جینا سے موت سے ظ 
ڑرار عیب سے یہ ایک عیب سے بڑ ھکر 
لم بنا سے نہ اتا اگر ری ؤم کا 
بن رو بے مر یہ پھر دکھا سا 
جہاں کے پاغ کی گویا سگعار سے ہر جز 
کہ انی انی جلہ انار سے ہرز 
ا یفارٹ سے 27 اھ 
يہ بات جس نے مھ گی وی رہا اپٹھا 
پاڑ می کے گبری کی بات ش رای 
ٹل سے وہ کہ بڑے بول کا سے سر یا 


ہس ارد وم٦‏ ئ یتاب(م۹۰۳مء) 


۸ دوراؤ لک کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸۲ء) 


اک کا ے او مرن 


تن 


2 ك‌-- سے ار کی 
جھ سے کمتا سے بے موا ان می 
وو یں می او کک تن 


یشعراچّال ۲" دوراؤ لک کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸۲ء) 


یں اف ےی را یت 
اش سے کہم ۂ چا 
الں ایت سے مد کو بر کرو 
ڑھا رتا ش ھ 8 


اردوگ یچچ ئٹ یکتاب(۱۹۰۳ء) ص۱۳۱ 


تُ 


ےکی دعا 
ری وو ے متطر ہو زان سارا 
07 009ء0" ہو مرے جن پہ دنا را 
لم دیا کے چچن میں ہو اگ رگ لکی طرح 
چنا رہوں اس پھول پٹ لکی طرح 
دک اٹھاۓ مرے ہاتھوں سے نہ جاندا کی 
اے خغدا عمر سی طرب بر ہو مری 


۸۳ دوراؤ لک کلام ( ۱۸۹۳ء۱۹۰۸۲ء) 


دک بھی 1 جاۓ تو ہو دل نہ پریٹاں را 
کر ہر عال میں ہو میرک زہاں پے تا 


2 اردوگی چٹ یکتا بش ۵۸ 


تُ 


ہرردی 


آگھوں نے نف رے سے نو 


بی ے بہ رات 1 سای 
رس نہیں 1]/ ک بل 
خورشدر 0 ڑیۓ بے 1 


گر کو بے جا نے تھا جا 


کو ای سی اوھ 
دے گا آئئیں کون جا کے وانا 
7و0 0ج 
کی یی و کل کرت :ا 


اردوگ پا نچو ںکتاب(۱۹۰۵ء)ص۵۸ 


تُ 


مال کاخ اب 


کوئی اس سے کا ییاں کیا 
و کہ 


سمارے فلک 4 کت تر وڑے 
کہ فلت کے ڈر سے خجے ‏ سے ہوے 


۸۵ دو راڈ لکا کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸5ء) 


اک مال ىا چاما 
000 0 وج 
7 س0090 زی 
تھر رفت رز رب گی 
کھیں کیا ججاعت وہ یوں کی گی 
کہ مححویت لق پھر ی مو ئی 
دای کے صدے موں بس طرع 


٣‏ 2 9 ئ0" 
جب شع کا رٔ سا ے بل 


ٴ 


مم 
ت 
ہم 

۱ 


اعل سے بھی بل ے بنا م۱ 
و وع نے و 


اردوگ انچ ی تا بكل ٣۵‏ 


تُ 


نف لا باد 


و کت کے انا دہ می رآسما ںی 
دہ پا کیا بہارسییے دوس ب کال ک گان 


یشعراچّال ٦‏ دوراؤ لک کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸۲ء) 


پچوں کا شنیوں پر وہ جھومنا خونگی میں 
ٹھنڈڑی ہوا کے بجی وہ جالیاں بانا 
ٹیا ری سے جج کو رہ رہ کے یاد ا ں کی 
نز مم ککھا تھا مرے کا آب و دانا 
چ‌ 
افوں بیس من وا لے خوشیاں منا ر سے ہیں 
ٹس دل جلا اکیلا دکھ بش کراہتا ہوں 
ارمان سے ہہ گی میں ء اڑک و یکو چائؤں 
ٹپی پگ لکی ٹھوں ہآ زاد ہو کے گائوں 
بر گی خاغ پر ہو دییا ىی یھر ٹیرا 
اس اجڑ ےکھون کو پچھر جا کے میں پسائوں 
چنا پچھروں من میں داۓ ورا ڈرا رے 
سای ج ہیں پرانے ء ان سے ملوں ملائؤں 
چر دن تچ رمیں جمارے ء چرسیر ہو و نکی 
یے پزنن توی یت کا اع دا کن کن 
آزاد شس نے درہکرء دن اپنے ہو ںگڑارے 
ا ں کو بھلا خ رکیا ء ے قی کیا بلا ے١‏ 


- خرن فروریٰے۱۹۰ء 


ایا خر اتال ے۸ دوراؤ لک کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸۲ء) 


فمٹھک/ک ٠۰‏ چپپ٭ 
)۱( 
کحیت سےآ تا سے دجنقاں مضہ میں پوگا ما ہوا 
اۓ گرد آ لود دن ںا مات کا پا 
کام دہندا ہو کا اب نید سے ء آرام سے 
پاے وم آ ما نت کم انجام ے 
را تکی آمھ س ء ‏ مان ہوا امو یں 
ابنترا و انا ہیں میں جم آ خویش ہیں 
خوش گفتار اناں کی صدا گی نئیں 
98۳ ۰ 0ج 
)۲( 
اے عدم 2 بے والوتم ج۶ روں امش ہو 
نے دولیی ے؟ رن یں بن کےیتم بے وش بب 
7 راک ہمارے 2 صورتع ےکی 
087ھ ہم" 


دل میں ہودتے ہیں ای صصورت سے پیدا ولاو لے 
اس ولایت میں تھی کیا مجبور کے ہیں اے 


یشعراچّال ۸۸ دو راڈ لکا کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸ء) 


واں گی آزار ٹ ری ےن رووۓ ین کیا 
اس ولایت میں گی دلو نے ہہوۓ ہوتے ہی نکیا 
بی خشام اں ولایت کا بھی کیا وسور سے؟ 
واں بھی کیا کن را ے غیفہ دل چھر ے 
وا کی عڑ تھی ہلوس بھی حا بآ سا ےکیا؟ 
واں گی ہے وولت بی پمانہ شرافت کا سےکیا 
تن ون و و یم رت ےن 
وا کیاگمری میں بھی اس موٹی کی قمت جج گییں؟ 
ین ان و سے گی کا ڈر اییا ہی گیا؟ 
ا جہاں میں سے جم پے خظر اییا ی کیا؟ 
(٢۲)‏ 
اں چرائ میس تیقنند نل کا سااں سے 


ر7 
79 


چم بع سر گوہر نے اناں سے 
اس نگ رکی طرح کیا واں بھی ے رونا موت کا 
کیا دہاں کی زندگ یکو بھی سے کیا موت کا؟ 


7 0 نے وی 
1 دہال بر لوم بے بردہ ھا“ کت وی 


کلیات بایاےشمراقال ۸ ووراؤ لک کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸5ء) 


حن وخوپی ہو کے بے بردہ نظ رت ہی ں کیا 
ا جہاں میمش کےارماں نیل جاتے ہی ںکیا؟ 
ہے ننتاں سے جج سکی تی وہ ا یکھتی میں سے 
ج سکو کے ہیں بلندی ٢‏ وہ ای مجچستی میں ہے 
و کر وس 
سے صداقت بھی ء سعاد ت بھی وہاں ضو ر”-ن؟' 
خرن فروری ۱۹۰۲ء بیاض انا زل ۲٢۸‏ 
ت 


نووا 
دہ بات تھ م٢‏ لکیا ےکہ یہب ےفھرار سے 
جال در ہوالۓ لت خواپ مزار ے 
ہے اخحقار سوز سے تیرے نرک اٹھا 
قمت کا انی ین کے ستارہ یچک اٹھا 
تھوڑی سی ری پر و رہ ےس 
روا نہکیا ہے اک ول ابذاطلب ہے یہ 
معن وصال وسوز جدا ی غحضغب سے بے 
حخزنء ابر بل۱۹۰۲ء 


۹۰ دوراؤ لک کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸۲ء) 


تل ورل 
و مغ ے ٹا ہیں میں 
ہھم کلائی سے غیریت کی مل 
ای پ ما ہوا ہوں میں 
کاپ افتا ہیں ذکر مرکم پے 
7 دل درد آیا ہیں میں 
گے ٹن بن کے باجح الشت کے 
آشانہ ا ہا ہیں میں 


کارواں سے تل و 7ے 
مل آواڑیٗ ورا ہوں مُیں 
وس داعنڑ سے رج بی کے ما 
5 ادا ے قضا ہوا ہوں من 
7 سے ہزا۸ء سے دل زار 
کر وو 


۹ دوراؤ لک کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸۲ء) 


سے ان ا رای شوی 
ئ۲۰ ہوں مُں 
0 
رم وعدت سے آثا ہیں میں 
7 2 2تت کوگی 
اسں بھلاوے کو چانتا ہوں میں 
یر ےب ون 
کیا مرا شوثی ء او رکیا بہوں میں 
میں کی کو برا کہیں تہ 
ساری دنا ے خد برا ہویں میں 
جام ٹوٹ ہوا ہوں ا یع 
ۓ جن سے مگ لرا ہوا ہوں میں 
ا ایا یی و کا 
اور ین کو دنا ہیں میں 
و عرائی پ مان دنا سے 
ال کی راہ تا ہیں میں 


بھائیوں میس بگاڑ ہو جس سے 
ان عبات کو کیا سراموں میں 


کلیات بایاےشاقال ۹۲ دورال کا کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸5ء) 
بت ری 7 الات اقب بج 


کفر ء فحفلت کو چاتا ہیں میں 


جا۔روم 


لم بنا سے میری مگودی میں 
راز یی ے آشنا ہیں من 
ڈ ھی جم سریی کے ہ ‏ لہ 
دید ہت کی نا ہیں مشں 


ہمیرے بخ سے چان بتا ے 


اس اندجرے میں چاندنا بہوں مین 
شی طور میں بباد مر 
فظر کر آثا ہیں میں 
وج گے کہ ڑا مل ڈا 


کلیات بایاےشماقال ۹۳ دورال کا کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸5ء) 


بل واج تو گاڑ نے مطلب 
سب بزدگو ںکی اک پا ہوں مل 
یل ال سے بی بر 6 
و می مت ا 


مخمزنی۱۹۰۲ء 


صراے وررو 
اے ہالہ ! 9 چھپانے اپیے دالن میں تھے 
سے غحضب کی ےکی ےشن میں بے 
لہ 
شی آکی سے اب ا ںکو وشن کے ہوے 
آہ دوالی سے ہاں یاں کی ہر لیر ش 
آخاں اور ال تا نی زاں جار میں 
آشیاں ایے گلتاں میں بڑائوں مس طرئ 
آرے جم جو ںکی برہادئ یکو دکھو ںکس طرح 


پھر بلا نے ہج کو اے صحراے سط ایچیا 
این تی یی ات زا تزا رآ چا 


یشعراچّال ات دوراؤ لک کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸۲ء) 


اہر 
اب نیش بھانی یہاں کے بوستانوں کی میک 
اں علام آخری سے مولد گیخم سے 
اب فضا تی نظ رآ کی سے نا مم جے 
الیداغ اے می تھی ائاز م 
نصت اے آرام 1 ظٍِ چادو 2 
یداع اے بگاو پّ شراز الوراخع 
لے دبار ارک 1 داز الوراں 
اع ے مرن فان شیوزیی: یں 
رت اے آرام 1 یی ِیے نىاں 
رعز الفت سے مرے ابلش وفن پائل ہوے 
کار زار رصن سقی ہے نا فائل ہوۓ 
اپٹی اصلقیت ے ناوافف ہیں کیا انماں ہیں نے 
خر او ںکو کھت ہیں ء جب ناداں ہیں نے 
ک0 ت۱ سے نظ رکا اوەدنآ نک سے 
صل صٹی سے انا نام مٹث جان ےو سے 
ول زی ہے جاں ران رر بے اندازہ ے 
آہ اک دفز تھا انا ء وہ گی ے اتا 


یشعراچّال ۵ دو راڈ لی کا کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸5ء) 


اتیاز فوم و ملتر پ ہے جات ہیں سے 
,رر 0" 
جھم نے یہ انا کہ ہب جانع سے انما ن گا 
یھ ای کے دم سے تام مان سے انسا نکی 
کان تا کی ا حا نک 
آ دی سو نے کا من جات ت 
رنب قومیت گر جس سے بدل تا نہیں 
خرن آ ا ئن تی سے یل سا نہیں 
موب ازل کی ہیں ہے تقیری کی 
اک ضس عم تی کی ہں تخیریں بی 
بک ہی سے سے اگر ہریچ نم ول مور ے 
یہ عداوت ول با ریا مم کا بے 


--‫ خرن جون۱۹۰۲ء 


تُ 


+ 
ھ 


2 


ان اگلہار وں ان اطارتف کا رازہ یی 


ٴ 


یشعراچّال 1 دو راڈ لکا کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸ء) 


مب 


ابا پٹر ے دل انرو, گیں 7ر 
3 25 5 راز 22 و 
”از بت- زثم رل و ول ےک 
وی کوششل جبت سے مائل سے کے“ 
کی ۷تت 
اے وا ۓ گنو ۓ لپ بے صدائۓ ض 
خورغیر شب سے جلوء ظ ات ریا رر 
تچ ھکو بھی سے خ رکہ یہ سے چاندنا 2ا 
کل ای جرار ے ہی ےج ما سوا 
ساماں طراز ظلمتہ شب سے بے چاندنا 
آزار وت ہو بنا و ا ہیں میں 
کشند ہو یشارت کیا جان کیا ہوں مل 
جویں ے ند نال دی مل اسر ہوں 
رت میں نیتاں کی سراپا یر ہوں 
گور اپۓے آپ کو ھا ایا سے 
آیا عفان آفر رع مات سار نے 
دددا کہ وگم خر میں ہوں میں پتہا ہوا 


وین 
یئ ے ہت رار کا ہوا 


گلیاتبایایغراال ے۹ دورال کا کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸۲ء) 
از و ٢‏ اع ان ا نے 
ڈرتا ہو ںکوگی ھیرکی ففا نک و بجھ نہ جاتے! 


تس مخن .۱۹۰۰ء 
ت 


ایکآرزو 
ّوں کا ہو نظارہ ری تا خوالی 
نز ہو معرفت کا ء جو گل کا ہوا ہو 
7 لے و 7 
یے کسی گی میں کوئی ظلت پا ہو 
چک مکو جا ربا ہو ء یھ اس ادا سے سورخ 
یی کوئی سی کے وشن کو ھٹا ہو 
لمت چیک ری ہواس رح چا دنے میں 
ہوں کہ میں بح رکی سرمہ لگا ہوا ہو 
دا وا از ہاّں اپتنے ین آ نو 
مرمزجشن کے خم سے بوٹا امیر کا ہو 
ین یر تن کو وت تع نے 
موزون ہو گے ہیں نانے بنش ننھیں سے 


کلیات بایاےشماقال ۸ دورالکا کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸۲ء) 
شمشاد گل کا بب رىی :گل ہ یان کا وشن 
ہوآشیاں کے قائل ہبہ دہ جج ن یں سے 


او ںکو خی رکجھوں اس سرزیش میں رہگر 
یش بے لن ہوں می راکوئی مو ن نیس سے 


09۶ و 
ساقی خمیں وہ باکئی ‏ وہ اگ ن تئیں سے 


ور ثفلے کہ پارال ہے رام گند 
چوں نو بے ہہ ما شمد نٹ بہ جا مکرونز'' 


مخرنض ۱۹۰۴ء 


1 


۲ 
ٹک 


2 
چڑھ 


اے بای ۶ ل! اے آ تاب ۵! 
راستا حا میں شی تقشل ت رم 
ابر مس تچچنا تا ء لان ہے دل پر ایر ٹم 
یہ ادا ٹم قاشائی کر سے تم 


کلیات باوامت۴عراال ۹ دوراڑ لک کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸5ء) 
دامع سے سر دبیان عالم سے لیے 
ام رت نے اب زر سےلکپتا کے 
ےس ضس ن جہا ںآ رای ےت میس کک 
یرہ ہو ای سے تیرے لور سے حم أیک 
روں پ(ور ےکی تی نشم فیک 
غات ول ور سے معمور ہو جاۓ ھا 
لہ ول ٠‏ خم نل طور ہو جاے مرا 
ہس نگ ۰ڑ گق۰۷ء 


تُ 


اب 
+۹ھھ 


در و 


پروانہ م(ۓ تی ققحم کو رو 020 
ذوقی نل سے مم میں 1 زارد ہو کے نے 
اي چرم و تا 
موئی سے ء سے بن ہکہیں آبرو ری 
تل بی مرمٹی سے شراب مجاز 
اوراک لع رع ہے سرور گراز 


پا 


مہ 


مھ 


٢‏ دوراڑ لکا کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸۲ء) 


رہبر و نر گھر سے اور ذوقی در ے 
اتھیں میں اٌچھن ہے پا ی کلیر ے 
ناب ہو کے انی حقیقت دکھا یں 
ج جھز میں نہاں سے ء وہ رفعت دکھا یں 
و الد ٢‏ خرتی شراب ور .-- 
مر رت کرور جے 
نی کر کے آ ما نیک جج ھا نے 
دژاہ ار ما پا پاچتا ری 
ھتان :گنز مان ٹوو نے اشنا رون 
گریاں ہو عم صن بھی تیرے فراق میں١‏ 


. یٹول ۸ ۱۹۰۳ء 


تُ 


ہہ 

کل شمردہ 
یم سفرآخرتری بوکی تری رت ہوئی 
ہا ےکیا اراع تیر ےس نکی دوات ہوئی 
بل الاںل کپ پان گر کے 2 
ہو پماںعشق اہ ببھانے جے 


کلیات بایاےشغراقال 2 دورالکا کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸5ء) 
گرا لی اب شعار مر تایاں چھھ سے سے 
آہ وہ باجح رتھی ا بگرببزاں تھ سے سے 
نان ان ا 
لال جوڑا اب صمعتی بھی جج ھکو پہناٹی غیں 
ا کی بابیل سے تہ ا بن مکھات ےگا 
آ بگوہر سے نہ ا ب نم تھے خلا گی 
1- و ٤وہ‏ ال مصصومیت اڑل ہوئی 
جن کےا کردا تو زی کیج 
وم را سا جاور ء مل دارو 0 
تی ےکن و کش نی 
ان بے ےت جو گے “ ال“ تا جوا 
میری آگھو ںکوگر ار ےگل چھاا گا ناو 
لی سے بج کو تری نز مردگی سے انی و 
ہیں مرے من میں بھی بپشیدہ زخم بے رٹ 
کا انی ات ےشن وس 
اب مرا ہے تاملل میں نوا جیرے سے 
ری نکی وت او را نے ےا 


ا-یاض اياز ل٢٢۲‏ 


۳۲ دوراؤ لک کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸۲ء) 
سی یلوب تربیت 

0( 
ا ےکہ زائز بن کے مھیرکی قجر پ ہآ یا سے نے 
ا ےک متانہ ۓے من عقیرت کا ےو 
نہ سے باد صبا یاں کی انخوت آفریں 
٦‏ 2 جہاں نرہ بھی پان نہیں 
ہے وہ نظّارہ سے یاں ہرکل سرایا دیدہ سے 
اپ ےگمش نکی زیس میں باغہاں خوابیرہ ے 

)۲( 
دیچھ اینوں مس نہ پیدا ہوککیں بے گاگی 
پیا ا تر ےکن و کک 
دن کے بردے میں لو دتیا کا سودائی شہ ہو 
آڑ یس نرہ بکی شوقی عزت افزائی ثہ ہو 
گالیاں دینا شس یکو دی ن کی خدمت نھیں 
ىہ قب کوئی مٹاب ور جنت نئیں 
راہب ر کو جم نے کے تنا جا ہے 
کیا ج گا کیاروا ں ء جب رہنما جچیے رے 


شعراقال ۴۲ دوراؤ لک کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸۲ء) 


(٢)) 
وم ات ا ا ا تک‎ 
ہو نہ اپٹی زت افزائی کی تج ھکو آرزو‎ 
قافلہ ج بک کم جاۓ شرمضزل کے ری‎ 
رجنما ہہوتے ہیں جوء رت مس دم لیت یں‎ 
کیا زا تی سے انا بن کی مگ ر بھی‎ 
اس میں پچھ ہوئی نہیں اہ ےکف نکی بھی‎ 
دکھ آواز لاہمت سے یہ تکھبران ذرا‎ 
خشق کے ش کو بھڑاکی سے بی می نکر ہوا‎ 
ور ےش اخواں ءزندگی سے جن سکا بل‎ 
عالم لے بی سے سب سے بڑ ی عقزت بھی‎ 
حشنن اخواں میں اگ رملمون ہو جا ۓکوئی‎ 
عحشن ہ رصصورت میں ین دل ناشاد ے‎ 
پککیں ہ نال ہکریں ہ شیو نکہیں فریاد سے‎ 
دنو دومن سے لکل جالی ے ارک نے سے ہی‎ 
یش ول سے ال ای ہےءالمکیا سے ہے یہ‎ 


کلیات بایاےشمراقال ۳۲ دورال کا کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸۲ء) 
یەں زیناۓ بت روہ ارام بادہ 
۲ شیا رفت ایں وم ہہ خاک افآد 

(٥) 
چا ہے انل کو آ داپ طلب سے اظر‎ 
[0 رمز اطاعت گی‎ ٣ 
ہے دنیا کو اس نادا لکی صحبت سے عزر‎ 
نل نرک 0ن 0ز 2 ظا‎ 
ین جج رائل اعت زان‎ 

رہ( 
جاہیے ہو باعت آرام جاں شاع رکی لے 
لان اس جز وخ تک تڑے پاتتھوں میں ے 
دکچھ اے جادو بیاں ‏ نذ نے اگر پوا کی 
یی 92 
”از شراب مت ہم جنسان خود متانہ بائی 
شعل“ گج کہ را کورت پٍوائہ 1 


-- مرن جو ری۱۹۰۳ء 


شعراقال ۳۵ دوراؤ لک کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸۲ء) 


مادلو 
شام نے آ کر پڑھا دیپاچت م موب شب 
سے اب بر فلک پر مرح موزون شب 
فف یت ای ا 
جب ساب یگمر ھی ؛ قط زن سای گرا 
کیا یس سے ہاتھوں وع مج ینا 
آاں ور وزہ ظا کو ایا ء د یھنا 
لے ا دودابیٰ آذاب خاوری 
قر ے حم تر پر نری چاددگری 
قوہ رہرد ےک رتا ہی رپا منزلی کےگمرد 
تی سکی صورت جہیں سا بی رشٴمل کےگمرو 
نی ون کون کی یز 
سے مر ئھ ت لال مج انید سے 
آرزوۓ پور یں سے عمورت باب لو 
تکی بےےتاپی کےصدرتے ہ ےتجب بے تاب لے 
جا ہے میری خاہوں کہ انی پاندل 
2ص 0ئ 


کلیات بایاےشاقال ٦‏ دورا لگا کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸۲ء) 
ظارے ے ای میرے ین ے وور و 
نات ہندوشتتال کا ہر ذژہ عرایا طور ہوا 
5 بیاض اغجازگض٢٢۲‏ 
ت 


انان اور“ ثررت 
ور بلسماں ڑے و یانے میں ہآ بادیی مش 
شہ رس ء دشت میں کہا رکا ہردادی یل 
رکون رات دک نے 
نی سے پی سے نمیٹرن وت کی توے؟ 
۴ نس سمخ نق۹۰۳اء 
ن0 


یا نآ 


۳ تہ" 
اٹھو ء وروازہ کھو لو نے خواب پریٹاں کا 
اٹھایا آ کے سز ےکو صدراۓ ”نم باذ یی“ سے 
7ءء رر ...2 


-7 


کلیات بایاےشاقال ٣‏ دورالکا کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸5ء) 
را اج جج ۷ 
ھا قط) جخم کو اس نے بستر گل سے 
چٹرایا خیند کے ہاتھوں سے دامن ٹرکسستتاں ا" 

5 تاب 2٭ا ۱۹۰۳ء 


تُ 


نی ورموٹ 


پت 
٣‏ ہٰٰ ) 
ئں مج ذبرل چان 
۳ ا ٤‏ از ری می 
وو قری کو متا تھا طلوق خی 
صر کا انام . آزادگی می 
یڑ زغم 5ں شی وہ مو جم 
یں سا کی کی شی تی 
وو ورو گحٹ ء وه امای “ی 
وہ افغای ختيى ازل کا ا 
ا ا کا ا 


ُ٭ 
:۰ 


ہو غیرتے طیر ہر کن خارا٢‏ 


٤‏ اڈ 


۲ے محمر نو ۱۹۰۳ء 


کلیات پا یاتیقعراقال ۳۸ دورا لگا کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸۲ء) 
زبراوررنری 
2و 
9ص سہبہ ‏ 
کیچ ہیں کہ سے ا سکو عحبت تقر سے 
بھی نہیں ہم نے ق کوئی اس کی نتانی 
رات آنے رت کے جلموں سے سروکار 
تا نو کر روب اور سے ا 
اہ خرن ۱۹۰۳ء 


خی آب میں گشن کی تقاغائی ہوں 
اپنی تی مو مانے کی ناک ی ہیں 


کے شی ہوں ء محردم عکیبائی ہوں 
حوصلہ دک کہ میس ب ری سدا ئی ہوں 


زندگی جزوکی سے کل میں نا ہو چانا 


2 27 
درد کا حد ےگڑرنا ے روا ہو چانا ٣‏ 


۴- رکنم 308ا 


ایاشماقال ۳۹ دوراؤ لکا کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸۲ء) 


رھت اے ےے ےم چجہاں 

کن ے ناو چم و رواری گے 

سے ترے ہز خوشایر زادہ ے افرت بے 

رزتوں ضے تم سے ممم سنا رہ 

اشن ککی صورت میں اپتا عالي د لکہتا رہا 

نی ار کر اپ فا ین 

آ مہ مخرب ہہوں ہ راز اپنا چھیا لت غنھیں 
)۲( 

ل کے رنتی ہیں سح دامان درا ھلیاں 

نی دہ چاندی کے طائْ ء بے پ و بے آشیاں 

نات من کے کا نے ہیں گلتاں کے طہور 

یم زن انان ہیں شہروں میں و یراول ےدور 
(٢)‏ 

کو کے واعن می ںکیا ہے مڑھا رتا ہوں مین 

کیا ماف زندگی سے پھاگنا پھرتا ہوں میں١‏ 


خرن مارن ۱۹۰۳ء 


22 دوراؤ لک کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸۲ء) 


شف شور 
ای نزو کو جھ و ھا سے سامان خوقی 
کیائی دکھ درد کےکح بکی اید سے بھی 
درو مر سے ےڈ علہ گرواپ درو 
ہوئی انت کا تھے آمايی اپاپ درد 
اس جن ری خماظر سے بتا ی ےگیا؟ 
اب سیاتی کےکران ےکی ھے سوبھی ہ ےکیا 
سے تھے یف بر ا سکوگکرانے میں ھا 
ڈٹ جائۓ آعنہ مرا ء گے پروا ہ ےکیا 
تالیوں کا ہوکوئی کچھ کہ سونے کی گی 
للکئی جھ نے تھے جا کعلون ی نکئی 
جوڑی؟گھموں کے1 کے ہہوہ جہویں اگھیزے 
نی ہر سے نوسن اوراک کی مہھیز سے 
تی ےن وش کی بن نون کی 
منہ پہ ڈالے منر پٹے گی نقاب عاڑشی 
یں تڑے نے سے ول میں ہےجمتا کی خمود 


ے گل نلکوی صن ہن زار وعمد 


محخزنخروری۱۹۰۲ء 


ایا تخاقال 2 دوراؤ لک کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸۲ء) 


لصو ورو 

(١۱) 
0. ہوئی سے سرمہ‎ 
گمہ بین بن کے گموں تی سے فاں می ری‎ 
ھرکی خرت رواٹی سز سے ا دبچہ اے سائی‎ 
۷ '"  ھم"مم‎ 
شکار وف رسوائی ے ری رو‎ 
تی ور کت ا کی نادان مکی‎ 

)۲( 
عکایت آساں کی میرے لب پر 7 نہیں تی 
کہ می قسعمت کا مارا ء آپ می اپٹی مصیت ہوں 
ہری ئی نے آلودہ گیا داماي عحصیاں کو 
وہ عاصی ہو يک یش اہ گنا ہو ں کی ندامت ہہوں 
ہے ارت ون و کک ا ان کی 
یں وہ درادة دابالی کراے عیادت ہیں 


ھی ور دا 
بھی سبھہ ہو ں گر ہم رن محراب عیادت نہوں 


کلیات بایاےشراقال ۲۱۲۳ دویاؤ لکا کلام ( ۱۸۹۳ء۱۹۰۸۲ء) 
مربی ہستی نہیں ء وعرت و ماش ے 
1 و ہوں خوومم وی ہوں ووور وفرقت ہوں 
وضو کے واس 1 سے کعبہ نے کے زھز مککو 
الپی کون سی وادی بس میں و ارت ہوں 
ن چپ اوکاٹۓ وانے ھے ‏ میرے نتاں سے 
سراپا صورت نے مجر فرقت کی ایت ہوں 
ا او ا اوک رٹ 
مل یرہ اور کا ہوں ء امت شاو ولا یٹ ہوں 
ا و ا یا میں سونے وا ن کو 
معیرور رکو ء میں مت صهہہاۓ محبت ہہوں 
بھی صما سے جھ رفعت بنا دی سے مھت یکو 
سی صبا میں 1کھھیں دیھتی ہیں راز بھی کو 

(٢) 
شراب محشی میں کیا جانے کیا تاخمر ہوٹی ہے‎ 
9 وا رس‎ 
گاہوں میں شال مر خر ہوٹی سے‎ 


- 


کلیات پا یا تیضعراقال ۲۳ ووراڑ لک کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸۲ء) 


نہاں ہیری سے لیکن کے والا اور سے کوئی 
07 قزر گیا اوک قزر ہوئی نے 
جس اے ذو شموڑگی ! رحنصت فریاد دے ہج ھکو 
کہ جپ ٹٹھوں تذ گوماکی گر ییاں گیر ہوٹی سے 
ا انی یا یو پہ تاداي گلتاں نے 
بج پرواز رنکِ گل ء صداۓ تر ہوئی سے 
ا سے میں نے جو کچھ ایل مق لکو سنا ہوں 
ای نے 
شس کا آتہ باندھا ہوا سے مس نے آ ہوں میں 
ری ہر بات میرے ودد کی توب ہولی ے 
خوداچپنے آ تسوبوں میں رونے والا ھپ کے بپٹھا ہو 
صداۓ بل دل کی می خر ہولی سے 
یر ا ومن وٹ ہیں حرف مت میں 
شال ناش موا مری لے ہل سے 
8 رر ۰۷000 
مرے نالوں میں استتبال کی تیر ہوی سے 
برا نہوں پا بھلا بہوں > میرا کہنا س بکو بھاتا سے 
ود یکہتا ہوں جو پچھھ سان ہگھموں کے آ تا سے 


یشعراچّال 21 دوراؤ لک کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸۲ء) 


(٢) 
۳ وھ-ص۶ٌٰ‎ ٤ ہواۓ اناز‎ 
فف ما تق لفن کے زانوں خن‎ 
جہاں خوں ہو را ا زنرگالی سے‎ 
ۓ غفلت کے سا نر یل رسے ہیں نوچجواتوں میں‎ 
ین جا ول وی ین کرت‎ 
کہ ہے پ بیٹھ رہنا بھی تانی کے نثانوں میں‎ 
زا دا نہیں بے صورے گل صر زہاں ہوا‎ 
زہاں جب ایک بھی کویا نہ ہو اتی زبانوں میں‎ 
ہوا پیار کی ان اجاڑے گی گلتاں کو‎ 
خدا رکے ہے سے اپنے پائے ہبریائوں میں‎ 
یی ےکن نے نے دا و ف ارت سے‎ 
زیں بھی انی شاید جا ٹی سے آسانوں میں‎ 
اڑائے جائۓ گی وج ہواۓ جصتی ان کو‎ 
ثہ ہو جب راہ ای کا طات ناڑاوں ٹن‎ 
زایا خوں مکی مگھو ںکو تی رے خواب فلت نے‎ 
می رر ہیں کی تھا رونا - ثررت نے‎ 


شعراقال 2 دوراؤ لک کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸۲ء) 


رھ( 
دکمادول گا ُل اے ہثریتاں ری وا "ور 
کہ انی زندگاپی تھ پہ تقرہا ں کر کے تچھوڑوں کا 
کن نت ین ا نی کن تا 
کہ یل اس اک سے پیدا بیابا لک کے کچھوڑو ںا 
شیک حت زنداں ہو ںگو ببسف صفت خو بھی 
گ تیر خواب ایل زنداں کر کے تچھوڑوں گا 
انی ول ج کو بم صنیرو ! اور روئے دو 
سن ات کن ا نک سک ین یت 


تخب نے مرک خاک ولن میں گھر بنایا سے 
۵ی ۹ 4 .و 
اکر ہیں میں لڑنا بج کل کی سے مسلمائی 
مسلرانوں کو خر نا ملا ں کر کے پھوڑوں گا 
اتھادوں 7 اپ عاش وپ کن 7 
سے اس انہ جنگی پر یما ںکر کے تھوڑوں گا 
ترا درد تھا ء تا کا سے اس نے میرے پہل کو 


ری آفار ہے اوڑاےۓ پرے زذست و پاڑ وو 


یشعراچّال 2 دوراڑ لک کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸5ء) 
)( 
ا نی سوا 
9 ۰ھ 
زی تیر میں مر بوئی اقادگی کیوں کر 
شش تر اٹر سے پیا سے جوں تا 
جو پنی صورتے تو انز کی تا ڑنے 
نہ مھا مو ددا سے علابع خواب پا نڑنے 
یں سے دہریت گیا بندةَ می و ہوا ہونا 


ٴ 


امت سے گر 2 دہرا تو ے 

وم تيی عالم آرا ترے رل ات 

حضب سے آساموں میں دا اس کا پا نڈنے 

تی تی ان وو 2 رت ذزت ہے 

صداۓ ںی رر ھا ٠‏ جب کی انی صدا نے 
(ے) 


نکر اس رور میس جج کو ترا جینا یں 1 
کہ صمباۓ محت کا گے بنا خجیں ٢٢‏ 


+ 
اچھ 


- 


کلیات باوامتعراتال ےا٢‏ ووراؤ لگا کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸۲ء) 
کچھ کر ہز کا وشن تیچ عش مط پ 
ثاہوں کو نظر اس ہام کا زین یں ٢٢‏ 
7 بات ول کی سے ظارت تحقب کی 
تال جم بنا سے بی میں ۲ 
یں بے نور سے , محشرمیں فو کیا ناک د سے کا 
سن ھک کت کے کک نا ین نت 
یہ کیٹر تھا کہ و اے خیش دل پر ہو جات 
صفا ہنا گے اح ان میں ٢‏ 
اکارت ے ٤‏ بٹاوٹ ے را روٹا نمازوں من 
کہ اھ اس طرح وہ پیشیدہ ینا خ۰یں ٦‏ 
۶0ص ۹۶۹۷۹ ھ2 
زا نے کا نبجھ سے سخر و بنا نیں 1 
بجا دنا یىی ا جا ے اي زنگال کا 


ٴ 


عبت میںج مر مر کے گے ینا خمیں ٢٢‏ 


بنا اس راہ میں ذوتی طلب کو م سفر اپنا 
اکلے لطبِ سر واريی ہین نھیں ٢‏ 
شی تطر کب تک ےس محے زبر محثت ہو 
یہ مرن میں ۲ج سے ہنا ن٠یں‏ ۲م 


کلیات بایاےق٣راقال‏ ۲۸ روراؤ لکا کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸ء) 
یتو اوت تی :دزن ا فور خرتان 2 
ز طوغان متقبردار آ خی خزالی شرن ء آں خو 

)ہ۸( 
تو گے نی ے دہ داری چم مرا ں کی 
چا کر میٹ کی عید میں شام زم کو 
عمال بیس بب و دہ آئین ول میں 
نہ ڈو اے و ید) مجراں نود این مریم کو 
شا یھی سے بیارکی سکیا ان دردمنروں نے 
کہ بے عاصل بت ہیں حاش بین مریم کو 
ا نا انی ین لت نون 
کہ ناک ری اک نشی بن میں عم کو 


ہس تشخ ژنارج۱۹۰۳۷ء 


ات 
الفراتی 


پئی رخصت مزت شم مر ہم ہوا 
بخز عبر و کلیبائی ج تا . بعم ہوا 


- 


کلیات بایاےش٣راقال‏ 2 دوراؤ ل کا کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸ء) 
کچھ عجب اس کی جدائی میں مرا عا م ہوا 
دل مت پر تن الہ جم ہوا 
حاضخراں اڑ دور چوں حخر خر مم رہ ائر 
دیدہ پا باز است لیک از راو لحم دیدہ اند 


دعلِ ری کر ےج دید پڑخ یں م۱ 
صورت مرا حطر ہے ول تجزول کر 
درو فرقت ے ین ال موزوں مرا 
۰ 12 ۰ 

و مماں سے سپا رع میں م۱ 
وا از ون یی ات نان کے 
لیف جو “تا تھا بچجھ تیری مامت میس مججے 
زدگی کا وشن انماں میں گویا نار ے 
آرزو کا ول میں ء جن میں شس کا غار ے 
یں نے اس عا لم سے ہرذڑے سے اتا نار سے 
مار فرقت کا گ٠ر‏ سب ,2ء ار ے 
زمگای پر ظز ار ا ہت و در ا سوزن اسٹ 


تا و ای اہست در چیراانی ما سوزن است'"' 


تَ مخز ن ۱۹۰۰ء 


شعراقال ۲ دوراؤ لک کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸۲ء) 


اے ق کیا اضضی افزا سے تی رش 

زانتف: کے وشن جم یس ےگویا حر سولی ہوئی 
ت 

حصح کال تی صورت کا نثاط اگیز ے 

پاندنی مم مکی اک سحکین ٹم آمیز ے 
ت 

"ھ۹۶١‎ ۹۶ 

انی تی نی انمان کی 7ی ے دور 

اں اتآ میرے ول میں ساتھ ےکر چاندٹی 

اس اندعیر ےگھ می بھی ہو جاۓ د مبھ چا نیا 


د٢‏ سمخین جا .۱۹۰۴ء 


تُ 


بلال 
تم سے شوقی کی ہن کو موج ہوا 
مخدا بھلا کرے زار دۓ 5 یی 


کھت کہ 


کلیات بایاےشمراقال ۲٢‏ دورال کا کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸5ء) 
از عق صن از ے گا 
بھی نماد غدا کی ناز سے گ۰ویا 

حس سمخ نقبر۹۰۷اء 

ت 
7 
پا ی ازل سے ج کن ہیں مس نے 
ہر اک پر میں 7 ا ےگھیں ان نے 
ت 
سوا دی میں لآت سے اس ے یم ای 
ہار ہار سی سے وی میں میں نے 
ت 
تح یت ا شی کی نا 
وم سادہ لوج ہوں میں ءکر لیا لیقیں بی نے 


‌ٌ 

یں یا یں ین 

کی تر یی ین نے 
ٌ‌ 

ھا می 9 سا او 

بناکے ایک زہانے کو ند میں میں نے 


کات ات شر قال ہو مبراتلککام (۸۹۳ ۹۸ر 
کیپ طرز سے بھہ گنو ۓ واعنڑ کا 
خی کان کان ین تے 
دہ نر نام سے شس کا جہاں میں آزاری 
ور کسی کی تی من نے 
مو تہ ور ند کو نام 
یھ“ 


++ 


خدا تق تا سے انان می خمھیں کت 
‌‌‌‌٢‏ ۶ 2۰۶ 
ای و ا 
بت برست ہوں دی جمیں میس نے۱ 
مرن بقب ۹۷ء 
۰ 
۹ءء و 
انما ںکو گی کیا لد کو چاندنی 0 


۲ من ۱۹۰۳ء 


کلیات بایاےشماقال ۲۲۳ دورا لگا کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸۲ء) 


مم کاسارہ 


واشی صن سے ٠‏ وشن سے مرا فور حر 

یہ لا خرو اور کا بھی 27 

عب رکا خون فنل آیا ہو ہل کر بج بش 

اک طونان ہو ار کا مغمر ھہ میں 
ن۵ے-٠٢‏ :نمحخرن ۱۹۰۳ء 

چ‌ 

ہنرو تا لی بیو ںکا توکىیگیت 
آڑی در 

گخم کا ج ششن ہے جاپان کا مم سے 

یا ے یاشتوں کا کو ریلم سے 

رون جس زمیں میں اسلام کا تئم سے 

ہر ون ٹن چچی نک فر دو سے انکر 

مرا ششن دی سے - مرا ششن وئی ے' 


٢‏ مخ نفروری ۱۹۰۵ء 


شعراقال س1 دوراؤ لک کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸۲ء) 


ٹیاعواا 
یھ گر پچھوٹ کی کر ہ مالی سے نے مجن کا 
بیو ںکو پچھ ویک الا اس شس ببری ہوا نے 
چھر اک الوپ ای سونے کی مورکی ہو 
اس پردوار ول میں لاظر جے ٹا وں 
سندر ہو ال کی صورت ‏ ججوب ال سی مےنی ہو 
سق نت ین ا ا ا کن 
کی یت 
یچنی مم کمدے میں ان حم دکھا دیں 
پل کو چے ڈالیش ء دشن ہو عام اں کا 
پر تھا تا لک رگن تحی لک ون 
آأنھو کی ہے جوگنگاء نے لے کے اس سے پان 
اس دیتا کے آکے اک ری با دں 
نہندوستان“ آکھ ریں مات پہ اس صم کے 
بھونے ہوۓ ترانے دا کو پھر سنا ویں 
مندر میں ہو بلانا جس پیاریں کو 
آواز اذاں کو ناقوس میس چھا یں 


گیا تباپا یق راال ۲۵ ووراؤ لکا کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸ء) 
انی سے جو وہ نرکن ء کے ہیں پبیت مج سکو 
وعرموں کے بی کھھیڑے اس آگ ٹیس جلا ویں 
سے ریت عاشتوں کی تن من ثار کرنا 
رونا 2 اٹھانا اور ان و پیار کرناا 


سح خخنارج۱۹۰۵ء 


27 
حور دی فوائی پا چکا جس دم مال 
رنہ ہو کن یکن عیروھر زا کی مثال 
مردیافندرت نے پیداایک دوفو ںکالظیر 
داغ نی پل کل میرزا و درد مر 
شع رکا کا شان ہمان آ ج پھر وراں ہوا 
دید خوبار پھر مق ت کل واباں ہوا 
"می ںگجشرسے یھ ای صداکی خائمشی 
1ا ول سوزی وش کوک ت1 موزی دش٢‏ 
٢‏ سمحخزنابریل۱۹۰۵ء 


شعراقال غ2 دوراؤ لک کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸۲ء) 
اہر 
بیام حنششل و طرب آحان سے آی 


ٹور ابر سے مار ہو گیا سر 
ےن ا ا یی 
ہوا کے ٹم سے ہوئی یم سرہ کی نی 
و رتخا یت اک تی کی 
لا ردی سے سر اع گل کو مو ہوا 
ئا سے باغ میں بل سے واسلے تمول 


0اا و سر 


٭ھ 
پ0 


ہوا میں کھیلنے پھرتے ہیں ٠‏ مہات ہیں 


++ 


سن میں ہو براۓ نماز 'ٹھا سے 


ضو کرانے کو سقاے اب آیا سے 


اث کے نے بوازقی :نکی( ان کے جن 
وا ہوا سے پپچاں یں 7 سو وت 


ری مہ میں پچ رتا سے اور ہی نتشا 
جو ریلتا ہوں خرام مس وں نما ان کا 


کلیات پا یا تیشعراقبال ئ۲ ووراؤ لک کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸۲ء) 


مک ہپس تفل رز ود کن وا لے 
کما ن۔کھیتوں سے اتھ اٹہ کےجچھونپڑو ںکو لے 


ون وو 
رک ہیں سار گی چائوں کوا 


زماضجون ۱۹۰۵ء 


‌ 
کزار راوی 


ظارہ موج کو پھر وج اغطراب سے 

نماز شام کی غاطر یہ ائليی ول ہیں کھڑے 
کر 

مری اہ میں انسان پا یہ مکل ہی ںکھڑے 


مخز نوہ ۱۹۰۵ء 
تُ 


انتا ۓ مسا ر 


ڑے وجور سے ری سے راہ مرل شی 


شعراقال ۲۸ دوراؤ لک کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸۲ء) 


خروش میلد حوق سے تۃے بت سے 
طلب ہو خف کو جس کی وہ جام ہے تما 
رو ال سے ان کن ا 
مر بر بھف سے ظام سے م٠‏ 
کیا سے تیرا ٠‏ مشدر نے مد خواں جج ھکو 
سے ہزار مارک می زہاں جج کو 
اڑا پچلرلی سے حرت کہاں کہاں مج ھکو 


ان نون یں تعشقی و جن مل 
نے دے سے تحبید داستاں ججھ کو 


میں آقع بل ہیں پانا یاز مر ۱۶ 
دکھایا آ بح خدا نے ہہ آمتاں مھ کو 
مرے مس نے کو زٴ نے ارہ ہیں کیا 
لاں شہ دتا تھا جب مر گراں بے کو 
حوش پر میں منم عفت اڑا کہ جن 
ندرا سا دا سے شنے کا آشیاں بج کو 
رہوں میں نادم ضلننی خدا ء جیوں جب کک 
7 ۷ھ گر چاورال جہ کو 


ال ۲۲ 


7 میرے بل ورر مٹر کا کا 
بہت اتا سے اندیش؟ زیاں مججھ کو 
مرا وہ ار بھی ء ‏ معفوقق تھی . پراور تھی 
بی بی رے مفخل مرے اض کی 
ہر برا تظر آۓ بے بیستاں مج کو 
بھلا ہو دووں جماں میں خسن ئ ظا کا 
لا سے جس کی بدوات پہ آآستتاں مگ ھ کو 


م سے اس کے ول ورد مد کی ٢٢‏ 
ری ٹا کے لیے کی نے دی زہاں بج ھکو 


سمخرن اک ر۹۰۵اء 


2ج 
کیو ں کر تہ وہ چھا یکو پغام بزم راز دے 
مکی صداۓے نیس جس کا گت ساز درے 
زائل ! گے خرک٘ییں لت فراغ مس سےکیا 
دیا ارا مر ات کا نے 


دوراڑ لکا کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸۲ء) 


کلیات بایاےشماقال سا ووراؤ لکا کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸۲ء) 


و و ہن 
کس ان انل ترقات کو سھاتڑے 
پا اھ نہ ہو ہر حظہ و ناز رہ 
چا کر اس رش مس فو پپیرئن نماز دے 


ہو شوتی سی رگل اگر ہ ایا جن جا ش کر 
ہر شن ےکی چک جہاں لطبِ نواۓ راز دے 


ےسمخزنفروری۱۹۰۹ء ہت کات ابا لک ا٣‏ 
تَّ 


سوائی را م رھ 


کیاکوں زندوں سے میں اس شاہدمستقورکی 
دا رکو تھے ہوۓے یں چو مزا مصور کی 


۲- خرن جو ری ے۱۹۰ء 


تُ 


مسقور سے ددوان جا مہ پت سے برو ان جام 
ال کا متام اور ے ء ال کا مقام اور ے 


کلیات باوامتعراّال ۲۳ ووراژ لک کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸5ء) 
یں تق پلانے کت ہی ںعف لکوسا قیان ہند 
مین نہیں خ نہیں ء ىہ تن کام اور ے 
شس مز مکی بساط ہوسرعد یں سے مص رک 
سائی سے ا کا اور ہی ء ے اور چام اور ے 
اے زم دو رآ نرک یک سکی جلائش سے جھے 
ہے ایت 7ئ او ہے 
انی سے زندگی 2و ذوقی مو اگر ئہ ہو 
م کت آ دی یت اور رت چام اور ے 
فانیں کی طرح نے ء آنش بہ پرئن رہو 
لے جلے والو! لزت سوز غام او کے 


7 با انا زن کے ابخزن جونے۱۹۰ء 


تُ 


وصال 


آڈارا م عم ہوں اور رہ ہروں 
ینیل ۶ریہاں ہول اور نادیرہ ہول٢‏ 


٢كلوداصاپ‎ ہ٢‎ 


کلیات بایاےشماقال ۲۳ دورا لگا کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸۲ء) 


٤ 

ا ای سے لیکن صورت گوش صرف 
گی تیرامو نکی شوریش سے بے بپروالھی سے 
عم عنان حصبر حاضر ۴ عاش عم کن 
دش بیگویا ھے امروزبھی ہ فردا بھی سے 
و پرناں مو شال ٹس ٦‏ 
اس پرینالی میں سی رکیسوۓ لیے بھی سے 


)۲( 
ذرا میربی نظ رکی جلوہ شا ی نو دک 
طور شش رما جاۓ الما حوصلہ رکا ہوں م١‏ 
-. زنر۷۸٣‏ 
ت 


کوشش ناقمام 


آلٗ صداے چانرکی رم طراتی شع 


یع ازل سے سے سفررہتا قیام کے لیے 


٠ 
7 


- 


کلیات بایاےشمراقال ۳۳م دورالکا کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸۲ء) 
قلب زی سے مانگ کے لاکی سے داع جو 
او ببار : لال“ شطہ عیام کے لیے 
صور گر از لکوبھی ابد ے ٦‏ ١ڑ‏ 
ھت 


د اہر 
فدر تکا اک فریب سے لطفِ حول مد عا 
ار امی رک غلشٹل ء روں کا نازیاد ے 
حنت کا ذوق باع ٹف شر آشادہ ے 
انی چچزی نے کر ذا راز اغیز آففار 
کاٹ دل ہے مڑھا ہگ لک یک بہانہ سے 
قمری و حندلی بکوشرط حیات سے وہ شور 
گشش غاد شنو ہیں جو نال عاشقانہ ے 
سج مو کے نام ہیں سبزہ وہ و مجر 
عالم ہے زلفِ پرنکن ‏ ] اک بہانہ ہے 
لاو ول رر 


مودت سے ڈر گئے ہیں سب ٦‏ ] و یا ٹرار ہوا 


پاش اڈل ك۷ 


کلیات باوامتعراّال ۲۳٣‏ ووراؤ لگا کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸۲ء) 


جل> 
٦٣و٣‏ ۰ 


۶ 
اور وا لے مت آباد بٹا دتا 
دور؟ عص رکی مستی کو مان سے خیال 
ہ رکھڑیی ایک نا دہر بات سے خال' 


ٴ: 


9 


سے 
0 

سے 
0 


بیاض اول ۸۲۷ 


بی ال ض۸۰ 


++ 


دیار امش دل میں ایا سم م کش 0007 


را طف ا آپ کیو ضوریت ار راز ریا 


ماہنو اتا ل نُرےے۱۹ء ش٢۲٢۲‏ 


کلیات بایاےشماقال ۲۳۵ دورا لگا کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸۲ء) 


عبدالقادر کے نام 
پچ ویک ڈالا تھا نبھی بغز پل جس نے 
حت ‏ م سے ای شل کو پیدراکر ویں 
ٹن ہلنش زرو شوق مو حر مرکک 
ا کی کک اک وین 
درد سے سارے زمانے کا ہمارے دل میں 
اہر شب رکہ سے سوختد بجی میں مثال 
فان ےج ا نکو یق پا کر یں 
مگ یں شا نی ہم نے جن کے لیے 
اپنے بے دردو ںی کو آ ماد ایا کر وییں' 


خرن ۱۹۰۸ء 


کلیات بایاےشماقال ۲۳۷ دورالکا کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸5ء) 


صقلےٰ 
(جز مس ی) 


فرش ہج نکی دنا ۓکو نکی تھی ابمل 
کی یت مات ےل ےکن 
ت 
مریہ جیکی انی کا مری تمت میں تا 
یہ بنا اور تڈیانا عری قمت میں تھا 
مخرن ات۱۹۰۸ء 
ات 


کلیات با وا ےخ6عراال م٣۲‏ دوراؤ لگا کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸ء) 


مل مرو زلیس 


آب جن بار تھوڑا سا نہ لے کر رکھ دیا 
ا وت ین تب ار تا 

آ ٹیل ہے جوشٍ ایک اور نے بی سوزاں سے ول 
ال سحندر رک دہ اور واں سمثرر رک دہ 

سے لئقیں پھر جاۓ گا جب دکھہ نے گا ووسم 
غیر کے گھمر نج میں نے اپنا بستر رکھ دیا 

بعر مردن تھی نہ ڈالا پار یھ اباب پر 
قبر مس مرا عبا نے شش افخر رھ دا 

تل ہا غیر دی ہیں جکوے یار مںش 
“٢‏ ۰چ لاف ر رھ دیا 

آمر خط سے ہوا پشیدہ کب چاو شی 
ضر نے اک نشم میواں چیا کر رکھ دیا 

اس کے پو پچھا ا سم نے مکون ہے تیر رقیب 
۷۰۷ 


کلیات پا قیاتیشعراقال ۲۲۸ دوراؤ لگا کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸ء) 
کی رخار کا ظاہر نتاں ہو اں لے 
قجر پ اس نے ہہادرکی سن عم رکھ دیا 
رو وٹ دا ااقا کے ون 
رین میں کے اھ ہآىٗ یگ مرکھ دیا 
ہو ضہ جا پبردۂ الوار شی تا تاب 
وت کن ری 
باتھ دعو بیٹھآب خیداں سے ء خدا چان ےکہال 
خر نے ا سکو چا کر اے سور رکھ دیا 
قضہ خوان یا رکو جیا ے کی ھکر عال وی 
بات ٹیل قاصد کے میں نے ایک دش رک دیا 
- سرودرفت ب۳۴۲ءرسالہز پان ء دی قب ۱۸۹۳ء 


تُ 


کیا عزا یل کو آیا یو ے داد کا 

ڈعوٹلی پھرتی سے اڑ اڑکر جوگح رصتاد کا 
نت تد ان کی ین ون نا 

تر وع و ری ان انا 


کلیات با وا ۓےخ۴عراال ۲۹ دوراؤ لکا کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸ء) 


جب ا بجر اث الا 3ق ے پیا باب 
یر روکر نے گے حصہ تی فریاد کا 
ہوں وہ ناداں ء ڈر سے زیر دام پتہاں ہوگیا 
دور سے ئیرہ ظر آیا 
من کے ا لکو بے رفی سے چھاگ جاتا سے مرام 
کیا ار معفوقی سے اے ول تر فریاد کا 
شم آکی جب مرک رک میں او الا نہ بج 
آب میں سے خرق گویا نیشنر شناد کا 


کک 


صیّاد کا 


قمریوں نے با مس دبیکھا سے اس خوش ف دککیا 
ہے تچ رکی ان کے لیے پا ہر اک شمشثا دکا 


بھول جات ہیں جے سب یار ہے چھر و تم 
بس و دبوانہ ہویں اے اتال تی یا کا' 


سودرف ۓ شض ۱۳۳ءز پان دی ومبر۱۸۹۳ء 


-7 


کلیات با قاتیشمراال 2 ووراؤ لک کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸ء) 
ہے سے 270.99 س ےکہا 
"770٤‏ مم" 
1 0/7 ےلان 0 ء جوا ل1 ہو ں‌کا ے 
زین آ مان نے خائتۃ ضیاد کا 
ااکشن ہے ذہاں پ ہ اب پہ ذکر آشیاں 
واغ جج مکل تر بی ء ول میں ڈر صیا وکا 
کیچسوں کے پا سکون ہ ےننس میں ہم صمر 
اگل آلی سے پا آت سے ڈر صیاد کا 
ات ےس سکس لطف سے ظا ر نے تلایا ے 
ول کر 8 سے ھا 
لے یلت خارئل سےکیوں اٹک جانا سے یہ 
ول می یل تا :وش نع گ ضا کا 
تل یکرت سے مھ 1۱ت نہیں سے دگی میں رم 
من مقراض کا سے ول گر صیاد کا 
ہوں بھی اس شا بہ یس اوریی اس شاپ 
ےک ح کت 


تھا پا صیّاد کا 


بہ 


5 یا ايازش۹٦‏ 


کلیات با وا ےخ۴عراّال ۲٢‏ دوراؤ لگا کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸ء) 

۷ 0 
پچ ربھی کے ہوکہ عاشق ہیی ںکیا دیے ہیں 

کوچ یار میس ساتھ اپنے ایا ان کو 
لت مخت کو مرے پاوں دعا دیے ہیں 
ہیں سو لیے ہیں جب ایک چنا ینا ہیں 

وت زار میں کن سے تو لا دو جج کو 
بھرنشی سکس لے جج نکی دعا دیے ہیں 

8ت 
جھیاں اشن عھرا کی اڑا نے ہیں 

ابی ذلت سے مرے واس عزت سے سوا 
وو ا کے 

کے 20221ور 
بر پہ میری ج وہ پھول ڑعادے ہیں 

ممیت بولی جھ ہوا کوچ اتل میں گزر 
سر ای راہ, ش مدان دا دتے ٹُٛں 


م دعا میں گے اے آو رسا نے ہیں 


-7 


کلیات با وا ۓےخ۴عراال ۴۲ دوراؤ لک کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸ء) 
گرم ہم بھی ہوتا سے جو وہ یت انقپال 
حضرت داغ کے اشعار سنا رین ہیں١‏ 

نفواوراقال بش ۲۸ز بانء دی مفرور ۱۸۹۳ء 


تُ 


سر زینت و تفل جانانہ سے 

شانہ ال ں کی زلف تال کا ھ4 رات بے 
جور و جنا سے باز آ جات ہیں جم 

کیوں صن مش یس حالت تی بے تا باندہے 
۷٤‏ 7 7ھ+ 

تع کا بل نی ء خاک جن پروانہ ے١‏ 
کچھ خر پپگیں اسر زاب جییاں کی :گر 

سو زہائیں ا سک ہیں کیا اعقبار شانہ سے 
الد الشر ء دید) واعظ میں اڑ گر چا پڑی 

پردہ دای ےکشثاںل خاک در ے نان ے 


میرگا بادگا پ گرا سے ء دہ ق جزب گلست 


سا3ا ا وی نے سط لوف پا سے 


“٠ 


رت 
7 
ذَ : 
٦ے>:‏ 
۲ 


رک 0 ہیں عبادت کا ری ے خاریاں 
روش مدہ مری ہر اغزشی متانہ سے 
ای ؛ مگ سن در ے غانہ ہے 
دکیھ مغرب کی طرف سے مھومتا 7ت سےکیا 
سماتقا ! باد لنبیں ہ اڑتا ہوا سے نمانہ سے 


خاشہ بر ہادکی کےصدر ے *سدہےسحھرا ای ںکیوں 

کرت مار رع صر ویاد ے 
پا سائی گیا ٠‏ جب گرایا سے مجے 

ال سے نال یکہاں ہی لغ متانہ ے١‏ 
جخت جاں شمر؟ شون شہاد تکیوں ہوںل 

میں مل پیے گیا ء فان ليکو درد شانہ سے 
ضض کر رتا گے شر رشے جؤں 

خانہ ہرہادئی گ٦ر‏ لولی یں ویانہ ے 
خرت واعظ ہیں سے نانے میس شاید 1 گے 

تر ااعول ورو ہر لپ پانہ سے 


۲۳۴ دوراؤ لک کلام ( ۱۸۹۳ء۱۹۰۸۲۳۴ء) 


-7 


کلیات پا قاتیشعراقال ۲۴۴ دوراؤ لگا کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸ء) 


وت کن نی این کی ا نا 
پال بتاء اب تل ہول داوان ہ9 دواد ے 


زی مفل میں بھی چتا ؛ئبھی را سے ىہ 
کر بھی میرا گر میری رح دبوانہ ہے 
اس نے زافو برا تو تعنٹیم کو اشن 8 
تھی اے ورو ول مخط رکوئی دلوانہ ے 
خوش قالرابڈی ای جہاں غ الت 
دل ای سے نائے کا ٹوٹا ہوا بانہ سے 
الڑ کے اے اخقپال ! سے زم بشرب جات ےکا 
روں کا ائعر تک تما پروانہ ےا 
ات با اياز٘ش۷ے٢‏ 
۲ راویءصدسا لاقّا لب ص٣٣‏ 
٣ت‏ باقیات اتال ۵۱۸٦۷‏ 
0 
تم آذزاؤ منہاں کو زہاں سے ئل کے 
0 “۹ 
مروں یو یک ان کی تو جن بل 
فطرے جو تھے مرے عق اتال 2 


کلیات پایایض٦راچال‏ ۲۵ دوراؤ لگا کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸ء) 

عادو تپ او خ ار بل میں ت٠‏ 

بنا سے ساتھ ییے والا ھی مال کے 
لغ وو نے عصھی کا نز ئن مرک میا 

وی حا ء ور ! روپتا سال کے 
لے ضط ہو انا ما 7ف مۂعا 

قابو میں آ نے جاۓ زہالی حوال کے 
ای ین اسان کے کن کنا ا کر 

کیا بے خطا ہیں تی رکمان علال کے 
ڑے جا لن وی رفار <- 

لے میں وہ انا دنا سخنبال کے 
نی نے کہا کہ بے نی اور بے گالیال! 

نے گے کہ بول ذرا منہ سال کے 
یم موت مات ہیں ٠‏ وہدکھبراۓے جاتے ہیں 

جھے اکھوں نے اور بی مصعمی ” وصا لی“ کے 
حری تن تی یک نین ون نان 

بج کو ہیا لے گا زرا دہ بھال کے 


م 2 1 بڑراروں ہٍں صورٹیں 
ہوتے میں سو جواب ال وصال ے 


کلیات با وا ےخعراّال ۲۲ دوراؤ لگا کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸ء) 


2 تو 0ت 

ثربان جاآں طرز ان لال کے 
کنا سے خر دغت جنوں میں ُ کہ یل 

آ جو می بھی پاوں سےکا نے کال کے 
ان کی گی میں اور کچھ اندعیر ہو نہ جائۓے 

اے ضعف ! دکیہ جج ھک وگرانا سخیبال کے 
سنج یق یں ناوات 

ماشق ہونۓ حھ تم نکی بے مثای کے 
اقال نو ے نے وٹی 7 

جھم و بر میں ئم زبِ مال ے' 
بیاص انتا زی ۳۹ شورک ۱۸۹۷ء 

ت 


تضورکھی ہو ہنرعا ےو ال روے چانا ل کا 

بلندی پر حتارہ سے شپ تار یل بہرال کا 
قاہت شی ںکی بولی جوگزری پا سے ل یل 

ذرا دانع بھانا یھی کانا سے نیاہاں کا 
نکی ایت کا جالع کے ار 

1ج خییں سر پر اٹھا ینا بیاہاں کا 


- 


کلیات پایاےیض٦راچال‏ ص2 دوراؤ لکا کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸ء) 

اڑا جب طائر رنکِ جا لیے سے ہپاتھوں سے 

یی ینتا جوا ٹن ین مارح یا کا 
جو ںکوزخم و لکہتا سے نقائل می بھی ہوں تیرا 

بھاپا بن کے ؟ مک ےکوگی برز گر یہاں کا 
تا ین بی و کان یا رکو دیما 

جنوں کے لگا ء ىہ نار سے تیر ےگر یا ں کا 
بی تا سے چاک دن یسف زلتا ہو 

بج انا گے مار خثاو پر کنعاں کا 
کچ ہکر اختر قمت اٹھا لیے ہیں جم ا ںکو 

تارج بگمراکوگی ترے ما ےکی افتثال کا 
جوں ! حر ہر یار نے نی کیا سید 

یں مکل رہا اب بچھانتا اک بیاپاں کا 
بھی جرجوں دل میں ترازو ہو بی چاۓ گا 

کبھی کا م7 ہی جات ےکا ہر ےکا نا :یاہا لکا 
یا مان ری مجن اوھر جذب مت تھا 

تس 
دم زورجوں آغ ای سے سر پت ہروں 

مرے ‏ رپ ہڈا اصان ے دپار زنراں کا 


-7 


کلیات ایا ےخ۴عراتال ۲۸ دوراؤ لگا کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸ء) 
رقییو ںکو جلای سے ہیں ےا ت کیل ے 
ںی ہے میرک یآ وسوزا کا 
غضب ہوگا ءکہیں اب “ل6 وعرہ کر دینا 
کک خوگر ہ گیا ہوں ٹیس شب تا ری چہرا لکا 
٣٦ء ٠‏ پر آگھ رنقی سے 
زی جانے اگر برا مل رر ا نکی ترتع ہے 
بر نے شر دی متور یگ ا سے درہا ںکا 
سصٹ کر تی ول سے سو بدا بین گیا آ ‏ 
خیال آیا اکر ول ٹیس تر زلبِ پر ینا ں کا 
ا اہر یں ماع 2 0 074 
کرشہ سے مہ سب شی نی تقریر جاناں کا 
و وو نک 
نہ ہو زم جک رختاع خماق٠ی‏ کے نیک دا ں کا 
کیم ونشنہ ہی اقبال بچھ نا زاں نئیں اس پر 
بے بھی خر سے شاگردیی دا خخیراں کا' 


5 با قیات اتال یضش۲۸۳ 


- 


کلیاتبایایقعراقال ع2 روراؤ لکاکلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸۲ء) 

71 9 +ئ 

بر ھرے سان اک ضفل دبتاں ہو گا 
مرد من کی نثانی کوکی ھ سے بے 

مموت ج بآ ت گی ا ںکوٹو وو ندال ہ وگا 
نی راہ میں جو کوئی تدم ر کے گا 

کچھ یگریاں بھی خنداں ؛نبھی عریاں ہوگا 
وفا پشہ تا سے خودی مو ایماں 

عق ہو گماء ذشتوں میں نمایاں ہو کم 
یا نی ےت 7 ا کے 

پہ ور ںے متخاں ناعیی۔ کوہالں ہو کم 
عق کا ا ےی ا کے 

گھ پہ اصان نہ ہوا و ہے احاں ہو گا 
ندگی چار دباڑے سے تو اس کی غاطر 

باہویں ہو گا جو مر احاں ہو کا 
چار سو پھولوں کا اہار نظر ٦آ‏ ے 

شاب اس زم میں انال غمزل خواں ہوگا' 


-- پاقیات اتال ‌گشك۳۸۷ 


-7 


کلیات با وا ےخ۴عراّال ٥۵۰‏ دوراؤ لگا کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸ء) 


۱ 75 : ہےر 27 
ضر سے ق ری ن ےکہا تم کوک تر کا جواب 

کپتی ے پیل ؛نیں ! سرد وصنوی رکا جواب 
ھ سے گڑڑے و بے وہ اپے تو رکا جواب 

پچ ر کے جھ سے لن گے میرے منقر رکا جواب 
الٹھ کے تزبت سے تزا والن کڑ لیے ہیں جم 

اورکیا دی ا ے ‏ مر تیرىی شھوک رکا جواب 
سر جڑھا جانا سے ہیرے ء پھو کر الا ما 

ہو ما کب بر ھرے پھوئے مر رکا جواب 
ماخ کیقی نما پر کر نہ اے جشید ! باز 

غی رل ے بارا متیرے سا نت رکا واب 
جن در ے خانُوں چنا خنیں نو واعنا 

آ ھا لائیں جھے کیا نام ءکوڑ کا جواب 
ضد سے عماس ےکو واعا 0 , 2 

پر کہاں رندو ! ہہمارے دائن ڑ کا جواب 
کان لے سے ء من کے لیے سپ وصال 

واہ کیا ھا ُھے اللد ابر کا جواب 


محخطرب اے ول نہ ہوء دو دن نو آ نے دے انی 
ھم نے زالوں یں پچھا رکھا ےتمش رکا جواب 


کلیات با یا ےخ۴عراتال ا۲۵ دوراؤ لگا کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸۲ء) 
727 "وھ ہب" ٠‏ 


۔ 
نچ 
وی 


اس نے من موڑا جو مر ےآ بلوں ے ءکیا ہوا 

بن کےشتر چج گیا بچھالوں یس نشت رکا جواب 
ون و یی 

دے دبا ےآ نج آ ج تکی مم کا جواب 
میں نے یی پوچھا ؛کرو گےعٹل تم یکر یجھے 

ارک مگوار ہونے ء سے ب کیوگ رکا جواب 
یڑ نین ا اف ا و رشار ار 

لیف و جب ےک ہ وٹ می ںجش رکا جواب 
تیرے کانوں کک بی جاۓ اگ میریی شر 

رو بن جاۓ تر ےکا نوں کےگو ہرکا جواب 
من کے آیا ہے بلالی آساں مجن کہاں 

تر کن نے اع اض ےرات 
ارثر' ورافت؟ے ہوں اّال میس خواہان دا 

آبدارگی شش ہیں بے اشعا رگوہ رکا جوا ب٣‏ 


ا جرزاارشدگرگای 
۲- راف ت گل پا ی 
سس پیا ائاز ض۴٣‏ 


-7 


کلیات با یا ےخ۴عراتّال ۵۴ دوراؤ لگا کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸ء) 

اشنم من زی مل یں 
بس طرع مل گئی ال مارک اَل 

02 سے جم دش ہوئی عا ی ے 
میری میت ائی اور ان کی سواری ال 

بھی عادت سے یہ ہر روز گڑ جانے گی 

ےکن جا ےت یا رت ناج جیاان 
مم" 0 

وہ ے روتے ہوۓے دک وس یں 
آپ کو گی 207 و زاری آٰٰ 

ےو ودج دم کک ںا 
ائے نے کان مھ نے تمعھفا زی آَ 


لاڈل 7ئ29 سائ 1 دلاری ك۷ 


دق بپیاض احجازک اھ۵ 


کلیات با وا ےخ۴عراتال ٥۵۳‏ دورا لگا کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸ء) 

خمار صحرا نر سی وشت کے جھر می سی 

مرا بچھالا ٹنیس بپھوٹا تو مقدر بی سی 
گر اوقات ہیں حخرت نا کیا سے 

مج ھگہی ںکھان ےکو متا تو ھرا سر بی سی 
رن و کے تن ئا یی کا 

ۓ اع رخھیں متی سے و کون ہی سی 
حثر کے روز مرا وس مجوں تا ے 

ا بکہاں جاتمیں ء چو دامن محشر بی ہی 
ایی سوبھی سے حر وام پک چاؤں گا 

میس من میس شہرہو ںگا فو ممرے پر کی کی 
نے ابرو جوگھیں سے و رک ہاں سے لے 

مڑ پار کم چھتا ہوا نشزر بی سی 
یک کے ہیں کہ مکل سے عو مکی منزل 

یت گی کاٹ تو کی کیا ہوا مرک ہی سی 
سکو یاد آکوں گا میں حشر کے ہڑگاے میں 

میرا وز ےمناہوں کا تو دز می کی 
ان ناف کین تفم تی مان سے جوا 

تم کو اسلام مارک ہو ء بیس کافر می کی 


کلیات با وا ےخ۴عراال ۵۳۴ دوراؤ لگا کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸ء) 
ات رن ات کی 
7 تو و 
شر کن ہیں اتال کو ۲ن مجن 
آچ کے یں نو نع کی یا 
ہت بپیاضصايا زضش ۳۷۹ 
ت 


2 جرا ی 2 70 مل 


و۰۶ .2 
ری فرت| میں ء مو :- 
زور تم 1 م 7 پہ لہ دہ 

یی تتلییں خ3 مال حجوتے جن 


اے ہہ ار ڈعلےہ پتقیں کی 

تع زین سے نال وت تعن 
نکر بیچھ آپ کا تھی سے ان میں 

ٹر ہیں جج سال ہوتے بہں 
اگ ہے پک مہاجاں تج ئا 

بات میں سس ال ہوے ہیں 


کلیات با وا ےخ۴عراال ۵ دوراؤ لگا کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸ء) 


وه ٭. .0 ماع ہوۓ 1ر 


۶ء اقبال سے ش ہوں تراں 
آرشی پانمال ہوتے ہں' 
پضاعازش۵۵ 
‌ 
ج س کو شبرت بھی ری جو و تج 
ہین ھی جس 7 نان ووسورااورے 
جن کے پروانہ تا آیا ہوں مس ا ےئ طور 
بات مھ وہ پٹ رنہ جاۓ ء بے تقاضا اور ے 
جان دبا ہوں تڑ پک روچ الشت یں مں 
دکھ لوم بھی کوئی دم کا تماشا اور ے 
اور و اور آر وناج ان و رج 
وری نت ء لٹھی جج ھکو ینا اور سے 
7 ین ین کا لف 
کون کپتا تھا کہ لطف ”نما رف“ اور سے 


کلیات با وا ےخ۴عراّال کے دوراؤ لکا کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸ء) 
دک اے ذوتی نلم ٠‏ مم ں کوئی موی خھیں 

جوم ری ہگگھموں میں پھر سے وو لا اور ے 
شع کوبھی ییں تق راواٹی سے پروان ےکی موت 

دن ے۷ وو مرۓ والا اوررے 
قم بی میں پچ مھ ٹپیٹھے ءنھیں ! حاشا نھیں! 

ل کیا !اپب مرے و لکوت اور ے 
یں تو اے صبادءآ زادی یش ہیں (اکھوں مزے 

دام سر 2 پک کے کا ماش اور ے 
ٹس پر یں طعنزن ہونی ہے می وشت میں 

(س کےکا نے دل میس یھت ہیں دہسھرا اور ے 

بای تم کہ ہوٹی سے مک ہر بات پہ 

بر ور بل وتکعلو ء مہ فسمانا اور ے 
یں لکیلومری جاں ‏ ڈس بک شوٹی چا ہے 

کوئ کیا ججےگاء دیجھو ! اپ ژباتا اور ے 
یں برنے ففل اخیار میس بیٹھا ہوں میں 

وہ ھت ہیں ےکوی اوپرا سا ایر ے 

کچھ مرے پہاو میں لیکن چلہلاسا اور سے 


کلیات با وا ےخ۴عراتّال ے۲۵ روراؤ لکاکلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸۲ء) 
نون کیا بھا ے اے واعظ !بر سودا اور ے 
وۃ صعف شر میں سے ہیں ججے بپچان کر 
حم وئی اقپال ہو! لو ء ش نے چانا اور ے' 
.۷ ما ا جازم 
ٌ‌ 
میں لو 2 اور ہو گیا جب سے 
ری مفل میں برالل سے 


مت کے بعد وک کپ و 


٦علن‏ ترالی“ بھی طور سوزی ٌ 


1 و شا و ایوس 


-7 


کلیات باقیا تیشم اتال ۸ دوراؤ لک کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸5ء) 
سر 
7 ۰ گار اوترالی سس 
ح۱ روزگارفقب رص ۳۴۷۴ء اض ایا زض۷ 
ت 


میرے چپ دروں کا بیال ء قد خوال نہ و 

شط کی بھی زہاں ہو نے کن بیاں تہ ہو 
پشیدہ اس مس رز جناۓ جاں نہ ہو 

لے مل ایت ُم 7ں ثہ و 
نے اظر ج اھ غال ہاں ئن ہو 

یں سج اھ کے جن بھی کیج خواں نہ ہو 
لیے سے ناتے کو علکلت ‏ سارہاں نہ ہو 

و برن ے رواں ‏ و 
جت و کیا لہ جس یں ڑا آساں ئ ہو 

مر رک ےکو ذرا کی ہل بھی جہاں نہ ہو 
جانا لو ور کار ء زی یں یہاں 

0۳9۷ 
کت 

صاد د تا سے سص آ میں ٹہ ہو 


1 


کے میں نج غی ری صرت مل گی 
اے ول نل کے دی میں مبریا جاں نہ ہو 
اے رود آٌہ نت یتین تاب چھر اور 


0 


کلیات با وا ےخ6عراال ۹ دوراؤ لگا کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸ء) 


اے پاغہاں چچن کا ہراک وگ ے دیئم 
تن گن میں نیکوئی شم جاں نہ ہو 


جب آہ کا ہا ےک پیدا گوال نہ و 
2 09 0 

ھ نانواں کا خحلد میں پا رب ھکال لہ و 
00 رک ےر 

اھ اگر فزرواں ئ ہوا 

ت یاضاازضکش۵۹ 
ات 

عیرے مریئش کو پ فزقت سے کیا گی 

و و 
وص 9 ۰ي 0 

"ا 


کلیات با وا ےخ۴عراّال ۲۰ روراؤ لکاکلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸۲ء) 


زم جم جو تھے غب فرقت میں بم تی 
سے چاندل مس دیار ؟ گی 

ھٹا سے سر مرا نو جنوں را کیا گلہ 
قمت بی ائونٹ بن کے سے ماتے پآ کی 

فک آ کے اس کو بھی تری گاکی بجھ لیا 
۶ ٰ۰ 

0 ٘ "ء0 
2 َ9 و 

خرن جے ے آ رو کیا 
او یار کس ا یی 

رک حم قش 
یی با سے ماتھ سے تید ا گی 

ان کک یتین کو جنافشن 
جانے مخاعرے میں جار بلا گی 


- رو زگ رفق ربك۲۹۱ 


٢٢۱‏ دوراؤ لک کلام ( ۱۸۹۳ء۱۹۰۸۲۳۴ء) 


سے 
حشق کی زم وم لی 


س 
یں نٹ زان ے کو 


کلیاتبایایقعراقال ر2 روراؤ لکاکلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸ء) 
الیل لی نے کے پں 
شعر رل کی زان سے گیا 


ت اتال یکلام اقبال ب٦٦‏ 


وا نرے من راز قنت کی 

گر چھ بھی سو ا سے نذ خوچھی موی سے 
کن گے اے ذوقی طلب ارمال 7 ےسارے 

مافی کاو ہست و بود میں ہر نے موی سے 


رٍشعلوں ٹس پی ےکلیوں کےسا تک ے 
زی قصت پڑی بندوستاں میں خانہ جنگ ی کی 
بیو میرے ون والوں نے پنتھوں ات لے کی سے 
ٹس اے اقپال د یآیا نہوں ان اردوویہوں ‏ رے 
جھ ہو اخہار روزان کت مہ ںک نٹ ے! 


ث۷ پاضاغازض۳٣‏ 


۲٢۳‏ دورا لک کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸5ء) 


عبت کو دوات بڑی جانے ہیں 


٦ 7‏ 9 999 
تصینوں میں ہیں یھ دی ہی وا لے 
کہ جو صن کو عاشی جانۓ ہیں 
۰ رت 
ای با کا اک گی جانے ہیں 
ۃ٥9.7‏ ۶ و 
جم ے گے مم ول جاسے ہیں 
7 می رر و و ہہ 
بدے شوخ وگمتاغ ہیں رند زار 
ملران کو وی جات ہیں 


کلیات ایا ےخ۴عراتّال .2 دوراؤ لگا کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸ء) 
تزی چال یھی ہوئی سے جنھوں نے 
قام ت کو اک ول گی جات ہیں 
ہوں صا ف گو منہ ن ہکھلوا لے گا 
تہاری وا 1 یئ عجاتۓ ٤‏ 
ھ0700( ال ات 


0 


نے اتال و وت 
بر عطرت فو جس ایک لی جانے ہیں" 
7 بیاض ایا زض٦ش۲۸‏ 
۴ ابتال یکلام اتال ض١۱‏ 


کلیات با یا ےخ۴عراتّال ۲۵ دوراؤ لگا کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸ء) 


تم نے آماز محثت میں بے سیا ہوگا 

مس طرت کا سے نا چاتۓ والا ہوا 
تم نے مھا نے سے اس گ مرکو جعارا ؛ مین 

اب ہارا سے >کوگی ون میں تہارا ہوگا 

9ئ2 ن ہکرنے کا کپلروسا ہوا 
گھ میں ٹیھے ہیں خدا رسک کہ باہر ہی نہیں 

ا خی نکی لی نے تھے نا 
نامہ ب ! کام فو بانوں میں بنا کرتے ہیں 

نان کِ"020ە0 تچ کو سلبتا ہوا 
ان ؛ نا پیل ہیں ء ان سے ک گا کیا 

امہ ھھ تم ۶ ناس وی کہنا ہوک 
نا ار ان 


مل بے کہتا سے اکا رہ ون ہوک 


۰ 


٭+٭ 


ہے تار ال ات و ےکی 
ون ےکم بن کسی شوخ کو جاک ہوا 


سروورؤ“ڈء ش۲۳۰۶ 


کلیات با وا ےخ6عراال 21 دوراؤ لکا کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸ء) 

برا ہوتا سے مش خطلہ روبان مم گر بھی 
یو ہف ہے جس یں خاک ہو جاۓ سحندرنجی 

ت2 770 ]]"" 
وو شلوت , اوراس خلوت میں پھر ں کا ر دنر“ بھی 

چا کر حضرت واعثا ے رکھا شش نے و 
مرے تام آگئی آخر نین زیر خی ھی 

"یں س ررکددیا تھا بے خودیی مس پاۓ جاناں پہ 
وہیں جوڈڑے کےماروں میں ر اقم تک ا بھی 

شکابی تک مل دوڑوں اورم جانے ثہ دو مج کو 
نج جھ ہو ہہ ہاتھا پالیٗ رو یم ربھی 

جا ہے ئن جی سب پیج ہگ می کس طر مانوں 
ای حضرت ! ماد یکھا ہوا ےکآ تکوش بھی 

"رر رورس 
خداسے چا لکر جا میں کے عاصی ءروزیشربھی 

اوقے ذع ء دم اس کا لگ لک رآ گیا کی 
تمہارے ہاتھ بیس جا ںچنش ہوجا ا ےت بھی 


کلیات با وا ےخ6عراال ۲٢‏ دوراؤ لگا کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸ء) 


- 


قڈ اک پالی کے قطرے کے لے تھ سے سید رھی 

مرا ےگمرجنوں میں بڑھ کے ناشن یز ہو جانمیں 
ٹس بر علاج جو فرقت ب مکونشت بھی 

جناب دا کیا اقبال ىہ سار یکرامت ہے 
ترے تی ےاوکر ڈالائن وا ںبھی بیشن و بھی۱ 


با اعاز ل۴ 


د(بے کے رۓے کت می سے بھی 
جو نما تین نع اک ین 
ہرے مل ہے مان می ہنا 
کو وت 
011 
3:4 ای اژان وا نے 7 
تھ کو اقّال ان ے کیا بت 
دلی دانے ‏ زان و ال میں 
با انا زض۲ 


د لکو ذوتی دید سے شس حاسائی ہوئی 

کی نی تی نات کیاکی ہوئی 
کے ان را کن تو ین لن کا 

شوی ہر صدتے ج نا جہیں سائی ہوئی 
شوقن نین کو نے ا 

خاش بی کی بورئی سے تق کی وگ 

ای پالی ا میم کی سال مل 
چاک جب سے بت وت دامان ‏ تم“ 

ین لی 20+ ي4 ء۶ 


کلیات پا قاتیشعراقال ۲۸ روا لک کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸ء) 


ہس باقابےاچال ۵۹۵٦‏ 


-7 


کلیات با وا ےتعراّال ۲9 دوراؤ لگا کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸ء) 
تن کن ا کا 
ہو رے گا می تقعمت میں جو ہونا ہوگا 
ژ ٠‏ 
خند) فل پ مجح و فس لئ رو 
پھر ای بات ہہ رو لوں گا رونا ہوگا 
جم کو اتال مت میں مزا تا سے 
ھم و اس بات پہ بن یں کہ رونا ہگا' 
-- با قیات اتال بضش ۵۵ 
ت 
1 جو فطرت سے الم کی 
بھی ہم نے مت کو سیدھا ثہ دی 
22200 
ئجے 27 ء 7 ھاےء لہ دیکھا 
ظہور و عم ا ضس - 


اگکرچہ پھر میں ببت ا گن میں 
تھی نے مرا آنا جانا نہ دیما" 


۲ روزکا نف ر۲۸۰ 


ہے یں فو مرتے ہیں ء جوم رتے می فو یت ہیں 
نرا ی زندگی ہوئی أ) ,032۵ کی 

بھاا شت میں واعظ و لکیا ساماان عحشثرت کا 
70 و 0 ے سس گیرتھ لک 

کس کوٹ یکرتے ہیں کس یک یکھال اترتی سے 
بباجرت ہ ےکنا بی شف کے ثیرازوبندو ںکا 

ای ای وو ا 
قیامت می جوین نے بارب !اپے بندو ںکی 

طلامم کر نہ ا یکو چبیت کی رقں نا ی ہیں 
ص-ص- ص99 

خداجانے ہی ےکون سے شعلے کے وامسن میں 
ہن رآسا صراۓ رف تیرے دردمندو ںگی 

792 0 ٦ 

کیل 026 ہوگئی دی کے وعنروں 17 

نے گا کیا دہ ٹیل جھ نہ للا آشھیانے سے 
یں سے ہگ وکواےصیاد روا تبرے پچندو ںکی 

نہ یہ دوک گیا اردہ سے نہ سے ار بک او ی ے 
زیاں ری سے اے اخپال بولی درد مندو ں گی 

روزگا 0 جلردوم م٣‏ ۲ 


ایا ےق اتال ٠‏ دو را لکا کلام (۱۸۹۳ءا۱۹۰۸ء) 


کلیات با وا ےخ6عراال ا٢‏ دوراؤ لگا کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸ء) 
ون اف کا ہوا بت 201 ین 
کہ بت جع گے آ بح سب برلن تھی 


تھوہ وہ بر حب خریاں گن 
کہ غیت میں کرتا سے سر جن بھی 


نیس بم نے د بے ہیں دیا میں لکھوں 


دہ کے ہیں ہیں ری مت پآ گر 
جھ وقت سے و بپھاڑ دے ا بکشن بھی 


خور ہے پییظر نہ ران جاؤں 
وصال ون ے فرانی ہن بھی 


سث پا ضایاز ش۵٦‏ 


-7 


کلیات با وا ےخ6عراتّال 2 روراؤ لکاکلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸ء) 
1 س 0/1 سب وو مو 
تی کے ذک رک نکرجڈپ جان کا ہا٘س میں 
مرے نے کے کے واع کیا بیا لکرتا ےکوٹ کا 
بیرذکر خلد ہے یاد بک نان ےک با یس ہیں 
مارک ہو کے مت جات چاوداں ربنا 
ھاریی زم یس ا ےخضرام رجات ےکی با ٹٹس ہیں 
انا ا کہہ کے بے مابانہ سولی بر نک جانا 
فرالی تبرے د لوان ےکی ءمستتان ےکی ہایس ہیں 
ث9 رن یز کو ناحل وو بججھ ب ٹا 
ارے نادال !مہ نادانو ںک مان کی بافں ہیں 
می پر جان دیتا سے مبھلا یں بے خوش کوئی 
ی۵ + 1+ 
ہاں واعظ گے ےت مک یکھاٹی ور و موی کی 
قو می کچھ اک بیشھی میرے و موا ےکی با فی ہیں 
شبیر “جو ے گر یس و 
بس ابجھی ہوئی تی کے سبھان ےکی باٹں ہیں 


- بیاض ایا ز٦٦‏ 


سروورف ء ش۱۵۲۳ 


۲۴۳ دوراڑ لکا ام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸ء) 


لۓ اع و ری ے 
ہو قباعت جو زندگی کا اصول 
گکگ تق راغ" مق ے 
جس دل ہے جبان مم سک میاب 
ان نما زمضقی ےےل 
نت کر نہاں زی نے 
زکر چام طپور ء وعظ کا وعظ 
اس رھ 
شع بھی اک شراب ہے اے دل 
بیشیاری بی کی مق سے 
بحم فا ہو کے بھی فزا شہ ہوئے 
تی اک طر کی ہت سے 
1ہک کو کیا نظرخیں ۲؟ 
ایر کی کا رر ہے 
کے کیا سلوک ہو اتال 
گرم جم بت پک ا 


کلیاتبایایقعراقال 2 روراؤ لکاکلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸ء) 
ان قارع اق الو رسکی نادان 
نا دا گے ناک ت ۲ گے ے 
جہاں سے لتق شی اقال گزر قرنی 
بے بھی می کے ری ای نز نے سے 
کیشہ درو زہاں ے 1 ک ام اتال! 
ا کی یی تن 
دق پیا اخازضش۵٦‏ 
ت 
لا کا مت کی ياگار ہیں میں 
ما ہوا نا لو سر زار ہوں میں 
فا ہوۓ پر بھی گویا وفا شعار ہوں من 
جوم ٹف گیا فو حصیینوں کا اختہار ہوں مل 
تھی ن رگوش ماعت سے شرمسار ہوں میں 
دہ راز ہو ںکہ زمانے پہآشکار ہوں میں 
و کے ےن تن تک قش ای 
کی یک کل ئن من 


می کے پات کا مچھا نووا غباز جہون ین 


کلیات باویاۓےخ۴عراتال ۵ دوراؤ لگا کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸ء) 
نے میں مست ھا سے بج ھک و کیوں واعظ 
وہ اپا وعظ سے جاۓ ء +وشیار ہیں میں 
ت۰ہاری شوخ ای نے پڑھ 2و یوک 
شرارکھی ےآ ۓ لو نے قرار ہون میں 
سپ کے ان کربی نے نے لیا پوسہ 
و2 س رکو 8902 
2-4 سے مرک بام ک سان ی ہ٭ 
فان ماک نخان کوۓ یار ہوں میں 
ربی نہ زہر میں اقال وہ پا ی بات 
ین رت تا وق ون 
باقاتاقال٦ش٣۳٣‏ 
ت 
2 کچا نار ہوے کو 
دای لالہ زار ہوے کو 
- ادائی وہ عاںل شارگی میں 
تھے وہ جھ پر ار ہونے کو 


-7 


کلیات با وا ےخ6عراال ۲ ووراؤ لگا کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸ء) 


عشق وہ یر ےجس میں ترار 


چابیے ے‌ قرار بے کو 
او نا یر 
یں و ہوتے میں یارء ہو کو 


لالہ اور دا دل بہانہ سے 
دل جلوں من شمار ہوے کو 
2 اور سوزلی رو - 
کیک مز نےکر 


یں ڈارا ہے آماں نے بے 
تن یز ای جو ےک 


جع رت ہوۓے 7,- 07 


سے بج انقپار ہونے کو 


ال نے لے بچھاکہکون ھچتا سے 
مم گج آخار ہوے کو 


عم نے اقال عشق بازی کی 


پا بے نے بوشیار ہوئے کوا 


- خرن جون۱۹۰۲۴ء سر ودرفتت ‏ کک ۱۵۵ 


7ھ]/ دوراؤ لک کلام ( ۱۸۹۳ء۱۹۰۸۲۳ء) 


ماش دیرار حم ک تم ہو 
وہ نے ہیں کہ 7م ا یبال ہوا 
رت اشن ہو میس اےخھو وشن ار 
عرص جفرمیں پا ي تھائی ہوا 
میری ببنائی می شاب مال دیدار گی 
بند جب آگیھھیں ہوٗیں را تا شال ہوا 
ائے مر بداشھی ء واۓ ناکامی ھری 
پاوں جب ٹوئے تو شوتی وشت پا ہو 
میں نو ا عاشق کے ذوقی ‏ جو بر مرمٹا 
نما عق“ کمہ سے جو تر منلی ہوا 
ھ می ںکیا ا ے مشش وہ انداز منشونقانہ تھا 
صن خو و لولاکک “کہ کے ترادا ہوا 
717 ناداںلں اتا تح و پٍوانہ ج 
حن ب نک رعش اپنا آپ سودائی ہوا 
اب ھ ری شر تک سوھی ہے نہیں ء دک ےکوی 
یں کے میں جس دم خی یکوۓ رسوایٰ ہوا 


یفضش اصجاب علاظہ سے یں اقبال کو 
وق یگر اک غارگی ےآ کے مورا گی ہوا 


تس بایاتاالضش۳۹۲ 


کاراےے 
بات 


ایالیش۰راتّال ۲۴۸ دوراؤ لک کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸5ء) 


ین تا ا وع نو ےت 

ان کے 
کھاتا سے تچ کو اے ولمس کا شحم جدائی 

بے قرا رکیوں س ء تو ناصبو رکیوں سے 
ساٹی کون سا ھاء جن نے ہے ے پلا دگا 

سی از لک اج ء ا بتک سرد رکیوں ہے 
تیرے می م رم ے چنا فیپ ء ورنہ 

ناک نا ککیوں ہے٤‏ دوکووطورکیوں ے 
نعل الوریے“ سے بھی نزدیک ہیں تسا 

اد ای رج وانے!آ عھوں سے وو رکیوں ے 
بش مشتں خاک ہ جھ می ںلکوہرنہاں ےکسا 

تبرت سے کو یا رب ا ظامت میں نو رکیوں تج 
رو زگ ذش٢‏ 
تَْ 

جایں ار و انا کرشمہ دکھائیں جم 

می نکر خیا ی خر ڑے ول میں آ میں بم 
ھی کسی لب جمر و جنا کی می 

ایی بات کے ےش رمیں جائمیں ہم 


- 


ایا خر اچال 2 دو را لکا کلام (۱۸۹۳ءا۱۹۰۸ء) 


اے صدمۂ فراقی نکر بم سے مچجیٹر بچاڑ 

کس کا ناز سےکہ مج یے بھی اٹھامیں جم 
پگیں کے آج سرب دبالہ دار سے 

کس رح ےکس ی کی نظر میں سائمیں جم 
و رق وت اب 


ہم 


ا جاۓ موت ائی ‏ و لیا : 


-.- 
- 
بک 

۵ 


ڈرتے حے جس سے واسے وہ بات انان 
قد ایک اب کے تو گے سو سنامیں بم 

مر ا 20 کی 
ئن بو سے جوضض وشن بھی نکھا میں جم 

ق و ا نت ور بن 
اس کر اتاں میں غزل کیا سنائیں بم 

اض اخا ز ض۰٥‏ 
‌ 

کن کے ہیں دن صورت مس یکی بھولی بھی سے 
ز ہا ھی ےلب نت ہیں پیارکی پیا ابو ہے 

ترا ا ےس دریاۓ محبت منگو کب جک 
مرکی تی جو یپ اپنے پاتھوں سے ڈبولی سے 


کلیات پایایغ ال ۸۰ دوراؤ لگا کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸ء) 

گی نی تو کے جات ا رونا ھا را 
کہا بے درد نے ”کیو یپ نے ملا برولی ے' 

نا جھکہہ دا مس نے گر تم نے با مانا 
خفاکیوں ہو گے ہہ عاشتو ںکی رو یٹھولی ہے 

شب فرفت تصور تھا راہ اعماز تھا کیا تھا 
زیو کر ین نے پاا ا ہے لو ول ہے 

وہ میب ری چچجھ بیس پچھررسے ہیں ء خرہو باربے! 
پا مرا بتان کو قیامت ساتھ ہوئی نے 

سا سے آ نج شّت میس مڑی ر وق کم علہہ ے 
تڑےکشت کا سے یلام اورحورو ںکی وی ے 

قاخالی وی آئینت تی میں ے )پا 
مراہے :سن نے اے و لکتا بش نکھوکی سے 

یج سکتما نہ تھا کوئی بے اں و 
گر ھی زندکی میبرکی ءال نے1 کےکھولی سے 

کت الیثر سے فو ء ہ رآ تما کو جیت سے تی 
معم ان کا مار ب کیا ارگ ارگ لو ے 

ییں باد وشن ! کیا یل آنا سے خردا جانے 
چھلا نس لےنحربت زدوں کے ساتھ ہو لی سے 


کلیات با یا ےخ۴عراتّال ۲ دویاؤ لکا کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸۲ء) 

مج 0ٍ٢‏ کے فان نہ ھا 7- 
زا چرس ےنت رےکون نے 1ک رکھولی سے 

تم جاک جب گی ء تم ٠‏ وہ طیلی 
بیابےے ہرد لگ با قش ہیں٣‏ بہ بیدددو لک لو لی ے 

مہ وخورشید واشم دوڑ تے ہیں سات ات انس کے 
لی کیا ےکی ممتوقی بے پرواکی ڈولی ہے 

یہ وگ شوخ انے پوت کی ری ے 
نیا قیدرکی ہوں میں ہآ داز میرکی کوٹ کھوٹی ے 

اہوکی بوخد یاں لا ل ےک یکلیاں بن کے پھوٹی ہیں 
گھرزی زی می تڑ ےکشمتوں نے ہہولی سے 

انی :و واماندگی ء رثار سے اے مل 
جے کے ہیں ا موی وہ ا ہت یکی موی سے 

ماں تجھ پر ہوا تھا کیا دکي ٹیل کی چچوریی کا 
صا نے نن نگل !کیو ںگرہ تی نوکی سے 

ش ہنموں سے اے انقبال بے سبرا سے ناص رکا 
70" 


ْ- بیاض اياز ش۳۲ 


کلیات با وا ےخ۴عراتال ۲ دوراؤ لگا کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸ء) 
ھا راز ان پر ری ہے بی کا 
ابی مج بل جا کسی کا 
سوا اس کے اب قو مک وکا مکیا سے 
امیروں کا شوہ گل بے ژریی کا 
مدا جانے کیا ہو گیا ہندیوں کو 
کہا ویش میس راع ہے بش یکا 

-- با قیات اتال بش ۳۹۸ 

‌ 
پیل جات تھار بابضت ے 
کا رٹ 
سے انی جھ بی نی 
ورنہ ڈعونٹرس نکیا یں متا 
ھم نے اقپا لکو بہت ڈحونڑا 
کوئی اس نام کا یں متا" 
۲دق پض اخغازش٭ 
‌ 


رت نظ رکو ہد لکو یش ء لب کو خائشی 
انعام بٹ رسے ہیں تری جلوہ گاہ میں 


کلیات با وا ےخ6عراال ۸۳ دوراؤ لگا کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸ء) 


پ کو بھی باد سے اے حضرت کیم! 
ما سا ایک سے جو مت گی راہ ش 


1 
کَ 


پتا ہیں قص ار ی گوۓ طور پٍ 
کیا جانے کیا ساا سے میرک ئگاہ یش 


سی ئا 
پر شاد ہیں کل ق گیا گرو 


مت رت کے ا من 


اقال کی نہ پچ ون ماجیاں 
یی ۶ ر2 


سس با اغا زگ٣٣‏ 


7 
او نہاں ھ سے مرے دا 021 
یں نہاں ججھ سے تڑے موب ۓےکھم کی صورت 
سا ات ین بر آل2 
مپھی اس سنک بی رت ہیں شر کی تصورت 


کلیات با وا ےخ۴عراال ۰.۷ دوراؤ لگا کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸ء) 
نام رشن نے رے مر ہو گو برقی ام 
زندگی بات دا میں شرر کی صورت 
ہو فیدر ڑے سے جن دہر تام 
یر اں پا گی کر ہاو بح رکی صورت 
و جج 


ت 


: لد اش کِلی د کے و خر کی صورت 
ےس س**"*"“0*" 

صاف اگ ا گل دیله 7 کی صورت 
گالیاں ب مکو دلے جاتے ہوکیوں شر ے 

آآن یش ھپ بڑ ھے جات ہو کی صورت 


لک رات ہے 
گر پڑا یو ول گِّ در چاناں پ 

بھی ٹوٹ کا ڑیں کماسہ سرکی صورت 
خون اب ول میں نی اے رو الشت اق 

شح ہو بھی ہیں زاو سخ رکی صورت 
کیوں 7وت ۰- کے اے روڑان در 

ف2 بدکھاتا ےکی رخ ق رکی صورت 


۳ ۹۰77۳0و9ئە) اعتہ غ2 

پکیوں پھر گے ان مرے سرکی صورت 
9 07 
4 0 ,09 


وےہ 
؟ 


دہر میں ذوقی سلوں تج کو ے پغام فا 


غ رک یع من وف کی ضوزف 
ضرب شمشیر حوارٹ سے نہ کھو قوت طط 
جخت خود دار ہو دنا یش پ رکی صورت 


ےگل و لال ہ کی صورت نے أشھی سی من 
تن زین فان جار ضورت 


لیف جب ۲ سے اقال تی گوئی کا 


شعر کے صدرف دی سے مہ رکی صورت 
یا اتجازل*ھء ہاقیات ابال ۱۷ 
چ‌ 
پاش والوں کو نے آخر د یکنا بی تھا مجے 
ادر کاکوروگی نے وور ے دیما بے 


ایا ےق اتال ۵ دو را لکا کلام (۱۸۹۳ءا۱۹۰۸ء) 


کلیات با وا ےخ6عراال ۸۷ دوراؤ لگا کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸ء) 

اے چاپ زر ء اے پوددة دامای ون 
کیا گکروں اے دل من آراے عال م کا گلہ 

ضا کی طافقت نہ دکی ء منخا ل بگویا تھے 
رل میں 1۶ ےکہہ دو ںا کہ میں مجبور جہوں 

کوئی بے ما نہ بے ء بج ھکہیں پروا جھے 
وی کو سے اندر ہی اندر چو مج بی گر 

کیا قیامت ‏ ےک تھا فو نے بے بروا مھ 
لکئی جشم تیشا انی جس دم ا ےکیم 

طور ہر زڑے کے وامن میں نظ رآیا بے 
قپ مکر دینا نہ اے صیاد یج کو پچھوڑ کر 

ہوگیا 01ص یئ پیار سا پیرا نے 
کس قد تا ری کی ا رب مری نت مور 
2۳ 9 ھسٰئ۶"+ 

ایک بھی اس دیس میں عم میں متا جھے 


رجے ہیں ہے درد میرکی جح تر پر خترہ زن 
اے ول درد آشنا تو نے کیا رسوا ھے 


کلیات با وا ےخ6عراال ۲۸ دوراؤ لگا کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸ء) 


قرع 207 
بی انی سے بجع ازل سے انی آگھ 
جب سے رروتا ہو ںک ہآ ا بھی نہ تھا رونا بے 

اق گوں دای ان میں میں بھی ا ےکیم 
ضنلن ترالیکہہنردے ہورم بے پروا بے 


اد دنا گا کہاں پان ے اے ابل علم 
اں لی سا یاد سے مھ ابنا مر جانا جے 


کیوں ڈروں اس سکع کپ ریس مرن بے 
ہ ری کو جزم خستی میں سے رونا موت کا 

اور اس مخل یں رونا زنرگالٰ کا گے 
و جئے بر خموہاں ہیں تڑے آئی صرا 

نے وا گے ء کھوک رت سنا جانا کے 


یت ا نک ا ات 


- 


کلیات با وا ےخ۴عراتال ۸۸ دوراؤ لگا کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸ء) 
غضب کا رگ لال سے سی ادا ما 
مففرے نے گھی نہ روز حر انا 2 
نادر و بنگ ہں اتال ھرے جم ضر 
سے اسی حنلیث کی التوح کا سورا جے 
ْ یا ايازکشے۵ 
ت 
عبادت میں زار کو سرور رہنا 
بے ل کے تھوڑی یی رہنا 
وم آفرنل ہدابیت می ول کو 
ك خھاشائۓے 7 طور ربتا 
نوا میں کت ایک ے وہ بت 
ہنہیں ہ رظر میں ہو منظور رہنا 
تھائی ےکس نے میں بے عمالی 
مینوں کم شبوم کے تو رہنا 
تی ںکیا جتاتھیں محبت ےکی تھے 
یہ سے دل کے پاتھوں سے مور ر ہنا 
جب شھوة عاصکی سے جہاں میں 


معو یز گیا ؛ٴ موڑور رہنا 


کلیات با وا ےخ۴عراّال .-س دوراؤ لگا کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸ء) 


کوئی ال اس خاکسماری می ہوگی 
ت۰ہاری ل او گا مقرور رہنا 
مظدر کی شبیم ہوٹی ھی جس یم 
پٹر 2 دل 2 ور رہنا 
نہیں عشق اکا یہ زاپر کیا سے 
ار َ 2 عجر رہنا 
نہ ہویش نکی گگھوں میں تاب ظارہ 
ہلا ان خھریوں ےکی دور رہٹا 
021]) ہے اعتزاکی کے صرتے 
نے کام 52 ے وور رہٹا 
ینم کو رن آقارگّیں 
می 1 یں صورے ٹور رہنا 
وم سَو از اّال رر رے ین 
زمانے میں سے اا نکو پور رہنا' 
با ض ایا زض٦ش۳۵‏ 
ات 


جنشموں میرے دل سے رف موزوں بن کے کل ہیں 
وی طائزر بھی آخر گید مشن کے نے ہیں 


کلیات با وا ےخ6عراّال ۲,۰ دوراؤ لگا کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸ء) 

عرکی جاں٠‏ داستاں میری کیا تام کر سنا 
کہھیرے عال پر1 ضومرے دن کے کے ہیں 

مسافرمین لے ہوتے ہیں کیا راو حبت کے 
متاع د لکو نےکر واسے روڑن کے گکلے ہیں 

رھ اے بخیہگر جاک بت ہو تو کیو ںکر ہو 
مرےہتخوں پآ نسودید) سوزن کے نے ہیں 

پند آئی نہ ان کو حر خحلتان این کی 
گرا یرب میس دہکیا نان کے لے ہیں 

یی اں راہ ے شاپ ر ساری وی ے 
کرمیرےول مم افش پان ےتوسن کے لے ہیں 

کرامت دکھ اے وست جنوں پاو عبت کی 
عرب من جا کے پرڑے می نے چان کے کے ہیں 

گلتان جہاں میں می بل اڈڑتے پھرتے ہیں 
لم سے شع رکو ہا مہرے پریاں بن کے لے ہیں 

سبب اے مم نشین لہ نہ اپ کچھو میرے رونے کا 
9 "ھ0 

نہ پا یا یکو تیرے نظارے کے ران ے 
:98+6 و 


کلیات با وا ےخ۴عراال ٢٢‏ دوراؤ لکا کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸ء) 


کیا براں فرشتو ںکوچھی تیرے ورومنروں نے 
خداجانے تم یپثفل سے یکین کے گے ہیں 

لے جات ہیں سید ھےء پچ رادھ کر تی سکرتے 
نل نجظازت جچ وک رشن سے کنل یں 

خدا جانے بیہا ں کی سے ہوا وسعت فزاکمی 
تر درگادسےذڑے بیاہاں بن کے کے ہیں 

اپ یکشت ام و لکو میں ات فلت و کھا 
تنا رےگھی نے دانے مر ےت رین کے کے ہیں 

تحلق ین تعن تھا ینونج 
گھردیکھاف کان بھی کسی دالسن کے کہ ہیں 

جتنھوں نے مع شغم اس من می ںآ پکو دیکھا 
۸ 9 097و 

تناشا کی جو وسعحت میں نے اپنے داصن و لی 
ڑرااروں دشت اک گے بیس اس دامن کے کے ہیں 

برن روز حر ڈعونڈتا پھرنا سے واعوظ کو 
مم جو تے وہ ٦‏ تھر وادکی امن کے کہ ہیں 

+٣٦‏ 2ھ وھ 
پان آشنا میرے رگ یگرون کے کہ ہیں 


کلیات با وا ۓےخ۴عراال ۲۰۲ دوراؤ لکا کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸ء) 


بے اقبال اس سید ےگھمر سے نی چیا سے 
پل جواس کے دالن میس ہیں٤‏ دہ دجن کے کے ہیں 
ات 
نظارۃ کبکشاں نے یج کو جیب گنن کیل ھاہا 
گر دقی فل ککو ہم رتا ر ےکم ر سے ہیں 
کہا ز یا نانے یل سکنددر ہے مد داران چم ر ہے ہیں 
نس میں اےہمصفر !ای کاو ںکی ہکا تی ںکیا 
زاں‌ک دورہ ےگکستاں میس ء ضہلو رم ہے نم رہسے ہیں 
اگ رجمنا ہو عافی تک ء خدا سے پگاگی نکرنا 
جچہاں مم ج تم سے الکن جیولر بام تم ر ہے ہیں 


روزکا رنٹی ش۲۵۲۴ 


02 سے اتا دل داغرار االوں کا 

بھا ہو دونوں چہاں میں ستاے والوں کا 
سنا سے صصورت ملنا ء جف میں بھی اے ول 

کوئی مقام ےشن شسکھا کےگمرنے والوں کا 


کلیات با وا ۓےخ۴عراتال ما دوراؤ لگا کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸۲ء) 


نہ وھ جھ سے محقیقت در اندن گی 

بی" اک ججان سے گویا پرئی جمالوں کا 
ولی بھی ہ رند بھی ء شاعربھی کیا یں اتال 

حماب سےکوگئ یکم بت کے کمالوں کا 
رو زگ رنق ررش ۲۵۷ 

ت 

لاکھوں طرح کے لطف ہیں اس اضطراب میں 

ھوڑی سی دب اور ہو خط کے جواب میں 
زاب وراز شن پے ہیں طعد زن وٹ 

کی رع سے چم شہردییں گے اب میں 
کیوں پل کے سوال پہ چپ کک یتسمیں 

7 چار گالپال بی سنا دو جواپ مُں 
صرت بے ری اظ رکو جو سائی نے و گیا 

ڈدلی ریب شم سے جا کے شراب میں 
ناب ارہ تَ رہ کین بے 


اھا ہوا میں سے رین پپ ہے 
ان ای بات من 


کلیات با وا ےخ١عراال‏ ۲۲ دوراؤ لگا کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸ء) 


ج١‎ ٠ 


ول وو ہہ 
یی بلا ےکوگی رسے پت و ہاب میں 
220 


تُ 


'ظارہ ماہ کا ساالی بے ری ے بے 
یہ چاند یہ ےکہگردوں سے سے بیتقی سے 


وہ سیر وی کی کرے ہ ذوقی تمچو ہو چے 
جہا ںکوس نے بسایاء یہ ا کی تی سے 


میں اس دیار کے ء ہلیم کے سر اکٹ و ضیرتے 

جہاں کےکوچوں میں خغیرت سے مگ رتی سے 
7 ظ6 ۰90و 

زی مود سے نال ! خودصتی ےہ 


۲ػٹق پا ضايا زك ۳٣۹‏ 


۲۵ و 
دوراڑ لک کلام ( ۱۸۹۳ء ۱۹۰۸ء) 


حرزلوں کے جز وی منٹروکا نت 


مزل 


9۲ 3 ئ2 


گیا سے اوھر سےکوگی بیں اح ل کر 


ھتاہ ذرا سن کے ہکم بجنت ۲٢!‏ 
دہال امہ ہر ! ٢ى‏ و 


نہ بچھوڑا بھی ہے وفائی نے تم کو 
مری طرت 7 وا 2 


-7 


کلیات پا ا ےیشعراتال ۲1 دوراڑ لک کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸5ء) 

نراروں کی کو تاے ہوۓ ہیں 

ای وہ چم فوں کار گیا ف 

تنس ہیں ے بل تو وبیاں جن سے 

بی رو ری گلزار کی تی 

مرا دل بھی اش کو چاپا نہ واں سے 

فوں تھا کوئی ٤‏ ھت 

رے ساتھ اڑتی گی "وت نی 

می فا اے رای اتی نت 

زن ات ا از 

مری ینم شی جنم اغیار کیا شیا 
بیاض انمازرک ۲۹ شع نم رااء سر درف ٣٣۰‏ 
ات 
غمزل 

ئن ےتآ ے جک کے 


دکھ لیتا ہیں جہاں جیا کوئی چچہتا ہوا 
اٹھا لیا ہوں اپنے آشیانے کے سے 


کلیات پا قاتشم اتال ے۲۹ وو را لک کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۰۸۲ء) 
عم صرد حم ری عالی خثاہی د بنا 
ماع کل طور جاڑی آشرانے کے لیے 
قضہخواںل ن ےکیوں سنا دکی داستزاں جج وکوم ری 
تچ .ےت شی و ملاک گر در 
ورۓ انال اورٹر شخ صر بجھدکانے 2 لے 
81 پیدائٹشی ب ےتا 2.0 
و ران ول ٹوٹ 9-2 
تر ککر دب یی خرزل خوانٰی گر اقال نے 
یز للھی جا کو نے کے لے 


- سرودرف ش١٦‏ 


زل 
ےک یاکہوں اپنے لن سے میں چا کیو ںکر ہوا 
مو کی خلت میں سے پپہاں شراب زندکی 
گیا ہوں ہیں تو میں ء لان تا کیو ںکر ہوا 


یں تر مرتے ہو ٹیم پہ اے اقپالی تم 
ِل تہارا ان ٹیر زز ر٣‏ شا رن آر جوا 


کلیات پا وا تیشمراتال ۸ دوراڑ لک کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸5ء) 


7۲ صرودرفیۃ بۓ ش۴۹ ا ہخزن مفروری۱۹۰۳ء 
تّ 


و 
67 ناف 

بیاپانوں میں اے ول ببلل ول کی تج کی 
میں جھ پیار انماں سے وی اللہ والے ہیں 

ففضب کے لے ہیس دل کے ہے والے 
یہ بندے مال کے سا ت ھآ پ گیا بک جانے والے ہیں 

تا یں و بتاتے ہیں وہ سپ کو لامکاںل اپنا 
میں معلوم ہے اے دل ء جہاں کے ربے والے ہیں 

پا دی ا سک وکیا سے ساگیا باد بہاری نے 
زان بر گل پر قرشم کے چھالے ہیں 

ین بجچھ اشیاز :تو حر حین نین 
نرالا ولیس سے وستوربھی واں کے نرانے ہیں 


٣2ھ‏ "ھ7 خوں انتا لآ ھی ے 
تڑےا نسوامی اجڑے ہو ےشن کے اا نے ہیں 


کلیات پا ا ےیشعراّال ۲۹ دوراڑ لکا کلام (۱۸۹۳ءتا۱۹۰۸ء) 
دعا دہتا ہوں ء روا بہوں ‏ گل لکرتا ہو ںق مت کا 
راروں ڈتک اظہار جن کے نھالے ہیں 
ال یکون سا بالی سے اس دل کے گلستتاں کا 
نت و کک کے ےن 
نثان ما وکنعاں اے زلفا وہ لے بھ سے 
ئ9 نے چاودل ہن نون اف ا نے ہیں 


خودان کے قش پا کے ہیں ا نمکدوں یں بچھالے ہیں٢‏ 


ھ٠٠‏ پاش عازن اہ ون زنک +14 
۲۔- موفءاقچا لف ےے۱۹ء 
تَّ 


ول 
کا کی کے ما نا زی ےکک 
سو سو امر بنلگ ہے الک اک اپ 
جج ھکو نہ اے بیار سے دیکھا کر ےکوئی 


د ےکر جحل کف کی آپ و بردے مل ہو رے 
اور کہہ گے بگاہ کو ڈعوبڑا لت کول 


- 


کلیات پا وا تیشعراتال ۳ دوراڑ لکا کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸5ء) 
ہونے بھی من کے قضہ ہبجریں توب کہا 
ٍِ‌ٰئ) ۰ و 
ہیں و خروش عشن غام ۸ئ 
دیما نہ ہو ے آ بج تاشا رے کوئیا 
م جاضنے ہیں نھم کے پردے مج کون ہے 
اں یدبوں سے من نہ چچھپایا کر ےکوئی 
کچ ازل بے درو مت نے وی صرا 


کی تن کیک ڑا کن ےکک 


ین ان فان ے ہ ‏ ء شپ اہتاب ہو 

اور ت00 بج ھ کو سنیھالا کر ے کوٹ 
اتال عق نے مرے سب مل دبے کال 

"+9 9 ۶ٰ٤ دتث‎ 


-١‏ پل اخیار لا ہو ر۳۰" ی۱۹۰۳ء 


۳۲ مخنءا ہر ل۱۹۰۳ء 


کلیات بای ےیشعراال ۰ دوراڑ لکا کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸5ء) 


ھزل 
ے کہ ںکیا آ رزوے بے دی جھأکوکہا کک سے 


حباب آسا سر مو ٹفاس باندھا ےگ لکو 

ڈر 2ت" زوتی تا جن ھک وکہاں کک ے 
وی اک شطرے ‏ تب تکھی سے اورشح تک 

مزا مرنے کا یھ بروانت آنی بجال تک ے 
209۰ نی ے روز آزادی 

یرقیر بوستاں ؛ بل ہ خیالی آشیاں بک ے 
نا تاکن نے بون کا ان کی کا 

نظ رآ سامریی وحشت بیس بے تال ی بیہا کک سے 

گل 

نی ما فیک پہلو شعل ٠ی‏ کے ال ہروں 

پڑے رہنا مراگشن میس رم باغیاں تک سے 
.2 سے زندگی مری 

ترکی آ سی بکادی اے ایل ام جا ں تک ے 
زہاں تک عقدة بت خخانہ ہیی کر رو گیا مطلب 

اثر جھ دی جج کی بسن کاری کا کہا ں تک سے 


کلیات پا یا ےضراقال ۳۲ دوراڑ لک کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸5ء) 
کی منت پذر مم زوا ت٠خ‏ سوزاں کا 
بج نائإ لگراز دل ٹیس آ ززادی یکہاں کک ے 
چھلا ا ےگل بھی اس رم کو نے بھی مھا سے 
م۸ 
زی شجخم فرجی کیوں بہار بوعتاں تک سے 
ہرس مد ھت 
او گر میں خلوت سرائۓ لامکاں تک ے١‏ 


پیاتض امجاز ۴۵ ہخزن ءاکذ ر۱۹۰۳ء 
تَّ 


زل 
ے جم یں میں ڈععونرج تھا سماوں میں ء زنییتوں ٹن 

تار بی ہوں لیکن جھ جس بب شیدہ دہکوہر سے 
جحن کپ سک عیاں ےہ اے ایک تیر ےگینوں میں 

ہیں بھی نے شابد دکھہ پاگی سے جھلک تیری 
کل سے پل کر جا ہی صعح رد نشینوں میں 

ہیں اے خر حبت عونت -ٰھ"‌0"ئ2)/ 
جہاں نز ےکی صورت طور اگ ہیں زنیینوں میں٢‏ 


۲- سرودرفز ئل 


۳٣۳‏ دوراؤ لک کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸۳ء) 


نمزل 
تر ےش نک اخجاچابتاہوں 
مرکا جاں !خی ریا چروں سے ابا 
پھلا میں َہانا ا چاہتا ہوں 
بے حجلو؟ سی ے 7- کی 
سنبالو تھے ٠‏ میں گرا چابتا ہوں 
تہ کوٹ کا خاہاں ء تہ حروں کا خُر 
خدا جانے می کیا نہوں ءکیا چابتا ہوں 
رن ون ان ہن ۶ن7 
تم شال خا چاتا ہیں 
مجر ہوں گری ھ پہ برليی بت 
ہرا ہو گیا ہیں ء لا چاتا یں 
7ین ارت 
تڑی رر کم عصلا چابتا ہیں 
بت ما رے 1 گا گی 0 
تل یٹ میں و ہوا چاہتا ہوں 


۳۴ دوراڑ لک کلام ( ۱۸۹۳ء ۱۹۰۸ء) 


ات مان ان دنت رت 
می کا جاب اڑا چاہتا ہوں 
چول کے انال ےم کو ڈھوڑیں 
کہ یش تھی اے دیلنا چاہتا ہوں! 


- کات اقال: ید دا با ش٣‏ اہخزنءجوری۱۹۰۰۷ء 


ہے 


تُ 


0 
کشادہ دس ی گرم جب وہ بے میا زککرے 
اثرغحضب کا دہاۓ فرح میں سے سائی 
کوئی اسے بھی ذرا واقلِ ما کھرے 
جواب بت بے ولا ا ک 
و جو ہز کے دا نکو یاں درا زکرے 


را کن 
یہ وہ ےک ہکعبہ چجدھ نما زککرے 
شعارع فو رکو ناریا جیہاں میں نہ ڈھوڑ 
بی ۹۰ە۹۰ء۷۶ 02و 


کلیات پاقیاےیشعراتّال ‌۳۵ دوراڑ لک کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸5ء) 


یں ہے فرق عبت میں اور خلائی یش 
تر وہ ےک عو دکو ایا زکر ے١‏ 


مرودرفتۃ م۹۴ امئخرنء جون۱۹۰۷ء 
تُ 


نھزل 
خختیا نکرتا ہوں ول پرہغی رس فاٹل ہوں میں 
لے تاالی می یی کم نار لو 717 
بل عالی نظر ہوں ہ ناقتیس کائل نہوں میں 


م نے تا کا و لکوان اف رے شوق جرعشق 
ول ے تا ےتک رہن وی ان ضے دا ہوں مل 


کہہد ہا سے دل تزاء لیلےنییں مگمل ہوں میں 
حخت آزادی کی گٹی شی مری تقلیر ہی 

پچھونک ڈالی اپنیگھتی ٦1ہ‏ کیا زائل ہوں میں 
بس وی ہوں کھ وگیا تھا جن س کا ول سی الست 

اب نہ پپیانونو تم جائو ء وہی بے دل نہوں میں 


کلیات پا وا ےیشعراّال ك۳ دوراڑ لکا کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸5ء) 
ہے عبت اے برق جج ھکو مییرے حاصس لک نلاششل 
شھ پآ کےگ کہ اپنا آپ بھی عاصل ہوں میں 
تم ری ج سک ہام صداۓ ”صن ہوئی 
اس پائی مزر/ع زرشز کا عاصل ہوں میں 
چان ہیں جو ے پٴٛدہ نے اف سوز 


27 7 و 7 ہوں ںا 


- سرودرفن بج ۵۹اہئخن ۱۹۰۳ء 
تَّ 


نھزل 
ےمجنوں نے شپ رھ وڑاء نو حا ھی کچھوڑ رے 
ینان کن یر انت را کا نزولں دکھ 
ب انظار مہدری و می ی بھی گھوڑ رے 
ا اے شراب صشق ٦‏ یہ دن ہیں خمود کے 
ابی اگل کہ خلوت بنا بھی گھوڑ رے؟ 
٢‏ -سمخرن:ی۱۹۰۵ء 


کلیات با قاتشعراتال 7 وو را لک کلام ( ۱۸۹۳ء۲ ۱۹۰۰۸ء) 
مزل 
ے زنگی انا لک اک دم کے سوا جک یکڑیں 
فور نک ہ ران ے ہے یرتا میں کام 
یع سے واشین میں میم سے سوا نج بھی نہیں۱ 


ابتمال یکلام اقبال ض۹۷ 
تَّ 


من 
الہ یق ند پےکوذراسی دہواگی سکھھا رے 
سے ساطلعت جج سکی اشن وکی میس خود وہ کال میس سو رہ سے 
جہاں یش سب بگھ ہے ہ اک علانع فا بجر نک نکیل ے١‏ 


۲- روزگا رنیس جلددوم چک ۳۳ 


مزل 


ے زمانددکھےگا جب مرے ول ےش را ٹ ےکا نک کا 


اڑایاذو ٹل ت ئئ'" ےےشوقی اشک باری 


ہیں بھی نما ز میں نے ءل ہیں سےسیقی وض وکا 


کلیات پا ا ےیشعراتال ۳۸ دوراڑ لک کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸5ء) 
جو اک میر ےج ر کے د یھ بگی نے باوصبا سے کو چھا 
7ك دی ےکگل سے؟ مت پڑہ سے سوزان رٹ کا 
- سروورفتءگش۱۵۹ 


مزل 
اج کان ین نی ین نت ےکن 


جھ لی جزہ بن کر خی متار ٹیل سے 
 - ٦‏ ص2 9 9 0.۰0 


ہہرے پہلو میں دل سے پا کوگی آن: مہ چادو کا 
تڑی صورۓ نظ ال بے اپے ظارے مُںن 


اتارا میں نے نکر رسوم ابلی ظ اہ رک 
لا وہ لطفِ آزادکی ججے تیرے سہارے میں 


نہاں تھا ئ 3 رش تھا بای زھگی ہر 
گر مو ج لقس پشیدہشی ترے نظارے میں٣‏ 


۲- سرودرفتۃ بج ۵۸ ا مخ رن ء۱۹۰۷ء 


- 


کلیات پاقیاےشعراقچال ۳۹ دوراڑ لک کلام ( ۱۸۹۳ء5 ۱۹۰۸ء) 
نمزل 
پوں تو اے بم جہاں !وش تے ہنا سے تڑے 
کی سناوں قصہ بے ج لی نام ہر 
780 میرے ٹرداؤں میتی 
کی یی ا یی و و 
بھی اک میرک جوا نی کی تما یں مس گی 
اےگییم ان کے نہ مل کی ایت سے عبت 
ون سی پاگی ادا تبرے لقاضاؤّں ون ئا 
وق صورت ہو باب نمور 
7 وش ا 


بات اتمازک۷۱ہ یاض ال ١۲١‏ 
ت 


ھزل 
شال ےہ اوت جا مکمرتے یں 


ہوا جہاں کی ے پکاد آفری یکیصی 
کہاں عدم کے ممافر مقا مکرتے ہیں 


کلیات پا ا ےیشعراال ۳۰ دوراڑ لک کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸5ء) 
جب فانہ سے مھ کافر بت کا 
مم بھی سن کے سے رام را مکھرتے ہیں 
نظارہ لا نے کا ا یا ضرحۓے گی کو 
بہار یس اسے آن با مکرتے ہیں 
رن لڑے “یی .- یں شرار 
۰۳ 9ء 
ہا ںکوہوٹی ہے عبرت جمارکی تی سے 
نظام دہر مج ہم پھجھ نے کا مکرتے ہیں 
ثہ فرر ہو عرے اٹٹعا رگ گرا ں گر 
پند ان کو وزیر نظام کرت ہیں! 


دق پیا اغازز ش٢‏ 
ت 


مزل 


ا تا ے بے جا ی کا عام دیدار پار ہوگا 


ہے 


جھنہوں نے ممیریی ز با نگو یاکیکشرستاں دا کا جانا 
مراووول چ ےکر جو یھی تو واں سکوت مزار ہوگا۲ 


۲- سرودرفت ءگ ۱۵۸ 


کلیات پا یا ےضراقال ۳ دوراؤ لک کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸۲ء) 
و 
ے بی رود تھری زی فزی پک ہے 

خوف پچجھ اس کا تڑے فرقت مو ںکونگہیں 

حث رم اوروں کا ای رد ے ء ان کا ری ے 
نی یکن یح ان وا 

لت پٍواز ٤‏ ہنگاے سے چم 7 نول سے 
چھت یت یکل سےکل تی لکہ اے جائن جن ! 

ید کیا ےک شی نالال ہہوں ‏ نے امو سے 
او میں و ٥کیا‏ ا تن ای اے جاب! 

مع پشت مم مراپا ء ‏ سراپا دن ےا 


اس ال گ١١‏ 


و 
ے نالہ سے مل شوریدہ تا ام ائھی 
لوم گل کا سے اک دام نمایاں ء ٹیل 
اس گلتتاں میس ہیں پشیدہ کئی دام اٹھی 


- 


کلیات پا ا ےیشعراتال ۳۳ دوراڑ لک کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸5ء) 
مم وا لژڑےي آزادِي پرواز کی 
بے بی سے سے جم ن بھی ےدام ابھیا 


سرودرفتۃ بج ۵۸ ابخرن مکی ھ۱۹۱ء 
ت 


زل 
کر ےت ان نع کی کر 
دہ پر 
مل سے بک ڈین ویک اندئیل فو پروا کیا ے 
ہے خظطر دید باب کو برجالی گرا 
۲- روزگا رفقیں جلدد بش 7س 
ت 
ھزل 
بھی ا ے تق نف نظ رآ لاس مچاز میں 
کوئی چا کے سم ختہ جا ںکوسناۓے میرا پیام ىہ 
وع ہے دن آ بوڈ اماں سے ملبِ بجاز ٹش 
ےکیابناوں میں شیج موت میں جوم اما 
نہ لا وخ رك وٹھی ٭ وہ نشاط گر رراز ٭ٛش٣‏ 


ا کلیات اتال ءحیدرآہادرک ۹ 


کلیات پا یا ےیشمراتّال ۳۰۳٣‏ ووراؤ لک کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸۲ء) 


لم سے ہیں شن ابنا نہ جن سے جپٹ سکا 
ححوہ ام٠‏ پ سے دل نیس جا با 
کیا و پ شی ین تزونکزانق ان حر نا 
اۓ گل اندد جن دائم ہہ است از ناد 
٠‏ 
موی عدن سے لعل ہوا سے بین ے وور 
ا ناف نزال ہوا سے لن سے وور 


۳٣۴‏ دو را لک کلام ( ۱۸۹۳ء۲ ۱۹۰۸ء) 


ہندوتاں میں ہے ہیں تیر پچھوڑ کر 
شیاں: ےتا جار کان 2 


تُّ 
سو تاب ر کی اے لم کے ات مز 
مم اغار جن 


ذرمطلب سے ا۱٣ت‏ کے صدرف میں یہاں 


8پ ور 0 


تَّ 
-صسیص"* ۰ 09ء" 
جب ش۰لت سے ہ طر نہ اہر گے 


سے جو ہر لظہ گی سس موۓ تلیل 
و تی 


70 82ٹكك‪ٹھ ھئئ"م"' 
بن کے معفراش ہیں بے پر دہبے با ل کیا 


قذڑ اں وت جخا کی کو ا رب جس نے 
روب زا سیر مھ پلال ا 
تَّ 

کو مرے یش ن ظر ا 

7 بے س 


ص۰ 
ےہ 


سے 
0 


دوراڑلکا کلام( ۱۸۹۳ء۲ ۱۹۰۸ء) 


شعر تل ۳۵ 
ے مج بچشال پ اسم کا یا اچال 
کوئی پڑت جھےکتا سے تو شم آلی سے 

ا کے 


کے 


ان باغ جاں فڑا کا سے مل ایر ے 


کات 


کت چا 
بھ سے .۰ مارا وہ ّت - ےا 


دہر گی شان بتا خلا مٍ شس دک 
۵۹٥‏ 'ھ ھ9 
ذڑے ذڑے میں سے اک ”ن کا ضوفان یا 
یی میں لطبف غرا لہ تیر میں دہ 
کٹھیرگ رٹ ت۰۱ ۱۹ء رسا یل شس شی بی ملا نان ء لا ہورہاکتزیر۱۸۹۷ 


سرودرفت ء گل ۲۳۵ 
تَ 


سو و کا 


ول شع عفت شی سے ہو ٹور سرایا 
زوں لا ہے نع کو یی و 


71 


٦ 


کلیات پا یا تیشم اتال ۳۸۷ دورا لکا کلام( ۱۸۹۳ء۱۹۰۸۲ء) 
گی ا پر 
ہر عال میں ہو لق تی پر بجرسا 
ای و0“ تھے الاک کن ے 
بی بات جو عاصل ہو نے یھ پاک کییں سے 
ا۔- مخمرن,جوری۱۹۰۳ء 
رباٹی 
واعط ! ترے فان سے ہوں میں تیراں 
لق ہے یی مان0 
اق امن سن نت نکی 
و کپتا ےت کیا ا ا 


ور زمائب جون ۱۹۰۵ء 


۰ 28 
قارے ہے می سے نام جھ جا مل گیا 
0 و و 


کلیات پا یا یقعراقال ے۳ دورا لک کلام( ۱۸۹۳ء ۱۹۰۸ء) 
عحطدت سے نال 7 0227" اک کو 
خوشید بھی گیا ق وہاں سر سے مل گیا 


حںث ماس اياز ض۹٠‏ 
ت 


و ںا سے ہو ںگو میں آشیاں ریاد دور 

ؤ ان سے میں را رل ناشار وور 
ور کار (الہ و نیش گل آرام ٹمستے 

می را کر ط ی۲راں اار رور٢‏ 


۲ با اعا زگ ۱١‏ 
ت 


آ راف ناز کی میم 
لرنء۹ جون ۱۹۰۸ء 
اس ےک تیر ےآ ستانے ری ںمترقر اون 1ستاں وی 5 برقم 
زی ےکر تریی ‏ وع غبار راہ سے دیتا ہے لیلاۓ ش بکوفو کی چا درقم 
کیاروالن قو مکو سے تھ سے ز بیعت انل طرح شطر گررین رت ا ٹر 
4 ۳ اہک لمت را جراغ طو رگن یی ظالت ناج مارا سرایا و رن٣‏ 


ات سٹو ”نا تال“ ازع نی (اگر زی )ص۰٣‏ 
ات 


کلیات پا وا ےیقعراقال ۳۰۸ دورا لک کلام( ۱۸۹۳ء5 ۱۹۰۸ء) 


کیا ہو و لعب مم آبو پاۓ گا 
ت 


-‫ اون ء اتال نہر ےب ۲۵٦‏ 
بنا ومیت 
نز ٹیس نہیں نے تج ھکو بن س ےکیا ام 
ت پاش میں تو راٹرن سے کیا کام 
لم یی بناے ثومیت ۓ اسلام 
مسلم سے اگر نو نے وشن سےکیا کام۲ 


 -۲‏ روراران۱۹۱۲ءءصوئ ء۱۹۱۲ء 


ریز سے سرودر سے مرے سحوت ام 
7 رت 


- 


کلیات پا وا یقعراقال ۳۹ وورا لک کلام( ۱۸۹۳ء ۱۹۰۸ء) 


اناں کی نے جو ام وو زوا کی ہے جو 
خوابیدہ ہیں جم ٠‏ اذاں گی ضرا ے ڑا 
بات اقپال اڑل مک۹۸ 


تُ 


مم 


لط و 
عم شی کعاں سے اے خوگر زنراں تو 
فی ین یح پان ا نے 
چاے ة بدل ڈالے بت چنتاں کی 
و ای ا ےک ا نا ےا 


مشمولشادا تال یز رہ مم ۱۹۱۳ء 


تُ 


ھ 


لط و 
اے جحاب تھرء ااے پروردہ دامای ٣ن‏ 


مل کی شم یش نی جس مم اگیم 
طور ہر ڈڑے کے واشصن میں نظ رآیا جے 


-7 


کلیات پا وا یقعراقال ۳۰٣‏ دورا لک کلام( ۱۸۹۳ء ۱۹۰۸ء) 


مودت بے میرک نہیں ء میری اچ ل کی موت سے 
کیوں ڈروں اس س ےک ھکر پچ یں مرنا بے ا 


کلیات اقپال ءحید رآ پادی ش٣٢‏ 
تّ 


برا ۓ مشا عمرہ زم اردوہ آا بہور(ے٢جفری‏ ے۱۹۱ء) 


یی ون ےن لو ور 

جو اس گن سا میں بلند آاں ر 
نی آرزو ے نال حات 

چک ٠‏ اب سے ج تنا جاں رے 
کچھ اور گے نڑیں سے وبی زندگی سے موت 

شس زعدگی میں کاو سد و زیاں رے؟ 


پاش اتماز بھی ہے ہخنءفروریے۱۹۱ء 


٦ 
مکافا تل‎ 
ا ا نی‎ 
دہر میں من کا جواب سے شس‎ 


شر نے اتانب اتا سے 


انثظام غزال و شنر و مل 


ایایقعراقال ۳۲ دوراڑ لکا کلام ( ۱۸۹۳ءا ۱۹۰۸ء) 


مر گزخعتں جہاں کا خر خی 
کیہ گیا سے کوئی کو انرییل 
2 پروانہ را بوخت ہے 
زور ہہاں شور بروشن خی 
رئش بش ۹ء نظام لا ہور فروری ۱۹۱۹ء 
تَّ 
جلیااوالہ با اتہر 
ا ان رک ےق رف ات 
اعل نہ رہ چان نزو کی چال ے 
ینا گیا سے خون خبیراں ے اس ۷ گٔ 
تو ہڑووں کم گل رکر سس ال ے؛ 


واورا الم ضش ۲۹۳ 
تَّ 


ربا 


نون کی و کر ا کے 


جج تن ین ری سے 


0 


و ون کے 


0 


بیاعوم ض۱۳ 


۳۲۳۳ 


دو را لک کلام( ۱۸۹۳ء۲ ۱۹۰۸ء) 


کلیات پا یاےغاقال سس دوردومکا کلام (۱۹۰۹ءت۱۹۲۳) 


دورِرو مکا گلام 
(۱۹۰۹ء)۱۹۲۳) 


ہ5 درا کی اش مج تکتک 


عھمل من یریٹیں 

تنلموں کے ہجزوی متروکات 

3چ مل مرک یفزیں 

سھ نم زکوں کے جز وی متروکات 
خظرنادقطعات 

پل خظرینانہقطحعات کے جز وی متروکیات 
ىے فطحات/ر باعیات 


۳ 


دوردومکا کلام (۱۹۰۹ء۱۹۲۳) 


کلیات پا یاےغاقال |۳۲ دورد مکا کلام (۱۹۰۹ءت۱۹۲۳) 


مھ ل من روٴیشمیں 
:- 


قد سی سے اسےمم بر جا زین ہام عروج 
تی برکت سے ہوا آفاقی میں نام ع روح 
رہخماۓ منزگل متقصید سے تو سب کے سے 
ےمج سے برمیے اب کے سے 
تیرے می زیر قم سے فسرو ی کی اضری 
دہ یں قائم ہے تیرے دم سے شان تیصری 
تک پاہنی سے پچنچے آدی افلاک پہ 
ت ‏ ےے کسی ےم و پا کر 
کی 1 سانش مم ٹن خابیاں تجھ سے لے 
عالم فانی یں عم جاوداں تھے سے لے 


رم سے ت کی اجعجاد ےآ فاتی میں 


جم 


-7 


کلیات پا یاےغاقال ۳۲ دورد مکا کلام (۱۹۰۹ءت۱۹۲۳) 
تیرے رج لو ےکی ہرم یاد ےآ فائی میں 
خی بی ء شوکت وحشمت تا انعام سے 
تیرااک نام سے یاں اتال جن سک نام سے 
اپ عالم کے لے نو موس وم خوار سے 
تیرا ہی مکت سے یاں ہرا ک کا بیڑاپارے 
تیرا دائن جس نے تماما دہ کان لگ میا 
مرکا پالی مس بنہاں ہیں رموز ”اف“ 
قد ہے اک شان بداللہ لق کے ہرکام یں 
ونضرت ہے تر برکات سے ہراتام میں 
جھ ڑے پا معا نی کی ہوا کھاتا نیں 
اغ عالم میں بھی نش و نا پاتا نہیں 
اے برا جزم سی فطل آ1 راۓ جہاں 
ھ سے رشن سے بیائصس ت کون و مکاں 
ہے ال ت تج برا راو ضیققت کے لیے 


اتا نیک و بد ترے سوا تو ین 


++ 


۳۲٣‏ دوررومکا کلام (۱۹۰۹ءا۱۹۲۳) 


تھھ ےلم سے جہاں بس رشن دنا ودیی 
وانقان عی کو و ے رید عین ال 
عاشیہ بمدار ہیں خیرے جہاں میں پ رکئیں 
تُھ سے ام سے جہاں یل عزت دشمائن بھر 
و ور سے کہ سے جس کا بہت میٹھ ٹم 
قڑ ےکا ن نل و داش مخز ن حعمت سے 
زیشت انال ےلوءز اور ےفوءعزات ےک 
پایے نا گی ود ء نزنیت افزاۓ گن 
ڈڑےء تھ سے می فزوں سے روتی ہراجھن 
فی اتقیقت و انساں کا تق اک استاد ے 
ىّ و ے تر لت ے با لآبادے 
ہرک شدرشیراۓ ثردت ء عائل وفرزاد شر 


7 ازم 22ے جاں داد شر' 


ْ اوارال ض٣۰‏ 


:1 


کلیات پا یاےغاقال ۳۲۷۰۸ دوردومکاکلام (۱۹۰۹ءت۱۹۲۳) 
گر چ قدرت نے بے اوہ دل پیا گیا 
2 وو نی کہ سے نظارہ آشام بہار 
مم کر سوۓ گلستاں کیا زوتی نظر 
٦‏ 9 ۶ئ" 
ای نل ےناکپ رپا 
بی بیل سے مقصددجشم اجظار 

7 
کا و ری ناب سے 
9ٍ٢‏ ٭ 
کس سے کے راز اپنا لالہ ہاۓے شعلہ نل 
5 > رت درو ول اپ عنادل آ شوار 
ہ گیا غاب کہاں اپنے من کا رازدار 
ول فرقت میں تر ی سوزن پہپچرا جن رہے 
دیرہ ری ین تھا تن گلستاں ار زار 


یت فو نزک کیہ کے بہلاثی شی ش 


سے میں پیتیرہ دہ واراع من بہار 


کبیات با تیا ےحراقال ۲۲۹ دوردومکا لام (۱۹۰۹ءا۱۹۳۳) 
7ت کی رو 7 کا ما را 
نے گیا جج ھک وکہاں تا دکي بے اخقیار 
924 کاہ ےی را دای مل 
تی ہشیت اک ن ےگس دیس یس پایا قرار 
کیا کہوں اس بوستان غیرت فردویں کی 
ٹس کے پچھولوں میس ہوا سے چم فوا می اگمز ار 
نس کے ذڑے مر عالم جا بکوسامانع ور 
0 طور اڈروزلوں پ دبة ہو ار 


جس کے بلبل عنرکیب عق لکل کے پ صنیر 
2 22 کے لیے رضما جو رآ ئن دار 


خظ جنت ء فضا ن سکیا ہے دا نکی ول 
عظیے مبيے ہنریتاں کا پانگار 


ومحت عم یع یاہا ور اون وقار 


ور ےڑول ے ثررت ےنا فی بن 


آئنہ لے دک ن کی خاک اگ پا فغار 


کلیات پا یاےشراقال ٣۰‏ دوردومکا کلام (۱۹۰۹ءت۱۹۲۳) 
آُستانے پر وزارت کے ہوا مرا گزر 
بڑ گیا شس سے ھرا ملک صن میں اعتبار 


اں نر رج نے بنایا ان ںکو عا ی متبت 
آ سال ا آ سان ےکی سے اک مو غبار 


۸ 


1 دز شاو ہے وہ رت امرا ی می 
ریغ کے ام مرک رفعت پہ ہو 


َ" 
۰ 
”(اء 


منر آراۓے وزارت راج 
٢‏ ً0۸ 
ا سکی نقرییوں سے گی گلستان شاعری 
اس کی تخرروں پ قشم ممللت کا اخار 
بی می کا مل ء ا سک خر دل پڑے 
ٹم ا س کی ء شاب راز ازل گی پردہ دار 
بح رکوہ رآفرسں وست گرم سے شرسار 


عاسلہ اس کی مرذت کا بوٹی لا انا 
جس رع ساصل سے مارک گر نایدا کنار 


کلیات پا یاےغاقال ۳٣۱‏ دورد مکا کلام (۱۹۰۹ءت۱۹۲۳) 
ول رہا اس کا نگم ہغحلق بس کا عط گل 
مھ دل کے سے موچ ٹس باد بہار 
ہو خطا کاری کا ڈر الیے مت کو کہاں 
ص2 ور کی نز ہو آمّد رار 
سے یہاں شا امارت ء پٛدہ دار شان نثر 
خ3 بتک ک ے ژپ نایفس راز 
اکماری چجہر موی نی 
وت وقتف رف مال ی و ول مروف ار 
وہ ا سکی عنابیت نے مرے دل کیا 
مو کر سا کن و مور روزگار 
کییوں نہ ہوء اس شا ہکوز پیا ے الیبابی ون 
ذات ہو جس کی شنشاپان عا م کا وقار 
شکرہ اصاں کا اے اقبال ازم تھا بے 
مصح بیرائی امیروں کی خجیں مرا شعار 

ت۱ بیائ ال جس ۳۹ء بیاض ا جا زرش ۲٢۷‏ 

:گار ماچجرار 


(یادگارشاحی در ہارتا جیوش برا می یسپ ٹی جار ج جم ہمقام دی ) 


کلیات پا یاےشاقال ۲٣م‏ دوردی ما کلام (۱۹۰۹ءت۱۹۲۳) 


هاۓ او سعادت ہو آشار اتا 

کہ جات پل ھا آي اجدار انا 

ای کے سے سے عزت ہعا راقو موں میں 

سی کے نام سے انم سے اعقبار اپنا 

ای ے بر وا ہٹرلوں نے پاندعا ے 

ای ےا لن پھر سے ول غُار اپنا' 
مرن مو ری۱۹۱۲ء 


تُ 


٠۰ 


لع 
ثا: عشق کی دکھ لتق سے بر میم کو اٹھا کر 
دہ جزم بیٹرب میس آ کےٹٹٹھییں ہار منہکو چچھیا چھ اکر 
جوتیرےکو ہے کے اکنو لک فضاۓ جمنت بیس دل تہ لا 
تیاں دے ری میں جور یں خوشامروں سے ہنا من اکر 
بہار بش تک وا خی یئ لیے ے آ٦‏ رغواں 
نار مشئل سے اس کو الا بڑے بہائے بنا بنا کر 


ید ٹیش سوتے ہیں ترے شیدا نو حور جن تکواس می ںکیاے 
کہ شو یش رک و گنی سے ء خی میں کیا سکھا سکھا کر 


کبیات با تیا حراقال ٣۳م‏ دوردومکا کلام (۱۹۰۹ء۱۹۳۳) 
زی جدائی میں ناک ہونا اث دکھاتا سے کیمیا کا 
دیاد یخب میں جا ہی پیج ء صباکی موجوں می مل مل اکر 
٠ 7 1. + :‏ 
شھیرصشن خی کے مرنے میس پگ نبھی ہیں سوطرح کے 
ای لک یک ہے زندہ ہانی ء جارے عرنے یہ زہ رک ھاکم 
بھی ہوئ یکا م1 ی جانی ےجنس عصیاں جیب سے سے 
تڑے شا گوعروِ رجحعت سے پیٹ کرت ہیں رو زگحثر 
کہ ا ںکو چیہ لگا لیا سے گناہ اپنے دکھا دکھا گر 
کر ےلوٹ یکیا اکن 0 پردوں یں ھی شفاعت 
ر کے ہم ن گناہ این تر ےحضب سے چچھیا پچ اکر 
تا دتے ہیں اے صبا ہم ہےگلستان عر بک و ہے 
مر راب ء ہاتھھ لا ادعرکوء وہیں سے لاکی سے تو اڑاکر 
تر گی جدائی شیل مرنے وانے فا کے میروں سے مخ ہیں 
اع لکی ہم نے بی اڈڑاگئی ء اسےبھی مارا وکا تھکا کر 


شی بھی ھکل ری ے, جب یحش میں توق سے 
کہیں شفاعت نہ نل ےگئی ہو ری کنا بعل ان اکر 


کلیات پا یاےغاقال ۴م دورد مکا کلام (۱۹۰۹ءت۱۹۲۳) 
اڑا کے لاگ سے اے صا تے ج ہی زلبِ عتی ری یکی 
ا ا ر۴ 
ہم دہ داری لو ور ےگر شفماععت کا آ سر نے 
دیک کےگترمیس بیٹھ جانا ہول داصن تر یں منہ پچ اکر 
: جم ۶ ٣‏ گے ٭ جھ 
شمی عش نی ہیں ء میری مد پک قمر ج ےکی 
اھ کے لانعین گے خودفر مت راغ ء خ شی ےج اکر 
جے حبت کا ددد کے ہیں ء ما زندگی سے مج ےکو 
ببدرددد ےک مل ےسا ہے دل میس ا کو پچھہا اکر 
خال رام عرعم ے اّال غرے در پر ہوا کے اس 
یل میں زاوکل یں سے صلہ مری نعت کا عطا کر 


پیا اتما زج ۲ امسردورفۃ ش۷٦٠٦‏ 


ین یی او روہ 
اس نوا کو ا نواۓ برا عا لم بجھ 
یئ سے دردمندو لکی می دو چار اشک 
خوا, مویہ خوا, بج حشق کی نم سے 


-7 


کلیات پا یاےغاقال ٢٢٣‏ دوردومکا کلام (۱۹۰۹ء۱۹۲۳) 
ددد کے پانی سے سے س سنزب ہککشت تن 
فطرت شاعم کے نے میں جوہ رگم بجھ 
و سے می کیوں کو ا حم بجھ 
ول کو مجن ماع غدمت نہیں اضردی 
اس میں مو جح ابر ز'دالیٰ غاتم مبجھ 
ہے ترے سے را رآبادء نتر مری 
واسٹے تیرے طبیعت سے مین و 7۶یا 
گلستاں ب نکر ھک اٹھھا دی پڑخوں م۱ 
نے سرور آ موز بل نال موزڑوں ھرا 
ہو گی پان بنا بادہ گلگوں مر 
0ھ الشت سے سے مار رگ جا ںلفہ یز 
نی جیرے حر سے پیوا ہوا انسوں مر 


میرے فظارے میں پیدا ہوگیا انراز و 
ایر تی ھیرىی زی سے اور بی گردول مرا 


کلیات پا یاےشاقال اسم دورد مکا کلام (۱۹۰۹ءت۱۹۲۳) 
سے تری مقت طلب میرک بہار شاعری 
سر 
جازوز ا سا وت می گل مضموں تر 
کی مان درز ھروئی سے بات سےکمال 
بجر لیے سے ہوا آآوارہ تر میں مرا 
سے ترے مو رن ی ےمفل افروزی مری 
تج ے ٹُرمیں رقدل ےتیک رسوزی ریا 


پیا الی گ۵۹ 


ات 
قر نیل 
ا 4 ہویدا ہوئی انی جج 
ہووۓ و 3 ران 2 
پیک 7 ھھھھھ۳۲۷""ئئ۰2)ً 2 
گیا سور ور کو پڑھ کے ٹم 
بر پڑھتا تھا شتے ۶ب کا 2- 
سیب ان سے لاح آایس تھ“ 
ور مک 
بی اپے مل میں للاے شب 


کلیات پا یا ےش اقال ۳٣‏ دوردو ما کلام (۱۹۰۹ءت۱۹۲۳) 


سارے سے .ء اوں ےی 
زیں سے فل یر ہوۓے گی 
کت سے نم سے پھولوں کے جام 
شال سیں تا ہوا کا نام 
سہالی سے کیی حر کی گڑی 
عھر سے جا گی ا کی گڑی 
وہممای مل غدا 
7 م ورخثاں کہ وقت نال 
بکھائی می ری کم جال 
وو ہت ان کہ ن ھا بت شم گن 
2 
ناں آثثخاۓ ہرور یز 
دم وی 4 مان دراز 


وه رضار ء وہ ى ری کم ور 


کلیات پا یاےشاقال ۳۲۸ دورد مکا کلام (۱۹۰۹ءت۱۹۲۳) 


گت 2 7 ہو سرمم مم طور 
خی ے پیا بت کا حز 
ہوئی جس ے حر عم فروز 
ہوا جس سے شعلوں میں پرا گن 


نورری 


ج سے خلت وہر اور وہر تھی 
جھ ے ہر اور تھر کی بر بھی 
جن یع اک کی یا نا 
نہاں ہو کے پدوں میں پیدا را 
+٦‏ ھ۹"/ 
وک وی وت 
وا شحم بے سا مین کر عیاں 
فیا سے خاک عب ‏ میں 
سا نہ ج وںم و اوراک میں 
ورخثاں ہوا اي ”نول“ میں 


کلیات پا یاےغاقال ۳۳ دورد مکا کلام (۱۹۰۹ءت۱۹۲۳) 
یں اں سے آباما × سی 
کہیں - کرت ے چم او 
کہیں حر او وعظ 1 
7- 7 رو 7 
یا کت ا ال 
جلایا کہییں اں نے بب بال 
کوڈو ٹکٹ 
یں کو اراں پہ دھار عام 
سی سے تھا رشن مق شیل 
بی کی ہیں شی حجی خیل 


ٌَ پیدرا “گآ شار 


تُ 


نع وو مم آ سان رضا 
ر۲ 7- 8ت و زکر غر 
نر کو اٹھاۓ سے آ ہناں 
ہوا اپنے نے کی چاب یاں 


کلیات پا یا ےش اقال ۳'٣‏ دورد مکا کلام (۱۹۰۹ءت۱۹۲۳) 


بر تا تھا اے خلقق ہر و اہ 


رۓے 
ڑے صن کی آگھ طالب رے 
یت اق ون یا ا تج 
فا ام پ ترے ہر کریں 
رو مل اماں سے کروں 
کون کور تب وو از 
زم ہو تڑی راہ میں اسوار 


زا کت ون ات الین 
ذ سط0 


کلیات با یا ےخ۴عراال ۳۴ دوردومکاگزام (۱۹۰۹ءا۱۹۳۴) 


با ال ٥ء‏ 
0 


عم نان 


منظور ایت کا الا گے ڑب ےچ 
شوتی ھری ای ےک ود آدب سے 


0 

ژر ایا سے افال کو اصنام چن کا 
گھشن میں سے ہوۓ وامان طلب سے 
کے ود سے نہ ولیش نو خدا ہوتا سے ناخیل 
جچد سے سوئے یر چگریزاں سے ول اپنا 
شاب نف کی عبت کا جب سے 
ول صصورت آئئہ مصقا بہوں و کیا خوب 
لاہور کی تی کو ہے پقام علب سے 


پغام کا مم وم و آہاں ےتا 
پر ا ںکوملمان نہ جھییں تو غضب سے 


کلیات باقیا تشم راقال رت دوردومکاکلام (۱۹۰۹ء۱۹۲۳) 
دکھلا بھی دبے آکگ ھکو ببرپ کے قراتھے 
کم جن تکو بل ربھی جو مل عرب ہے 
اس فقر سے ہو خر تہ اسلا مک و کیو ں کر 
يہ فثر دی ٹر شبنغاو عرب سے 
اس ینم می الد کی ہت کرو اتال 
یھ لیک کا عجکسہ ہے ١‏ یہ اسلا مکمب ے' 


۲ یا اتال (مفتراوراق) 
چ‌ 


عم نان 


کہا یہ ایک مرے عبریاں ن کل جھ سے 
ا گے ہس خالات ہر ملماں کے 
غضب کیا سے زمیندار کے ایٹریٹر نے 
سکھا ۓ قطر ےکوانداز اس نے طوفاں کے 
کمال گو اسے لیڈ رگری مس سے من 
شاب پیے میں لیڈد طف ری ناں کے 
نع نیس ات کیا * آ پکو شکای کیا 
ئھ22۶ 


- 


کلیات با وا ےخ۴عراتال ۴۴م دوردومکاگزام (۱۹۰۹ءا۱۹۳۳) 
شمار ان کا وی خر ھیاز مات ے 
اں کے تچ یں پچ ہیں عبدہ پیاں کے 
نشائن حجدہ سے ےک (ہجیب] ا نکی جیں 
گواہ ہیں سے کال سشت اناں کے 
فروںج ے نے ین رہ آشا ان کا 
دلوں میں رسکتے ہیں رشن جچ راغ ایھاں کے 
بن کے لونے ھرے ہبرہاں جاک اللد 


--‫ اض روم ش٣٣‏ 


عم ےج نوان 
ضا اتا ے ء لن کنقن نین ہوتا 
ڑراروں دوست ہیں ء پر اس رح سے چیتا ہیں 
ہاں میں یے کوئی شیا تن ہوتا 
نماز بڑھتا ہوں اور ے نماز ہوں اثّال 
و رخ 7 ہےکہ ھ سے ادا یں ہوت' 


- یا ض۳۰م۱۹۰ 


۳'۴ دوررومکا کلام (۱۹۰۹ءا۱۹۲۳) 


ہر ذات کا بی شی ہیں پٛەہٗ وفات 
ڈرنے کے مشیں ثدرت مس محکنات 
وم ہو ۓے توامر ریپ ساللات 
لے تہ کیا نہ رے ٹپ مر مات 
گردوں سٹ کے نعل“ موہوم ہو گیا 
موچور 7 آن ین معروم ہو گ٢‏ 


ت 


کپرالر و زہ)ر 


میراں میں جانان ازی ہٍں صعف آرا 


تح میا مک 


۳۵ دوررومکا کلام (۱۹۰۹ءا۱۹۲۳) 


ہے ٭ 5 02 
ہے اے ز ول ات جیا٠‏ ذرضٹث 


ھا ےو نے بج کو( کارواں میں مست 


بے نک بعر سے بہملما نکی شان سے 


میداں مل آے اور ڈرے ا مان ے 


دنا میں ا سکی ہش فسو ںگرکی دھاک ے 
ہر شاہرادہ اس کے لے سبنہ جاک ے١‏ 


٢۹ 


عم نان 


ہیں مود سے ہوا خسن بہار بے اب 


کلیاتپایاےغاقال ۴۷" دورد مکا کلام (۱۹۰۹ءت۱۹۲۳) 


انے جن سے با یش کلیوں کےکیس میں نوم 
کرپی سے سر بوستاں من کے مم ماہتاب 
حاپ رے برق رے ئن تام رہ 
ڈولی ہوٹی سے 1ب میں آتشل سن رہاب 
جام بیف ےگل ہ اگر ہ نیہ سو بدول سے 
2 بہار مین گیا سے کدۃ شراپ ناب 
واہہے“ ہوا کو ے کش مری میں کیا کال 
موچ شکعہ سے کیا ساز ممارت ججاب 


باضاڈل ض۹٠۱‏ 
ٌ‌ 


ب 
٭ مہ 
مم 


رہطا 

ور جک 
ہے نم خر اللتاں تے سد ہم 
آوات 75 میں نہاں صر علق دام پا 
جا چوہر انبا ال“ کی دتااے صرا 
زب دتا ے گر کے ھے شور کشا 


-7 


کلیات پا یاےغاقال ى۳ ووررومکا کلام (۱۹۰۹ءت۱۹۲۳) 
ات ین ای ! وت کا ہاماں کے و 
2 سوداے یدرو کے واجۓ ورہاں ے ل 
تی ججزی کی سے ماحان انشس کو شر 
پ9 بسصسص-' ٰ گ۳۶۲ وت 
جب پائی بنا پہ جی جم چوس رک نظر 
ہن میدالی وا ٣ٰ‏ ے جا 2 و سا 
صورت خورغیر اور آئشل سوزاں سے تو 
برق صورت اوج اختقلال پر ختراں ے لو 
بیں تی ےک گیا موت کا ارماں سے و 

فط خرن عرداوت ے گہر افقاں ےر 

۶ “1 ضٌٍ و ام رج 


ہر پک ری دلل آمد صد یر ے 


ٴ 


7ات مات افرایتہ کا ہر ذڑہ بھی 
کا ور وہ رر 


-7 


کلیات با تیا خر اتال ۳٢۰۸‏ دوردومکا کلام (۱۹۰۹ء)۱۹۲۳) 
رن نع وی تی ضورت اق 
57 تپ ھھہ' تا گئی 
دیڑہ 7 7 بر آٹارا ے ۶ 
مر شور قیامت الع جار ے 7ر 
فذح اعدا کی ہوا ہو کر پرییاں ہو گی 
عرکی صورت بے تھطٹ گریاں ہو گئی 
اق ہلال آسا ررخثاں 2 
ام بھی انی شال کی خنداں ہو گی 
زی آرام اعدا کو چلا گر پھوڑ 
رکا حر بنا کر مجھوڑن 
شاپر مقصد کے جوین پر ابھار نے کو سے 
حیش جان رقیباں پہ غبار آنے کو ہے 


ات عل یمر شور* ویار ات کو نے 
یہ رح سے لگ ار بہار آنے کو سے 


خور کور ماں چان نا مار اخ 
دی اجچلت سے خونی سے نی ری اقاد پہ 


کلیات پا یا ےش اقال ۳۴۴ دورد مکا کلام (۱۹۰۹ءت۱۹۲۳) 
وو لے 
تیر صر ج صر شراب وت کا با نے 
تیر ربعہ جن ىاو فو سے پلاۃ رے 
07 کے زروی ور را رضار در ردے 
خم رسے دی نک یگرون تم 00800 
اور ر یں را ھا اک 
واسلے تیرے نے ہر سن ر٥‏ ء سن فیاں 
خون ہر شن کا رک موچ سِل رواں 
روا آساں ہوں ںو نضرت کے نشاں 
دے 2 ۳ صرا ہر یل ہٹروستاںل 
9 9+" 
نام الکتان کا پالا از الاک ہو 

ا- پوشنلوناپارٹ 

نمی مل 

کے ۲۷١٢٥٢٥‏ مدان جنگ 


٣سم8‏ پاش اياز ش۲۲۵٢‏ 
ات 


بنا بکاجواب 


کلیات پا یاےشمراقال ۳٥۵٣‏ دوردو ما کلام (۱۹۰۹ءت۱۹۲۳) 


الے تاجدرار جنت ان ہثر 


کِلیوں ے 7 یا اوران ہر 


۶ سر قول‎ 9 9٢ 
2 نر و ثول‎ ٦1 ہل وا‎ 
عموار بی وہر میں فظار ٹروپ‎ 
9 ا ا ا مر ا اون‎ 
رای ری ساہ کم سرای ففر‎ 
آزادہء پر کشادہء گا زادو ء مم پر‎ 
نویت کے تی ان کا ام یج‎ 
ذڑے کا آ اب سے ؛وئیا مقام سے‎ 


تُ 


آزادٔي نہان 7 سے 
٠ ٤ ٦‏ یہاں 


ہپ کاروپار ا ے گر کہاں 


-7 


کلیات پا ےش اقال ۳۵ دورد مکا کلام (۱۹۰۹ءت۱۹۲۳) 
تر یش جاب ہء نے میں نم ہے اگر یہاں 
آیادی 0ا2 دم 2 کے ہر 
وفت ٢‏ گیا کہ گرم ہو میدان کار زار 
باب سے خطب پنام خر یر 
اط بنا ہے مر ہاں ہیں آخار 
کور و ساە سے پہماے روز گار 
جار کا زر ہو اور سپانی کا زور ہو 
غالب جہاں میں سطلوت شی کا زور ہو 

تَّ 
کے اع نع نے سیڑوں ہنکامہ “نجرد 
صریں ہا ہیں میں ائی واوگی کا رہ ٹورد 
طفل صنر بھی مرے جگاہ میں ہیں عرد 
ہودتے ہیں اع کے سام شیروں کے رک زرد 
میں خل ہوں وفا کا ء عبت سے یل م۱ 
اس قول پر سے شابد عادلی ء ض٠ل‏ م۱ 


ہندیتاں کی بن سے قاب بشثت ہاب 


کلیات باقیا تشم راقال ۲ دوردومکاکلام (۱۹۰۹ء۱۹۲۳) 
ان لال یا جھرمتان رق ات 
الک جا ناک گر باک٠‏ بے تاب 
ول بد ء اریمند حر خند ء حم باب 
ےہ ىػٍ دل 3 پام ہو 


ئن کا سر ہو اور نہ سوداۓ خام ہو 
ت 


اب وفا کا کام سے دنا میں سوز و ساز 
بے فور سے وہ تح جو ہوئٹی میں گداز 
ہدے مس موت کے سے نہاں زندکی کا راز 
مرا تق کک نے .یی از 


اغلائش بے غش سے ء صداقت بھی بے خوش 
خدمتگھی بے خوش سے ء اطاعح تبھی بے نو 
عجر وفا و پر و نت بھی ے 7 
یی سے عقیرت بھی نے خوص 


کات پا قیاتیشعرا تال تع دک 4 ۷ 97ا) 
جن خال نت اناں ضیر ے 
پنرھتاں پے لف فنایاں شرور ہے 
ات 
جب تک جن کی جو6 گل پ4 اساں ے 
ہت لف و الا ان نان مت 
کر کر عناول کو راں سے 
جب کک کی کو قط) شجخم کی بیاں سے 
قام رے وی آئیںرببسی طرئ 
دنا رے پور سے شاہیں بی طرئ 


- - بایاتابال ض٢۰‏ 
ه‌ 


خویثوں سے ہو ان لیشہ نہ ئُہروں سے خطر ہو 
احاب سے گلا ہو نہ اعدا سے طزر ہو 


رشن مرے سے میں مت کا شر ہو 


ول وف سے آزاد ہو ء سے پاک اظر ہو 


کلیات پا یاےشراقال ۳۵۴ دوردی ما کلام (۱۹۰۹ءت۱۹۲۳) 
پہلو میں ھرے دل ہو نے 5آشام محبت 
نے ہو ھرے واسے پغام جت' 


بے التر وو یر سوک ے ابنر۹اہمشمولہروزگارنقیرءجلردوم بش ۳۱۸ 
تّ 


معراع 

7 9 شیج 
ہر دو جہاں مں ذرٍ جیب خغدا ے ] 
0270( زہان جو و سے 


سرینی حغلیٗ سے کا عقدة حیات 
زجج تی نینج ور غضا ے آت 


نت 
یت 


تو بین میں ثموت سے اس جذب وشوقی کا 
ہر یہ وکر و گر میں ور بتا ے آ 


5غ جات ویو یل کی خرن 
الفت میں از من وو ا ے آ 
اک جحست می میں سے ہیں دو عا ‏ مکی وستیں 
اور رشیث زان و ماع ری یا نے آت 
طائر جریم فیس کے سب لفاغ میں 
روں الاشی بھی شوق میں بدحت سرا ےآ 


کلیات پا یاےشمراقال ۵۵ دوردومکا کلام (۱۹۰۹ءت۱۹۳۴) 
جن رع ھا اع فان کا 
ہر بی وہ گر سے ور کھلا ے آج 
حجریں خول آمید پاریں بشت مں 
از فرش جا پہ عشی صدا مجا ے آ 
بے رات وہ نے ین کرے شک دن کا لور 
عابہ ہر ایک سای بالیي ما ے آث 
صعن می میس قلہ نما سے ہوں بے یاز 

چ‌ 
اقال آ کہ پھر ای چوکیٹ پہ جک پڑیں 
آ وش مت اس کی سو وا ےآ 


7-٦ 


ٌ پا قیات ا تال أ۷ے٢۲‏ 


نو انسا ںکیا بت 


وع انما ںکی محبت مس سے نہب کا کال 
اغیاز کاسہ 2 ومن شع ین 


-7 


کلیات پا یاےغاقال ۳0۹ دورد مکا کلام (۱۹۰۹ءت۱۹۲۳) 
زاک اگر نا پا کگھ تچھونے سے ہو جا نکیا 
7 080 7 
اک سے ج جن دہ آب وک نی میں نہیں 
3 رھت 7ے چالی درد منر 
ا ات ما کن نع ین نان 
باد سے تجح دک وکہ نو کیل کر ا 
ج فا شالت جن بھی جھرے وانع می کین 
و ہمآرامۓ ء شرف“ ولس سے ہو جا ۓگداز 
آج کی کے ساقان ساعریی شن میں میں 
مرش ص ہا وصا لي سافر و نا سے سے 


ٴ 


پاضلاؤاز۵ے 
تُ 


جراممان 
م ۰ل پہ عیاں ج ہر ایمال کر دے 


دے ك 2 0 ؛ مر درخشا ں کر درے 


ور پھر ا سے مس لم کی جہاں پائی کا 
بر کفر کو دنا میں پریٹاں کر دے 


-7 


کلیات پا یا یشمراقال ے۵٣‏ دوررومکا کلام (۱۹۰۹ءا۱۹۲۳) 
عام کی خخقل نے یاں وبم ومماں کی ظ ارت 
3ء انیاانع کو ین نشین فروڑآان کر ہے 
سے محبت میں وہ قذ تکہ بے سن ک بھی موم 
صن اخلاقیق سے ناف کو ملاں کر درے 
ڈڑے ڈڑے کو بنا وسنت مرا کا اس 
جوشل نوحید سے ہر قطر ےکو طوفا ں کر دے 
7 ٹل ری اق تودی سے زاثل 
اس کی پشیدہ غدائی کر نمیاں /ر دے 
عبز حاضر ہے جئم ق ماں ہے یل 
ور ایقان ہے اکن او مانغان آز ھت 
غوف شش رکیوں ہو اگر ٹر ے مت تا 
وی و ا نے 

تَّ 
دلی کو مالیں 'زسرقت خ نظ اقال 
مغ ارد وکو پھر اپنے غمزل خوا ں کر دے 


- ایت اتال ۲٢٢‏ 
تّ 


کلیات پا یاےشراقال ۳۸ دورد مکا کلام (۱۹۰۹ءت۱۹۲۳) 


تی مت کا یہاں آپ ىی ار 


ہو ھت لے 
ے لو 


مردن کفر پر چلتیق ہوئی توار 
ےت نت 


وس ثررت کا بثاہا ہوا شہ کار ے سے لو 
ڈڑے ذڈڑے میں ما سے تری گبیروں سے 
ظاڑےے وہر میں اک ملح اور ے ت 
ہو لییں مردہ تو ستک تچھ سے سے ہر سو پار 
ہو میں زعدہ ‏ پھر حور کراڑ ے ٴ 
بت بیکبہ ء تم بی نے تومو ںکو اچھارا اتال 
عق سے مینے میں ڑے ‏ خرن اسرار سے لو 


ڈپوارراتچال بے 
ت 


کلیات پا یاتیقعراقال ۳ دوردومکا کلام (۱۹۰۹ءت۱۹۲۳) 
عم نان 
صشن صادقی سے بے کی وامیان کے ساتھ 
دی کے پمراہ یہ ہے وہ سے مکی جان 002092 
022-7۰۰٣‏ سے مراکو سے جج 
سللہ تا سے اس کا عربسنتاں کے ساتھ 
وقعت اک سے کائ لک بھی میرے ول میں 
رشن رہب کا ے وابسع ہراففان کے ساتھ 
جو ملمان سے دنا میں مرا بھائی سے 
میں مسلمان ہوں ہنا ہوں ہہ ایمان کے ساتھ 
ول پالا رے اسلام کا دا مشں صرا 
وعنا وحیر و رسمالت کا ہو ٹرآن ور 


-ں باولوءاقچا لہرےے۹ام ش۴٣۳٣‏ 


گلاولالہرنگک 


اے نثان قوم لم اے کلاہ لالہ رن 


- 


کات با تا تشماقال ۳۷۰ دوردومکا کلام (۱۹۰۹ء۱۹۲۴٥)‏ 
ا کہ ت رکیل سےلرذاں تھا ہرمیدرائن نک 
ا ےک تھ سے مین مسلم میں انت بھی اتک 

‌ 
٘ھءەھە‪ 2929ء سے کیسا گمرش انام نے 
عئز: دا فا کا غرے 'افلام نے 
‌ 
قوم ری ے8 جھ سرای توق شی 
قوم اور وہ قوم ء جو اعلام کی شمشی ری 
نس کی صصق سے بقاے ےی 
ورخیاں جس کے صر بر صورت تو تی 
رک سر سےکوشاں تب ری عو جاہ ٹش 
نکر ردۓ بج کو اد یکی فرمان گاو زین ! 


تُ 


۔ 


تہ سے جائم شی مسلانوں کی ان نوڑی 
299 زی تھا جار آ سان می 


۔ 


۔ 


وحراری لہ ے روں برواع: جم 
ھا با کے تتے گر مم نان نی 


۔ 


-7 


کلیات پا یا ےش اقال ۳۷ دورد مکا کلام (۱۹۰۹ءت۱۹۲۳) 
ثوم کا رر عیین ئن ال نی 
آج اس متمور) عا کم میں اس کی جا نہیں 
ت 
ہوملراں جن سگھڑی مسر میں مصروف نماز 
بجر٤‏ خالقیق سے اے جب سر وم یاز 
اور کھو لے مر جلوہ خوگی لالہ کا راز 
صاف آلی سے نظر شان خداۓ بے ماز 
رز شبیران وا کے خون کی ضر ے 
دی ڑے پپہلو میں سن ےکہ برق طور سے 
وم 7 پرلا کی کے منظور 


زیت گھوڑ ری ء رومات کاور نے 


۳ 


رہب ویج حمژنء سب کا رہادی ہل 
خوب اے جاناز عاصل ج ھک 1زادی ہوئی 


تُ 


-7 


کبیات با تیا ےحراقال ۳۲م دوردومکا کلام (۱۹۰۹ء۱۹۳۳) 
اتتی جلدی تھ میس مد ی ن ہو آشار 
چھرصداسن نے مرییء ہگن دی سے ایک بار 
7 ری ۷ش تی وک 
بپیشی کر نال مل کوئی ار بفر میں سے 


۷ پاقیات ابا ص۰*٭۳۰٣ہ1‏ فری شعز خحفرراء می بھی شائل سے 
ت 


مب ردلو اب حر رآ باد 
ایک دن ناکام رہ کر نت. چاںل کاہ میں 
مو جا میں شون پان تین کو جار نہیں 
اگہاں آکی ون سے اک صداۓ ہاں فڑا 
۰۴ مت 
چارة یں سے گی پر آواڑ ورد 
کا م کیا شور و ففال کا عمد آصعف چجاہ ٹیش 
دور عناپی میں فریاد گدا سے بادیاب 
نر عم سے ہ گوش الفات شاہ ں 


کبیات با تیا ےحراقال سے دوردومکا کلام (۱۹۰۹ء۱۹۲۳۳) 
کاو جاں کا مکوں اس شثر پاٹ من 
سے اکر محک نی کہیں ول معن وہ“ میں 
ا سکی جشم ٹیش میں جیساں ہیں ناب رین 
فرقی قرب و مع د کیا جود وکیم کا راہ ش 
آیارگی اس کی سے سر زی کشت امیر 
7+ و جانیاہ میں 
ا کی زم ممللت میں ہے ب کیب جام جب 
1ات گر س وخ از ئن 
لان کے مات دنک کیا ات طول نع 
ا اج طورار کا جب تق کُتاہ :و 
رر 
ابر پاٹ سے ضا فایسں پر و ماہ بش 
ا ای ان رے خرٹر وار 
بیں بی ضوکتر رھ ےمردوان بت و چاہ ٹل 
اغ عالم میں گل اقبال ملک افغاں رے 
شا تی نتر گے دید پلشاہ مُںا 


۱ انپا ریو یو( حدرآ بادء ایا )ابر بل جو ن۱۹۸۲ء 


کلیات پا یاےغاقال ۳۴م دوردومکا کلام (۱۹۰۹ءت۱۹۲۳) 


آ8 
کل ہروس و اگ ٢٢‏ 


لوہ اٹروز ہر یں بت روراںل ہ وکر 


کفرچھی سیرے میں ججیک جا مماراں ہوکر 
ت 


آ نے دالے تچب انواز ء جب شان ےآ 
نے آتاز دکھا اور نے خ اع ھ2 
شام سے جلوہ نما ہو کے خراسان سے آ 
یک دا کا ان کے ۴ 
کشا رہ بغار بصد از با 
ید لپاسی بٹل جاب ا اذ پا 
تّ 
اھ میں جن بھی ہے ریت اسلام لی ہو 
حم پر جامہ نوری بھی ہوء اعرام ھی ہو 


-7 


کلیات پا یاےشراقال ۳۵ ووررومکا کلام (۱۹۰۹ءت۱۹۲۳) 
1 پکٹ تھی ترے ساتجھ ہو اور جام بھی ہو 
تن لب رو ں بھی ہو یی نبھی ہوہ شا بھی ہو 
وت ین واەو رے ڈی ان رسالت تیر 
ہم ہیں وا رے اسلاغ صرات تی 
ت 


نو بھی ہوء ساتھ تڑرے حاقہ“ اصحاب تھی ہو 
یی انم بھی ہروں اور جوم متاب بھی و 
ون عطاق ہو ہنگاسے احاب تھی ہو 
یچیے بی ڑی انت بصد آواب بھی ہو 
وی ا رت ون کان و نت 
اک ات 


-ح زیت رت :جچو بر ین راحرالور(۱۹۲۳ء) 
ت 


عم نان 


تڑے خریوں کو عریاں تی کا ٹم ے وی 
وٹی گلہ ے رون کیا ادای کا 


-7 


کلیات پا یا ےش اقال ۷٦۷م‏ دورد مکا کلام (۱۹۰۹ءت۱۹۲۳) 
وی سے وش خلوت میں میٹ کر رونا 
تے فیب کا ای لت إإل ک 
اگرچہ جیز بہت ٹوک ار ہیں یاں بھی 
کر وہ وہ 
ول کر کی رعال گج ہے 
را یہ حوق حینیں کی خال ک 
زمیں خرشل ہوں میں نامی ات سے 
کر خن ادا ےہ ہوا جھھ سے آشنالکی کا 
اگمرچر سب سے برا ہوں میس جاں شاروں مل 
سی یں پہ نہیں راغ بے وفائی کا 
نے سے انی می گردن پہ بی کی تع وار 
۳ یی ۹4 ھ4 89۹44+ 
شال موج جہاں میں ہو خودشمحن پل 
کہ عصلہ ہو تے نر آخالل ک 
عصا ہنہۓے صفت گروہاد آے اپ 


کک کہ 6 


-7 


کلیات پا یاےغراقال ۳۷٣‏ دورد مکا کلام (۱۹۰۹ءت۱۹۲۳) 
پر نت ر‌ درو ے کہ داتم دارم 
وو تر رنآ دائم ٤‏ دارم 
وۃ شطے کا نے ہیں ج شرارے بوتے ہیں 
پآ لااے ون مر سے سیل آزادی 
27 اب وو عمارت کہ ا سخوار رے 
ك0 سے حفیقت وصرہ اخاں 
2 مم سے جو سائل کو انظار رے 
طی ٠‏ خع کل 2 ھ2 
كت ات 
ماں می تی : دہت ہو ووراں ے 
مارے ھا نے بیشہ پر خار زی 
مر فدا ہیں تی بعبے خال پ مم 
الی! ری نہپ روزگار رے 
قیام مس کو سے اس نقلاب نانے میں 
وی پا 5 رن انار رے 


تُ 


کبیات با تیا یش اتال ۳۸ دوردومکا کلام (۱۹۰۹ء۳٢۱۹)‏ 
نان کو او یی ا 1 
وو کا م کر کہ زمانے میس ٦‏ ینغ 


ٴ 


تو ہے یت ے ٢‏ 
وخ 


رے و جم بھی ,گر کیا مودششی انی 
فو ہے رپ و ھا مز رے 
خلت ول کی صدا کو بھی کان نے ہیں 
کوئی جو ففل تی میں بوثار رے! 


ک بیاض ا از ۲۵٦‏ 


-۲ می‎ ٤ 


کلیات پا یاےق٣راقال‏ ۳ دوردو ما کلام (۱۹۰۹ء٣۱۹۲۳)‏ 


دنت یی کے ڈظزوں ون 2 
گی کے لم ے مادہ ایا مکی آغموشل سے 


‌ 
پا ال بن 


شم۳۰۳مءن۵ 


صورتے خورشدر 7 تر ۓے گررون 2 ہلال 
کاپ جانا ے مر زور بات ے پان! 
نیشن لب نا لو جن ے آپ ہاں پور دیا 
تن کو آزاو زنر وم /- در 


کلیات با قیات شع اقال ٣٢‏ 


یس نے عپر یل پائدعامد ت دورال کے ات 
جس نے پور ی تعن یکی فطرت انساں کے ساتھ 
جس کے ڈور سے وہہم کا قص رکون تی ںگرا 
گردن انیاں سے طوقی راہمپ خود یں گرا 


و ٹانا پنوں کم ے شعار روز گار 
خظب ملت کی بائی مانگاریی ہیں ہزار 
ہے ؛ٴویدا ےن مت ہویۓ آخار میں 
ا نمایاں سے تی گرنی ہوئی دبیار میں 
ار ےگورستا ںکی نا موی سے مآ خویش سے 
شثان جٹیں اتِ خون قوم ےگل وی ہے 
نال ہک ری 89+ نے ین 
بل مت کی فرامی کو روئی سے کہیں 
لوہ گا ہیں ا کی ہیں اپتی ذیارت کے لیے 
ان کباری کے لے عم کی حایت سے لیے 


بیاض اڈل ,گ۲۹ 


الا 


دوردومکا کلام (۱۹۰۹ء۱۹۳۲۳) 


٠ف‎ 
2 


ك٢‏ دوردومکاکلام (۱۹۰۹ءا۱۹۲۳) 


مگمورستا 0 سی 


کبہ رجی ہےکوگی ایام کین کی داستان 
چاند یکر ے بتاروں سکیا سرکوشیاں 


7 تم ظ2 قی کے ربز نکی نظر 
72 ار یی آوب) گنی محر 


شش کے7 ید رض رت و رین 9-چ- 


بیس جم ا بد لکر سی رگ لکرتتے 


تُ 


رات بہجاروں گظریی ء زوقی نظ ری عیر ے 


ر7 ر7 نی پاش جا خورشدر 


۲ سذ 


گے ہیں شا بن سے شعلۂ“ بے سوز 
روح کا فردویں سے سن فریزل 


ت 


کلیاتپایاےقغراقال ٣٢‏ دوردی ما کلام (۱۹۰۹ء۱۹۲۳) 


تر ۱۳۴ 
خنر؟ طفلک سے ہے ا لگ جج کوبت 
چھوٹہیں عتی اسے صرصرکی موج پُ خطر 
زندگی کی سے سے بنا جہاں رز ے 
معظرصرت بھی ےکوگی تو صس نآ میزر ے١‏ 
سرد رفبںض٢ض۱۳۳ء‏ بیاض ال ش۷٣‏ 
ت 
فاردم 
ت"رں۳ 


ر2 


تو : 
1 ظا نی دورالں ے 5رامیرہ ے 
زندگی کا راز ا کی آگھ سے پشیدہ سے 


6ہ ٭ھ 
۰ 


کر-٦‏ 
نت 
خواب سے مکو جڑیں جس دم اعت ی نہیں 
وا 'ج؟ رو منزل دکھا تی نہیں 


٠ 
پپھو کان عطا کے کے‎ 


سر 
توم گیل میں پر نہ پاز ہوا 
نو ری ا کی یک ات سا 


کلیاتپایاےقراقال ٣۳‏ دوردو ما کلام (۱۹۰۹ء۱۹۲۳) 


ےہ 
0 
- 
٦‏ 
؟5 


يہ میرے ہاتھ میں خونئیں نوایا ںکھی 
بے خر سے جدائی میں بیظرار سے تو 
فردگی کا مر ےگ میں تچ ےک کیا ٹم ہے 
صبا ےآ ہو ںکی اود نسوؤ ںکیسخم ے! 


-<د بیائ افو مکےے 
0 


ھ 


20 
انی سکیا زند یگزرئی سے جند کے پنکرے می سکیی 
سض چجور و جھا رے ہیں شجید ناز وادارے ہیں 
فر یب تیذ یب نو می ںآ کرجنہوں ے اپناشعا رپچھوڑ ا 
جا نکی رہگزر میں مال صورتت شش ارہ ہیں٢‏ 


٢‏ پیا انج ازج ھا 8رضتم ر۶ص۱۸ 
2 
اتک ورا ۱٦۳١ ٥‏ 


پل رکشل رت سے ا بگ رب یکییں ‏ ایےےسندد ہی ںکہسر رک نو اک درھی نیل 


- 


کلیات پا یاےغراقال ٣ص٣‏ دوردو ما کلام (۱۹۰۹ء٣۱۹۲۳)‏ 
چٹ ےگ سک بیہاں دش پاب رگ یں نب مض ہو پھر پا میں پچ ربھی نہیں 
کھیں سر و ڈریں طعی اغار سے کیا 


وو سیک تح کت ما ےک دلوار ‏ ےگیا 
ت 


ےاشاعت پک ربست ریب اودا مر ال ا ںکام سے رت تھے نہسلطاں نوز 
ہشن بین یئ جن بی موک راس وا نکی توق خرس ری شور 
زوئی مخ سے بے ین را کرت تھے 
ال زمراں کو مان کیا کرتے تے 
ت 
صفت شخہ سے بر مارک ان و ہو نہ رر مماعد ٹٗ کرۓ گیا رو 
مدرسے ‏ یں ء پر یں وو 0 زنددم خاک ہوں ءتقم رت یکہتقی ہے مب ر“ 
و یکو تی مکی ٹھ ڈال کے بپہلائئیں کے 
بے نازکی تی عادت ہے لوس جاتیں کے 


پقدمگ" 


۵ دو ردومکا کلام (۱۹۰۹ء۱۹۲۳۳) 


رات اورشا رم 


یہ دلی عردہ کو مم رضا دۓے پٛں 
زی کے ا زگ رش نکو فا تن 


بپاض ال گ٣٦‏ 


کم 


)0( 
سے خواب کی پیامی شع مکشودہ تم نکی 
وہ لے ں ؤ-292] ہوۓ شرارے 
نی چون ت ماگل میںہ پزہاں تھا کی میس 
ذو نظارہ ہوتا اے کان آدی میں 
تی میں دم نہ لین ء الفت پہ جان دبا 
اشرہ سے .2 رك میں 


2.7 ے سای از یں درد وا لے 
ماب لی ام راو کی خامشی میں 
مگھییں گ ےکیادہ ناداں ‏ آ ینم روری یکو 
ال می ان لج ا تن گن 


مت از کی سے مصروف فرقہ تری 
اع لٹ رنے خی ضورع گا 7 


بالاے 0 حر ارہ رہ گے 2 
رع فا ارح ری میں 
فی گڑتی دکھیں ہم نے براروں قومیس 
ایک بات سے نرالی اس زم آخ ری میں 
پا رگھوۓ مذت ہ طوق ون نہیں ے 
نازے ہیں ہمافر الوب راہرویی ش| 


با ال با۳ با قیات اتال بک ۳۵۸ 


تُ 


سیرنلک 


موج زن جل بڑ و مم 
اور کتاروں 7 کے ول 
ظلت افزا تھا اس قرر وہ متام 
چاند چچے وہاں و ہو بے ل٣‏ 


با اڑل ۲۸٦۷‏ 
باقیات اتال ش۰۶٣۳‏ 


یے 


3 ابراں کے لے ہو جو دعا کا جلے 
عذد تا ےکہ سے میری طحیعت ناساز 


ال کے دوردومکاکلام (۱۹۰۹ءا۱۹۲۳) 


کلیات پا یا یشمراقال ك٣‏ دوردومکاکلام (۱۹۰۹ءا۱۹۲۳) 
ق ھی پردے سے نگل اور ین نے پپشواز 
قوم را نیش شنام یکن و تارورہ۔ ڈیں 
سے یکن اوح ان انا 
من کے نے نا اتال با یا 
شک بڑھےآ ‏ پک بانوں می یں بندونواز 
جھ یں اوصاف ضروریی تے میں موچووگر 
ےگیا ایک ؛کہو تم سے جو +وفاش شدراز 
ھب بے قوم فرش کا میں یا کو 
اور باب 9:2 لم میں استا دكوئی٢‏ 


ا- ياضدمك٣‏ 
۲س باقاتاپّال۷ص۲٣۳‏ 


ھ۶ 
"٠‏ 


وت سی مان تر یں ے ورتہ 
شر میں لئے ہیں ارزاں دلي ناشاد بہت 


۴۸ دو ردومکا کلام (۱۹۰۹ء۱۹۲۳۳) 


راہ زن کے لیے لازم سے ر گرم جوا 
بستیاں دشت میں کل جا ی ہیں آپاد بہت 
ول بی سنے می یں تیرے ‏ کیا ا کا علاح 
ورتہ لاہور میں گی إں تح اییاد بہت 
آکگھ ہی تھرپی ناداں کی نہیں سن شناس 
آگے ہیں با کے پ رکون میں شمشاد بہت 
و خ زار ومن کک گا زاد بہت 
عم می کوہ کی کا میں دیا کوئی 
پچھرتے ہیں تیشہ بجلف گے میں فرباد بہت 
سے فلا شود کہ متا نہیں استاد کوئی 
یھنا جاے جو اتال تو استاد بہتا 


7۲ بیاد ومض۱۳ 


ات 
اىان 


ہیں ا ں کی عبت سے لبریز تی آمگھیں 
ان اغ کا ہر ذڑ خجخم کو ترست کے 


٢ك فپیاض ال‎ ٢ 


کلیات پا یاےق٣راقال‏ ء٣‏ دوردی ما کلام (۱۹۰۹ء۱۹۲۳) 


مع “قی می ںگو رفت کے وی 
اے فیک معن ! اف گمردیی ترا وسقور ے١‏ 
اے مہ و ہ مکو ججھ سے الفت وین سے 
سرگزشت مت ضا کا و آئٹہ ے؟ 
ترروم 
ر٣‏ جھے اپی کن دای سے مم روم صیر 
ا من میں انی حم تکیاگوں سار یبھی دک 
تر کے بپچھندے میں شہباز عرائئش آ میا 
امت معکئی کا آئین جہاں داری بھی د ے٣‏ 


|[- سروورفت کش ۱۳۵ 
۲سح یضاتلض٦۸۵‏ 


کر نے سروورف ۷٦ص۳۵‏ 


یش اچّال ۲ دوردومکا کلام (۱۹۰۹ء۱۹۳۳) 


تح اورشاعر 


مل ری ہوں میں نو اپٹی امن کے وا وط 
ففہ پرا ف بھی ہو اپنے نین کے واسلہ 


رازٹی اقوام الم تا بھی جن کا گرم 
ایک عا م گا زہاں پہ ان کے افمانے رے 
یی ب۷ 9 
بت تم نکی ول کی تی میں ضتم خانے رسے 


سے خر جاروں میں لکن آمد خورشید کی 
الب شب میں نظر آئی کرن اتید کی 


واج و ے ینہ نلم گلتاں ہو گیا 
چوٹی وی مفعلیں والوں کی ریشن ہوگییں 


دور پپھ رتفل میں چتا سے نے شیراز کا 
اتھ سے مستوں کا اور داماں () ہوشرقہ پش 


کلیات پا یاےغاقال ا۳۸ دودوم کا کلام (۱۹۰۹ء۱۹۲۳) 
و مم نپ میں میرے ہر ذڑے اگر 
سز آمنِ مت سے ہو تو کش رش 
تے وشت 27 ر 1ہو ہوا 


مر کی ہے زاےا ڈن مان اظات 


سے دی خم جو بھی حر بھی ابرو ہوا 


دکچھ ‏ انی بالی سے میں کیفیت سے کیا 
جام ول کو پادَٗ و سے ذرا پگانہ کر 


نڑنے جو دیکھا ےکیوں اورو ںکو دکھطا جا یں 

آپ ھی داوانہ ہو اوروں کو ھی دپوان ہکر 
بثر_٭ا 

یم نے نا قطرء سے پر نہیں مت نڑری 

تاس قطرے پک مہ شوکت طوذاں بھی ے 

ق بیےکتا سےکہ بیارکی سے مر لا علا 

جج کو ىہ دکوکً ی کہ تیرے ور دا درمال ھی سے 


کلیات پا یاےشمراقال ۸۲ دوردومکاکلام (۱۹۰۹ءا۱۹۲۳) 


۷را 
ہثر_ 


جادہ وہ رہروھی نوہ رہب بھی نو ء منرل بھی زو 
بھ رہ الیاس نہشتی بھی تہ سال بھی و 


ون بن بن ےکی میس ان جنگ 


لی ان 1ض نت ےی 


حلے کی تر بہ جم ہوا جو جائۓ گی 
بر ک کل پر مورج بواک دنع فرا ہو جاۓ گ٢‏ 
سروورف ءگلش ۱۳۵ 
پیا دی م٦۱۵‏ 
ات 


ور 


ای 


سن سوزاں تا ار ے مور ے 


07 
بای فا وت ری ا مر ےآ 


با ال ے۹ 


آزاری 


۱۳١ش٦كءآ<"روورس‎ 


کلیات پا یاےق٣راقال‏ ۳۸۰۳۲۳ دوردی ما کلام (۱۹۰۹ء۱۹۲۳) 


جوا شوہ 


اڑ ہے آواڑز ری ا ا یا 
ھی شاع کی میک عش تک جا خی 


جب ے دورد سے ہو خلقت شاعم و ہیل 
کو جب خوان کےاشکوں سے ہے لالغرش 
کشوردل میں ہوں نا موی خیالوں کے خرول 
تراغ سے سوئے زی شع کو لا تا سے سرؤشں 
پر وخطور ے پالا ے گر دل برا 
فرش سے شع ہوا خیش پ ال مجر 


ہیں تی بکی پوجا کی ں نعل مکی ہے 
قوم دنا مس بھی اح بے ج مکی ہے 


یش اقال ۸۴ دوردومکا کلام (۱۹۰۹ء۱۹۳۳۲۳) 


جس طرح اح عقار سے نیوں میں ام 
اس کی امت بھی سے دنا میں امام اقوام 
کیا تححھارا ھی نی سے بی آتاے أنام 
تم مسلماں ہو ؟ تھدارا بھی دی سے اسلام 
ا کی اشت کی علامت تے کوئی تم میں نہیں 
ے جو اسلا مکی ہوکٹی سے وہ ا تم میس نہیں ٣‏ 


عبتاں "ں غاخاہ اسلام کا بت 
اور لنرن مُں عبادت کر٤‏ نام کا یت 


31 والوں ے راشا ےکر نام کا بت۵ 


او ایام علف گر اب و جد بے کار 
ایک اگ رکا مکاتم یس ہے سیک صد بےکار 


دہ رکی فرد میں تم ہو صفت پر ے کار٦‏ 


۳٦۷_ ہر‎ 


بر ے۳ 


۳۸۵ دو ردومکا کلام (۱۹۰۹ء۱۹۲۳۳) 


شوق تریر مضائی میں صلی جاتی سے 


بی کر بردہ بیس بے بردہ ہوئی چا ی ےے 


رس اق ری یت کی 
این یا یں اس ری 


وس کون دمکاں ساز سے ممعطراب سے یہ 
دہرسحد ہے مرایا ٠‏ م حراب سے یی 
جا گردوں یں عیاں مکی سے ناب ہے یہ 
رد خورشید ہے خون رگ مجتاب ہے یہ 
صوت ےق ” گنی نذای نام سے سے 
زندگی زی انی و کے فیا2 بت نت 


کلیات با وا تےخ6عراتال ۳۸۷ دوردومکا کلام (۱۹۰۹ءا۱۹۳۳) 


-۲ 


اشھم‌اس کے لیک اس کے ہیں زی ان سکی سے 
کیا سے اغیارکی دنا ہے ؟ کیں اس کیا ہے 
بجر ےجود ہوں جس کے وو ہیں ا کی سے 
وہ ہمارا سے ائیں قوم ایی اس کی سے 
طوف اعم کے امنوں کا پلک کرت ہیں 
و نے ان ات تی کا اتآ کے ین کا 


۳ اض ابال گ۸۶ 


۳ے اہو ورف ‏ ش ۱۳١‏ 


واتِ کل تم ز یں ے پوا 
0 ۰ ۴ 


کلیات پا یاےق٣راقال‏ ے۳۸ دوردی ما کلام (۱۹۰۹ء۱۹۲۳) 


دم 


 7‏ جن و ضا 


اع او پا کو وه آبلہ یا دے؟ 


ظارة پسف کو ریں نزر لو انا 
دای شون بارالن زلی درے٣‏ 
|[- بات سو رض 
٢‏ روزکَا نی ,ض٣۵‏ 
۳ پیاض ال ۹٠‏ 


عید رشع رلکینکی فر مائ٘شی کے جواب میں 


بے مم ے نما ی ریے ا 
بیشہ ماتم مت میں اظلہار ہیں میں 
و 
مرے تعیب کہاں ہشیت عزار نہوں میں٣‏ 


پت باقیات اتال ص۳۷۹ 


کلیات پا یاےق٣راقال‏ ۳۸۸ دوردی ما کلام (۱۹۰۹ء۱۹۲۳) 


فا لم بش تکپرالٹد 
سے جمارت آفریں شوقی شہاد تکس رر 
۲ ت002 ےبھی تھا پاکیزہ تر 
وت کے اندرشۂ جا اہ سے بگانہ تا 
موچ“ ن7 بم موی سےگبھی ڈرتا نہ تھا 
سے تی ان ایا وک اروا 
شس کے نظکارے میں اک عالم سرایا دید 
سے اھی جن کے لیے رما ری لذت نی 
1ں کا نم اہ بیعت ںی۷ خعظمت ‏ ی 
٢‏ رنحت سی ۵ ۳ اء بیاض اقبال ال ے٠‏ 
تّ 
محاضص و اررے 
تھا اقاز بیج نہ پلال و صلیب میں 
متصور وج نایب ور ہو گا 
ال ضص خر 7 جو 7 
انار جس کی توم کا ٹور ہو گیا 
دی میں جس کی مشعل غلق عظیم سے 


کلیات پا یاےغماقال ۸۳۰ دوردو ما کلام (۱۹۰۹ء۱۹۲۳) 
پر رہ صرج سوری والثؤور ہو گیا 


۰٦ 


ات کا جس نکی ء جوف جلی میں نام 
شرطا روزگار 2 صطور ہو گیا 


مرمون ‏ وناب 7 ات سے اب لپ کیا 
کیا حم جو اس کا دن شپ دکور ہو گیا 


دنا بش پٹ و جاب سے شر رکہ جاک 
“ھ2 رٹ صاپ اگور ہو گیا 


٣٢۷ باقیاتاقال‎  -ا‎ 


ت 
یا 


صنی شا ت لص اثوام روزگار 
٣2ئ7"‏ جانق سے ترے کارواں کی گرد 
ص و ا یا 
کیا ہوا کہ ایک بھی بائی یں سے مرد 


۲- راف سو مے 


کلیات پا یاےق٣راقال ۳٣۰‏ دوردو ما کلام (۱۹۰۹ء۱۹۲۳) 


وال رہ م7 رج سی اش 


یلد 
اپنی ادا ی بی انسا کس قد ر آسودہ ے 
تمت جاخیر سے موج فف سآ لودہ ے 
بئر_۵ 


٭ 


۰077ء پت 
چاد؛ٗ خ٠ابیدہ‏ ہر ون يہ شار تھا 
بح مجری مت افرائی سے سے منرل ہوئی 
سی کی کی ان ای وی 
وو آڑبی فطر کہ سے جن سکی طبیعت استوار 
ین ےی ٢ت‏ یں عادخات رو ڑگارا 


بھم کھت ہیں شبات زندی جک ہے ہے 


ٴ 


رو ں کی 0" ہر وگ رگر سے سے 


- بیاض انا ز ش۳۷۰۴ 


کلیات پا یاتیقعراقال ۳9۹ دورد مکا کلام (۱۹۰۹ءت۱۹۳۴) 


نام گکری سے شفق خون حر بھی گئی 
خیم سے بیض ششم تر بھی کی 
سث پا ائا ز ۵ص۴٣۳۷‏ 
تّ 


مت می سگرجہ سے مل شرر ان کا تریغ 
خخرہ زن ے صرمر اتام پ ان کا زوںٔ 
کی چت خی ے ظلرت پروی اعت 
0 ےھ 00 ےخھوتی 2 
ظارریں آشذیر کمکھل وستت عالم میں ے 
اشک اشھم درگ ییاں 7 ا و 
سی روز کون و مرکاں امو سے 
رات کے آ نیش میں لٹا ہوا بے ہو سے 
1 درا خفعتر سے مو ہوا شش کروم سے 


ظط 
پت ہر+ی ےسا نکی تج دہ سے 


۲- ا یاتاّال ض۷ے٣٢‏ 


)۱۹٢۳۲۳ء۱۹۰۹( دوردی مکا کلام‎ ۳۰۰٢ 


یرم طوے اشعار 


فطرت ا سگش نکی سے محروم تاب اخقیار 
رو شا من بی کر ا رک ار 


حوئ ےر 
ہوگئی کا شا فطرت سے حکدت گوش می ر 
چم بنا پھر جچاقھ کی ہو فراں پنے 
فی واز اتک بل پر جن طوفا ںگزشت 
روز برگل چوں بر ا‌ان ٹپ یادا لگگزشت 


می سے اجزا ہیں ار فا ی تو فا ی ب میں 
تع دست و پا سے اصاسس وفا پچ دک نہیں 
عام ال حعرا مس ےکگو مو تکی ار تگریی 


کلیاتپایاےقغراقال ۳۳ دوردی ما کلام (۱۹۰۹ء۱۹۲۳) 


مو تکا دک ا ںکی دٹیا یس جو ے عام اس رر 
آدی قررت کو ےنا ہوا 007 


بر _٭ا 


راہ پاوں ک مازہ وہ کت گن :ا ات 
صصق کے شتآ شھاء جمازہ کت ہیں اے! 


2 ىا ض٣مضص۱۴‏ 


پچ گی 
کے دور خر فرا مو موی ا۲ 
۲- سرودرقتز کش ۱۳۹ 
ت 


٠ 
و‎ 


وت 


کہاں وہ د کہ تاشر نوا سے موم ہو جانمیں 
آہال وہ دید گریال >کہاں وہ اع عتا ٰی 


کلیات پا یا ےشماقال ۳۴ دودوم کا کلام (۱۹۰۹ءت۱۹۳۴) 


نہ ہوگفل میں نس پائی تو لطلف لہ ری کی کیا 
2ت- یں بر سےسور کیا جہاں :ایا 


ما٣‏ مک۸۷ 


اک 


رت ان ان نت را ا کن 
ری تین 3 ہر دی آ گا کو 


+٭+ 


اپنے میدانوں ببس جب رز عما لک عا ھی 
زدڑگی جیی مرا سح کا پیام شی 
زی کے جن ائے نمی کین کا تا را 
کت 2 سوز مرا شع گختار ت٢‏ 


۲- بایاتاال ش۵٣‏ 
تَ 


ملران اور یم جد بر 


راہ پا وشت کے آفات نے خفائل رے 
ان نف 2 انی نھد بر سے لو گر٣‏ 


۳سد پیاضضس مک۸ 


کلیات پا یاےق٣راقال‏ ۳۵ دوردی ما کلام (۱۹۰۹ء۱۹۲۳) 


پھولو ںکیشٹرادی 


ہا نگ شا رشن سے بج ا لالہ وگل بے 
یا بالیس دشھی ہے میں نے کی خنداں بیس 


ای سے اب خشنل پر ہویرا سے مقام ا کا 
ھا بنا ےگردوں میں مگلستاں میں ء زی بی نکرا 


-_۔- پاف گ١۹‏ 
تَّ 


تین شراب 


کیم کین کی تال 
اکر تا ربا سے تج ھکو ذوقی نہ بچائ: 


تُ 


کلیات پا یاےق٣راقال‏ ۳9۷ دوردی ما کلام (۱۹۰۹ء۱۹۲۳) 


فردووں یں مکالمہ 
ج۶۶ فلت خالات اجابہت کا 0 و 
اس قلب پہ اسلا کو ہو سنا سے کیا ٹازا 
افش سو ىص۰ژك٣‏ 
رہب 


( مین رقعرےاب) 
( ہاگ دراض ۲۳۸) 


کاختا ہوں بڑھ کے میں افسماشہ اسرائل کا 
ڈر سے غفلت سے نہ ہو تیرا مقد ری وی 
ترکی دنا قت نہب سے بای ے ہام 
دن ہے معیار ے وڑوں سے شع زندکی 
تن و پا سک مصرع از قر ز زاں آزادشر 
زند؟ جاوید بی گردی اگر موزوں ٹوی'ٴ" 


باقیات اتال ش۱٢‏ 


کلیات پا یاےق٣راقال‏ ے۳۹ دوردی ما کلام (۱۹۰۹ء۱۹۲۳) 


7-7 0 0 ہنگامہ لائم ے 
کوئی وم و بھی ماہنر عنا دل اے و ہوکر لے 


پخافل ض۸۴ 


ہیں اورو 
بھےآ شیاں بنٹرائنٹس ‏ مر یآ کم سئل ولا رس 
 -‏ ۰۰۰۰0 
جو ڑے رور پلبر 4 نے وا کا 7 ا 
تآے ہر جیاں سے ۶ز 7 سے گے پلاِ اور 
را الہ مر گل پر یں زندگی کا پیام اگر 
تزا سوز وا ولی حر ء تڑا ساز تی نوا گرگی٢‏ 


۲ے باخاتاقال ۷ش۹٦٦۵‏ 


ایا اتال ۳9۹۰۸ دوردومکاکلام (۱۹۰۹ءا۱۹۲۳) 


در اوز ٤غرافت‏ 


بہت آزاایا ے خروں کو نے 
گر آج سے و قب خوش آزال' 


ات چجام ش۸ 
تّ 


حفرراہ 
نوع اننماں کے لیے سب سے بڑکیلعنت سے بے 


شاہراو فطرت الد یش بی سے خمارت گرگی٢‏ 


روزکا رفٹی ش۳۵۲۴ 


کلیات بایاےشمراقال ۳9۹ دو یدوم کا کلام (۱۹۰۹ءت۱۹۲۳) 


. 


عیاں حتارے ٠‏ ہویدا نُلک ء زش پیما 

زی غدالی تو بدا ے ‏ یں پیا 
جیب جار تی سل سے الیاں کو 

کن کی کت ےا تک تک ا 
کن سن نان کے و تفط 


وہ نر٤‏ نام سے جس کا تڑپ بت گا 

ری نون ین تین ہے ابی نہیں برا 
نپ ساہ میں تو سے مب مر میں 9و 

٣ 
خدا جو دے جھے فدرت تو کیا کروں سے‎ 

کروں صغم دہ اک مہ کے تریں پھا 


کلیات بایاےشمراقال ٣م‏ دودوم کا کلام (۱۹۰۹ءت۱۹۲۳) 


ای ای ان و و ان 

رلوں میں ہوتا ے ٭س نٌ غار ٌں پرا 
تاب آت ہے کیا نازئیں کہوں اس کو 

کہ[ سکی اک قدم سے ہوں نازئیں پیدا 

ےکوی 0 وت نمی پراٴٴ 
پت ین ان ور مت کل 

ون اہن و تر یتین ا 
اوت جو قمت گجڑتی ے اتال 

قد لے ہوتے ہیں نادان کت جس پیا 


2 با اجاز ۵۸٦‏ 


کلیات بایاےشمراقال ا دودوم کا کلام (۱۹۰۹ءت۱۹۲۳) 


ٹک مھ 


پر لا ر جاپ منزل اڑا چاتا ہوں میں 


پ0 


سب ےآ کےصصورت پان درا چاتا ہوں مل 
واسطہ پیلک د پر یا سے جوں آئٹہ کیا 

سام 1ت سے جھ یھ ء د یکنا جانا ہیں میں 
1ل مسامالی پئی تا ا طارہ یا 
تج کو پایا سے و اب خو دم ہوا جانا ہیں میں 
قالے والے بڑ سے جاتے ہیں اے داماندگی 

صورت قش 2 سے ر۲ جاتا ہوں میں 
آہ دنا جاتیق ے بعف پیل اے 

داو رجش ر کی جاب "انتا جانا ہوں جں 
عثر میں مکل تھا بے لے تا بھھاتا 

ہو کے دنا ہی سے تا آشنا جاتا ہوں میں 
رتا ہوں اقای !ےکی چار داواری مل بد 

سپ ہچ ےکر ائل عالم سے کھیا جاتا ہیں میں 


بیاض از ش٣‏ 
ت 


۰۲م دوردومکاکلام(۱۹۰۹ء۱۹۲۳) 


برا مشھا عح رہ کیو ال ۱۸۔اگ ست۱۹۱۰ء 


علقہ زی ہر ہر پچہاں 5 
1 کیہ فیس کی ور کا زنراں ُا ! 
رگراں جان کے لاۓ تھے عدم ےبمل 
اغ ہستی میں حتاغ شض ارزاں ُا ! 
بسعت افزالی شی شوق سی وج 
فا کک یھی میس پیشیدہ میاہاں لگا !' 


2 بیائش احجازبحل+ےءوادراتچال بل ۵ے 


و نے جو اے وید موی دیما 


زی وی سان تیور 


میری ضتی بی جوشی میری نظ رکا پردہ 
اش گیا ہزم سے میں یر گفل ہوکر 
یں سی ہوا کی کا نا ہو پان 
بی کنا ٹین نیت راف ور 


خلقمعتول ہے پھسوں ے خالقی اے ول 
دکھ نادان ذرا آت سے اثل ہ ور 


٠۵۳ بایاتاپّال‎ -۲ 


کلیات بایاےشاقال سر دو روم کا کلام (۱۹۰۹ءت۱۹۲۳) 
75+0, ,+9 9پ 
ا نی س ےک رمیا ند و ان 2 
نے اپنا ہی نظ ر آیا نہ نیجھھ انجام اسے 
دنا تھا جام میں ہر ہز کا انجام مم 
م 2و شا م سے مگ۰ردو کیک رس 1 ےمم لَ 
کن ون میں ےا کا کی دام ۳ 


٠۵۳ بایاتاتال‎ - 


ول ڑےشوقی نع جا ود ات لماع وا 

ایک جو کی سے یکاخ فی نطایاب ڑا 
جو ابیماں جو دکھائوں تو الٹ دوں ہے چہاں 

ول یہ می میں ہوا ء ظط ماب ہوا 

حشق مدان میں آا تق خفریاب ہوا 
کر نہ نز کے شون 8 

بر یر عیاں 14 اباب ہوا 


کلیات بایاےشماقال ۳۰۴“ دودوم کا کلام (۱۹۰۹ءت۱۹۲۳) 


اتی ری کین رفا 
7 
شن دہر ڑے جن سے شاداب 


ہو 
قلب انماں سے پل آلیٰ ے فطر کی صدا 
وک ان تاج سج مدان وا 


ا ں گی اک رب سے ہو زلزلہ طاری ہرس 
زور لم نہ ہوا ء خال ہوا خواپ ہوا 
کون جانے کہ فلندر سے شبنشاو جہاں 


ج ضرورت بہوٹی م سکہہ دی خرا ے اقّال 
کن یت ین وی لقات وا 


٦ 


-- وارراچال ٴك۹٦٦‏ 
ت 
ہاں زندگی بے وہاں آرزو ے 
ہاں آرڑو ے وہاں جھ ے 
یر ہو و او ے فان یا 
ڑی تو سی ری آبرو ے 
نظ ر جب سے تنوکی نظ ر ےی سے 
ے دبلتا ہوں وبی خوب رو سے 


کلیات بایاےشمراقال ۸۵م دودوم کا کلام (۱۹۰۹ءت۱۹۲۳) 


ملاتے میں الفاظ مق کی شوکت 
عرىی بے زبانی ء مری کنگو سے 
ری آرزو سے ہہ ی وہ اعت 
کوئی ہیں ےئ پا آرڑو ے 
خودی نے عطا کی بے خوو ای 
ڑا ن دائم و کسر وو ہے 
مایاں ےکشزرت میں ور کا لوہ 
جنظر 27 میں دی رورو ے 
د وکیا ہے اقبال نے بیس تیرے 
فشتوں میں ہروم تر یمنگو ےا 


سرودرقت ء۷٦۱۵۲‏ 


+ 


جاز, ٹغا ہنا 


کلیات بایاےشراقال اک دودوم کا کلام (۱۹۰۹ءت۱۹۲۳) 
کہ جوں ڈڑے ےکر لا سے مرا پھا 


سر تی سے بہاڑوں میں ابھی بک می 
پر رکز ز ا غط جا پر 


شی ا ا ا و ا کل ات دو 
اي 7( ج 


کیا جب نٹ تھی کرے شوکیت ددریا پدا 


ا و ا 
7 
نار امیز سے لن رو پر 


ا خوں سے نو سے ورد ھی سامان نشاط 
ٍ ه2 ے سے خںدہ ینا پدا' 


ٴ 


٠ 


2 بیاض ا از ٦۸‏ 
کھول ورواز) خلوت و2 ار اے ساٹ 
کی و و ات ان رر اتا 


زا کن 7مان ین سز از 
دست فطرت نے لھا ۶ جواز اے سائی! 


کلیات بایاےشراقال ےم دودوم کا کلام (۱۹۰۹ءت۱۹۲۳) 


اک می کرد ساخر میں کیا فرنے تام 

ورشہ قضہ تھا بت کا دراز اے سائی! 
ےا کے کر لا انت انز 

اں فرر پت نکر پد٤‏ ساز اے سائی ! 
کیف ی کگونہ ؛تقیقت سے زمانے میں فتط 

ے و سے خوارہ و نا ے مجاز اے ساٹی! 
بندر رنقی میں تی مم زبان واعظ 

اس تک ےکو نکر حرم راز اے سائی! 
از راع تک یٹ 

ضورت پادہو ے پکانہ گداز لے سائی! 

آ رق سے ن و چا سے نماز اے سای 


بیائ چھار مک۹ 


قربیوںکو رلک اس ممیت اط پہ ے 
ڈنو ںکھاناکیہمی سکس کے پر بیانوں بیس ہوں! 


- 


کلیات بایاےشراقال ۸" دو ردومکاکام(۱۹۰۹ءتا۱۹۲۳) 

واعفوں کی بزم مس خامنل مس ٹا رہ 
انا ول میس ہوںء پیا نہ یس بیکالوںل بیس ہوں! 

ہیں ام وت تچ دیا ۔مُں ہم 
ٹینیس دانوں مس مین یی ان دانوں میس ہوں ! 

چاؤں دوزغ کوکہ بش کو بج ےکیا حم سے 
تیرے دببانوں بی جبراوں میں متتانوں مُں ہوں!' 

تّ 

د سے فف دب ترے اما نت یر کا 

نے - 2 امروز ہر را را 


ا کگٹڑی میں حشاعغ سے بھوٹا ؛کھلا ءم رچھا گیا 
کیا بی معخوق تھا اے بل شیدا تا !" 
١ت‏ پاضاغاز ٠۷۰۲۷‏ 
٢س‏ ابفآش ٦٦۶‏ 
ت 


ححیق!ت ان رف اپ تھے نام 
بر امروز و فردا ہیں تا فانہ 


دو جب تک مل میں ایمان کائل 
خودی تھی فمانشد غدا تھی فان 


69م" دودوم کا کلام (۱۹۰۹ءتا۱۹۲۳) 


کی ا اف کی جو سے مات 
وی ا وت 
فگی کی دیاء ضوں سامری کا 
ادا دلہرانہ “ و5 سا ام 
زا پانے وی ہے پوپ کی غفلت 
کہ فطرت بھی رکھقی سے اک تاذیانہ 
نہ ہوگر یں دکھ نے س رکا کر 
ڑے ول میس سے ین تا نزانہ 
سر مس نہ منزل کا رکھ ینہ ضیل 
چا رت کے رہل ے ‏ شیا 
کوئی ہرد من جک دے بیز تی 
طے نین رق کت زایا 
کے ہیں ت بد اور شح مگمریاں 
کا اب اقبال بھھ تاہری بھی 


بہت کہہ کے قہَ اختان 


-- روررقع ش۱۵۳ 


تُ 


کلیات با تا خر اتال ٢‏ دوردومکاکلام(۱۹۰۹ء۱۹۲۳) 
نے ےل ات تک ج ری بے مات 
ای تک دا مین کی درو آشنا تھی ہے 
بن ا ےہ اے گل تا انراز غامشی 
کیو اس پاغ میس نا مو بھی ءخومیں نو ابی ے١‏ 


ہ8 پاضائازش٦۷‏ 


و 
ت7 
7 : ۱ 
٦ےے:‏ 

۲ 
کک 


۲ دو دو مکا کلام (۱۹۰۹ءت ۱۹۲۳) 


2 
ے پ سرود ٹ ری “9۶ یی 
خوف ٹہ اس کا تڑے فرقت معیدو ںکوکہیں 
حر اورو ںکا ایی فروا ہے٤‏ ال نکا دش ے 
محھل گیا خرن میں سی بل کا راز 
لت پرواز ہے سے کم 7 نول نے 
بیچتی یکل ,+0 
یر بیکیا ےکہ یش نا لال جہو ںو نا می سے 
ا تی یس ود ہکیالڈ تگ الگ اےحیاب 
مع شت ٹم سراپا تق سراپا دوش سے' 


ِ بیائض اج ا ز ٦٦۷‏ 


-7 


کلیات پاتیا یخراپّال ۲۳۲" دو دو مکا کلام ۱۹۰۹ء ۱۹۲۳) 
مزل 
7 ے بل شوریرم را غام ای 
جلوٗ گل کا سے اک وام نمایاں بٹبل 
اں گکتتاں مجس ہیں پیشیدہ کئی دام انی 
مم ۷۹۷٥‏ "۶ 71 
بے ری سے ہے جی ن بھی مج دام بھی 
نمزل 
رر کس ہت ان 1راگی کر 
دی سے یک جینغ ویک اندییش فو پرواکیا ے 
بے خطر دیدة بے جاب کو پرجائی کر 


: روزکگا نشرک ۳۱۹ 


و 
بھی اے قب خنظ نظ رآ لاس مجاز می 
کوئی چا کے سلم ختہ جا ںکوسناۓے میرا پیام ىہ 
ومن سے دننآ بر وت امالں سے ملبِ جاز ٹش 


- 


کلیات باقاتیشمراقال ۴۳ دودوم کا کلام (۱۹۰۹ء٣۱۹۲۳)‏ 
ےکی بنا یے شی جہیں مموت میں جو را ما 
نے مرا جج وخ کو بھی وہ تقاط گر دراز ہیں 


ل بیاض انا زل٦‏ 


کلیات پا یا ےتعراقال 2 دوردومکا کلام (۱۹۰۹ء٣۱۹۲۳)‏ 


کے 


وارااسلطنت وی 
ہو گیا زم ول پال ان مل 
وو جوشی پل گی کافر و مین گی 
جج اتی لچم کلکنے سے دی 1 گیا 
٢‏ 2ئ 


بیاض اڈلء۹۱ 
چ‌ 


ان ان 
دافتے امن کی ٭ نادان این کی 
یئل سے جاب ذ اب س کہ جن سے 
مم یہ امن سے اور ان ھن بھی 
لوان جکزت ےکن ین پیا 
تاج مخورت ہیں بیران ائن تی: 


بیاف سوم ك١‏ 


کلیات با یا ےقعراقال ۵ دو ومک کلام (۱۹۰۹ءت۱۹۲۳) 


یھ یوئیورٹی میں ڈوبا ء جھ باتی تھا بلقان گیا 

کیاتم ےیل ایل یس جم سال نی تا سے 
پ4 نیب ہمار خالی ہے٤‏ اب چچندوں سے اکا میں 

ہا گا ہے با سہے بر بقایا لیک کا وک پی آ تا ہے 


بیائ سو کا 
ت 


کی 1 اتیپ ان کت 
27 سو اے رر کارراں ے 
خدا واعد سے ہ دو ناظم ہیں اپۓ 
و تی یں جارا آخاں سے 


رئش سو بس اءتھرن ۲اک ۱۹۱۳ء 
تّ 


ہر گے میں عہد ےتتیم ہوں ابر 
ہو نہیں سک مکو جنگ وجدل سے سیر 


خیہ پیاس بس جب سے عدہوگئی سے قائم 
ہندو ہیں پیڑ اض رم م ہیں ی٣‏ 


ران سو گ٢‏ 


کلیات پا یا ےتعراقال ۷ ووروومکا کلام (۱۹۰۹ءتا۱۹۲۳) 


-۳ 


انماں ہہوۓ میڈ ب من رہن جب سے 
جشل مم سکب رد یی ہنی سےکل نی 
نقر رک وکھڑی ہو کو میاں کی بوئی 
ردان ہو سا میں شی کی جم ہی 


ات وم ل٢‏ 
تّ 


7 ى۶ وىٔ'وو9و) 
بے کی مجن کو دنا نر سے ری بے 
جھ زندہ ہیں و فط آپ کی غفقی کے سے 
ہوا نے رت زار جب آ فڑاا 
۷000 و از 


راف سو ش۵ 
ت 


اقال نے ماع جو بویا نو شی نے 
موزوں کیا ىہ شھر زبان سی میں 
یلام خرقہ چندۂ ری ہے واسۓ 


عخامہ رین ان نک جن میں 
یافی سو ب٢٦‏ 


کلیات پا یا ےتعراقال ۓا دوردومکا کلام (۱۹۰۹ء٣۱۹۲۳)‏ 


-۳۴ 


ہر قوم پا بن سخ و ود ے 
ور ای ا 
نتتصمان بلہ پان کا ءکھوڑے کا سوو ےا 


بات سو ب٦‏ 
ت 


مخمون الو کے بای اخباروں مس ہواتے ہیں 
سرکار رحیت پور ےکیوں ای شور مات ہیں 
سے خوب صفائی شجرو کی اود پر ک بھی ننتے جاتے ہیں 
کو پیٹ میس اپنے ا ک کی پرمازہ ہوا ھکھاتے ہیں٢‏ 


بات سو یک ۹ 
تَّ 


ام لم کا وہ کر تج اہی اب کہاں 
رج ؛مسلم کےگھر سے ہو گیا رخص ت گر 
ایک عو ٹ ےکی ذزہاں پہ پاک ذات اللہ ے٣‏ 


افش سوم ش۹ 


کلیات پا یا ےتعراقال ۸۰۸ دوروومکا کلام (۱۹۰۹ءت۱۹۲۳) 


-۳۴ 


جا و ما کوئی تحریبِ مسلم جاہے 

زان میں میرے اصول ضط ن وقانون ے 

وجداری میں و ہوتا ے تو تی 

ہو قازخ کوئی دبرای ا وم من سے 
بیاف سو مش۹ 
یں ا 3 ین کن 

مم س اور وحات کے ء وو اور دحا کے 

ظز . اضقابب .ہے سے ا اپ بد 

پانطدء یاں کے ووٹ بھی ہیں کچ ت بجمات کے٢‏ 


اق سو ىگک٠۱‏ 
تّ 


یں مہ زبان کا صخرت نے عل کیا 
چا ج میں نے کوئی طریقہ تاے 
نیالی گھر میں او لے :. اززو تچ 2 
سس کے کاغذات میں ہندیککھا نے ۳٣‏ 


بات سو بكض٭۱ 
ت 


اناں نے سیڑروں 2 و دارا کے پثر 
کا سے جھخھوں نے عذرابوں کے وچ سے 


کلیات پا یا ےقعراقال ۸9 دوردومکا کلام (۱۹۰۹ءت۱۹۳۴) 


دریالۓ ہ+ست و او گی رثار سے وی 
دق نے نخان کے بوچھ سےا 


بات سوم :ل١۱‏ 
تّ 


ووواں ہہ خحصر میں کیل کی مب ری 
عہدہ سے ہے جدید ء جدید امتقان ے 
ہے جم زہاں ٹ من زہاں وراڑ 
اس بات یل دہ بے گا جوگم زبان ے٢‏ 


بائش سو ض۵۴ 
تّ 


ہنرستاں میں جز و کلومت ہیں کیسلییں 
آغاز ے مارے سای کمال کا 
ہم فقیر سے ىیے جارا تو کام تھا 
یں سیقہ اب اعراء بھی سوال کا۳ 


بیائش سم :ض٥۵‏ 
تَّ 


یت مل مکی شب تار سے ڈرلی ےج ر 
ترگی یل سے بی شب دید ة1 ہوگی طرح 


کلیات پا یا ےتعراقال ۴م دوروومکا کلام (۱۹۰۹ءت۱۹۲۳) 
ےاندجیرے میں فتیامولوئی صاح بکینمود 


بن کس العلماء چکے ہیں کن وکی ط رع 


پیاضضسو بس۵۹ زمانہ جوری ۱۹۱۵ء 
ت 


آساں سے اب تو ہندو وم لم کا اتاد 
کی کو پھر شریف نے بتتقان در دا 
جیش جوں مم٠‏ ںآ سنا دیی نے ا بات 
نے مان نے دل دلوانہ کر در 
کپتا تھا کوئی بونورٹی کے پال میں 
رت دلا کے وین سے پگا کر دی“ 


۲ت بیاض اغجازگے(+۱۹۱۹ء) 
ت 


پاتھوں سے اپے دای دا ال می 
رت ہوا رلوں ے خال مفاد تھی 
قاون وفف کے لیے لڑتے حے ‏ بی 
ا وو و کر کو کت اما و تی ۳۶ 


لب بپاص اجاز ٦١٢ا‏ 


کلیات پا یا ےتعراقال ۲ ووروومکا کلام (۱۹۰۹ءت۱۹۲۳) 


اہر ہے جات ہہ وکیوں جاے سے 
میس تم کو باج ہوں پونیورٹی کیا ے؟ 
چلون کی مور ے پاجاے سے 


اورا یک مکش ے٣‏ 


ہے سلطن ت نوم با سح بے روں 
ہے قوم جم و سلفعت یں بیس کے مکی رون 

جب پ میں و قوم یں بللہ لی ے 
سی خغال و کرک سے چفش ہوئی گر 

انیم بے قوم میں خود اختاشل سے 
ابد زنگالی تی کا سے بعد 

قاون میں ہر اک کے سے زندہ بای سے 


+٭ھ 


اہ ہے سا شاو وقت 
رور طالنن 1 
بے مم م_ئی سے ہیں اغلاتی نادرست 
7" 


4 
تا 


٢ 
ک‎ 
2 


کلیات پا یا ےتعراقال ۲٣م‏ دورد مکا کلام (۱۹۰۹ءت ۱۹۲۴) 


زانشکانور جلا ی ۱۹۳۸ء 


1 : 
ارک بے سلطنت صفت برک فل ہیں 
۵ 9 9 9ھ 
گاڑھا اھر ے زمپ بدن اور زرہ اھر 


صرص ر کی رہ گزار میں کیا حر ہو بھلا 


ولا سے بات می ہے کال وقار سے 

وو مد پنّھ کار یف و پاصفا 
”خارا رف 28 ضطرناں یی شور 

ص در کوچہ ایت در من ونداں غلال ر٢‏ 


۲- ۔ زھینرار: ۳اوہ ۱۹۳۲ء 


-7 


کلیات پا یا ےقعراقال سم دوروومکا کلام (۱۹۰۹ءت۱۹۲۳) 


بر 


مت و سرایہ دنا میں صف آرا ہو گ۰ 

سے ہوتا ےک سکس کی خمنائوں کا خون 
مت و تیر سے پ فتنت آشجوب ئُز 
کھل گے یاجون اور ماع سے اکر تنام 

چم مسلم رہ نے تفسر حرف پنیبژن ؛ 
پا ات ال ش۹۳ موی ذکبر۱۹۲ء 


تُ 


ہا وی 
اتی غدمت کی سے شلق اش کی 
سے ہوتے ہیں کب اسر مالوی 
لت اوالں کو گیا مطرم 2 
وی اک ا ا 
خوب تھا سے غالصہ گا کا می 
کب سے گانیی کے باب مالوی 
مد مراں کا نی درولیی خو 
اور کل کے یر مالوی٢‏ 


بیاض ارم جس ٦۹‏ (ت ر۲۲ ابر بل۱۹۲۲ء) زمیندار ۲٦‏ ابر بل۱۹۳۲ء 


کلیات با یا ےقعراقال ۲۴م دوروومکا کلام (۱۹۰۹ءت۱۹۲۳) 


خدا کی زی شی عارعغ نے جلی 
ھائی مگ پچ ہی گی نے بھائی 
نیں یار ء صاحب کے تھبل پہ ان کو 
“"- روپ بیکٹ کا دعارے خلالی 


۲ خی تن کے پتھیں صمیین 


گئی عھیں میں اور شب بھمر نہ ال 


یائش مار ک٦‏ 
تّ 


بند کی کیا یت ہو اے حصینان رک 

و لگمراںل ء بت سیک ہ دوٹرفڑوں ء روزیی تیگ 
کٹ ٠‏ بے پا ء ہار تکا سیاک ریگ مم 

ہو گیا خر میا تھی بج اسباب ک 
”لف ون کا عم تھا ا بند؟ ال" کو 

اب پ سن ہیں نپ ےکو سے* مسل مآ و کیک 
کیا جب پ لہ ہی لیر جس بک دے آنار 

اق ا و رات کان 
غ2 2 ار پ ھا ے رت تی 

2 یہاں شی رواں جاٹی سے رک 


کلیات با یا ےتعراقال ۲۵ دوروومکا کلام (۱۹۰۹ءت۱۹۲۳) 
2 
0 ے زہاں داوں 2018 
ا ییائش ہار ہ۹ وٹ ہفروری۱۹۲۳ء 
ت 

شی ماشتوں 2 یں نے طور سمارے 

یں س مبٹی تا کوئی اجنڑا 

ین ہٹر ء ہا دارو مہارک 

امت مت را می ٠‏ پگنڑا 

ڈڑے پش اکر ء نو انڈڑے پرراشی 


ما بر ثطاء را پیر اٹڑا" 


ین وم لم یکل تر یی لے 
گرتے ہیں ارمنوں پہ جھ ترکان دوں تباد 


کلیات با یا ےقعراقال ۲م ووروومکا کلام (۱۹۰۹ءتا۱۹۲۳) 


-7 


لم بھی ہوں ایت جن میس جمارے ساتھ 
مٹ جاے تا جہاں سے بناۓ شر و فیاد 


ان چاررم ش۸ 


یتور تھا کہ بہعتا تھا پل لے زانے مس 
مزا کے محنب کا غدا کاءئ یکم ڈر 
دو وف رہ گے ہیں ہمارے زہانے میں 


ح نک و ای کی وی ا 


صرودرفیند ۳۴٣۳ء‏ انقلاب,فروری ۱۹۳۷ء 


کلیات پا یا ےتعراقال ۲م ووروومکا کلام (۱۹۰۹ءت۱۹۲۳) 


ظریفا نہ قطحات کے بتز وی مر وکات 


٭ھ 


ثطعے: 
مشرق میں اصول ریں من جاتے ہیں 
شعراول: 


ہتری اراں ُٛں پاۓ 


بت 
اھ 
نے 
ہے 


:٠٦ 


اشعار پاتکِ درا ءگ۲۸۸۰ 
ت 


گا اک روز ہوئی یف سے لو ںگمر من 


شع 


ان ٹل اکنا ہے ایک ہی لاھی سے میں 
تی ےیک ہبی ا سکی عکوم تکا شعار 


کلیات پا یا ےتعراقال ۴۸۷۸ دوروومکا کلام (۱۹۰۹ءت۱۹۲۳) 


5 اونوءاقا لرےے۱۹ء 
ت 


بنا ےو میت 
نے ٹیس نہیں تو کو بن سےکیا نام 
زر پاس نہیں راہٹژن سے کیا کام 


کلیات پا یا یقعراال ۸۲م دودوم کا کلام (۱۹۰۹ءت۱۹۳۴) 
مصلم کی جتاۓ قومنت ے اسلام 
٢‏ باقیات اقال م ش٠٣‏ 
طارَغام 
ریز سے سرود سے میرے مور ام 
طاءٌ کہاں ے الات ود لوا نے ۲ 
انا ں کی سے جو ام دہ جاروں کی 2 
خوابیدہ ہیں جم ازاں کی ضرا ے و 


پ روزگا رن ر ”ہٴ9ٴِصےص۵٣۳‏ 
ات 


٭+٭+ 


ئطرے 


اے جاپ گر اے پودہہ داالی ون 
حھل کی جم شا انی جس ہم ا میم 
طور ہر ڈڑے کے واصین میں نظ رآیا جے 
موت پہ ری یں مبربی اہ لکی موت سے 


کلیات پا یا ےتعراقال مم دوروومکا کلام (۱۹۰۹ءت۱۹۲۳) 
کیوں ڈروں اس س ےک ھکر پچ رجہیں مرنا ج٢‏ 
٢‏ اد رانا لک ۲۹٦‏ 
ت 
شطحہ: براۓ مشاعرہ زم اردوا ہور 
گی کی زد مس آتے ہیں پطے دی طور 
جھ اس پن سر میں بلند آشیاں رے 
مرو روہ انل جبات 
پچ غاب سے 22 مان تب 
یتور ےکن سے وی زندگی سے مہوت 
نس زندکی میں کا سد و زیاں رے! 


کْ روزگا نر ضص ۳۹ 
چ‫ 


قطے 
کم کشتۃ کنعاں سے اے خوکر زتراں لو 
یی یی ان تا ٹر ول از 
سے و بدل ڈالے بت چچنتاں کی 


٭ھ 
2 


جا ہٹ ہد سر و نے 


ہمہ 


- 


کلیات پا یا ےتعراقال ۳ دوروومکا کلام (۱۹۰۹ءت۱۹۲۳) 


 -٢‏ اواراچال کش۵۹۸ 


دہرئمیں کل 6 و ین ین 


- سے آ ملق ل ظا سے 


ات پردانہ رز بیرخت ہب ہے 
زور ہہاں شور بروشن شی 


جلیانوالہ با نا مم 


ھ0" سے خاک 2 
انل ٹہ رہ چان ان رتا ک٢‏ چال ے 


کلیات پا یا ےقعراقال ]٣م‏ ووروومکا کلام (۱۹۰۹ءت۱۹۲۳) 
ینا گیا سے ہے خون شبیراں ے اس کا گ 
رر نہروّں کا تل نکر ااں نہال ے! 


رباٹگی 
"ون ںی ا 


سے 
07 
کھڑے کڑے وم چمین کر سا سے 


8 یلم لا الال ال( ضر ب یم )کے مت وک اشعار 

بھی حال بی میں نمال لصو ٹیک یکتاب ”اقال ددولن اہ“ ل(حیات اتا لکا خاگی پلو) 
شائع ہہوئی سے ۔ جس میں اتا لک یم لا لہا الد( مضمول ضر بکیم )کے چندا بے اشعارشائح 
ہوۓ ہیں جواب موجود عم میس شائ لیس ہیں ان انشمحا رکا ماخ علا مکی جو نکر لی کا دہ 
اش ے جوخالدظیرصونی کے مطابقی ا بک کتفوظط ے_ 


خودی خرا کا ناں ١ا‏ الہ الا ال 
غرا ری ے عاں لا الہ الا اش 


-7 


کلیات با یا ےقعراقال ۳٣۳م‏ دودوم کا کلام (۱۹۰۹ءت ۱۹۲۳) 
غدی ے روي) رواں لا الہ الا اش 
ہش و جوں سے جیب رشن 
ری خوری یں نہاں ا الہ الا اش 
7 ان و مقام خودی کو نے 
ڑے ہٍں رمثوں چہاں لا الہ الا اش 
ہوا ے غی مکی عفل میں چا سے تو رسوا 
ریغ یے تج مان لا ال لا ال 
ول و نظر میں شا کی کین نان 
گر ہو ورد زہاں لا الہ الا ال 
و بات گمہباں نہیں تن می 
گہاں کا چر زہاں لا الہ الا الہ 
ابدانہد حر 1 فا رق آموز 
بی ے متصر ہاں لا الہ الا اش 
خیب حر آ0 لن کیا کور 
۰ کت 


کلیات با یا ےتعراقال ۳۴٣م‏ دوروومکا کلام (۱۹۰۹ءت۱۹۲۳) 
اکر متام مت ظر میں ہو ترے 
ین ےا تا لا ال الا 


اقپال ددوان خان(حیات اتا لکا ہاگ پہلو) ص۳۴ 
٥‏ 


کلیات بایاےشماقال ۳۵ دو سو کاکام (۱۹۲۵ءتا۱۹۳۸ء) 


دو سو مکا کلام 

(۱۹۳۵ء۱۹۳۸۲ء) 
ای جج یل ىر ےل 
ارمفان تما ز کے متروکات 


سے مل مترو ینمی رفطعات 
منلموں کے جزوی متروکات 
خزلوں کے جزوی متروکات 
پل منرددفطعاتہر با عیات 


۴۳۷ 


دو یسوم کا کلام (۱۹۲۵ء۱۹۳۸ء) 


کلیات باواعت۴عراال ٣م‏ دو سو کا کلام (۱۹۲۵ء۱۹۳۸5ء) 


رر نیس ول ری 


وونوں کی سے اپنی اپنی مرل 
وو ست دم بی تر رو ے 
دوینوں کے لیے سفرسے مضکمل 
کیو ںکر ہوۓ ہم سفرول وگل 
منزل گل کی عمات چاوید 
زرل ول گی حاتِ چاویرا 


نپ ش گا 


۲۸ دو رس مکاکلام (۱۹۲۵ءتا۱۹۳۸ء) 


رین وزمانہ 


(زٹن) 
ا لا رس سر رہ 
حوادث گی میں اک یر ہیں پائی 
و عد سے میری حم خواریوں کی 
وو قی ال 
ری خاک امو میں مل مجئے ہیں 
2 اے نر ری و ناما ی 
ری نات نان او کا ا 
ری خاک می قر ہگ زمالی 
اھر عگوں کا و کو رریوں رک 
اھر مگوں رات گورگالی 
یھ ہے اپ اپ تفن امش 
ىہ فرکوی ال وہ فریگون خا ی 
وو اپار تمُشثر 1 اتوالی 


6۸۳۹ دور مک کلام (۱۹۲۵ء۱۹۳۸ء) 


بروی زیں 27 چٹر روزم 
وروی زٔل ء ظارے چاودا ٹیا 


اف جم ج۷۱۰ :ہم ول ز ئے کلیات ص۱٣۳‏ کاابرائی حصنتی 


تُ 


خطاب ہٹرز1رم 
٣٦‏ 1 
زا رل کیم و 2 و ت 
رو رن ات )تا 
7ر مل ر ارہ کا 


۲ 
٠ 


۲ 


ساروں ےآ کا ری مشت نا 


ن0 


تا دو عا م ری جان پاک 


ڑ سے عوصل پے و اپ وجور 


٠ 


کلیات با یا ےخ۴عراتال 6م رورسم (۱۹۳۵ءتا۱۹۳۸ء) کاکلام 


یں ات 


ت٠ورت‏ 
طریق صوی و مل بدل گیا مجن 
یھ ۹۶ ۰ ت2 
کل اس نے اپے مریدائن نخائش سے ب کہا 
کت رد زن ناس نہیں 
مور پادہ سے ہوئی سے آ ششکار عورت 
سردد بادہ اگ سے و نہاں' غھیں تو غھیں) 


نپ ضف سم 


بہطامثہ 


نا سے میں نےکہ برطانوی بچھاں ہیں 


کلیات پا یا یشمراقال ۳ دورسوم(۱۹۲۵ء۱۹۳۸5ء) کا کلام 
نہ عقدہ کھول کے ہیں یہ آآنرستاں کا 
نہ رت ہن کو بدکر کے 1ر وا کر کے١‏ 
س2 


فلا موں کیک 
ت-ے- ے پک دوں فطرلی کو آخار 
درو توئی کا پوت کنا ہو مد 
ابنا ممہب ععگراں کے ساس ےک رتا سے می 
بند؟ عم آزادی سے ہوکر نا امیدا 
۲ با شس م 


تَ 


وعر ت۶ب 


م٣‎ 


:- بی وہ شی 2 عرا وو مب 
ٌ اورپ کے عیاروں کی آہاں 7 
<0 دبوار 7م رلل ا الب کا شمم 
یں بن می ںگکیں اجار ایران کک کم 


اخ نت بںم 


7ے 


-7 


کلیاتبایایقعراقال ۴۰۴" دورسوم(۱۹۲۵ء5ا۱۹۳۸ء) کا کلام 


را یریک 
یل ری ہی و محالی و ری 
جن نہیں نومیر مری جان پڑ اتید 
رہب کی وعردت قرام کی ناد 
کپتا سے بشپ بھی کہ بی لیت ہو وحیدا 

اف تشم ہہ 

صلاۓمام 
صلاۓ عام سے مشرقی کے نین ہکا مو ںکو 
ری نوا نے دا یں شر رکو زوی نمور 
کہ تی خاک یل سے اود بے تا یں 
سی میا سے طذاں عرا اتا ہے 
کہ ٘ سک مو سیک شر و بے حا بکییں 
زنے ام طلوحع و ٹھحروب کا پان 
نک کے ای ےا ین 


ار 


کلیاتبایایقعراقال م۴۴ دورسوم(۱۹۲۵ء5ا۱۹۳۸ء) کا کلام 


جاد 
سے نم بن تر اعوال زٹی مشں 
رہقی نی پیشہ میروں کےگھر میں میری 
یر اب کہاں سے اں ننگوں فضا میں 
فطرت سکھا رای سے شاہی ںکو من گی ریا 


پاش ہے 
ه‌ 


٠۰ 


صوئی 


لاہ وت کے کے ے و 07 ناوت 
بے چارے کے ہانھوں میں نہ نا سوت نہ لا ہوت 
گا اعروز کم“-نمفرور سپاڑتا 
]گھوں 20 7 تروت 
اور مخ خھ پنٹل کا پاٰ 


الد ہہ من ےک مین کا ہے منااو ت۶ 


پض نس۸ 


کلیاتبایایقعراقال ۴۴م دورسوم(۱۹۲۵ء5ا۱۹۳۸ء) کا کلام 


دروءک 


019 1 ٦ 
فرگی نے بہت ہیی خریدی جس کی ےکی‎ 


یں اسلوبی 9٦‏ ۶ و 
کت ے ٹم کھا کر 1ہ کرنا ان شی 


مقام ایی ےبھی مردان ء خداکو یی آتے ہیں 
و0 ب77 7 روپی وی 


یا الم بس٦‏ 
٭‌ 


کات 


٠۰ ۰ 


فروج 4 ٹوا ی شور 1رالی و پیدائی 


کلیاتبایایقعراقال ۴۵ دورسوم(۱۹۲۵ء5ا۱۹۳۸ء) کا کلام 
لہ ہو بے قیدرء بے قیدری ضاد زندگای ے 


بی فطرت سے و زیت کا چھیانا مین دانالیا 


. پ ض فص 
٭‌ 


حاتےابری 


دی ھرا فظر سے اسرار سے بکانہ نیں 
مرچہ دکتا نیس میں سر پہ کلاو نمدئی 


عخل مببق سے جے سمل شام و حر 


را نے رت ںو ححات دق 


۲- یا نشم ض۳٣‏ 


۳ اسرائیی توف :ایک عقول ض١‏ 


کلیاتبایایقعراقال ۴۷م دورسوم(۱۹۲۵ء5ا۱۹۳۸ء) کا کلام 


سم سو 

ازاد لی کر 
عصر حاضر کی نؤت ک7 داروں کا 
۳ بے ارشار ک۔ فو ہوا عم چہاد 
کون فطرت سے تقاضو ںکو دہا سا سے 
شرع اگھریز ن ےکر ڑالی سے شی رآ زاو ا 


یتم ص٣‏ 


کلیاتبایاعقعراتّال ۴ دو یسوم کاکلام (۱۹۲۵ء۱۹۳۸5ء) 


عم ا ان 


مرا ندوزں کیو گے 


پتر-ا 
بہت خیری ہی ںگومشرق کے اندازغزل خوالی 
گر اس ساز کے ہرتار یل ہے مرک پای 
نھکواۓ گئ اگنے جہاں سے ہند کے شاعر 
خدا نے خو بک ء اپنے فرشتو ںکی مکببالی 
بصى٣٢‏ 


چا نہ انی نہیں سے آشیاں اتا 


پر 7 یی :انان سے گو سروو تر 


عییہ حور و جناں ٢‏ عا حم خال مش مج 
2.۰ :و ے وچور تا 


فک پ س شس٣‏ 


کلیات باقا تیشم اقال ۴۳۸ دوس کا کلام (۱۹۲۵ء۱۹۳۸ء) 
ابا لک نملامہوں سے خطاب 
دو وی میں راحر کف س حشرت ےترم 
دیستو ںکی جا ؛ آ لی ں کی محبت سے تام 
علم نا جاتز سے ء دستار فضیلت ے تام 
اتا یہ ہے ء فی کی عبات ہے عام 
سای لت سے مین کا گزرنا سے حرام 
صرف جینا ہی یں سے بلمہ مرنا سے مرام 


۰ ا خپارابیمان+۹ جو ری ع۱۹۳ء 
ات 


خاعر کےفرشی نام ےگھیس 
پر زائوواور سو ا 
سام دوٹوں کے سے وین وسیاس تک بساط 
لاۓ ہیں دونوں کھلاڑی اتی اٹ یکین 
نقطہ ذاۓ فرگی -ے سے دولوں کی کشود 
بیردای نقتظہ سے جس سےگون جو جانا سے مین 


ایا یخعراقچال ۸9( دو سو کاکلام (۱۹۲۵ء۱۹۳۸۲ء) 


اشظار مات با ے دونوں کی خش 
مت رکیوں کر یہ ہوں گھوو اور فل سن 


لت و لت سےگومحروم ہیں دونوںگھر 
و لکش میں روا سے النقاۓ سائنین 
لے انز کا نوراھ نار 
یئ فنھویں بے چارے ظف کی لان 


اب تم قادیاں یس سے بال ھی شریک 
لازم آیا عولوکی پر محیرہ سوۓ ملین 


احمانع اخپارءموالڈاءزی میا ںپرا/شر(معم) 


تُ 


ہناگی ی 
ر0 پچھیٹر جو خذت کا فسانہ 
کے کا سر فخل کا اک نازہ واری 
9 .وج 
الد سے نیوں نے بیٹی مع رگذاری 


-۲ 


ایا یخعراقچال ۵۰م دو رس کا کلام (۱۹۲۵ء5ا۱۹۳۸ء) 


الد مب ے خراود گی 
ہ رص بے میں ہیں جس کے نی جے براری 
احمانع ا خپار موا لہ ڈائری میا لعبرالشدر(معم) 
تّ 
٥"‏ 16 0۰2ہی" 
سوۓ کوہسار اڑ گیا مولوی 
بڑے بول نے جب کہا ض٣ع‏ ٹوی“ 
کول مع خر سے پچتا 
ھکر تر دو ٹر بی 
ون او تر وا وش 
کر لوان زیخ“ 
کہ وشیدی سے بالے کی ی٣‏ 


احمانع اخہارءموالڈ ای میا ںگپرا/شر(معم) 
ت 


لاال لا گی 
ہوگئی تھے ہادیاین قادیاں اس ےر سار 
اب گہاں ے وہ سار بادیالن تادیال 


ایا یخعراقچال ۲۵۱ دو یو مکا کلام (۱۹۲۵ء ۱۹۳ء) 


التڑ ا بیوں اس فر ال لی اشامعت ٹل ہوا 
ھی بی نے اڑا ی ” ارمفان تادیاں“ 
۹ھ 9ئ۶۳ 
وج نر بد نے زین وآ سان تادیاں 
یر اب باب کی جج کو نظ ری نہیں 
ے فک کے میں رما قادیاںل 
اس فور جنیاب میں پام وزارت ے لنر 
چور جڑتے مہیں لگا کر زدپان قادیاں 
لاٹ سے رو ےہ گے بت کے استتقبا لکو 
دنن روزنی ے لگا سے داي قادبان 
یع و وق یل نو چاد 
خر غلام ام نہ بھا ھتان تادیاں 
لالہ للا گی کے سن بوز 
“”الفرگی اکر“ آواز اذالي قادیاں! 


احمانع اخپارءموالڈامی میا ںپرا/ٹر(معم) 
ت 


تعراتال ۵۳۲ دوس کا کلام (۱۹۲۵ء۱۹۳۸۳ء) 


می 

اتادیارل 
نبا ٭ یاں ہر وو نبلفاد 
ووات, کے عقائن جو اور اف 


ای ئن بپیاز یں ئ اف 


اسب سے ان ے ے ”شا“ 
کوئی بئیں کے جاں مروں کو 
سا رے ما ٭ًه مادراطۃ 


بی 


ٹن 
کہ چچوہوں کو غفلت مناسب میں سے 
اک کا ا کت 
بٹا لے بش تھی منک ے تادیاں کا 
٦پ‏ روم 
سان بماگیں کیسا سے فو 
مور ہیں چادہ مشرکانہ 
مری نشی ویاں کو اللہ کا 
آو اع گت کوک ام 


کات اتا 


"یھو 
ریاوڑرے زیامر کہ راب۷ 7یا تا 


احمانع اخپارءمکوالڈامزی میا ںپرا/شر(معم) 
ت 


نھادی 
بوڑھے ووٹر نے کہا اپۓ جواں مخ ے 
ق سے سس رود( نل رر 
بھم فط اشرک و گا وخر و مو وشن 
انھادی ہیں گورز کی سواری کے سی“ 
سک ین ےپ کا ےی 
رح ان کے ہیں سرکار کے نز د یک بلند 
ول زر بش ت کی جٹی سے فرگی نے نہیں 
میرے نہیند جس ہیں ایک میں سو بوند 
خواچی ان کی مس لم سے زہانے میں گر 
خواجان کہ ناں ا ز کب مزدور برن ر٢‏ 


احمانع اخہارءموالڈ ای میا ںگپرا/شر(معم) 


تَّ 


شعراتال ۵۳ دو یسوم کا کلام (۱۹۲۵ء۱۹۳۸۳ء) 


کلیات بایاےشمراقال ۵0۴۳ دو یسوم کا کلام (۱۹۲۵ءت۱۹۳۸ء) 


ایک کالہ 


اادی: 
دن و خرہب سےکیں ای ساس تکوش 
ہارے ات کی یور سے انا متصور 
کفرو یں اگے زہمان ےک یشن سمازی سے 
ہیں بھی ای ککہ ے سب کا فرگی مجور 
تّ 
راجنندرناتو: 


وی و ا کی 9ز دی محرا کن 
وسی یھ ام اور وی ڈو ور 


ودی بھوٹو سے ہے . دی مر ففل سن 
اندری پچ تہ مال آپ روال +ست کہ إوڑا 


- احمانع اخپارءبوالہڈائری میا لعبرالشر(معم) 


تُ 


ا7اراوراتیاومڈےت 


0 رک وی و کے 
بدڈے لوکوں ے افشغال عراوت بیز کے لے 


کلیات باقا تیشم اقال ۵۵ دوس کا کلام (۱۹۲۵ء۱۹۳۸۳ء) 
اوھر ناکختی ‏ اتار کی مجر سے ہار 
اوھر اک عقر) مشئل ہیں دستاویۃ کے ہے 
اوعر ہیں خالصہ گی کی رضا جوثی کے افمانے 
اھر ایھاۓ فتنہ خواعی گر کے تققے 
نان ہیں اور وہ چلا ہو کے ہے 
بر کے ہیں مصلمانوں کو مجر مل نہیں عق 
عبٹ ہیں سب گی جنوں 1 می ز کے تق 
یہ کے ہیں تہاری عافی تکوئی سے غڈاری 
ڈراتے ہیں ہیں سکھو ںکی جن جیز سے تے 
مرن قوم کو ہہ ڈاکٹر نہ ہیں رت 
انڈ لے جا رہ ہیں کان مس پربیز کے تھے 

- احمانع اخپارءموالڈاءزی میا ںپرا/شر(معم) 

تّ 
سورار ےکا توف 
کچ 2۳ ئ02 ہنروکی ات 
ڈننا سے وہ ٹف جات ۓ گی س ل مکی شرافت 


تعراتال 0٦‏ دوس کا کلام (۱۹۲۵ء۱۹۳۸۳ء) 


اند یش اسے بے س ےکر مٹ جات گیا ہنی 
اردو پہ ء اسےکگکر سے ء7 جا ۓے گی آفت 
بی ام کی ٹول ی کو سے رام کی پچھتری 
الگرز کے سا میں بناۓے وہ غلافت 
چا سے2 مسا“ بھی ای خوان کے ریڑے 
نس خوان رکھاتا سے ”ططارام“ غیافت 
اھاۓ فرگی ہو و مین إں دولوں 
آ یں کا ج قضہ ہہو نو بیٹجھ رکم نہ رافت 
توم ں کو لڑانے میں سے میڈ رکی تی 


شر ے جو ہار و یوار حافت 


ٴ 


٭٭ھ 


ابی سر سے ملاں کا نت 
ہندو کی سیاست سے کہ کان ظرافت١‏ 


احمانع اخپارءمکوالڈاءزی میا ںپرا/شر(معم) 


تُ 


اتی دی علوم تک شلث 


ااظ وین نے سندر الا 
اور ہنرووں نے ن نر سنھالا 


ایا یخعراقال ے۲۵ دو یکا کلام (۱۹۲۵ء ۱۹۳ء) 


ووارا ہو ء جب ہو پا یاٹھ الا 


۵0 ھت 
وزارت کا مہ کیں 7ت ژٴوالا 


احمانع اخپارءمکوالڈا می میا ںپرا/ٹر(معم) 


تُ 


دلیتاسروپ بھالی پر ما نر گی 
ڈرت نیس ہیں اسنڑی جاٹپی کے قر سے 
دی روف بن گے یں دیتا روپ 


ہندوکی رک میں خوان شباعت سے موبجزن 
گویا وہ دال گچھوڑ ے بے را نے وت 


ایا یخعراقچال ۵۸ دو یو مکا کلام (۱۹۲۵ء ۱۹۳ء) 


7 ۶ "وم" 
ان کے پمالوی ہنرو سا کی نپا 
احمانع اخہارءموالڈاءزی میا ںپرا/شر(معم) 
ت 
2 : 
اکا دیار ی اورنصب وزارت 
چو یھ رک سر شہاب الد بین جو پیل انکر تےانییس وز رنیم بنادیگیا- 

اب میں ہوئی سے مناصب کی تارت 
لوج صرارت ہوئی قربان وزارت 
و نع نراری“ ۳ ىہ ے ا راری“ 
دی پچ ری صاح یکو سثرر ے بثارت 
ہروں ت لے لڑتے ان نی کے نے 
نت نہیں مرحیع کی جائۓ ثہ اکارت 
نی ےشن ون ات نا 
سورا ذو ہشن ین شہ و م) حمارت 
کس ڈعونگ پہ نازاں ہوم اے اپڑساو 
ا ککپھو کے یں اڑ جا ۓےکی کاخ کی عمارت 


کلیاتباواےتعراّال ۵09۹" دو یسوم کاکلام (۱۹۲۵ء۱۹۳۸5ء) 
7- سے اور توم ےکی تم کو سروکار 
ا بک وب کے مالک ہیں وہ ہج یکو 
نے دی ںکی اصیرت سے نہ دنا کی لصارتے! 

- احمانع اخہارءمکوالڈاءزی میا ںپرا/شر(معم) 


ت 


کلیات پاقاےیشعراتال ۰٦م‏ دو رسو کا کلام (۱۹۳۵ءتا ۱۹۳۸ء) 


وں کے جز وی متروکات (ہل جرل) 


7ئ ضر 
عرایہ پنقی نے کیا خوار جہاں کو 
یز ےقوموں کے لیے مرگ مفاجات 
کابینہ پہیناں ء رلزل ےکی 
ل ار و عادل ے لو لا دور مکافات! 


یا ججر ضا 
۰٥‏ 


فرشتو ںکاگیت 


جرغ سے کی خرام اٹھی اورستارہ نام ای 
سے ینلم 1ب و لے پیر ناقام ابھی٢‏ 


النا گ۰٣‏ 


کلیات پاقاےیشعراتال ۷ دو رس کا کلام (۱۹۲۵ءت ۱۹۳۸ء) 


شون پانہ رو مرا ء جم سفروں بے از 
آپ کی کارواں بہوں ٠ں‏ آپ می مہ رکارواں 
07 5 وہ ہہ کیفیت می 
خون دل ور یں سے ڈول ہوگی مری ففاں 
ازم دل مکا نے است ازشم دیں <کایے است 
آو جگ رگراز شع ء سوز وروی ّح است 


ات 
ترروم 
ا کی ہگاہ نالصییر ء ال کی حیات بے تبات 
رہرین تن غزنوی مفربیوں کے سومنات 
عاتہ زوٹی وشوی یں ا وہ رہ و رکہاں 
جن کی نظر میں جے بھی پردگیالن نات 


کلیات پا یا ےتعراقال ۲ہام دو سو کا کاام (۱۹۲۵ءتا ۱۹۳۸ء) 
ملت ے ظا ے 01 وہ ملت کی 


نی ا شی کی می ام ات 
قفش سے را کی کی کیا امیے 
ت 
روم 
9 - ے۶ ۶ ص9 ۶ھ 
فان نی گنی :ای ون کی نے و 
وارتے لم ا تیاء 2 ہن دہر یں سے درںن 
اب سے خغدا کے پاقھھ میں ائلي جم گی آبرو 
اس کا گناہ گار ہوں ء جچھ سےبھی شرصار ہوں 
صاپ اخیار سے ء میرے معالے میں نو 
گر چو اۓ شو بھی رحصی ش بکی سے دییل 
00 رر مر 
727 90پھظ*09*َ0۳“" 


: کر ٦‏ : بر شی 
راز و از ماریت سز و گراز گپرو 


تُ 


کلیات پا وا ےیشعراتال سم دو رس کا کلام (۱۹۲۵ءت ۱۹۳۸ء) 


عم و جع رکی جزش ء پا کاب ہیں تام 
کر سے سوز نے یج کور کے 


ان نی کا بے 


و دلوں سے ہوگیا ٭ 7ف تھا درو تاب 
علق بزم راز میں گریی پاے و ہو نہیں 
ہرے سوا یہاں کوٹ ٠2‏ 


تُ 


یقت زان تق سے نیز کک 
7 واتار کو دہ اں نے درو خرب 
اق نت زوٹی خرری غوذا کررۓ 
مت گراں کو توڑ دے رن٤‏ عیشہ خلب 
غضلےی یں خطا ء دوري چاودال سڑزا 
مر گناہ بھی جب ہ میرے عراب بھی تجب 


تُ 


کلیات پاقاےیشعراتال ۴م دو رس کا کلام (۱۹۲۵ءت ۱۹۳۸ء) 


ری ھن کو کک ہے یے جا گ٢‏ 
کر ای دی کا ا 
صورت زی ادبہ ء ممیرے خوں کا گیا حاب 
7 راتثال نہ اوچرء وس ت گرم 0۳( 
پر خا فرشے متتی ریں مم زرں 
27 ران دریاہ کو مم ٦رت‏ راز کر 
اش و سا کی طاقیںء ترے جرد یں تام 
ہر تفما کر الم 1 ای مار ا کر 
ور حور ای ناو اک ظا نک 
ا ا ا ا ا 
انی سپاہ سا ز کہ ایک مھی شبر دل نہ بپھوڑ 
ایک بھی بر دل نہ چچھوڑ ء سیینوں میں ترک جا زکر 
ا لپ ہام اٹھا اب پا در بت پاز کر 
جام جہاں نما ھی دےء ودست جہا ںکشا ھی درے 
برق گی رک سز گن راے تغرت با کی کے 


کلیات پاقاےیشعراتال ۵م دو رس کا کلام (۱۹۲۵ءت ۱۹۳۸ء) 


مشرقوں کو پھر وی جزب ئلندرانہ دے 
2-7- رزاق ڑے ہ زور ففنفانر ڑیے 
طڑلک خر وو و بہت ادرانہ دے 
73 عطا 3 2 فرگیانہ لوڑ 
سز رروں زیادہ کر قوّت تاہرانہ درے 
مین پاک پا کو ۶م چیبرانہ دے 
ہیں جوضسولی فرنک ء ان سے مگ لہ نہ رکھ در 
اور فق شر کو شوہ ولراعہ دے 
رر کل ار و کون 
نان جویں قول ے ء ضریت جدرانہ دے 
آب و ہواۓ شر سے عل“ زندگی ضیف 
_وکر کیو و وشت کو طخ خترادر رے 


کلیات پا وا ےیشعراال 4۷م دو سو م کا کلام (۱۹۲۵ءت ۱۹۳۸ء) 
مم کرشہ سازکھول مئزۃ ہگاہ دک 
نم میں ایک بار پھر گریی الہ دیما 


-_- ابناً ض۲۷ 
ت 


جاد یی کے نام 
بلنعر ے تزربی بت تو گر روزی کیا 
پچھ72 ان نیب نین و زار٢‏ 
۲ بات ض۹ 
‌ 
اکٹ جوان کے نام 
ھی نین ھیربی می ہشن بدن بیداد ے خر 
تی نینوی ہے لمزم تکردار سے مرا" 


٢شضانا‎ - -۳ 


ے٦‏ دو سو م کا کلام ۱۹۲۵ءا ۱۹۳۸ء) 


صا فی فریں بھانے گی 
زیں ے سارے نے گی 
سی حر گل کلانے گی 
پنایں پر محل بھانے گی 
زیش ء این سے سہے مقاب جج 
از ون کے کے وین کات جز 
کہا ہے دل سے پرندوں کا ۶ 
محبت یں پاارے ہوم ےکی سے جمیت 
وه 0 مت و مم ہو 
انت 5 بِ 75 سرک ہو 
پت 7 اتا 7 کت ہوا 
بدے کھوے نالوں میں بنا ہوا 
امت ٤‏ کس تا ٤‏ مت ہو 
لیے رٹ 22 رز تا ہوا 


تُ 


کلیات پا وا ےیشمراتال ۴۸ دو سو کا کلام (۱۹۳۵ءتا ۱۹۳۸ء) 


چک اش کے گلوں میں نہیں 
بث ان پا ی میں میں میں 
ادب اس کا سے ناغۂ لے خرول 


یں نس میں بائی ۓ تد جیل 
ت 


ترسم 
ظ بے کو نر مخیر دے 
زہاں وو کہ نظ رکا دل پر دے 
تما کو مینوں سو از کن 


گاہوں کو دانائۓۓ اسرار کر 
۰٥‏ 


ر کر 1 
حات 
مم 


بر شغیرة حشیر سے جان بھی 
بی چھ ہر ترا تی بھی سے جان بھی 


فض4 
ف۰ 
ہر 


619۹ دو سو مکا ام ۱۹۲۵ءا ۱۹۳۸ء) 


++ 


اجالا جو سٹا تو اٹ ىئ 
زرا اور ٹا و گوہر بنا 


بت ہے جاک ام میں 
ول این جات ہد نے دام مین 
ردی اک کی مورنوں میں ایر 
گر ہ رکیں ایک اور ہے نظیر 


ٴ 


ط ط 
ڈیو رج ھ رھ 
یی کی ےک 
انےنےے٭ 
ب7 


ج ری تن سے مری 


ٴ 


قیفر و کا 
تَ 


:1 


کھیں 
کن 


تماشاۓ بیداری و خواب دکھ 
معثرر نع اگ گرداب 717 
خی نکی ہوئی ہے خودی سے مور 
پر سے حاضصل کا ود و شور 
بر مار زان دیک و دور 
ای چلۓ سے فروں شور 


- 


کلیات پا وا ےیشعراتال ۰ دو سم کا کلام (۱۹۲۵ءتا ۱۹۳۸ء) 
سور تم 
ودک گی لی سے پا ء جن 
بی کار آ زا ے ء ہڑی جخ تکیشی 
نی آں کے اھروز و ڈررا ور 
سردد جہاں کی مم و نے 


ال ے غطیر دی ے 
تَّ 


:1 


‌ عالے تاب گنو خی 
ے انار گ ؛ سن راو خودیا 


ا- با چیم بس ۵ با چھارم ض٣‏ 
‌ 


زمالہ 
ک نادا ںکی خودفرجی ء ری سارہ بی 


گحبریرا دہ چانتا ےء زگاہ سے جس کی عارفان 
+۷ پان م۴ ض٢‏ 


- 


کلیات پاقیایشعراّال ا٣‏ دو سو کا کلام (۱۹۳۵ءتا ۱۹۳۸ء) 
َّ سم ہ+** ۳ 
رو ار یآ دم کا اتتتبا لک کی ے 
نالاں سے ڑے معود کا ہر جار ری تر 
اے جس مت ہے خرییار. تی ٌ 
اناو ۳ تو مر ا7ق ور 


اے تاج خلافت کے مزاوار ! تزری ٹر 
ری 
یی با ات کی و تی سے 
ہی اھ * جماگی ربھی سے 
یر ے نشی تخیرتی سے 


مکش وشوں رپ وم 1زار! ری خر 


کلیات پا وا ےیشعراتال تب دو رس کا کلام (۱۹۲۵ءت ۱۹۳۸ء) 


ا ات مان گوراں می زم 
لائمم وت و 


٦ 


-- مودہ پال جج رملم گ١٢۱‏ 


کلیات پا وا ےیقعراقال ۳م دوس کا کلام (۱۹۳۵ءتا۱۹۳۸ء) 


انموں کے جز وی منٹروکات (ضریگیم) 


ما ےمم 
گہن کیا ول نہ ھجم خروب سے جن سکو 
ڑے جہاں میں دپی آ اب ے لپ ہام١‏ 


وٹ 
‌ 


چمارو 


۰ 


بش نے بہا کی کر ری کا ہوں مترف 


۲- الياك١۱‏ 
تّ 


ہنری اسلام 
0ت رگ 
ارک شا ان یی کی ا 


۳- ای ش٠‏ 


کلیات پاقیاےیشعراّال ہم دو سو کا کلام (۱۹۳۵ءتا ۱۹۳۸ء) 


-7 


مدان غرا 
نم سے سے نہ خوچگی سے مود سے مج سکی 
ا7 میں وم لو ے 7 ہواری! 


ںا 


نال سلماں 


برکانہ میں ڈول ثہارتٹ ے وین 
مرن ےکی لے میس تو مرا سے ہبت جلد٣‏ 


این کے 
ت 


اشامت اسسلام فیگستاں بش 
فگیوں یں اشاعت زان ہاڑیق ے 
بی خناظران سیاست گا 'ہرہ بازیا ے؟ 


الین کے 


کلیات پا یا ےقعراقال ۵ دو سو کا کلام (۱۹۲۵ء۱۹۳۸ء) 


- 


7 باذن ال 
بر نکی قبر یس دلی جس سے زندہ و رشن 
می کا نل موزوں دے پان الله 
"0ئ اٹہپ اوراں کا کت ے 
کو وادکی یں سے ”ٹم باذن اللہ" 


آرتوںر 
‌ 


بر رسہم 


تیرے انتا د کہ ہین قلب و نظر سے محریم 
نان بیو نین کے من نکی انی 


قوت درا ے خوابیرہ 7وں ک2 -- 
زندگی موت سے ؛جھودبتی سے جب ذوقی خراشل 


و ہراساں سے میں کی فراوال ی سے 
اور ری ے بے جازہ جرلون کی تش٣‏ 


ایا کےا 


کلیات پا وا ےیقعراقال کت دو رس کا کلام (۱۹۳۵ءتا۱۹۳۸ء) 


این دوور میں مار ھ> کاہ ے اناں 
نع یک رت رن یا 


یا پش ںہ 


سی فو تاسلام 
عرقیق ہآ لود تڑری فقوت دی سے 
ووکا لک عدم سے سے رج س کا وتور 


اینآاش۸ 


/0077۷)ھ0۷"۷ 
فک کاعلم وشن سے خو نی ؛ ‏ بھی خولی بنا را سے 
کہ تی ععقل بہانہ جو گناہ این پچھیا ربا سے٣‏ 


١١كانا‎ 


-7 


کلیات پا وا ےیقعراقال ے٣‏ دو رس کا کلام (۱۹۳۵ء7 ۱۹۳۸ء) 
سیاست اف رک 
خدا کون و مریاں تچھ سے بڑ گیا اگریز 
کہا ں کی تنآ نے عیں پیدا ف امیر و رل١‏ 


بیاضش ص٣‏ 
‌ 


اسرارملائی 


حم اس راز کے اید تھا میں بھی نہیں 
کومعلوم ےکیوں بندہ سے بنر ےکا غلام 


روز حا نشین جی 7 وی ارہ و ےی 
میرے نزدی ککہیں اس می کب کا مظام۲ 


۲- الغ]أ ش۱۸ 
الپی سینا 
جب سے ہوا سے دین وسیاست میں افتزاتی 
ذار تگرکی جہاں ٹس سے اقوا مکی معاش 
کرتا سے مازہ قانےً ہر ران جال٣‏ 


٢٢ الا‎ -۳ 


کلیات پا وا ےیقعراقال ۸ دو رس کا کلام (۱۹۳۵ءتا۱۹۳۸ء) 


سلطالی جا ید 
الاک ہیں بورپ کے ش مان سیاست 
ان شبرہ پاذوں کے رک یں دلاو 
سور ومی کیا کے بی لیے پارک 
اراس مان مگیب پوپنا 


یا نف جس۰٣‏ 
ه‌ 


مسویٹی 
جس جنوں نے تم سے بچعنواکی سے اف کی اک 
سے وپی آزار میراء سے دی تا علا ن" 


اِناا ش٢٢‏ 
تُ 


گلہ 
شہروں کی شپ جار میں یزب ا ال 
پوت سے مرا نشین بھ یکہیں ے ٣س‏ 


ا٦١٦كکاتیا‎ 


کلیات پا وا ےیقعراقال 9 دو سو کا کلام (۱۹۲۵ء۱۹۳۸5ء) 


ام ؤسین 
دنا میں اگر سے جی کو نے 
7 
اکن ۳ اک دزن کا 
پپ ضئشق سےا 


تُ 


محرابکل افغان کے انار 


پتر-۵ 
شام اس کی ہے رشن نہ حر صاپ 7 
ت 
کر ے 


(ب) 
جس مکی نے اپنے اعد پایا اینا آپ 
جاند حتتارے ائں می کے ذڑوں پر فرہان 


اق خوری پان 
او ئل نطغان 


کلیات پا یا ےیقعراقال ۸۰ دو یسوم کا کلام (۱۹۲۵ءت۱۹۳۸ء) 


بس مات پفاٹسی ہو ہیں وعرت 2 
اش مت کے فرزندوں نے ادا ہرمیران 


انی یف پان 
او ٍئںٍ افقان 


بئر_۱۳۴ 


دل اھ گیں ۲1 نے ممیت اپ مل 
یہ لال تد رو ے ء اگتا سے کالہ جو 


زور ا کا ید ال ءج اس کا شرنشائی 
چو مرر غردا وڑے بت خالنت رنک وو 
لت 


بر ۲۰٢_‏ 
1ج میں را ان کو تظأارة رو وگل 
لے نہیں گشن میں شیران نیتانی 


ٍ پا ٹم ۲۵۰۲۳ مسودوضربکیم :آ| خر یصفات 
ت 


کلیات پا یا ےتعراقال ا۸ دو سو کا کلام (۱۹۳۵ءتا ۱۹۳۸ء) 


مفزون کے دی مرکا 


ارمغا نما ز(اردو) 


ای س یکس شوریی 
پا وا یر 


ا افکار خی س انل ااں کا صور 
عال حم کردار ہزداں ٹریب ء آم جار 
ه‌ 


اس اپنےمیبروں سے 


زبیت جج سک یکرے بر ہگاو محر و جز 
کو نکر سکتا سے اس تہن ی بکو بے آ بروا 


ضس شم ص۸ 


کلیات پا یا مقعراّال ۸۲" دو سو کا کلام (۱۹۳۵ءتا۱۹۳۸ء) 


سو روم 


<کاہت غ فرقت ییاں کروں گکیوں کر 
وا روں ست تر ائ راز بر گور 


اض نشج ش۵۱ 
‌ 


آوازخیب 
پیا ٹا گیا رت تھے انب ت کان 
ہیں تیرے سقائل میں فرشت بھی عرق ال١‏ 


این آ۵۳ 


کلیات پا وا تیشعراّال ۸۳ دو سو کا کلام (۱۹۳۵ءتا ۱۹۳۸ء) 


مز لوں کے جز وی متروکات (ہل جرل) 


خزژل۔۵ 
وو لہ در ےکہ میری ید میں ہو جس کا شور 
خوااں میں میں خ مریأ بہار کا 


پا مہ 


فزل۔۷ 
ینغ تج لاق ےط رگو ںآ واکھز 
بی بر فی بے مھاہا بگھر مرا عاصسل نہ بن جائے 
دہ دل ء لاہہوتوں نے ورس استتغنا دیا ج سکو 
کی موق بے بروا کا پچھرگل نہ بین جائے 


ضا آک اور بی عا مکی ہوگی سائے میرے 
گر ڈر س ےکہ بی بھی یداگل مہ بین جاے٢‏ 


۲- ایا ش۱۳ 


کلیات پا یا ےتعراقال ۸۳ دو رس کا کلام (۱۹۲۵ءت ۱۹۳۸ء) 


می تس 


صلی دوں تو ول کی نا امیری اور تی ے 
خاب ؟ میزشی خلوت میں بھی می شر خنری 


پ یرش 


خزل ۱۴ 
یی وہ بیراری ین فا گرا نبا ھا میں٣‏ 


ا ا سا ہس 
ای ترے ہل میں سے اک لوہ زوا یٰ۳ 


۳- این کے 


کلیات پا یا ےتعراقال ۸۵ دو رس کا کلام (۱۹۲۵ءت ۱۹۳۸ء) 


نظ رآئی نہ بھی کو بوعلی سینا کے رفتز میں 
وو حمت ج کو تک وکرے شائیں سے بے پروا 
نآ اضلل: جیانع تھا لان فی نے 


یم فرزنو یکین ے' آل دون است ہا والا' 
تَ 


قزاوںل 2 گے وسظور بھہوری ! مواز الد 
غش سے سے غخلام اپنی بای ہے بر وے پا 
خودب یکوگر چثدرت نے تھا رکھا ہے بردوں میں 


7 میں ہوٹھی ای ےمھی پرا' 


-- مودہ پال ج رر ل ض٢۲‏ 


بک 
مہ و سارہ 5 اداں گر ڈال اق 
کہ ترک اک پر ینا کی ذو یش سےگردولں۲ 


۲- ایناأكض۲۹ 


کلیات پا یا ےیشعراّال ۸ دو سو کا کلام (۱۹۳۵ءتا ۱۹۳۸ء) 


رپ روز گار 4 پا رگراں کے وکنا 


پیم ض۹ 


رو رے 
2 و 00 
زان مکی کی دنا یش نہ شھر ایھا نہ من" 


۲- مود پال جج رل ض۲۹ 


غزل_۸ 
تھی رہ جائۓ گی افرن کک ناد کاری بھی 
کہ ہ رملت پآ جا سے زمانہ یش سانزیی کا ٣‏ 


۳- اس جم ض۱۰ 
ات 
حزل_ا| 
اکرچہ میری جمیں پر میں نتان جو 
وت ازع کے کی وی 


ہ- الین گے 


کلیات پا وا ےیقعراقال ے۸ دو رسو کا کلام (۱۹۲۵ءت ۱۹۳۸ء) 


الو راب سے بر کشا و مرجب تخل 
کہاں وہ حوصلہ تُھ می سک فو سے این تراب! 


پیا لم ك٣‏ 


فزل ےا 


کیا و رک و ہواۓ جچرنی پیا 
کوئی رو کہ افرگی س ےکہہ دے حرف تبرىی٢‏ 


۲- الیذآ بے ممسودہ پال چچ مل بک ۳۹ 
تُ 


غمز٘ل_۰٣‏ 
ہم 1ہ نرل سی دل 2 ابی 


ٴ 


کے سافر سس ا یور سہیں٣‏ 


۳- انس مم ص۰٣‏ 


٥۵۔لزغ‎ 


گل نپلثر >. اذا ول ٹواز ء جال ب سوز 
بی زط و او جراوں کی دلبری کیا کت 


ك- ایآ ض۱۹ 


کلیات پا یا ےیشعراّال ۸۸ دو سو کا کلام (۱۹۳۵ءتا ۱۹۳۸ء) 


مری نوا نے کیا بھحدو آشھار ایا 
ربی نہ با کو ی میرے راز داں کے لیے 


ارچ موچ سے تو سیل جھ رو من جا 
ذراگراں بھی تو ہو ء بر بیگراں کے لیے 


۲ اش یکم جس ۹ا مسودورل ٠۸‏ 


غرزِل_۲۹ 


کی دن جن ین ای 


۲- انآ ض۱۹ 


غمزل _۔۳۱ 


ص٤‏ سلْٗ سر ےھ ما 
ہا کوئی مم خر نب یر٣‏ 


۳- ایا کےا 


کلیات پا یا ےیشعراّال ۸009" دو رسو کا کلام (۱۹۳۵ءت ۱۹۳۸ء) 


اقال ء مرسوں نے وانش تو عا کر وی 
ایابپ ہو گیا ے جذب ف'ندرانہ 

ملا ۓ عم نظر نے اشتت من پیٹ ڈڑالی 
5 5 


ے عریںل سے داتہ داا 


ہہ 


.ة۹ کا لم گ٣‏ 


۳٣۴۴لزخ‎ 


ا یکر غاکی میں تی سے خودی جس ہم 
بر زبیں اس کا دنا کی شہنشای: 


۲- الياك١۱‏ 
غزل_۳۵ 


ولوں 0 0 گے معلوم ہوئی یت 
کوگی رز نے شا وعدة دیدار عام آيا٣‏ 


۱١كايا‎ -۳ 


2ھ 


دی جام رجش اب مک وی ائل طط لی ابکک 
دی تماق سے مجن میں حر تیاتی 


کلیات پا وا ےیشعراّال 0م دو یسوم کا کلام (۱۹۳۵ءت ۱۹۳۸ء) 


جدا تچذمپ عاضر سے سے انراز ملا ی 
7 ے گغتار آ1 فائی ٤‏ سے کردار آفائیا 


ہ۷ پا دش ض۴ 


غزل ۳۲۸:- 
ٹن کے سومنالی کو جتوں کا کام دیے ہیں 
ہیں اخبار” فرخولی ون کون ری 


١١كانٰا‎ -۲ 


مزل_٭م 


جہاں اس سے خش نر ابھی اور بھی ہیں 
بھی اے سافر عفر اور تھی ۶ر 
نا ۰غا نکی نی 
عبت کے مندر ائھی اور بھی ں٣‏ 


۳- الن ش۱۰ 
ت 
رزل ۴م 
کل یئ 1 وین تی زوالتقار گی 
خوت ش کہ جیوکی صوئی سے نے خاس و دععل؟ 


۲- اذا بک ۹ مسودویک ا٦‏ 


کلیات پا یا تیشعراتّال اع دو رسو کا کلام (۱۹۳۵ءت ۱۹۳۸ء) 


ایک جو سیل حوادث کو وگ رگوں کر وے 
٦‏ 1 دی ماک میں سےا 


ہد پان ںم م۸۶۵ 


فزل۔۳۷ 


یق خر ہو ہو تپ جم 
و کا سے یی انآ 


ھرکی نوا بس ہے ناداں ‏ مفوں کے پا سکیل 
و سرفوںی کہ مممر ہو بے عصارۃ جاک 


میں نہ موکہ جہاں کے ہیں آخ ری وارثٹ 
فی ہر ان خ وب اک٠‏ 


ا خقخل کی محردش یا دل کی جہاں مگیری 
ا جل بای پا علا شران 


ا ری اسان انال 
سو سلطالی پا خج نتر 


کلیات پا ا ےیشعراّال ۲م دو سو کا کلام (۱۹۳۵ءتا ۱۹۳۸ء) 


با گی جے سید کی گن دای 


ت 


۲- مودہ پال جریم کےے 


ت 


خمزل ز۵۷ 
سے کوئی اور لہ مرل 5ھ شوی 
انا ہیں بھی ہیں نمامیش ء مساج دبھی خحو ش٣‏ 


۳- این کک ےے 


زل ے۵ 


کلیات پا وا ےیقعراقال ۹۳م دو رس کا کلام (۱۹۲۵ءتا ۱۹۳۸ء) 


رہرو جاں از کی غیرت مردانہ دکھ 
1 سی ول راعلہ و زژاو راہا 


مودہ پال جج رلک۹ءے 


کلیات پا یا ےیقعراقال ۸۹۴ دو رس کا کلام (۱۹۳۵ءتا۱۹۳۸ء) 


زلوں کے جنز وی متروکات (ضریگیم) 


2*0 
تی ری اع حات ۷ مم و جنر کا مرور 
مز ایل گرڈ و یہاں کا تھیل 


ہر ال کاو وی و مہاںل ے وورا 


اش نشم ك۶ 
‌ 


07ے 
۷۰ "۷ 
اللي سنا کی مجثت سے اح یر 
ہوتے ہیں اس سے حقل ونظر اک 
حا میرے ]ٴ 


ٴ 


کت 
ید 


کلیات با وا ےیقعراقال ۵ دو سو کا کلام (۱۹۲۵ءت ۱۹۳۸ء) 


رصت ہوئی ے 7 ساد مب 
29-6 ۰ 2 کے ملکلفا تا 
ا- صوئیءاگ مت ۱۹۲۷ء 
قطے 
روں‌ الزْہٗب 
کت کا ینتک ای را 
رتا سے بتاب دولوں کو مرا زوتی طلب 
7 ا 
دوسری ےآ پکیپنٹی ہوگی تن روں ال ہب“ 


۰٢ش‎  فروورس‎ -۲ 


کلیات با یا یقعراّال 1م دو سو کا کلام (۱۹۳۵ءتا۱۹۳۸ء) 


-۲ 


ربا 


بر سے ہر و اہو ئا سے شاین مد 
کر ۰ 

یہ آب دک کا کیل نھیں ہے ١‏ جہالن مرد 

ھرنے سے حوف تی کے انار قٌ 

دنا یں موت مرد یی ے پاسبالین مرد 


ایک۵ 


انل مر فواۓ پریناں مں ڈوب ما 
شس نے دا سے تجیکی خدی کا کے سا 
یل و رین نے 
ارزا ہیر ے تو صفت شعلہٴ پا 


الِا ش٢٢‏ 


مت 2 7 زندگی رات 
فظط یداد سے کھویا ہوا رل٣‏ 


ایتاأ٘ ض۱۸ 


کلیات پا یا ےقعراقال ے٣‏ دو رسو مک کلام (۱۹۳۵ءت ۱۹۳۸ء) 


ری 


متردکر باعیات 


ارمفان از (اردو) 


رباعات 
میں میں مل سے کراں دک 
گی کارواں پر کارواں 717 


اھ رم رھ وا 


ٴ 


صارالوں ٌ نے پٍداٌاںل کیا 


بیا ضس ٘شخ ض۵٣‏ 


کلیات پاقیاےیشعراتّال 0۸م دو رسو کا کلام (۱۹۲۵ءتا ۱۹۳۸ء) 


- 


اے کاپر واز و موی 1زار 
ش۶ سے ملاں ہورگ سیا 


یا شخ ش۵٠‏ 
ه‌ 
یں سے سس فور بگانہ سے مو 
وو "نکر کا پانہ سے موم 
گمہ رھ بج کو اے مر پر آشوب 
کہ دا کا حا غانہ ے مو۲ 


ایناضش ۲۵ 
تَّ 


یب ہم زیقی تل مجٌٗی 
70 کت و 
کو وت 
میں پا تم پاثای“ 
ایناً ش۲۵ 
ٌ‌ 
تی پر کم یر زبیوں میں 
جب نل ہے میری کیا کہوں مش 
روں ملیم اک یر اق 
گواو ححریں اٹ ہوں میں" 


ایناش ۲۵ 


کلیات پاقیاتیشمراتال 9م" دو سو م کا کلام (۱۹۲۵ءتا ۱۹۳۸ء) 


بے نز پرلکی عطا مر 
زاۓ حر می عطا کر 


رے موا خرن حم کو 
فی میں شنشای عطا کر 


پپ ض نشم ض۵ 
۰٦‏ 


عطا کر طاقت ٦ہ‏ و ختاں اور 
نر گر اں باڑڑاں کا اماں اور 


گی پت گروں در لوزہ رزق 
غدا حون کا نڑء روزی رسال اور؟٢۲‏ 
۲- الناض ۲۵ 
ت 
سرایاٹ دہ تیر و نی خر 
تار اساظر کن خی 
طیجت :9 ے ً انج ظات رن 
ری ا ور 


۳- انا ۲۵ 
ت 
کپوں میں کیا ٠‏ گے سب بچجھ ٹیر سے 


کلیات پا ا ےیشعراتّال م۵ دو رسو کا کلام (۱۹۳۵ءتا ۱۹۳۸ء) 


بہت ( ) ہیں شام وشطیں 
صلاں بن کا بے چارہ 7ۃ ےا 


: بیاف تح ش۲۵ 
تّ 
7 
عدرمہث وعدت 72 و جرا ی 


بہت مم سے اوراک و نظر سے 


اک کی ای کے 
ا و 0ت 


۲- ناش ۲۵ 
تَّ 


ہوا خوار و زیوں جس کے سم سے 
وہ صوئی جس کے خون گرم کی ند 
فزوں بت میں ےئ تیر جم ے٣‏ 


۳- اناش ۲۵ 
0 
مم ے ہیں ملاں :ایر آ 
کیا مت یں پر و مر آت 
نہ چہچجھٹر شا سر مشۓتئ 7- 
تہ کر اکر جد و باینید ع٣‏ 


ك- ایا ش٢٣‏ 


کلیات پاقاتیشعراقال ا۵۰ دورسو کا کلام ( ۱۹۲۵ء تا ۱۹۳۸ء) 
ون ون سا ین 
ای کن ہترں تاب ا - میس 
لاع پیر ہیں اس میں عر گیا 
گر میم رہیں ء یی در نا 


7 راو ص۷٢۲‏ 
ت 


فروپٴ طلی روں الا تی 
شوہ فثر ا سلطان تم وت 
مرے مول ! مسلراں کو پپھر اک پار 
مقام ۶2 اب ا فلں؛ نشم 


۲- الا ش٢۲‏ 
تَ 


ترے ۹۹۹۶ی۶۹ً۹۹ھ۶۹ی۶ ئا" 
ی١‏ کلف ر کیا مھ اق ذ 


ای 7 ے می 7 ور ری 
مہارک 230 مرک ابا ی ٣‏ 


٢۳ این‎ -۳ 


کلیات پا وا ےیشعراتّال ۵۰۲ دو رسو کا کلام (۱۹۳۵ءتا ۱۹۳۸ء) 


گے 


و 


-َ 


گن کے نار وش مرجنز و یراب 


اف کشخ ے٢‏ 
تَّ 
پ ے نعگ ہ اناد 
غیت ٢ج‏ کی کل کا فاد 


اض ٰ۳ے٢‏ 


و وم ار ابر کاروالں سے 
گلتر١‏ چاتا ہوں ء آیا ہو ںکہاں ے 


وم راز ٢‏ میے یں ہوا فا 


جیا تھا سے سارے جہاں ے٣‏ 


2 
٠: 
٠ 


اض لٰ۳ے٢‏ 


يہ یلا ء بے ہرود غاشثقاد 
ال مق سح سر خام 


اڑا چا ہیں ہوۓ آ اد" 


7 


اعاہشىض ے٢‏ 


کلیات باقیا تشم اتال 7 بد ہہگو فردیات 


)۱( 
ناریپتیں اور ماددہاۓ تار 


)۱( 
تار تی اورمادہہاۓ تار 


الم یما رٌ(۸۹۷ء) 


مصتف ج بک الما ہوء رسال کیوں تہ ہو الیم 
گجر باری تقاضا سے زاب ایر نیساں کا 
گر باری دکھعائی ینک وہر ہار نے الک 
رسالہ آپ کا 7 اہر بن گیا گویا 
یہ یھٹا سا رسال کال ن سعنا ٢‏ جائن ضنتی سے 
اسیا نیش نکی زہاں پہ ا کا را ہے 
گی طورکی سے روشائی اس کے جفو ںی 
یا ضف سے ظاہر سے اعاز یر بنا 
صراۓ پل دِل یرت تم نفا ی گے 
گھر شور فییاں بل نے وزو ںکر لیا اپنا 
مصیف کا قظمم بیں صف کان نک وکا سے 
یں ات کے ای نک 


بی ہگوئی رفردیات 


کات پا قاتشم راقال ۵ یپوٹ رفردیات 
نیس نے جھ ابنا مصرع کیسھ بنا کو 
رسالہ آپ کا آئنہ مین کر ساس آیا 
مصتف اس کا جب اسندر مل معا ی ہو 
اس کیپ جآ نہ ہرصورت سے سے ز یما 
نے سال اشاعت نمو ری انال نے جس ہم 
زبان باجف تھی ہوئی اس طور ےگویا 
دک ھ اکم م کاب بے بہا ء دل مین لیا ہوں 
صاح ت کا ءبلاخ ت کا ء لیا تکاء ڈباغ کا 
ا ۳7 ری ےا 
زان ای گیئ کے سے رسالہ مقر کیا 
۵ :]6+ مم +٠‏ ے -۔- ۱۸۹۲ء 


2 زثرەرووعجلراول با٦‏ 
ات 


(الف) سرسید اض نا نکی تار نات ۱۳۱۵ھ/ ۱۸۹۸ء 


ِنّي مُتَوقيكَ و رَا فِمُك ال و مطهرّك ٣‏ 


۵ھ 


۲- ہالوں اہ ل۱۹۵۳ء 


-- سروورفگ ا٢‏ 
ت 


ام ریا یک ونات ۳۱۸ار/۱۹۰۰ء 


سان صدق فے الاخرینَ ٢‏ 
۸ھ 


۲- سر درف زگ ےا٢‏ 
٠‏ 
”ھتوی عق رگوہ ریا موتو ںکابارے۱۳۱ر/ ۱۹۰۰/“۱۳۱۸ءء۱۹۰۱ء 


(الف) 


7 ضس .1 - 
ا لان وت متا 7 


ض نکی تخل بردارد تاب 
یر سای ٹج قرآن زان پپلوی 
یل ول گی سرایھ ”بِلك آیسات الکعاب“ 


ھ۱۳١١‎ 


(ب) 
ار مولوئی موی ر 


٭ھ 
وہ۵ 


تی اپ ور اردو ۓم گرد 


نہاں را و از تر غفلت ڑا 
ہت رجہ 


سرد +۹٦‏ 2 
3۰3٣٣‏ و مم 5 


ھ٢٤١‎ 
29 


زم تن میں اب یرت کا شور ے 
پِنظم ےک ششم فصاحت کا ور ے 


تا اک طخ تا کیو ضرور ے 


ٴ 
اقف نے دی صدا مر اعدا کو کا ٹکر 
یا سے نم موچ شراب طبر سے 
۹۰ ۓ ا ۔- ۶ءء 

تّ 


بی گوئی فردیات 


(ر) 

میرے دروم وعلزم نےکھھی اڑی ساب 
ابر لیلاۓ عرفاں کا جے مل نہیں 
مزع ت فی فا ایت خاضل کین 
ےر ال ای کر 
زےب دتا سے اگ رگم فو اپ و لکہیں 


۸ھ 


(م) 

روں ڈررؤں 2۳۳20فو0 دعا دق ہے 

درر منران محت نے اے ڑھ 728 

تل خر بے ماب ملوب کی 

اف غی بک اداد سے جم نے اتال 

بر 2 ااٹ 7 و 1 
۸ھ 

ت 


بی گوئی ‏ فردیات 


لیات باقیا تشم اقال ۵۰ بر یہہگوئی رفردیات 
(( 
یرت م ارت ۶7 پل 
نت 
گر جار میں ' میں س رگریاں بج ہوا 
کہہ دیا دی نے ”یی خر رو دانای ہے 


۱۹۰۱ء 


باقاتاقبال گ٠۸‏ 
‌ 


ٌ: بے الا ماد با کی ص''(۱۹۰۱ء) 
ح١‏ سی وق ںا صد ہما 
+ہٹصس ہمہ سر “۶ 9 7 
کو ور ےج تج 
1 مزد ضور ا جال 2 
۸۵۱ + ۰ھ کَ ۱۹۰۱ء 


۲- بایاتابا ل۲٢۸‏ 
ت 


وب نان عا مدکی وفات پر( ۱۹۰۳ء) 


ہے 
گشت از ریا ہوۓ جثنت رواں 


گلیات با ا حظحراقال ا۵ بد ہہگوی فردیات 


-- انال رپ نوہ جھ لا ی۱۹۸۳ ۴۶| 
ات 


شید ششن اخبار 

ھھ اغاد عیار تنب سے 
ق یپ سے غاب گا مرزش 
غو ان جب وت ہونۓے گی 
یی نی تی ہے حر مین 
بل سال جاىت کی جب شش 
کل "اعد غیت قریا“ 

۳ءء 


۲- ون اخہار ۴۹ فرو ری ۱۹۰۴ء 
لت 


قرب تمہ لباقت برا مولوی انشاءالڈدخمان :دیون 


مفیاب سلطانعبداشمی ان انی 


کلیاتبایایقعراقال ۵۲ بی ہگوئی رفردیات 
نہیں ان گی سر می نر 
2 اان ک 2 ھ جوۓ پ ور 


ہہ اخاں ول تازی ک ے 
2. 29230 مار یہ حور۴ 


۶۳ء 


--‫ ون اخبار ۴۹ فرو ری ۱۹۰۴ء 
الا 
ب۲ -دوسرامادہتا رج 
عفعت بیلراں ای را ٴشن۲ 


ھ۱۳١١‎ 


۲- ون اخبار ۴۹ فرو ری ۱۹۰۴ء 


کلیات با قیایشعرابال ۳ذ۵ 
دا دہلوکیکی وڈا ت(۱۹۰۵ء) 


5و8 


وا میرزا وا“ 


5 پا یاےاّال ش۸۳ 
ت 


سلطان اسم ایل جا نکی وفات (ے۱۹۰ء) 
از چاں شز, )اٹل رت 
آن ایر اس ایر اس اھر 
از لف آر مشش سی نا 
سال ہہں مور ؛ز مففور“ حر 
٦ھ‏ 


۲- النآگكضشك۲۸ 


کلام ٹوتی(۱۹۰۹ء) 
جب جچپ گیا مٹ جس یہ ور اشعار 
فی ہوا جھ کو بھی حال نضر فوقی 
خست سے زہاں ء بھلہ مضامین ہیں عا ی 
تریف کے عامل سے خال نر وی 


- 


کلیات با قیات شع اقال ”ك۵ 
مارں کی بج کو ج تنا ہوئی اتال 
اف ن کیا ککھ درے'' کال ضر وق ۴ 


ھ٣۷‎ 


-‫ الا گ۲۸۵ 

میاں شا ون ازکی ری میا کہ 
رولی نم نا اس ےہ واز 
27 چاو او لک بیادر پاد 
۹٣۴‏ ۶۰ ۹ٔ ۹۰۰,۰۰۰ 
جج مل از ہوا آزاد پاد 
مناں را خار پہلو پت او 


3 


نیز کا آظاد جات آ او اد 


می وولرتے 7 دام آورد 
بل ال را۔ حیاد. پاد 


۲- ون اخبار ۴۹ فرو ری ۱۹۰۴ء 


بی ہگوئی رفردیات 


کلیات با قاتشم اتال ۵۱۵ 


وفا تمہیردہاوی (۱۹۱ء) 
زد عم 7 وہلو یی 


-- سروورف2 ش۲۱۸۸ 
ت 


قط تار وفات جن عبرای مرحم(۱۹۱۳ء) 
چوں ۓ جام شہادت تن عبرائی چشیر 
باد 7ر مرا لام٥ت‏ پروردگار 
پا مزال دا فرت دار در گی شاب 
ان ] از ور اک خش سا از 
بند6 نی ود و ہم غدم گار قوم خولیل 
سای تار وفات او ز”غنران“ شکار 


ھ۱۳۳١‎ 


۲- اِضاك٦۱٢۲‏ 
تّ 


جار وا ٹن انی (۱۹۱۳ء) 


”لام البند والا نژاد کی طاب ا)'“۳ 


ھ٣٣‎ 


۳- پا اتا تچال بکش ۲۹۵ 


لات باقیاتیشمراتال ۵ 
جارکئی نام فرزجرکشن پرشاد(۱۹۱۴ء) 


نعالم پا عیبر عالظگیر بشا' 


ھ٣٣۳٣‎ 


-- ایت انتال ۲۹۹۷ 


ات 
کو الی لا ہو رک یت رک تار ٌ(۱۹۱۵ء) 
ارب از زیم“ 


۲- تفہ ارت ۸ا لض۱۹>۸ء 


وفا تو اب وقارا لک ۱۹۱۶ء 


ایم حر.۔ باخطائی 
”وقارا لک اخحامم(۷) ۱۳۳۵ء 


- 7 ورفت ۷ص۲۲٢۲‏ 


بی ہگوئی رفردیات 


یاۓیشر اتال ےا۵ دی گوئی مفردیات 


(الف ) مس میال مم شاددبین جھالو ںکی وفات پٍ(۱۹۱۸ء) 
در تا ن دہر مالین لیر 2 
آر شال شم و ہٗٛں ا کان ری 
می جحست ” عندلیب خو لآ نگ سال ف9ت 


ھ٦‎ 


7 


ان جا پز پر جار ہو ڑا 


ہم ہر م ۔ ۳۳۲ھ 
-- الی بش ۳۱۹ ہا قیات اتال کش ۸۸ 
ت 
(ب)ابنا(۱۹۱۸ء) 
چو سای وت ہالوں دی ج یں می شہت 
ز بہشت خلد نام رسیر ‏ اون١‏ 
ےا × ۸ ث ٦ۓھ‏ 


۲- الناأ٘ضش۲۱۸۸ 
تَّ 


طدتارں وفاتسیدناور نتعیلرارگر:(۱۹۱۹ء) 


سر والا ٹپ نادر یت 


+ھ+ 


بر ہو علق و صا 0207 


کلیات باقیا خ۴عراتال ۵۸ بی گوگی ‏ فردبات 
چو پر ٹیر از جھاں مظلوم رت 

ں روہ صانقال نا ہرورے 

0ت 


مجچہ ۱ 
شف سر را پڑیرے )ارے۴ 


ھ۳١2ژے‎ 


- اتا تال ش۸۹ 


ذوالفقا رخ لدعیان(۱۹۳۱ء) 
ایك ہیں خنل بنا حر ذوافقار 
مال مفقینل ز بتف خوا 
از فیک تار پان 27 چپر 


وو ماق ا ار 


۱۹۳۱ء 
۲- انگ۲۹۰ 


ری مسوردا اک نشی (۱۹۳۱ء) 


مال نے 7 6 خران 


تُ 


کلیات پا تا ےقعراتال ۵۵۹ بی گوئی مفردیات 
2 : امیر شی - 
تق پااک“ ٭ە وا 


ھوھ٣‎ 


خَ اتا تال گ۹۰٣‏ 


تار قلستب نان (۱۹۲۲ء) 


یا صروی"ٴ 
۳ء 


۲- چھجھ یح مین (ڈاری) 
‌ 


تارج آزادی ‏ رکمتان(۱۹۲۲ء) 


یب غٔي اور 


ھ۳٤١‎ 


۳- الطا 


٭ 


تاریا ا رنا(۹۳۲ء) 
اب ابرائم ر 2 مصطغ! 
رف ہم پٹم' سید 


۲۳ھ 


ان مرکاحیب گرا ٢ضصض۷ضش۱٣٢۲٢‏ 


ال ان۵ 


5 
ت 
۲ 

کک 


3 
جِ 


رس رحیدرشا:(۱۹۳۲ء) 


و 7ت عزار پیر در شاہ رفت 
رت آ3 زا نتن لوہ اۓے طورگفت 


اف نون 0,7 او را لونے راو 


می سال وفات رکرو وین 


ھ٦‎ 


--‫ 7 ورقتع ٦ص۷۹٥۲‏ 
ت 


ہاراجا اشن بہار کے صدرائض مم ہونے پر(اک ۲7 ۹ء) 
الم مخت خار کد جٔ 

ناوک او مناں را( ہبور سہشتث 

مالین میں مج سر یپ راں 

”چان سلطال کت شاو“ گفت؟ 


ھ١‎ 


۲- این ش۰٢٢۲‏ 
ت 


تار وفات بچکمرمیاں اج باردولان(۱۹۳۳ء) 
رم سفر پ ار متاز بت و رشت 
زیں کارواں سراۓ سوۓ منرل دوام 


کلیات با قیاتیشعرابال ۵۲ 
پزسیم از سر ز سال تل اہ 
کفیے گ و کہ اخزیت او آساں ماع 
۴۳ھ“ 


-- باقیات اتال ص٦۲۹۱‏ 
تُّ 


تارب وفات تا رتم(۱۹۲۴ء) 
لے دریقا ز من ریب 
دل سی ور فرانی او ہہ ورر 
الف 21 یک دارو 1 
آو ای نی ۔ وو 
کر سال نی او فرمور 
شارت ہیر مل کر 


۶۰۳٤ھ‏ ے 


۲- اینا٘۶ض۲۹۲ 


تار وفات پروٹیسراکی- گی براؤن (۱۹۳۷۲ء) 


نازتشی ال مال ای گی من 
مل ہو بر مغرب وسمشرق میم 


کلیات باقیاتیشعرابال ۲۳ھ 
مغرب لد ام و بی چاک 
از ران او دلِ ری دو 2 
ظا بپ فرددیں بی موی گرت 
گفت پا آف ”ذالك الغوز الاعظیے“ ۱ 


ء۷۱۷٦‎ 


-- بایاتاال ش۲۹۳٣‏ 
تُ 


تار وفات مولوی مرن (۱۹۲۹ء) 


ےا ساطاف الا سے لات ۶ 
۸ھ 


۲- ال ۷ضش۲۸۹ 


والی ماجر کے اشقال ,(۱۹۳ء) 
پار و مغد اّال ازں 7 رش 
ا مہ راہروال ء خزل نا مب اپر 
انف ازحخرت نی خواست دو مار رل 
آم آواز ” از رمت' و وش سے 


۵ھ ۵ھ 


۳- باقیا تا ال ضش۹۳٣‏ 


- 


کلیات پا قیات شع اتال ۳۳ھ بی گوئی مفردیات 
وفات یروب عالم پیا خبار(۱۹۳۳ء) 

2 گاہاں 7 گورستاں رسدم 

ور آں تو هُ از الوار رہم 

رن ای ای یم 
سا رت یں 7 


۱۳۸ھ 


- با یاےاپال ش٢۲۹۲‏ 
ات 


وفات لیٹزی شاب الد ی(۱۹۳۵ء) 


کرد ا 
ان عون کا وک کا شی 
۰٣‏ ى۶" 
2 و رن شر سال رعلت 


5. 


سی موی خوائم ہیں ز انف 
1- نع ریت اک ر۶7٢‏ 


۵ء 


۲- اینا ل٣۲۹‏ 


کلیاتبایایقعراقال ۵۳۳ بی ہگوئی رفردیات 
تار وفاتصردارمکھر:والرہجاوی اتال ۱۹۳۵ء 

را بی ہو ے ڈرروں ہری ادر جاور 

لالے کا خاہاں ے ما نین پ؛ دا 

سے مموت 7 9 و یرار 

اتال ے تار یو ا زاغ'٣‏ 


۵۶۳ھ 


-- با یاےاپال ش۲٢۲۹‏ 
تُ 


در ہودکی پیدائش بر(ے۱۹۳ء) 


راں سور بل الثرر 
209و +0٣١‏ 


سے 
ٴ 
اد گار سُ والا از 


ج 


۰ 
5 
3 


ے 
رام عان 0 گٍِ ظ :1 
2 لق یتو روک سو 
غانراں مین این لڑی کا وچور 


باحف مبکات لا مەد سے 


لیا ت باقیا تشم اقال ٥ك‏ 
ثرر رج سے ارح بھی 
”اسعارتں ظز “سور 
-ہ 8 پاوےاپال۷ض٦ش۲۹۹‏ 


گلیات با تیا۔حطحراقال 6 بد یپوی رفردیات 


زنروروں جلر ال ب٦٦‏ 
چ‫ 


دل میں آئی جو کت سے ت بتر پالے 
یا کے نک ا نے ھا 


ان شی الےے ہیں جو ہیں پہرو کو اڑنے وا لے 


و 
پاکوں کے پیج نہ معلوم زیس ےک نہیں 


مایںء اہ ل۱۹۵۳ء 


ون تقو دع مس تی ون گیا 
انل سے مرے اب پ کا عالا 


سرودرف ك٦ش٢۰٢‏ 
چ‫ 


ر6 0 وج 
ہو طااکیٰ ہے و وش ے 
اتال ازعلیجھ, رھ فاءالریین ۲۹٦‏ 
تَّ 
گھڑی گرم اس جا نہ ہم ہیں ء ندخم ۶و 
روایا تی اتال ب٦۱۵‏ 
تَّ 
کُھوۓے ہاں کے و ثای دورخت ے 


0 ا 


راچا ل٢٢۲‏ 


کلیات با قیات شع اقال ۵۲۸ 


-۵ 


ہر تو ہے ححع کہیں سے بح 

کیا ضف ہو زیادہ نو شش بھی نہکھائیں م۱ 
جنگ ۲۴۶ ابر ل۱۹۹ 

۰۰۶ - و" 

جابندہ بیشہ رے گی کا حارہ' 
باقیات اتال ش۵۰۲۷ 

‌ 
یہ بی تا کیم سے کہ نیس دا جے 
صت میں کو نقیر ٠‏ می میں امیر ہوں٣‏ 


مکا تیب بنا گرائی ب ش۴٣‏ 
ات 


شور اتا ےک قضالوں گی ہو جیے برات 
7 ال کن ا نا 


مظلوم اتا لءكض۱۲۵ 


روایات اتال گ۱۸۲ 


بی ہگوئی رفردیات 


کلیات با قاتشم اقال 6 


وہ اکا پارسا سے ہر قد م بجرے میں رنقی سے 

زہاں امش گت ےگ ہر با تلق سےا 
اّال درو غاد ۳ے 

رر وو گے اکر 

الہ آباد 6 چا اور تک پاپا٢‏ 


سحیف اتا لب۸ے۱۹گے۱۹ 


روایت-مسٹشں(رائم ابھروف) 
چ‫ 


مش رذ 


بی ہگوئی رفردیات 


یبر سے سے ہی سکمہ ا کی رم و راہ (ظف ری خان) 
ہے حا مڑ ے مُن شہ گ(اچال)٠‏ 


چننستان ازظف ری خان بل ۱۳۵ 
ت 


ای کن نوا کی یر اک 
نوجواں مرتے ہیں شس پر وی با یل جا ہ 


روزگارنقرءجلراڈل ب۱١۱‏ 
ت 


-َ 


ا ےیعراال ۵۳۱۰ 


گا ے دہ سور ری لا نا 27 
تہارک ان پردہ بنا لو ل کا ء ما ہےت مکو جوا بکیا 
ال او کو پال ١ے‏ 
عالم جشش جوں میں سے روا کیا کیا یچھ 
کی ے کیا عم سے ؟ دباتہ جوں پا ٹہ ول٢‏ 
اتال ازعیمٌم 
ت 
کیا خوب یہ عا م سے ہ اھر د سے ادھر چزر 
اک پاتھ میں دستور سے اک ہاتھ ٹیس سے نذ ر٣‏ 
سالامہاحالعء (اہورے۱۹۳ء 
ت 
کا و ا نک 
کے وا لوان 


سر ےپ لا ا 


27 


و 51ے رو گے 
ٹ 

نھریوں کا دنا یں اش وا لی 

ث ے ان وع سا داری 


ج تہ 1 رق آے فزارق 


:1 


بد یہنوی رفردیا 


گلیات با ا۔عظمراقال ا۵۳ بد یپوی رفردیات 


ے مل لاۓے ہپانے ش اد 
فرییں کا د یا میں اللہ ؛ا' 


اوراق یگ مکش ض۵۳ 
تر ا ا 
0 27 


لاۓے خلا اہر مجگُھاے مم 
0 رر 


تطۓ ضا هر باۓ ما 
واریاچل ض۲۵ 
ت 
یں سے بر اظہار وا ازم ور اصلا 
یش رت ین ای یں ملق تی 
صرل جاہ وعت ا وفاواری کا مقر ہو 
وم جس ناروا گنیم کیںء گنیم نما ج سے 
لے گی جیے عق ت کو کب اعزاز کی ففی 
رن جن کا ِب , 7ت ورورے 
یک ےو ا ا ا کات ہے 
مساراوں میں نو نین نر٥‏ درو بے 
شا مر ے جچلا ڈاا سے خود داری ےک 
ذرا سی شع ےکم بجخنت او رکئی بڑی لو ے 


- 


کلیات با قیات شع اتال بت 


-۳ 


-۵ 


بای رش میں دہ کو ء سے چچگ ی کی 
کہ پپلے دن سے مہرد ماو جس قائم دی ضمو ہے 


مک ءاقپا ل نم رھے۔ ہے ۱۹ء ے٢‏ 
تّ 


+8 8 ٦ 
٣یا انا ماع ہو سلطاں و نی‎ 


پیا اشا ز ۱٢۲١٦‏ 
ت 


عرصت حر میں میربی خوب مسوائی ہوئی 
داور حش رکو اپنا راز داں ھا تھا ى(۷ش٣‏ 


فو ظا تا ال مب ۲۲۸ 
تّ 


27 ےی طاقی میں اشردہ کے 
ماکسٹر اعرر و یز و پ اوہ 


تلم تال ص۰۱٣‏ 
تّ 


جناب فوق نے چیا دا کلام اپنا 
رون 7 ہو ی اب ان و شولتے اررو۵ 


تیگ زار وق ,ض۱۲ 


کلیات با تا یشراتّال ۵۳۳ بی ہگوئی رفردیات 
لیک کتے ہیں بے راگ کو پھوڑہ اتال 
زان سے دین را ء رنگ سے ایماں برا 


.5 داناۓ راز از سرد یازی ش۵۰ 
کہہ دو کن نے کا ین کان 
رک ا ا نک ماع تا 
۲- ماونءاقپا ل نرےے۹ اب ٣۵۵‏ 
ت 
گر اے شب سہ 2 +ھی×ه+ ٦1‏ 
ا ہم 7 مر 23 ۶ 
کے وی ان نل مرا 2 سا نے٣‏ 
- سروورفد ش ۲۳۷ 
ت 
کرت جن جھورنے ڑوں یز ب کے 
لی کے لے دہ نام کی آغوٹل میں٠‏ 


۷- واریاچا لک ۲۹۹ 
تَّ 


اے عدم فر ریچ والو تم جر لإں امش ہو 
ے و ہیی ہے ء نے میں جس کےتم بے ہش ہوہ 


۵- الطا 


کلیات باتیا 


7 


-۵ 


- 


ےفعراقال ۵۳۳ 7 


کی یی خی ے ظامت فرش کی بم دات 
دن کے ہنا مو ں کا سے مھشن وٹ کی و اك 


الیاً 
ت 
روانہ سے تم زر مت کو رو کے 1 نے 
زوقی نل سے مم یں آزار ہو .“ت7 
نوارراال گ۲۹۹ 
ت 
بناوٹ 0 نے اخثال ے صرے 
نے ۴۰۳ بے وور رہڑ| - - - ٣-‏ 
اقب لکی نت رای ض۵۵ 
ت 


بل ہرے یم کی ج خر ط حے 
یس نس کے ساتھ ہوں ا ےمھک ن نہیں کت٣‏ 


سروورف ءکش٢٢٢‏ 
ت 


ھ0" ۰ء 
ان پیا یا عری جم زال ے -ے 


إاقیاتیاقا لئ سم ۵۰۱ 


کلیات با تا یگراتّال ۵۳۵ بی ہگوئی رفردیات 
سنا میں ت کو اپ ھ08092 داستزا لکلب کا 
ئ عل سی حصسوم بیس ا۷ 


ضود جیری مود اس کی ؛ ضود اس کی مود جری 
‌ئ۷ئ 2۰2ھ 


۲- رسالہکاروال سا لزا ۱۹۳۳ء 
6 
اک پاؤْں عم کہ یوں تن چاتا اتال 
تھا ہلل فا کر شتاق یں ا ا ات 
۳- شاہکار ہجورم ص۳۴٢‏ 
‌ 


مرن 7راو ات میں ول نی 
رف کن کے جالوں کی ںی وی 
۴ں پا ال 
‌ 
0 سد کیہ کی صعفت 
جاکے جب درکھا ٹو اک اجڑا ہوابت نان تھاہ 


۵- بیاص اتا زگ ےا 


کلیات با وا ےخ۴عراتّال اخاہ 


51 آزاروں یت کرس و 
نگئی گوہر جو مور آب ء زندا ی ہولا 
رو زا فقیر جلرروم یک ٣۰۵‏ 
تّ 
تیب پادہ لغان فرک گا ہوا 
انیم 


تُ 


ٹرریں ور ڑا رل یں کت ےر 
دہال مور ہاج ھ مور ب۱٣‏ 


ایم 


بات باقیا تشم راقال ئ۵۳ اتا لکا اٹ یکلام 


0 
کپ 


(الف) ورریافتکام اتال 
ا تین طلب :کلام اقبال 
(ج) ابا لکاالھاٹی کلام 


۸ھ 


ابا لکااائی کلام 


کلیات باقیا شر اتال ۳۹ھ اقب لکاھاٹ یکلام 


ودریاات کلام انال 


اقم ابھ رو فک تین ۱۹۹۰ء می سمل ہوئی سے۔ اس کا کیبل کے بعد چو 
کا منظر عام پآ ا ےا سے اس حصیمیں شا لکیاجاراے۔ 


(۱): ہمت 


1 مت مرانہ چگر میں تری جا ے 
مت آگھ را جھ سے اگر شر وفا ے 


++ 


او ہو مرے ہراہ ٴ ہوا بے کی یا 
8 و 0 
دحل ای کی نال سے جہاں میں 
ہر جزم یں ججا سے تراکون و میاں میں 


"0-09۳ مروادر وہ آَئی 
چھمراہ 3 حول شابانہ 727 آٰٰ 


کات بات تیشعرقل ٦‏ اتا ل کال ھائ یکلام 
اب یک وو کول مگُدابان وہ آَٰ 
4 ۳۲ 9ھ سے گروسائنہ 7 
مدوں سے و لے میں ا سے عار یں ے 


7 


و ای رر تو ہے 
م رد نان ہیں کوئی عیز میں و 
دا میں گئی گذری ہوئی نز نہیں 
آزاد ہیں پان ویر ئت٠یں‏ ؟ 
سل بے سے ہپس جائمیں دہکشم زکیں ہیں 
5 وٹ لہ بہت جول یچ 
جب بت مردانہ خود آ ٹل 07ھ 
اب کام ج وکنا سے وہ مردان کر یی 
ہر عالل میں بت4 شاعانہ کرس 
حنت سے علابع دل دبانہ کر یں 
اندوہ گی یف کی پوا نہ کریں 
یا یی اتروہ یں صن خحل 
مردیں کی لا دور بے خشموں ہل 


جم رد ہیں غیروں کا سہارا نیس لیت 
یراک ہیں درا کا مرا نہیں لیت 


۳ 


۳ 


کات اق تیشعقل ا۵ اتال کالھائ یکلام 
ج شر ہیں صیر اور کا مارا یں لیت 
وی یہ چکارا خجیں 2 
اں راو ونات 0 9:.: 
هم عرد ہیں ؛ت سے بھی ھی مہ امیس 
انقات مین میں ہر اک کام پہ آخیں 
ار نہ ٹھییں بھی ےن نی جا تن 
مت ہے رے دیسروں کا اھ بٹائیں 
مفلس ہوں نو پپج ہگ نغییں بت رس عالی 
کان ہیں من و مزکفر ے زیادہ 
900 
7 او و رر 
0 یی ۰× 
سے رولت چاو ینے 1 ما 
آ نے سے ا8ی سے مرے ول کی صفالی 
جم دولت تماروں کے لیے مھوٹ نہ بوش 
انان کک تل رت کان 


کات اق تیشعاقل ٦‏ اتا ل کال ھائ یکلام 
نف ھ2ەھ,۷۳۹یھ۶۶ 9 
اد ٹر موڑوں 2 لیے تجھوٹ - وی 
انروضند محر کو تھے سے خغض کیا 
مردوں کے سے خوائش نے جا کا ع کیا 
آک دانہ مر ہونڑء ہم پاشٹف ےکھا کین 
اضرد, لھوں کی طرع مہ نہ بنائیں 
معن فین حر اخیاع می ما نہ ا این 
یی یں لن ان 
مر بت ول از کہ ایں واولہ وارد 
ابی و می پُرے فاصلہ دارد 


رسالیگل سمشحیری مسلرانان :لا ہو اکن بر۹۷ ۱۸ء وریا وت اض لت قر شی مشمولہ:اقبالیات جوا ئی- 
ت۱۹۹۷ٴضش١۱۳‏ 


:)٣(‏ نمزل 
ولراوۃ ہواۓ فل بہار ہیں میں 
مہ شتاق ہوں میں ہمہ انتظار ہوں میں 
یھ اس ادا سے ا ڑکر میں سوئۓے دام آیا 
صیاد کہہ را سے تا ار ہوں میں 


کیات با قاتیشعراقل ۵۳ اتا ل کال ھائ یکلام 

اک مزاجیاں ‏ میرے جوں کی دکھو 
نر جیۓ موب پاد بہار ہیں میں 
کیا کام نے رہا نہوں اے خظر ! زندگی سے 
جال در ہواۓ ذوٹی خواپ زار ہیں مین 
7 7 ه 
لیر سے ستم کا کیا نہیں سے جج کو 
اے بزم زندگالی !تح عار ہوں میں 
دوماندگی رشہ انا اسے انلےا>-نسکمکے 
لزت ض خر ہر ولک خغار ہیں میں 
اے اشک مخ م ول ہہ ربا جییٹ نہ جاۓے 
میرک بہار و ہے ت جک بہار ہیں میں 
زا یی ے 3 کا سامنا ے 
ال اے لپ شفاعحت امیروار ہہوں من 
زار نیں جو مج کو جنت کی آرزو ہو 
ات مات ا یب را غار ہوں میں 
صدرتے ہوں جس پکشن پیا وہ ول تج سے 
اے گستان رب تترے ٹار ہوں میں 
اال خی ى ہہ سارگا 1ے یں 
صدرئے ہوں سو(ہ*د) مم جب ائلہار ہوں یس 

اودت غءا یرب ل۹۰۳ ۱و٦‏ :کوالہ 

کلام انال( نادرونا اب رسسالوں کے سیے میس از ڈاکٹ اکب رصیدریی ب۵۱ 


ابا ل کا ایک ودریاف تم 
علامددردگردہ کے علارع کے لیے جب دای گ نے دہاں بیشترنازل ہوا 


کیا تبایایقعراقال ۵۴ ابا لکاائ یکلام 
تی زان کی اکن نج رون رات کون 
و ٹہ ایا سوال ھا کہ ج مے ل حاب آز دی 


غیرملبو رسال لوڈ :جلر٣فمرابش‏ ۸تخ رو نود فیضانی لالج رک امہ ٹآباد 
ایک ودریافت شدہٹم 
ک1 
تم بی ! روضہ“ متاز کی تقر دہ 
کنك عر ین تی کی توب دسر 
دکھ ور افغالی گنر شپ تاب میں 
سے لب بنا پ ہگویا مہر رشن خواب میں 
ت 
٦‏ 99 تظر ے ہے 
7 ما انا ی ے )لا ۂ سے پے 
مٹ ش جاے د ھن نیل وت 
بک وہر کی بت کی مم پاگار 
یہ عزار اس حشقی شاباند کی اک تضصور ے 
نژو زڑو ہیں کا اغلاش و وفا تر 


7. 


سے 
0 


کلیات پا تا" اخال ۵ھ اقرال کا ای کا 
بات با یا ت عم را ھا ٍ 1 
ماخ (اقہالبات ۔جری۰۰٭۰ء) 

پش می تر ب ے لے 

ھک رر ہر الال فا 

کوگی سے ۲ ے مقام رس 

اوح ا .یی تک 

(اغخز: ماونواقا لف رو مبر ۳٣۰۲‏ 

یہاشعاراسعد اشن فی ( جو پال ) ےکن میس کے گے ین نک 1 ستانہ 
و پالی سے جال کے فا سے پرداش ننکہسارشل دائح ے۔ 


کات اق تیشعاقل 2 اتا ل کال ھا یکلام 


تین طاب :کلام قبال 


ا ںاھی میں انپا لکا دوکلام شائل سے کی اسناد ِ_ ور ہیں :ج بک ککولی 
ٹھوں شہادت فرا بھی ہو ای ا سے پا قیات شع راتا لکالا کی حص یں نایا جا سا 


20 
رغاس کیکھیوے“ 

ینم اردوکی پٹ تاب مرحبہ لال سور فرائی صاحب ‏ ۱۹۰۳ء ہک ۸٦‏ 
یں شا ہوئی ریشم پراقا لک نام درخ ہے۔اا سکتاب می اقیا لکی دی نیس ان 
کے نام کے بخی یی ہیں خلا لک فریادہ دعاء چا ند اور شاعروغی رہ یش مکا ڈکشن 
اق لکاری معلوم ہوتا ہے کاب ناب نیکس ٹ بک پٹ یخیاب نے تید اییڈسنز 
سے شا کی ۔ مہ پا نجوس جماعت رت کی او ان ین 
شال اعم پراتجا لکانام در جگھیں ہے“ 


اک مغ ہوا ار صا دا تما وہ طازژ چ٘ن زاد 


پازو میں نو ےکی ائدھ 
۱ا وین ےج نے 
قابو ہو و سے تن ظفل 
7 0 و تر وت 
طار کا ہہ من کلام صاد 
او کی وت و کون سے 
اک غا پہ جا چک کے با 
مم نے مری گت آڑایا 
ا ا تع 
ہے ےہ نے لاس 


۶۶۷٦‏ تس ود 


ے۵ 


ابا لک ائی کلام 
کھتا نہیں کس شع میں سے 


کیا او مشتے پٍ ہوں 
1 ا و سے تو 
تجھاوں جھ چر ا ےگرہ پائندھ 
کے وی 07ت س22 
عاز ہو 8ٴ پارے ‏ ہمت 


۹ 


نی راہوں ہوا فلام صیّاد 


جا پھر بھھ لاۓ لاسا 


کرت بک یک ن ‏ پاود 


تُ 


کات اق تیشعاقل ۵۸ اتا ل کال ھا یکلام 
نم معریی 

ہیں بت منتج ے قسف گی ٠‏ سس" 

.ےک ...دہ ج‫ 

5ْ 4 4 ص‎ ٣ 


اور مجر ا رز لوں ان ون و ریں) 


نگ تا 
گ 
ک ۰ 
8 ہے 
022" 
ہو کے 
کے متا ہج 
پر ختات ٤‏ 
ہے ٣‏ 
تک 
ع تا 
تع ت٭ 
ہے ےڑا پل 


واڑژوں فرصت سی ین ۳ 


. 
9 
1 


فرصت کو کہاں ڈعونڑوں 
فرصت ىی کا رونا ے 
کی ین ہی ای یی یی اک و 
رین ىی نے مجر سو :بام کل سچں 


پھر سوچتا رہ ھی ہیں سے سا کا ھا 


ال الہ ابا لکااائی کلام 


کلیات باقا تیشم 

فرصت یں سی ہیا سے سرت ےم ما غر تک ےت 
رصت یی ین سے 
افمار س تا کے 

اعد 


شی ںودرم ں کت جلر ۹ اف ۷ بسلمہل بات جللد ۱۹۲۳۰۸ ء بش ۹۱ 
مشھولہ کلام اقال(نادرونا باب رسالوں کے سی میس :ڈ اکٹ اکر یدریی بل ۵۵ 


کات اق تیشعاقل ۵٤‏ اتا ل کال ھا یکلام 


ابا لکاالھاٹ یکلام 


اس عنوان کےت اقای کے ا سکلا مکی نان دج قکی جالی ے جو اتال 
سے اماطورپرملسوب ہے : لبذرااسے با قیا تشم اقبال سے نار نکجھناجا ہے : 


1ہمح ہت 

گان چند نے اگ اش مکواپنے جو مے برا یکلام اق بالیس شائ لکیا سے 
اراس ام پر تر تکاانہارکیا ےکہاسے باقیات کےکسی مجھو سے میس شال لی سکیا 
گیا۔(ص٣۵۲٣)‏ 

گان چند کے بقول ہشم رسالہمعارف پئض مگ (مدمرمولوی وحیدالد بن 
”لیم ) کے رسال مقر۱۹۰ ء ٹیس شا کیج ہوکی ۔ یہااں سے لن ےکمرا سے اطف الد بد گی 
نے ااقپالی ر بیو کرای :جنوری ۱۹۹۵ء یں شا عکیا۔ یٹ راس ڈارنے خا لا ا یکو ماغز 
ناکرافواراقبا لگ دوم ‏ ے ۱۹ء یش شائ لکیا- 

ہار ضتن کے مطابق یم علا مکی زندگی می اخبا رر قوم یی کے ایل یر 
قاری عپائس مین نے علامہ کے نام سے شا ئ کی جہاں سے ایبیل ااسلطا مود 


کلیات باقاتیشعراقبال ۵۵۱ اقا لکامائ یکلام 
ان صدر تی نے اغ کر کے اپنے رسالے میس شا قکیا۔ اس غلطدضہدت پا یٹر 
ات یف ا لت اھ ات 
رای یٹموصوف نے معذزر تک کی وھ انقلا ب۳۳ روم ۱۹۷۸ء 

زیر نشم دراصل اسمائیل میرش یکی سے جو ان کے جو ھےکلام بعنوان 
حیات وکیات اس اشیل یش ۲۴بر شاک ہویچگی ہے۔ اس کےشموت می مخ نکاشارہ 
مخزن جولا ئی ۱۹۰۳وی ٹن کیا جاسکنا سے جہاں ریشم اسا یل مٹھی کے نام ہی سے 
شائح ہوئی۔ 

( مم نے کےکہوتریی یاد 

تی رت چس بن مکلیات اقچال حید رآ باد یش خال بوئی جہاں رے 
عحبدا لوا انی نے اپنے مو ھے با قیات اتال ( شع انل )یس شا لکیا. تا غنیرییس 
۳ و مر حوالہدیاگیا ہے۔ بن فی خان 
کے مو کلام میں شائل ہے ہما ری یتین کے مطا یق ا رش م۲۴ نوم رے۱۹۱ء کے 
ستار ہک یں شائع ہوئی ۔رسالصوثی نے فر وی ۱۹۳۳ء یس اسے انال کے نام سے 
شا کردیا۔ جہاں سےکلیات اقبال (حیدرآ بادانے اخ کر کے اپنے مو سے میں 
شا لک ریا :نو اد را تال مرج بدالففا یل سےبھی ا مع یکود جا کیاے۔ نا عجاز 
اتکی بیائش می بھی ا سے اقال سےمفسو بک ایا ہے۔ 

(۳) نے ساطنت توم یا مم نے روں““ 

یٹم باقیات اتال کے ای ک مو ےت رکات اتال (۱۹۵۷ء) کس ۳۴بر 
شا ئع ہوئی. ملف کے مطابق رم زما نان لیریس جو لا کی ۱۹۳۰ء یس شاک ہوئی۔ 
ا قیات اقبا لن دوم می لبھی اسے اقبال سےمطسو بکرد مایا ہے عالائلہ رشح رظفر 


۲5 


بات بات شع اقل ۵٥:‏ ایا لکاافائ یکلام 
٠غا‏ نکی ےاورانع کےجھو ڑکیا ت اکر ص۳۰۳ ّح ہوچگی ے۔ 
(۴) غمزل کمن اشعار 
روزگا رنق رجلددوم می اقبال سے مغسوب غمزل کے در ذل تین اشعار 
شائحع ہوے ہیں جواقپال کے یں ہیں۔ 
عشر کو اتا ہیں بن در کے 
ا کین یکا 
ئ و سر 
نے ڑا یق مرل کا 
شی غضب رز بیسش مد 
مر مر و اھ 


بی تیوں اشعاراڈلا شناازاممکی بیائش مل در ہو :وہاں سے روزگار 
قب ر کے مت قرو حیدالد بین نے انیس این جھو سے میں شا لکرلیا۔ 

اس غایڈٹ یکی وجہ یہ ےک ابا ل شض اوقات نخزن ٹیل اپنا ند ید ہکلام 
اشاعم تک خرن ےمجواتے تھے ۔ اس رح کے اشعا رکیولی کےعنوان سے شال 
ہواکرتے تے ۔کول بس کییے جانے وانے اشعار می ل کے وا ل ےکا نام دامیں 
رف شاک ہوتا تھا یک شا عرک نام بایں طرف شال ہوتا تھا خرن ھب ۱۹۰۱ء کے 
ا شجارے مس جہاں لام موی باد چا علاہکا نام دائیں طرف در ہے۔ کہ 
شا ع رکا نام بانمیں طرف درج سے ۔ اس سےمعلوم ہہوتا کہ بر اشععاردراصل ام راو 
مرزا انور دہلوکی کے تے جو علام یکو پین دآ تۓ سمیان چنرنے اپنے مجھوے ابترائی 
کلام اتال( ۶ے۳۰) برای یکودجرایاے۔ 


کلیات باقاتیشراقل ۵۵۳ اتا لکالھائ یکلام 
(۵) مت سفر کے نضرفات 
رنحت سر دوم ع۱ سے2ا) ٹس در یا سن کےعنوان سے نین ا لیے 
اشعارشائٔح ہوتۓ میں جوعلامہ کی پلرگعہحید رآ بادی نے اتا لک وا ضِ اصلاح 
کیج تھے ۔علامہنے ائ ینم میں دواشعار پر اصلا بھی دیتھی۔ ملا حطہ یی اتال 
ام جلراژلبك٢۲۹-‏ 
ای ط رای جو سے میں خطا لا بکا بیشھرے 
از پر تہ رہ مل ورل ے 
وٹ یکوششل جبت سے مقائل سے آئنہ 
اتال ےمفسو بکردیاگیاے جودرست یں لا حظہ یی رخت فرع ددم یس اے اش نٹع“۔ 
(٦)اقبالی‏ ےمسوب ایک اورشع مر 
ییشھریجی اقبال سے فلیطور مفسوب ہے۔ 


ہم 


ب7 
آ مہ 


تتعدي پاد الف ے برا اے عحقاب 
بیز چلتی سے کے اوییا اڑانے کے لیے 
بی این ط وین فو کا شی نزک مل وا ق ماخ فک 
تین ے_ 
(ے )الیک ےو بای کفھ نوم“ 
حافاسیجلال الد بن ام نف ربی زبیٹی نے اپٹ یکتاب' اٹم میس اقبال 
کے نام سے ای کم شائ لکی سے جس کا عنوان ہے۔ دا کاب برسنہاشاععت 
در یں ےلین پت( قرائی سے معلوم ہوا ےک ہکناب ۱۹۲۴ء میں شال ہوئی 


کیات اق تیشعر اتل :۰ اتا ل کال ھائ یکلام 
چک مک ڈکشن اقبا لک مو ں لوہ اور جوا ب شوہ سے متا ہے اپنرا اس ےکھی اقبال 
سےمفسو بکرد مایا ہے ۔عالاکلہ یش مآ زا حش رکا شمیبر یک یتصفیف ہے ملاظ یی 
انت 

لیا حشرازسی ٹل اص بدرامردی] 

(۸) اقبال ےیضسوب ایک اوت ھ8011101۰ ۸( ایک خودکلا می )ھی 
اقب لکیایس ہے : ریشم عطی یی نے اپئی ڈائزری میں شام لکی ہے عالاکنہ یراشعار 
اس کےا یک م رم کےاتشعار ہیں